06.09.2019 جہاں نما

ہندوستان اور روس کے درمیان فوجی معاہدے

آج ملک کے تمام اخبارات نے ہند اور روس کےد رمیان فوجی معاہدے کی خبریں اور اداریئے شائع کئے ہیں۔ اخبار ایشین ایج کے مطابق وزیراعظم نریندرمودی نے ولادی ووستک کے ایسٹرن اکنامک فورم میں ایک زبردست اعلان بھی کیا جس کے تحت ہندوستان روس کے دوردراز مشرقی خطے کی ترقی کیلئے ایک بلین ڈالر کا قرض دے گا۔ اخبار لکھتا ہے کہ اس کانفرنس میں نریندرمودی کے انتخابی نعرے‘‘ سب کا ساتھ، سب کا وکاس اور سب کا وشواس سے’’ دنیا کو ایک واضح پیغام گیا ہے خصوصاً ریاست جموں وکشمیر کی تقسیم کے لئے حالیہ فیصلے کے تناظر میں ۔ کانفرنس سے چند گھنٹے قبل جاری مشترکہ کانفرنس میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی فوجی لاجسٹک سپورٹ سے اتفاق کیا۔ اخبار نے واضح کیا ہے کہ ہندوستان پہلے ہی امریکہ کے ساتھ لاجسٹک سپورٹ کا معاہدہ کرچکا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ دونوں ہی ممالک نے دہشت گردی اور سیاسی مقاصد کیلئے اس کے استعمال کی شدید مذمت کی ہے۔ اخبار آگے رقمطراز ہے کہ بعد میں فورم میں تقریر کرتے ہوئے وزیراعظم ہند نے دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ کئی بلین ڈالر کے ان  معاہدوں کا بھی ذکر کیا جن کا تعلق صحت، مہارت کے فروغ، توانائی اور کان کنی سے ہے۔ اپنی تقریر میں وزیراعظم نے ایک آزادانہ اور غیرجانب دار ہند-بحرالکاہل خطے اور ضابطوں پر مبنی نظام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اس موقعے پر انھوں نے دوسرے ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، احترام اور عدم مداخلت پر بھی زور دیا۔ اخبار نے تحریر کیا ہے کہ ہند–روس مشترکہ بیان کے مطابق، طرفین نے مسلح افواج کے درمیان تعلقات کے مزید فروغ کے لیے موافق حالات کی ضرورت پر زور دیا اور کہاکہ باہمی خصوصی اور اسٹریٹجک شراکت کیلئے فوجی اور فوجی تکنیکی شعبے میں قریبی تعاون دونوں ممالک کے درمیان رشتوں میں اہم ستون کی حیثیت رکھتا ہے جبکہ سول نیوکلیائی تعاون کے سلسلے میں بیان میں زور دیا گیا ہے کہ ہند اور روس کے درمیان یہ تعاون اسٹریٹجک شراکت کا اہم عنصر ہے۔ اسی اخبار نے اسی موضوع پر اپنا اداریہ بھی تحریر کیا ہے۔ اداریئے کے مطابق ولادی ووستوک میں ہند–روس کی 20؍ویں سالانہ کانفرنس کے موقعے پر نریندرمودی اور روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے 25 معاہدوں پر دستخط کئے جن میں سے بیشتر کا تعلق دفاع کے شعبے سے ہے۔ اس کے علاوہ ان میں ایک معاہدہ بھی شامل ہے جس کا تعلق چنئی اور ولادی ووستوک کے درمیان بحری رابطے سے ہے۔ اخبار اپنے اداریئے میں آگے رقمطراز ہے کہ اس رابطے کو طے کرتے وقت یقینی طور پر نریندرمودی کے ذہن میں سیاسی طور پر کشمیر کا معاملہ رہا ہوگا کیونکہ ایسے وقت میں جب پاکستان اس ماہ کے آخر میں مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں اٹھانے کی تیار کررہا ہے نریندرمودی کے لیے اس مسئلے کیلئے روس کی حمایت حاصل کرنے کا یہ بہترین موقع تھا۔ واضح ہو کہ گزشتہ ماہ پاکستان کے دوستِ آہن چین نے اقوام متحدہ کی غیررسمی میٹنگ میں جب تنِ تنہا کشمیر کا مسئلہ اٹھایا تھا تو روس نے اعلان کیا تھا کہ مسئلہ کشمیر، ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ اپنے اداریئے بعنوان ‘‘ روس کے ساتھ بات چیت میں ہند نے جموں وکشمیر مسئلے کو بھی کیا شامل ’’ اخبار مودی کے حوالے سے رقمطراز ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کے خلاف ہیں۔

 

بریگزٹ معاملہ: وزیراعظم کے بھائی مستعفی

روزنامہ ہندوستان ٹائمز نے برطانیہ کے بریگزٹ بحران پر ایک رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق دارالعوام میں  اڑتالیس گھنٹے کے اندر وزیراعظم بورس جونسن کو چار بار شکست کے بعد اس وقت ایک اور جھٹکا لگا جب ان کے بھائی جو جونسن  نے بطور وزیر اور رکن پارلیمان ، اپنا استعفی پیش کردیا۔اس استعفی کے پس پشت ان کا جواز تھا کہ وہ اپنے بھائی کی بریگزٹ پالیسی کے خلاف ہیں۔ واضح ہو کہ برطانیہ میں وسط مدتی انتخابات 15؍ اکتوبر کو ہونے والے ہیں اور اخبار کے مطابق یہ تاریخ دو وجوہ سے اہمیت کی حامل ہیں۔ اول لیبر اور دیگر حزب اختلاف چاہتی ہیں کہ یہ انتخابات 31؍ اکتوبر کو یوروپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی کی تاریخ میں توسیع کے بعد ہوں۔ دوئم یہ کہ حزب اختلاف نہیں چاہتی کہ جونسن ، بریگزٹ کے سلسلے میں معاہدے یا غیرمعاہدے کے فوائد کے ساتھ عوام کے درمیان جائیں۔ اخبار لکھتا ہے کہ تازہ ترین اوپینین پولس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس طرح کے موقف سے بریگزٹ میں توسیع پر عوامی ناراضگی کی وجہ سے کنزرویٹیو پارٹی کو فائدہ ہوگا۔

 

اپنے دفاع کیلئے طاقت کے استعمال سے ہندوستان نہیں  کرے گا گریز: راج ناتھ

ہندوستان  کبھی معاندانہ رجحان کا حامی نہیں رہا ہے مگر اس کا یہ مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ وہ اپنے دفاع میں طاقت کے استعمال سے گریز کرے گا۔ روزنامہ ایشین ایج نے اپنی خبر میں وزیردفاع راج ناتھ سنگھ کا یہ بیان شائع کیا ہے جو انھوں نے سیول میں دیا ہے۔ وہ بدھ کے روز تین روزہ دورے پر سیول پہنچے۔ اخبار لکھتاہے کہ انھوں نے  یہ بیان کشمیر کے معاملے پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں دیا ہے۔ انھو ں نے کہاکہ تاریخ شاہد ہے کہ ہندوستان نے کبھی بھی معاندانہ رویہ اختیار نہیں کیا۔ جنوبی کوریا کی اعلیٰ فوجی قیادت سے گفتگو کے بعد انھوں نے کئی ٹوئیٹس کئے جن میں انھوں نے کہاکہ ہندوستان کی اسٹریٹجک ٹول کٹ  میں دفاعی سفارت کاری ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتی ہے بلکہ دوسرے الفاظ میں درحقیقت دفاعی سفارت کاری اور مستحکم دفاعی افواج ایک ہی سکے کے دو پہلو ہیں۔ جنوبی کوریا اور دفاعی اعلیٰ ایگزیکٹیو کی ایک میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے وسائل سے مالا مال ہند۔بحرالکاہل خطے میں ایک مشترکہ ضوابط پر مبنی ایسے نظام کی ضرورت پر بھی زور دیا جو خودمختاری علاقائی سالمیت اور تمام اقوام کی مساوات پر مبنی ہو۔ اخبار ان کے خطاب کے حوالے سے آگے رقمطراز ہے کہ چین اس خطے میں اپنی فوجی طاقت میں اضافہ کررہا ہے جس کی وجہ سے خطے کے ممالک کی تشویش میں اضافہ ہورہا ہے۔ اسی لئے ہند-بحرالکاہل علاقے میں امریکہ ہندوستان کے موثر کردار کیلئے کوشش کررہا ہے جس کو کئی ممالک چین کے بڑھتے ہوئے غلبے پر قدغن کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

 

 امریکہ میں ہندوستانی سفیر کی بینن سے ملاقات

روزنامہ ہندو نے امریکہ میں ہندوستان کے سفیر ہرش وردھن شرنگلا کی وہائٹ ہاؤس کے سابق چیف اور  پالیسی ساز اسٹیوبینن سے ملاقات کی خبر کو شائع کیا ہے۔ یہ ملاقات واشنگٹن ڈی سی میں ہوئی۔ اخبار شرنگلا کے حوالے سے رقمطراز ہے کہ اس میٹنگ میں ہندوستان، روس اور چین کے امور نیز امریکہ میں  اندرونی سیاست جیسے معاملات زیر غور آئے۔ شرنگلا نے روزنامہ ہندو کو بتایا کہ اس میٹنگ کے بارے میں بہت کچھ کہاجارہا ہےنیز یہ کہ پاکستان کی طرف واضح اشارہ کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ سرحد پار سے اس کو سازشی نقطۂ نظر سے دیکھا جارہا ہے۔ انھوں نے کہاکہ اس کو اس زاویئے سے نہ دیکھا جائے جبکہ کچھ ویب سائٹس اس میٹنگ کو کشمیر پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے پس منظر میں دیکھ رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ برنی سینڈرس سے لے کر اسٹیوبینن تک سب سے ملاقات کررہے ہیں کیونکہ اپنے دائرہ کار میں مختلف نقطۂ نظر کے حامل لوگوں سے ملاقات کرنا ضروری ہے۔

 

 روحانی نے نیوکلیائی معاہدے میں شامل تمام  پابندیاں اٹھانے کا دیا حکم

ایران  کے صدر حسن روحانی نے بدھ کے روز حکم جاری کیا ہے کہ بین الاقوامی معاہدے کے تحت نیوکلیائی تحقیق اور فروغ پر عائد تمام پابندیاں اٹھالی جائیں۔ روزنامہ اسٹیٹس مین نے اس حوالے سے تحریر کیا ہے کہ عالمی طاقتوں کے ساتھ 2015 کے نیوکلیائی معاہدے میں شامل شرائط  کے خاتمے کی سمت میں ان کا یہ تیسرا قدم ہے۔ ان کا یہ اعلان اس وقت سامنے آرہا ہے جب امریکہ نے اسلامی جمہوریہ کی تیل کی برآمدات پر مزید تازہ ترین پابندیاں عائد کردی ہیں۔ اخبار نے واضح کیا ہے کہ گزشتہ مئی میں امریکی صدر ڈونل ٹرمپ کے ذریعے اس معاہدے سے علیحدگی کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان جو کشیدگی پیدا ہوئی تھی اس کے خاتمے کے لئے برطانیہ، فرانس اور جرمنی ، ایران سے مذاکرات کرتے رہے ہیں۔ اخبار آگے رقمطراز ہے کہ جولائی میں ایران نے اس نیوکلیائی معاہدے میں شامل دوپابندیوں سے اپنے آپ علیحدہ کرلیا تھا۔ اول افزودہ شدہ یورنیم کے ذخیرے کو تین سو کلوگرام سے کم رکھنا اور دوئم یورونیم ذخیروں کے خالص ہونے کو تین اعشاریہ چھ سات سے کم رکھنا۔ اخبار کے مطابق روحانی نے اس سے قبل بدھ کے روز کابینہ کو بتایا کہ تہران اور یوروپی ممالک اس معاملے کو سلجھانے کے لیے کسی معاہدے کے قریب ہیں۔

 

طالبان کے ساتھ کسی بھی جوکھم بھرے معاہدے پر دستخط سے پامپیو کا انکار

‘‘ طالبان کے ساتھ کسی جوکھم بھرے معاہدے پر دستخط سے پامپیو کا انکار: ایک رپورٹ ’’۔ یہ سرخی ہے روزنامہ انڈین ایکسپریس کی۔ خبرمیں ٹائمز میگزین کی ایک رپورٹ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ امریکی وزیرخارجہ مائیک پامپیو نے اس معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کردیا ہے جو امریکہ کے خصوصی ایلچی زلمےخلیل زاد اور طالبان کےد رمیان طے پایا ہے کیونکہ اس میں القاعدہ کو شکست دینے کے لیے افغانستان میں امریکی افواج کی موجودگی یا ملک میں جمہوری طور پر منتخبہ حکومت کی ضمانت نہیں دی گئی ہے۔ اسی دوران خبر ملی ہے کہ طالبان نے کابل میں جمعرات کے روز کار بم دھماکے کے ذریعے  دس؍افراد کو ہلاک کردیا ہے۔ ان میں ناٹو کے دو اہلکار بھی شامل ہیں