16.09.2019جہاں نما

۔ روایتی جنگ میں شکست کی صورت میں نیوکلیائی ہتھیار استعمال کرنے کی عمران کی دھمکی

پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر کشمیر کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ہندوستان کے خلاف ایک روایتی جنگ میں پاکستان کی شکست ہوئی تو نئی دہلی اور اسلام آباد کے درمیان ایٹمی جنگ چھڑسکتی ہے۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے اپنے کالموں میں نمایاں جگہ دی ہے۔ روزنامہ ٹائمز آف انڈیا اس خبر کو شہ سرخی کے ساتھ شائع کرتے ہوئے تحریر کرتا ہے کہ الجزیرہ نیوز چینل کے ساتھ ایک انٹرویو میں پاکستانی وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان نیو کلیائی جنگ کے امکانات کو خارج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم روایتی جنگ لڑرہے ہیں اور ہماری شکست ہورہی ہے تو ہمارے پاس دو ہی راستے بچتے ہیں۔ یا توہم ہتھیار ڈال دیں یا پھر اپنی آزادی کے لیے اس وقت تک لڑتے رہیں جب تک ہم ہلاک نہ ہوجائیں۔ اور مجھے پتہ ہے کہ ہمارے پاکستانی مرتے دم تک لڑتے رہیں گے۔ اس لیے اگر ایسی صورت حال پیدا ہوتی ہے تو نیوکلیائی ہتھیاروں سے مسلح دو ملکوں کے درمیان ایٹمی جنگ چھڑنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے یہ بات دہرائی کہ پاکستان ہندوستان کے خلاف جنگ کی شروعات کبھی نہیں کرے گا۔

 

۔ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر پاکستان کو بھارت کا انتباہ

بھارت نے کنٹرول لائن پر پاکستان کی جانب سے بلا اشتعال جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر اسلام آباد کو اپنی تشویشات سے آگاہ کردیا ہے۔ ان خلاف ورزیوں میں پاکستان کی جانب سے ہندوستانی شہریوں اور سرحدی چوکیوں کو نشانہ بنانا اور سرحد کے اس پارسے دہشت گردوں کی دراندازی میں مدد کرنا شامل ہے۔اس خبر کو تمام اخبارات نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ ہندوستان ٹائمز وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتا ہے کہ اس سال پاکستان نے 2 ہزار 50 مرتبہ بلاجواز جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کیں، جس کے نتیجے میں 21 بھارتی ہلاک ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان سے بار بار کہا ہے کہ وہ اپنی فورسزسے 2003 کے جنگ بندی کے سمجھوتے کی پاسداری اور ایل او سی کے علاوہ بین الاقوامی سرحد پر امن وسکون برقرار رکھے۔ اخبار کے مطابق بھارتی فوجوں نے زیادہ سے زیادہ صبروتحمل کا مظاہرہ کیا ہے اور بلا جواز خلاف ورزیوں کا مؤثر جواب دیا ہے اورساتھ ہی ساتھ سرحد کے اس پار سے دہشت گردوں کی دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنایا ہے۔بھارت کی جانب سے جموں وکشمیر کا خصوصی درجہ ختم کیے جانے کے بعد سے پاکستان کشمیر معاملے کو بین الاقوامی رنگ دینے کی کوشش کررہا ہے جب کہ نئی دہلی نے واضح کردیا ہے کہ یہ اس کا داخلی معاملہ ہے۔ہندوستانی حکام نے پاکستان کی اس دلیل کو بھی مسترد کردیا ہے کہ کشمیر مسئلہ پر دونوں ملکوں کے درمیان جنگ چھڑسکتی ہے۔ انہوں نے پاکستان پر الزام لگایا کہ وہ دہشت گردی اور جہاد کو فروغ دینے کے لیے کشمیر مسئلہ کو استعمال کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

 

۔ ہندوپرنسپل پر اہانت اسلام کے الزام کے بعد پاکستان میں تشدد

پاکستان میں صوبۂ سندھ کے گھوٹکی شہر میں اتوار کے روز ایک طالب علم کی جانب سے اپنے اسکول کی پرنسپل کے خلاف اہانت اسلام کا الزام لگائے جانے کے بعد لوگوں نے مندروں، ایک اسکول اور ہندو برادری کے گھروں اور دکانوں کو نقصان پہنچایا۔اس پرنسپل کا تعلق اقلیتی طبقہ سے ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ ٹائمز آف انڈیا لکھتا ہے کہ حکمراں پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے رکن رمیش کمار وانکوانی نے جو پاکستان ہندو کونسل کے سرپرست اعلی بھی ہیں، بتایا کہ اسکول کے پرنسپل نوتن داس کے خلاف طالب علم کی جانب سے اہانت اسلام کا الزام لگائے جانے کے بعد تشدد کے یہ واقعات ہوئے۔ طالب علم نے جب اہانت اسلام کی بات اپنے والدین کو بتائی تو انہوں نے ایک متنازعہ مذہبی رہنما عبدالحق سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے بعد عبدالحق نے یہ بات عام کردی اور علاقے کی تمام مسجدوں سے کہا کہ وہ لاؤڈاسپیکر پر اس واقعہ کے بارے میں سب کو بتائیں۔ جب لاؤڈاسپیکر کے ذریعہ لوگوں کو واقعہ کے بارے میں پتہ چلا تو لوگ ہندوؤں کے خلاف بھڑک اٹھے۔ مشتعل ہجوم نے سنت سچو ستناداس مندر میں توڑ پھوڑ کی اور کچھ دوسرے مندروں کو بھی نقصان پہنچایا۔ اس اسکول کو بھی نقصان پہنچایا گیا جہاں نوتن داس درس وتدریس کا کام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہندوؤں کے گھروں اور دکانوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ اخبار کے مطابق پاکستان کے حقوق انسانی کمیشن نے ان واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ گھوٹکی کے ایس ایس پی فرخ لنجر نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس علاقہ میں امن وامان بنائے رکھنے کے کوشش کررہی ہے۔وانکوانی نے جو تھارپارکر سے قومی اسمبلی کے رکن ہیں بتایا کہ یہ پہلی بات نہیں ہے کہ عبدالحق ہندوؤں پر حملے کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بیٹے محمد اسلم نے موجودہ معاملہ میں ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ وانکوانی نے مزید کہا کہ اہانت اسلام کے الزامات کے بعد انہوں نے خود نوتن داس کو پولیس کے حوالے کیا تھا لیکن اقلیتی فرقے کی جائیدادوں پر حملے کے لیے ابھی تک کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الزامات اور اس کے بعد برپاتشدد سے صاف ظاہر ہے کہ متنازعہ قانون کا بے جا استعمال کیا جارہاہے۔

 

۔ سعودی آئل پلانٹس پر ڈرون حملے کے امریکی الزامات کی ایران کی تردید

 

ایران نے امریکہ کے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ سعودی عرب میں آرامکو کے پلانٹس پر کیے گئے ڈرون حملے کے پیچھے اس کا ہاتھ ہے۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی ہندو تحریر کرتا ہے کہ اس وضاحت کے ساتھ ساتھ ایران نے امریکہ کو متنبہ بھی کیا کہ علاقہ میں امریکی اڈے اور طیارہ بردار جہاز اس کی میزائلوں کی زد میں ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ ان حملوں سے آرامکو کے پلانٹس کو کافی نقصان پہنچا تھا، جس کے باعث تیل کی پیداوار میں پچاس فیصد سے زیادہ کی کمی واقع ہوئی۔ ہفتہ کے روز یمن کے حوثی باغیوں نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی تاہم امریکہ کے وزیر خارجہ مائک پامپیو نے ایران پر ان حملوں کی ذمہ داری عائد کی ۔ اخبار تحریر کرتا ہے کہ سرکاری ٹیلی ویژن پر بولتے ہوئے وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے امریکی الزامات کی تردید کرتے ہوے کہا کہ یہ ساری باتیں بے بنیاد ہیں۔ ادھر پاسداران انقلاب کے ایک سینئر کمانڈر امیر علی خاجی زادے نے کہا کہ ان کا ملک جنگ کے لیے تیار ہے۔ سعودی عرب دنیا میں سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والا ملک ہے لیکن ان حملوں کے بعد اس کی تیل کی پیداوار میں 57 لاکھ بیرل یومیہ کی کمی واقع ہوگئی۔ ادھر آرامکو کا کہنا ہے کہ تیل کی پیداوار میں کمی کی وجہ سے دنیا بھر میں تیل کی فراہمی میں پانچ فیصد تک کی کمی واقع ہوسکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مقدار میں کمی کی وجہ سے مانگ اور سپلائی میں فرق پیدا ہوجائے گاجو مجموعی طورپر تیل کی قیمتوں پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔

 

۔ ‘بلو گرل’ کی موت کے بعد ایران میں خواتین کو فٹبال میچ دیکھنے کی اجازت

ایران نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے تمام اسٹیڈیم میں فٹ بال میچ دیکھنے کے لیے خواتین کوجلد ہی اجازت دے دی جائےگی۔ اس خبر کو روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے نمایاں طور پر شائع کیا ہے۔ اخبار تحریر کرتا ہے کہ اس بات کا اعلان پارلیمانی امور کے نائب صدر حسین علی امیری نے سرکاری خبررساں ایجنسی ارنا(IRNA) کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ بڑے بڑے اسٹیڈیموں میں خواتین کے لیے الگ گیٹ اور ان کے بیٹھنے کے لیے ایک محفوظ اور مخصوص گوشہ بنانے کی تیاریاں جاری ہیں۔انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایران اور کمبوڈیا کے درمیان دس اکتوبر کو ہونے والے عالمی کپ پلے آف کو دیکھنے کے لیے خواتین کو اجازت دی جائےگی۔ ایران کی جانب سے یہ اقدام اس لڑکی کی خودکشی کے بعد کیا گیا ہے جو اپنی پسند کی ٹیم کا میچ اسٹیڈیم میں دیکھنا چاہتی تھی۔اس لڑکی کا نام ‘بلو گرل’ کے نام سے مشہور ہوگیا کیوں کہ اس کی پسندیدہ ٹیم استقلال ایف سی کی جرسی کا رنگ نیلا ہے۔ ایران میں عورتوں کا اسٹیڈیم کے اندر جاکر فٹ بال میچ دیکھنا ممنوع ہے۔ لیکن وہ کسی طرح چھپ چھپاکر اسٹیڈیم میں داخل ہوگئی۔ پکڑے جانے پر اسے خدشہ تھا کہ اسے سزا ضرور ہوگی اس لیے احتجاج کے طورپراس نے خود کو آگ کے حوالے کردیا۔ اس کی موت کے بعد لوگوں نے سوشل میڈیا پر احتجاج کرنا شروع کردیا اور فیفا سے مطالبہ کیا جانے لگا کہ ایران پرپابندی عائد کی جائے۔ اور لوگوں سے اپیل کی گئی کہ وہ ایران کے میچوں کا بائیکاٹ کریں۔

 

۔ ٹرمپ-روحانی ملاقات خارج ازامکان نہیں، وہائٹ ہاؤس کا بیان

 

ایران پرسعودی عرب میں آرامکو کے پلانٹس پر ڈرون حملوں کے الزامات عائد کرنے کے باوجود وہائٹ ہاؤس نے صدر ڈونل ٹرمپ اور صدر روحانی کے درمیان ممکنہ ملاقات سے انکار نہیں کیا ہے۔ اس خبر کو روزنامہ انڈین ایکسپریس نے جلی سرخی کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ وہائٹ ہاؤس کے مشیر کیلانے کانوے (Kellyanne Conway)نے کہا کہ ہفتہ کے روز آرامکو پر حملوں کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی میٹنگ کے دوران دونوں رہنماؤں کی ملاقات کی امید کافی کم ہوگئی تھی۔ لیکن انہوں نے کہا کہ ابھی امید ختم نہیں ہوئی ہے اور ہوسکتا ہے کہ جنرل اسمبلی کی میٹنگ کو موقع پر دونوں کی ملاقات ہو۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ اور صدر روحانی کی ملاقات چاہے ہو یا نہ ہولیکن ایران پر عائد پابندیاں جاری رہیں گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں بنیادی ڈھانچوں پر حملے کرکے ایران اپنے کیس کو کمزور کرے گا۔