موضوع:مودی اور اولی کے ہاتھوں پہلی سرحد پار تیل پائپ لائن کا افتتاح

وزیراعظم نریندر مودی اور نیپال کے ان کے ہم منصب کے پی شرما اولی نے منگل کے روز ویڈیو کانفرنس کے ذریعے جنوبی ایشیاء کی پہلی سرحد پار تیل پائپ لائن کا مشترکہ طور پر افتتاح کیا۔ اس پائپ لائن کے افتتاح کے ساتھ ہی دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں ایک اور سنگ میل کا اضافہ ہوگیا۔ یہ پائپ لائن بہار کے موتیہاری اورنیپال  کے املیکھ گنج کے درمیان بچھائی گئی ہے جس کی لمبائی تقریباً 70 کلو میٹر ہے اور جس کے ذریعے نیپال کو سالانہ بیس لاکھ ٹن صاف تیل سپلائی کیا جاسکتا ہے۔

اس پائپ لائن کو ہندوستان اور نپیال کے درمیان قریبی تعلقات کی ایک علامت قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ موتیہاری اور املیکھ گنج کے درمیان اس پائپ لائن سے علاقہ میں توانائی کو تحفظ فراہم کرنے میں مدد ملے گی اور ٹینکروں کے ذریعے تیل سپلائی کرنے میں جو لاگت آتی ہے اس میں بھی کمی واقع ہوگی۔ انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ دونوں ملکوں کی سیاسی قیادت کے درمیان برابر ہورہی بات چیت سے ہندوستان اور نیپال کے درمیان شراکت داری کو فروغ دینے کیلئے ایک ترقی پسند ایجنڈہ تیا رکرنے میں مدد ملی ہے۔ نئی دہلی سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے پائپ لائن کا افتتاح کرتے ہوئے جناب مودی نے اعتماد ظاہر کیا کہ دونو ں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو فروغ حاصل ہوتا رہے گا۔ انہوں نے نیپال کو یقین دلایا کہ ہندوستان ترقی کرنے کی اس کی ہرکوشش میں مدد کرتا رہے گا۔ 

کٹھمنڈو سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے تیل پائپ لائن کا افتتاح کرتے ہوئے وزیراعظم کے پی شرما اولی نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ پروجیکٹ تجارت، راہداری اور بنیادی ڈھانچے کے نقطہ نظر سے کنیکٹیویٹی کی بہترین مثالوں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور نیپال کے پاس اپنے عوام کی ترقی اور خوشحالی کیلئے اس طرح کے اور بھی ویژن ہیں اور دونوں ملک انہیں پورا کرنے کیلئے مضبوط ارادہ رکھتے ہیں۔ اس موقع پر اپنے ملک کے عوام کو ایک بڑی راحت دیتے ہوئے جناب اولی نے پٹرول اور ڈیژل کی قیمتوں میں دو روپئے فی لیٹر کی کٹوتی کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹینکروں کے ذریعے تیل کی مصنوعات سپلائی کرنے میں کافی وقت لگتا ہے۔ اس سے خرچ بھی زیادہ آتا تھا اور ماحول میں آلودگی بھی پھیلتی تھی لیکن اب خرچ بھی کم ہوگا اور وقت کی بھی بچت ہوگی اور ماحول میں آلودگی بھی نہیں پھیلے گی۔ 

ہندوستان سے نیپال کو 1973 سے ٹینکروں کے ذریعے تیل کی مصنوعات سپلائی کی جارہی ہیں۔ انڈین آئل کارپوریشن برونی   کے اپنے تیل صاف کرنے والے کارخانے اور بہار کے رکسول ڈپو سے نیپال کو تیل سپلائی کرتا ہے۔ 2017 میں کمپنی نے 2022 تک تیل کی مصنوعات سپلائی کرتے رہنے کیلئے نیپال آئل کارپوریشن کیساتھ معاہدے کی تجدید کی تھی۔ 

موتیہاری۔ املیکھ گنج پائپ لائن پروجیکٹ کی تجویز پہلی بار 1996 میں پیش کی گئی تھی۔ لیکن فوری طور پر اس پر کوئی کام نہ ہوسکا۔ کئی برسوں تک یہ پروجیکٹ زیرالتوا رہا۔ لیکن 2014 میں وزیراعظم نریندر مودی کے نیپال دورے کے بعد اسے جلاملی  اور پروجیکٹ شروع کرنے کیلئے انڈین آئل کارپوریشن لمیٹیڈ اور نیپال آئل کارپوریشن کے درمیان ستمبر 2015 میں ایک معاہدہ ہوا۔ پچھلے سال اپریل میں نیپالی وزیراعظم کے نئی دہلی دورے کے دوران جناب اولی اور جناب مودی نے حیدرآباد ہاؤس میں ریموٹ کنٹرول کے ذریعے اس پروجیکٹ کا مشترکہ طور پر سنگ بنیاد رکھا۔ 

اس پروجیکٹ کو 30 مہینوں کے اندر مکمل ہونا تھا لیکن دونوں ملکوں کے حکام کی انتھک کوششوں کے باعث یہ پروجیکٹ وقت سے کافی پہلے مکمل ہوگیا۔ پروجیکٹ کے وقت سے پہلے مکمل ہونے سے لوگوں کا یہ مفروضہ ختم ہوگیا کہ نیپال میں ہندوستان کی مدد سے شروع کئے گئے منصوبوں کو مکمل ہونے میں کافی وقت لگتا ہے جس کی وجہ سے پروجیکٹوں کی لاگت میں کافی اضافہ ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ پروجیکٹوں پر کام کا جائزہ لینے کیلئے اب دونوں ملکوں کےد رمیان اعلیٰ سطحی میٹنگیں برابر ہوتی رہتی ہیں۔ ابھی پچھلے مہینے ہند۔ نیپال مشترکہ کمیشن کی کٹھمنڈو میں میٹنگ ہوئی جس کی صدارت دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ طور پر کی۔ میٹنگ میں دونوں ملکوں کے دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ ان شعبوں کی بھی نشاندہی کی گئی جہاں دونوں ممالک ایک دوسرے سے تعاون کرسکتے ہیں۔ اس میٹنگ میں نیپال میں موجودہ منصوبوں پر کام کی رفتار کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم مودی اور ان کے نیپالی ہم منصب اولی نے دوطرفہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔