09.09.2019 جہاں نما

آربیٹر نے لگایا وکرم لینڈر کا پتہ لیکن رابطہ ابھی بھی بحال نہیں

سات ستمبر کو چاند پر اترنے کے آخری لمحوں میں رابطہ کھو بیٹے لینڈر وکرم کا پتہ چل گیا ہے۔ چندریان-2 کے آربٹر نے چاند پر وکرم کی تھرمل امیج کھینچی ہے۔ تاہم لینڈر سے سگنلس ابھی بھی نہیں مل رہے ہیں۔ اس بات کا اعلان اسرو کے سربراہ کے سیوم نے اتوار کے روز کیا۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے بڑے نمایاں طور پر شائع کیا ہے۔ روزنامہ ٹائمز آف انڈیا اس خبر کو شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کرتے ہوئے تحریر کرتا ہے کہ اسرو کے چیئرمین نے کہا کہ یہ بات طے ہے کہ چاند پر لینڈر وکرم کی ہارڈ لینڈنگ ہوئی ہوگی۔ آربٹر نے جس کیمرے سے تصویر لی ہے وہ اب تک کے کسی بھی چاند مشن پر استعمال ہوئے کیمرے سے زیادہ ریزولیوشن والا ہے۔ اسرو نے بتایا تھا کہ اس کیمرے کی مدد سے آربٹر ہائی ریزولیوشن کی تصویریں کھینچ سکے گا جو دنیا بھر کے سائنسدانوں کے لئے بے حد اہم ہوں گی۔ لینڈنگ کے وقت وکرم کو نقصان پہنچنے کے بارے میں جناب سیوم نے کہا کہ ابھی اس بارے میں انہیں کچھ معلوم نہیں ہے۔ حالانکہ کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ ہارڈ لینڈنگ کی صورت میں اس کو نقصان پہنچنے کی بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ قابل ذکر ہے کہ چاند کی سطح سے دو اعشاریہ ایک کلو میٹر کی اونچائی پر پہنچنے کے بعد اچانک زمین سے اس کا رابطہ ٹوٹ گیا تھا۔ اس سے قبل سنیچر کے روز جناب سیوم نے کہا تھا کہ اگلے 14 دنوں تک لینڈر سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش جاری رہے گی۔ جناب سیوم نے کہا کہ رابطہ ٹوٹنے سے پہلے تک وکرم سے ملے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا جارہا ہے۔

طالبان کیساتھ ٹرمپ کی خفیہ ملاقات منسوخ

صدر امریکہ ڈونل ٹرمپ نے کہاہے کہ انہوں نے کیمپ ڈیوڈ میں طالبان اور افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ ہونے والی اپنی خفیہ ملاقات کو منسوخ کردیا ہے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے طالبان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات کو بھی منسوخ کردیا ۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اس خبر کو شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کرتے ہوئے روزنامہ دی ہندو لکھتا ہے کہ اتوار کے روز افغان صدر اشرف غنی اور طالبان رہنما کیمپ ڈیوڈ میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کرنے والے تھے۔ لیکن عین وقت صدر ٹرمپ نے یہ ملاقاتیں منسوخ کردیں۔ ڈونل ٹرمپ نے ٹوئیٹر پر ایک پیغام میں لکھا کہ کسی کو بھی معلوم نہیں ہے کہ اتوار کو طالبان رہنماؤں اور افغان صدر کے ساتھ ان کی کیمپ ڈیوڈ میں الگ الگ خفیہ ملاقات ہونے والی تھیں لیکن بد قسمتی سے غلط  طریقے سے فائدہ اٹھانے کے لئے طالبان نے کابل میں ہونے والے حملہ کی ذمہ داری قبول کی جس میں ایک امریکی فوجی اور گیارہ دوسرے لوگ ہلاک ہوئے۔ اس لئے میں نے میٹنگ کو فوری طور پر رد کردیا ہے۔ اس کے علاوہ میں نےامن مذاکرات بھی منسوخ کردئے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے لکھا کہ یہ کیسے لوگ ہیں جو بات چیت میں سودے بازی کے لئے لوگوں کو ہلاک کررہے ہیں ۔اگر وہ امن مذاکرات کے دوران جنگ بندی پر راضی نہیں ہوسکتے اور لوگوں کو ہلاک کرنا جاری رکھتے ہیں تو میرا خیال ہے کہ ان کے پاس ایک با معنی سمجھوتے پر بات چیت کرنے کی صلاحیت اور طاقت موجود نہیں ہے۔ انہوں نے سوال پوچھا کہ آخر کتنی دہائیوں تک وہ لڑنا چاہتے ہیں۔ اسی دوران صدر ٹرمپ کی جانب سے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی منسوخی کے اعلان کے بعد اس عسکریت پسند تنظیم نے کہا کہ اس اقدام سے کسی اور سے زیادہ امریکہ کو نقصان پہنچے گا تاہم انہوں نے مستقبل میں بات چیت کے دروازے کھلے رکھے ہیں۔ گروپ نے ایک بیان میں کہا کہ ہمیں امید ہے کہ امریکہ بات چیت دوبارہ شروع کرے گا۔ ہماری گزشتہ 16 سال کی لڑائی نےثابت کردیا ہے کہ جب تک افغانستان سے مکمل طور پر قبضہ ختم نہیں ہوجاتا ہم مطمئن نہیں ہوں گے۔ طالبان نے امریکہ پر سیکڑوں افغان شہریوں کی ہلاکت کا الزام عائد کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ کے فیصلے سے امریکی فوجیوں کے جانی نقصان کے علاوہ اسے اقتصادی نقصان بھی اٹھانا پڑے گا۔ 

مظاہرین کی ہانگ کانگ کو آزاد کرانے کی ٹرمپ سے اپیل

ہانگ کانگ میں ہزاروں مظاہرین نے صدر ٹرمپ سے چین کے اس نیم خود مختار علاقے کو آزاد کرانے کی اپیل کی ہے۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے جلی سرخیوں کیساتھ شائع کیا ہے۔ روزنامہ دی انڈین ایکسپریس تحریر کرتا ہے کہ مظاہرین نے اتوار کو امریکی قونصل خانہ تک پرامن مارچ کیا اور اس مارچ کے دوران انہوں نے امریکی صدر سے یہ اپیل کی۔ تاہم بعد میں مظاہرین تشددپر اترآئے اور انہوں نے سب وے اسٹیشنوں کو نقصان پہنچایا اور سڑکوں پر روکاوٹیں کھڑی کردیں۔ تشدد کے دوران پولیس کو آنسو گیس کا استعمال کرناپڑا۔ اس سے پہلے وسطی ہانگ کانگ کے ایک پارک میں مظاہرین جمع ہوئے وہ ہانگ کانگ کو آزاد کرانے کے نعرے لگارہے تھے۔ بہت سے لوگوں کے ہاتھوں میں امریکی پرچم تھے جن پر لکھا تھا  ‘‘صدر ٹرمپ ، برائے مہربانی ہانگ کانگ کو آزاد کرائیے۔ گزشتہ تین مہینوں سے ہانگ کانگ میں مظاہرے جاری ہیں۔ یہ مظاہرے اس متنازعہ بل کے خلاف کئے جارہے ہیں جس کے تحت مشتبہ جرائم پیشہ عناصر کو عدالت کا سامناکرنے کیلئے چین بھیجا جاسکتا ہے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ بل ‘‘ایک ملک دو نظام’’ کے تحت کئے گئے وعدے کی خلاف ورزی ہے۔ اگر چہ ہانگ کانگ کی حکومت نے پچھلے ہفتے اس بل کو واپس لے لیا ، تاہم مظاہرے رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں بلکہ مظاہرین نے اب تو جمہوری اصلاحات کے مطالبے شروع کردیے ہیں۔ مظاہرین نے اتوا رکو امریکہ سے یہ اپیل بھی کی کہ وہ ان کے مقصد کی حمایت کیلئے ایک قانون بھی بنائے۔ 

اعلیٰ سطحی بات چیت کیلئے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ ایران میں

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے قائم مقام سربراہ کورنل فیروٹا   ایرانی حکام کیساتھ بات چیت کیلئے اتوار کے روز تہران پہنچے۔ اس خبر کو بیشتر اخبارات نے جلی سرخیوں کیساتھ شائع کیا ہے۔ روزنامہ دی اسٹیٹسمین تحریر کرتا ہے کہ جناب فیروٹا کا یہ دورہ تہران کے اس بیان کے بعد ہورہا ہے جس میں اس نے کہا تھا کہ وہ 2015 کے نیوکلیائی معاہدے کی ایک اور شق کی خلاف ورزی کرنے جارہا ہے۔ رومانیہ کے سفاتکار جناب فیروٹا وزیر خارجہ محمد جواد ظریف ، ایران کی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ علی اکبر صالحی اور سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سکریٹری علی شامخانی سے ملاقات کریں گے۔ ایجنسی نے کہا کہ یہ دورہ تہران حکومت کیساتھ جاری معمول کی مکالمت اور 2015 میں طے شدہ ایٹمی معاہدے کی نگرانی کے عمل کا حصہ ہے۔ قبل ازیں ایرانی حکومت نے جمعہ کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ دو ایسی سنیٹری فیوز کا استعمال شروع کرنے کو تیار ہے جن کا استعمال 2015 میں طے شدہ ایٹمی ڈیل کے تحت ممنوع قرار دے دیا گیا تھا۔ ایٹمی معاہدے کی یہ تیسری شق ہوگی جس کی ایران خلاف ورزی کرے گا۔ پچھلے  سال معاہدے سے امریکہ کی یکطرفہ علیحدگی اور ایران کے خلاف پابندیوں کے بعد سے جوہری معاہدے کا مستقبل غیریقینی بنا ہوا ہے۔ 

بریگزٹ پر وزیراعظم سے اختلاف کے بعد سینئر برطانوی وزیر رود مستعفیٰ

برطانیہ کی سینئر کابینی وزیر امبررود  نے یوروپی یونین سے علیحدگی کے معاملہ پر وزیراعظم بورس جانسن کی پالیسیوں سے اختلاف کی بنا پر استعفیٰ دے دیا ہے۔ اس خبر کو بھی تمام اخبارات نے نمایاں طور پر اپنے کالموں میں جگہ دی ہے۔ روزنامہ  دی ہندوستان ٹائمز تحریر کرتا ہے کہ محترمہ رود نے اپنے استعفیٰ میں کہا کہ وزیراعظم جانسن کی جانب سے قانون سازوں کو پارٹی سے نکالنا جمہوریت پر حملے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی حرکتوں سے اور لوگ بھی مستعفی ہوسکتے ہیں۔ محترمہ رود نے کہا کہ برسلز کے ساتھ معاہدے کے سلسلے میں وزیراعظم بورس جانسن کی جانب سے کوئی کوشش نہیں کی جارہی ہے حالانکہ وہ بار بار دعویٰ کررہے ہیں کہ بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کے کوئی  بھی ثبوت سامنے نہیں آرہے ہیں بلکہ ایسا لگتا ہے کہ بغیر کسی معاہدے کے یہ لوگ یوروپی یونین سے علیحدہ ہونا چاہتے ہیں۔ ادھر لیبرپارٹی کے چیئرمین این لیوری نے کہا کہ رود کے استعفیٰ سے ثابت ہوتا ہے کہ وزیراعظم بورس جانسن کا حکومت پر اب کوئی کنٹرول نہیں رہا ہے اور ان کا بریگزٹ کا منصوبہ بالکل فلاپ ثابت ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جانسن پر سے سبھی کا اعتماد اٹھ چکا ہے۔ نہ ان کے بھائی ان پر اعتماد کرتے ہیں اور نہ ہی ان کی کابینہ۔ قابل ذکر ہے کہ جانسن کے بھائی جو جانسن نے پچھلے ہفتے کابینہ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔