11-09-2019 جہاں نما

اقوام متحدہ میں پاکستان کو ہندوستان کا کرارا جواب، کہا جموں وکشمیر اندرونی معاملہ، اس میں مداخلت قطعاً ناقابل برداشت

آج ملک کے تمام اخبارات نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے ذریعے جموں وکشمیر معاملے کو اٹھائےجانے اور ہندوستان کے ذریعے اس کو اندرونی معاملہ بیان کرنے نیز اسلام آباد کے ذریعے سرحد پار سے دہشت گردی کے مسئلے کی خبروں کو مختلف سرخیوں کے تحت شائع کیا ہے۔ روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے اپنی خبر میں تحریر کیا ہے کہ حقوق انسانی کاؤ نسل میں ہندوستان نے ایک بار پھر اپنا موقف دوہرایا ہے کہ جموں کشمیر اس کا اندرونی معاملہ ہے اور اس میں مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی اس نے پاکستان پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ سرحد پار سے دہشت گردی کو ایک متبادل سفارت کاری کے طور پر استعمال کررہا ہے۔ اخبار عالمی ادارے کی کاؤنسل میں ہندوستان کی وزارت خارجہ سکریٹری وجے ٹھاکر سنگھ کے بیان کے حوالے سے آگے رقمطراز ہے کہ جموں وکشمیر میں حقوق انسانی کی پامالی کی بین الاقوامی پیمانے پر تحقیقات کے لئے پاکستان کے مطالبے کو یکسر رد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ سب من گھڑت باتیں ایک ایسے ملک کی جانب سے آرہی ہیں جو بذات خود دہشت گردی کامرکز ہےاور جو برسوں سے دہشت گردسرغنوں کو پناہ دیئے ہوئے ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جموں وکشمیر میں پابندیاں عارضی ہیں جن کا مقصد سرحد پار سے دہشت گردی کو روکنا ہے۔ اخبار پاکستان کے بے بنیاد الزامات کے جواب میں وجے ٹھاکر سنگھ کے بیان کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ جموں و کشمیر  کے سلسلے میں جو حالیہ فیصلے کئے گئے ہیں ان کو پارلیمان میں مکمل بحث کے بعد منظور کیا گیا ہے اور اِن فیصلوں کو مکمل حمایت حاصل ہے۔ 

جموں وکشمیر سے متعلق ایک اہم پالیسی کی خبر بھی اسی اخبار نے شائع کی ہے جس کے مطابق وہاں اس موسم میں پیدا ہونے والے سیبوں کو حکومت مقامی کسانوں سے براہ راست خریدے گی اور اس کی ادائیگی ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر یعنی ڈی بی ٹی کے ذریعے کی جائے گی۔ اخبار لکھتا ہے کہ اس سے قبل گزشتہ ہفتے جموں وکشمیر کے پھل پیداکاروں کے ایک وفد نے وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کی تھی اور تشویش ظاہر کی تھی کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد دہشت گردوں کی دھمکی کی وجہ سے وہ اپنی فصلوں کو بازار میں فروخت نہیں کرسکیں گے۔ اخبار کے مطابق منگل کے روز اس نئی اسکیم کا اعلان کرتے ہوئے حکومت نے کہا تھا نیفیڈ کے ذریعے اس پر عمل درآمد کیا جائے گا جو 15دسمبر تک نامزد ریاستی حکومت کی ایجنسیوں کے ساتھ اس خریداری کے عمل کو مکمل کرے گی۔ اس کے علاوہ جموں وکشمیر کے کسانوں کو وزیر اعظم فصل بیمہ یوجنا کا بھی بھرپور فائدہ حاصل ہوگا۔ 

ٹائمز آف انڈیا نے ہی جموں وکشمیر کے سلسلے میں امریکی صدر ڈونل ٹرمپ کا بیان بھی شائع کیا ہے جس میں انہوں نے زوردے کر کہا ہے کہ جموں وکشمیر میں صورتحال اب اتنی کشیدہ نہیں ہے جتنی دو ہفتے قبل تھی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس مسئلے کے حل کے لئے ایک بار پھر ہندوستان اور پاکستان کو مدد کی پیشکش کی۔ واضح ہو کہ اس سے قبل ٹرمپ کی پیشکش کو ہندوستان مسترد کرچکا ہے جس میں انہوں نے اس مسئلے کے حل کیلئے باہمی طریقہ کار پر زور دیاتھا۔ اخبار نے واضح کیا ہے کہ ڈونل ٹرمپ نے یہ بیان اس وقت دیا ہے جب طالبان کے ساتھ امن سمجھوتے کے لئے امریکی بات چیت نا کام ہوچکی ہے۔ ناکامی پر اپنے بیان میں ڈونل ٹرمپ نے بات چیت کے سلسلے میں پاکستان کا کوئی ذکر نہیں کیا مگر سمجھوتے میں ناکامی سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ افغانستان میں طالبان کو اپنے قدم جمائے رکھنے کے لئے پاکستان نے ان کی کس حد تک درپردہ مدد کی ہے۔ 

پاکستان کے سابق قانون ساز نے ہندوستان سے کی پناہ دینے کی درخواست

پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کے عدم تحفظ سے متعلق ایک اہم خبر کو روزنامہ اسٹیٹسمین نے شائع کیا ہے۔ خبرکے مطابق، پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف پارٹی کے ایک سابق قانون ساز بلدیوکمار  نے ہندوستان سے پناہ کی درخواست کی ہے کیونکہ پاکستان میں اقلیتوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جارہا ہے اور دہشت گردی کو اسلام آباد کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ بلدیو کماراپنی اہلیہ اور دو بچوں کے ساتھ گزشتہ ماہ ہندوستان آئے تھے۔ لدھیانہ کے کھنّہ مقام پر نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ یہاں پناہ لینے آئے ہیں اور وہ وزیراعظم نریندر مودی سے اس سلسلے میں مدد کی درخواست کریں گے۔ نیز انہوں نے اپنے خاندان کے دیگر افراد سے بھی پاکستان چھوڑنے کے لئے کہا ہے۔ اخبار کے مطابق جب ان سے ملک چھوڑنے کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جو کچھ ہورہا ہے اس پر پوری دنیا کی نگاہیں لگی ہوئی ہیں عمران خان کی نئی حکومت سے توقع تھی کہ ان کے دورِ حکومت میں صورتحال میں تبدیلی آئے گی مگر ان کے نئے پاکستان میں ایسا کچھ نہیں ہوا بلکہ پرانا پاکستان زیادہ بہتر تھا۔ اخبار بلدیو کمار کے بیان کے حوالے سے آگے رقمطراز ہے کہ وہاں ایک سکھ لڑکی کو اغوا کرنے کے بعد جبری مذہبی تبدیلی کے بعد بندوق کی نوک پر اس کی شادی زبردستی ایک مسلم سے کرادی گئی۔ اگر اقلیتوں کو ان کے حقوق حاصل ہوتے تو یہ نوبت نہیں آتی۔ جب خود مسلمان ہی وہاں محفوظ نہیں ہیں تو اقلیتوں کا پوچھناہی کیا۔ کرتارپور صاحب کے معاملے میں اخبار ان کے بیان کے حوالے سے تحریر کرتا ہے کہ گرودوارے  کے لئے جو رقوم غیرممالک سے آرہی ہیں ان کا غلط استعمال کیا جارہا ہے۔ 

قومی مشیر برائے سلامتی جون بولٹن، ٹرمپ کے نشانے پر، سخت اختلافات کی وجہ سے ٹرمپ نے طلب کیا استعفیٰ

‘‘سخت گیر جون بولٹن کا استعفیٰ’’ یہ سرخی ہے روزنامہ ہندو کی۔ اس خبر میں روزنامہ نے خبر دی ہے کہ امریکہ کے مشیر قومی سلامتی اور ٹرمپ انتظامیہ کے سینئر اہلکار جون بولٹن کی صدر ٹرمپ نے چھٹی کردی ہے۔ کیونکہ ایران، شمالی کوریا اور افغانستان سمیت خارجہ پالیسی اُمور پر ڈونل ٹرمپ کے ساتھ ان کے بہت سے  اختلافات تھے۔ واضح ہو کہ جون بولٹن تیسرے مشیر قومی سلامتی ہیں جن کو علیحدہ کیا گیا ہے۔ ایک ٹوئیٹ میں انہوں نے بولٹن کو مطلع کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اب ان کی خدمات کی ضرورت نہیں ہے لہٰذا وہ مستعفی ہوجائیں۔ اخبار واشنگٹن پوسٹ میں ان کے بیان کے حوالے سے آگے رقمطراز ہے کہ انہوں نے اپنے استعفیٰ کی وجوہ بتاتے ہوئے امریکہ کی قومی سلامتی پر تشویش کا بھی اظہار کیا ۔ 

امن مذاکرات سے امریکہ کی علیحدگی کے بعد، طالبان جنگ کے لئے پرعزم

روزنامہ ایشین ایج نے ایک خبر میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا بیان شائع کیا ہے جس کے مطابق، ڈونل ٹرمپ کے ذریعے بات چیت کے خاتمے کے اعلان کے بعد طالبان نے منگل کے روز افغانستان میں امریکی افواج کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ساتھ ہی مجاہد نے یہ بھی کہا کہ مذاکرات کے خاتمے پر امریکہ کو جلد ہی افسوس ہوگا۔ اخبار لکھتا ہے کہ طالبان کا یہ بیان نامہ نگاروں کے ساتھ ٹرمپ کی گفتگو کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ تقریباً ایک سال پرانی بات چیت سے علیحدگی اختیار کررہا ہے جس کا مقصد 18 سال پرانی جنگ کے بعد افغانستان سے امریکی افواج کا اخراج تھا۔ 

عاشورہ کے موقع پر کربلا میں بھگدڑ، 31 ہلاک، 100 زخمی

عراق کے مقدس شہر کربلا میں عاشورہ کے موقع پر بھگدڑ میں کم از کم 31 افراد ہلاک اور تقریباً 100 زخمی ہوئے ہیں۔ روزنامہ ٹری بیون کے مطابق سرکاری طور پر جاری ان اعداد وشمار میں اضافہ ہوسکتا ہے کیونکہ زخمیوں میں سے 10 افراد کی حالت سنگین ہے۔ عراق کی وزارت صحت نے اس بھگدڑ کی وجہ نہیں بتائی ہے مگر روضہ امام حسینؓ کے اہلکاروں کے مطابق یہ سانحہ روضہ کے داخلی دروازے پر پیش آیا۔ واضح ہو کہ عاشورہ کے موقع پر دنیا کے کونے کونے سے ہزاروں شیعہ حضرات کربلا میں اکٹھا ہوتے ہیں۔ اخبار لکھتا ہے کہ اس سے قبل بھی بھگدڑ کے واقعات ہوچکے ہیں۔ 2005 میں بغداد میں امام موسئی کاظم  کے روضے پر جاتے وقت بھگدڑ میں 965 زائرین ہلاک ہوئے تھے۔ اس کی وجہ خودکش بمبار کی موجودگی کی افواہ تھی۔ 

مغربی کنارے کے مزید علاقوں کے انضمام پر نیتن یاہو نے ظاہر کیا عزم

مغربی ایشیا کے تعلق سے روزنامہ انڈین ایکسپریس نے خبر دی ہے کہ اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے منگل کے روز کہا کہ اگلے ہفتے ہونے والے انتخابات میں اگر وہ واپس اقتدار میں آئے تو مقبوضہ مغربی کنارے کے مزید علاقے کو ضم کرنے کا اقدام کریں گے۔ اخبار لکھتا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو اس سے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان طویل تنازعے میں ڈرامائی تبدیلی آجائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام سے تاریخ میں پہلی بار ملک کو محفوظ اور مستقل سرحدیں حاصل ہوجائیں گی۔ لیکن اس کے ساتھ ہی مستقبل کی فلسطینی ریاست بھی اسرائیل کے گھیرے میں آجائے گی۔ اخبار نیتن یاہو کے بیان کے حوالے سے آگے رقمطراز ہے کہ ٹرمپ پہلے ہی مغربی کنارے کے کم از کم حصوں کو اسرائیل میں ضم کرنے پر رضامندی  ظاہر کرچکے ہیں اور یاہو اس موقعے کو کھونا نہیں چاہتے۔