17.09.2019 جہاں نما

ہاؤسٹن میں صدر ٹرمپ مودی کی ریلی میں کریں گے شرکت

۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ڈونل ٹرمپ اس ماہ کی22 تاریخ کو ہیوسٹن میں ہونے والی تقریب میں شامل ہوں گے۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ ایشین ایج لکھتا ہے کہ 50 ہزار سے زیادہ ہند نژاد امریکی شہریوں اور غیر مقیم ہندوستانیوں کے اس اجتماع سے جناب مودی خطاب کریں گے۔ جناب مودی نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ صدر ٹرمپ کے اس تقریب میں شامل ہونے کے فیصلے سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی طاقت اور امریکہ میں رہنے والے ہندوستانیوں کی امریکی معاشرے اور معیشت کے لئے ان کی دین کا اظہار ہوتا ہے۔ جناب مودی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے اس خصوصی جذبے سے بھارت اور امریکہ کے درمیان خصوص دوستی کا بھی پتہ چلتا ہے۔ اس پروگرام کا نام ‘‘ہاؤڈی مودی’’ رکھا گیا ہے۔ اس بات کی بھی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی سمجھوتے بھی ہوں گے جن کا اعلان اس تقریب کے دوران کیا جا سکتا ہے۔ جناب مودی22 سے 27 ستمبر تک امریکہ کے دورے پر ہوں گے۔ہاؤسٹن میں غیر مقیم ہندوستانیوں سے خطاب کرنے کے  بعد وہ نیویارک جائیں گے جہاں وہ 27ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔ امید ہے کہ وہ نیو یارک میں عالمی رہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گے۔

سعودی تیل تنصیبات پر حملوں میں ملوث مجرموں کے خلاف کارروائی کے لئے تیار،صدر ٹرمپ کا بیان

۔ صدر امریکہ ڈونل ٹرمپ نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی تیل کمپنی آرامکو کی تنصیبات پر حملہ کرنے والوں کو بھر پور جواب دینے کے لئے واشنگٹن پوری طرح تیار ہے۔ تیل کی تنصیبات پر ہفتے کے روز ہونے والے ڈرون حملوں  سے تیل کی پیدوار میں 50فیصد کی کمی واقع ہوئی تھی جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے اپنے کالموں میں خصوصی جگہ دی ہے۔ روزنامہ ٹائمز آف انڈیا تحریر کرتا ہے کہ صدر ڈونل ٹرمپ نے پیر کے روز اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر حملوں میں ملوث مجرم کو ہم جانتے ہیں جو اس وقت ہمارے نشانے پر ہے لیکن ہم سعودی عرب سے یہ سننے کے منتظر ہیں کہ وہ حملوں کا ذمہ دار کسے  سمجھتا ہے۔صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ریاض ان حملوں کی وجوہات جانتا ہے اور ہمیں کن شرائط پر آگے بڑھنا ہے ،یہ اسے دیکھنا ہوگا۔صدر ٹرمپ کا یہ بیان پیر کے روز امریکی حکام کی جانب سے مصنوعی سیارے سے حاصل کی گئیں تصاویر جاری کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔حکام کا کہنا تھا کہ تصاویر اشارہ کرتی ہیں کہ یہ حملے شمال یا شمال ۔مغرب کی جانب سے کئے گئے تھے یعنی عراق یا ایران ان حملوں میں ملوث ہے نہ کہ یمن کے حوثی باغی۔ جنہوں نے حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ امریکی حکام نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ ڈرون کا اپنے اہداف پر بالکل صحیح نشانہ لگانا ثابت کرتا ہے کہ یمن کے حوثی اس میں شامل نہیں ہیں کیونکہ نہ ان کے پاس اتنی صلاحیت ہے اور نہ مہارت۔ قابل ذکر ہے کہ ایران نےامریکی الزام کی پہلے ہی تردید کر دی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ ا مریکہ کو خلیج کے تیل کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ خود دنیا کا سب سے زیادہ تیل اور گیس پیدا کرنے والا ملک ہے لیکن چونکہ بات اپنے حلیف کی ہے اس لئے وہ اس کی مدد کرنا چاہتا ہے۔ اسی دوران روس نے امریکہ کو متنبہ کیا ہے کہ وہ جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہ کرے ۔ کریملن  کے ترجمان دیمتری پسیکوونے ایک بیان میں تمام ملکوں سے جلد بازی میں فیصلے نہ لینے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ بغیر سوچے سمجھے اس بارے میں اگر کوئی فیصلہ لیا گیا تو اس سے صورت حال مزید بگڑ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ صدرپوتن کا اکتوبر میں سعودی عرب کا دورہ کرنے کا منصوبہ ہے۔

 

پاکستان فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی شرائط میں نرمی کے لئے کرسکتاہے امریکہ سے امداد طلب

۔ افغانستان سے پر امن طور پر امریکی فوجوں کی واپسی میں مدد کے عوض پاکستان فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس یعنی ایف اے ٹی ایف اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی سخت شرائط سے چھٹکارا دلانے کے لئے امریکہ کی مدد طلب کر سکتا ہے۔اس خبر کو بیشتر اخبارات نے نمایاں طور پر شائع کیا ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی اسٹیٹسمین میڈیا کی خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے تحریر کرتا ہے کہ امید ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اس ماہ نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی میٹنگ سے الگ صدر ٹرمپ سے ملاقات کے دوران ایف اے ٹی ایف اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی سخت شرائط سے راحت دلانے میں مدد کرنے کی اپیل کر سکتے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس نے گذشتہ برس پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کر لیا تھا۔ اس فہرست میں ان ملکوں کے نام شامل ہیں، جو دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کی روک تھام میں نا کام ہیں اور اس سلسلہ میں جن کے داخلی قوانین کافی کمزور ہیں۔ پیرس کی اس تنظیم نے پاکستان کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اکتوبر تک دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کو روکنے کا اپنا وعدہ پورا کرے ورنہ بلیک لسٹ میں شامل ہونے کے لئے تیار ہو جائے۔ خبروں کے مطابق اکتوبر میں ہونے والے مکمل اجلاس سے قبل ایف اے ٹی ایف نے بینکاک  میں جو آخری جائزہ میٹنگ کی اس میں اس نے پایا کہ پاکستان نے اس سلسلہ میں اطمینان بخش کارروائی نہیں کی ہے۔پاکستانی کابینہ کے ایک رکن نے روزنامہ دی نیوز کو بتایا کہ ایف اے ٹی ایف کامکمل اجلاس آئندہ ماہ پیرس میں ہونے والا ہے جہاں پاکستان کی قسمت کا فیصلہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اسی مہینے یعنی اکتوبر میں ہی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی بھی میٹنگ ہوگی جہاں پاکستان کو دیئے گئے 6ارب امریکی ڈالر قرض کے تحت پہلے کوارٹر کی کار کردگی کا جائزہ لیا جائےگا۔وزیر موصوف نے کہا کہ پاکستان نے بغیر گفت و شنید کے سخت ترین شرائط کے ساتھ قرض تو حاصل کر لیا لیکن اب اسے اس کا بوجھ محسوس ہو رہاہے۔ حکومت کو اس وقت ریوینو کی زبر دست کمی کا سامنا ہے اس لئے اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچتا کہ وہ ایک منی بجٹ پیش کر کے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی ہدایات کے مطابق مزید ٹیکس نافذ کر دے۔لیکن حکومت عوام پر اور ٹیکس نافذ کرنا نہیں چاہتی اب اگر امریکہ کچھ مدد کرے تو پاکستان کو آئی ایم ایف کی شرائط سے راحت مل سکتی ہے۔ وزیر موصوف نے کہا کہ افغانستان سے پر امن طور پر امریکی فوجوں کی واپسی میں اپنی خدمات کے عوض پاکستان امریکہ سے چاہتا ہے کہ وہ فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی سخت شرائط سے راحت دلانے میں اسلام آباد کی مدد کرے۔

 

کرتار پور راہداری 9؍ نومبر کو کھول دی جائے گی، پاکستانی اہلکار کا بیان

۔ پاکستان نے پیر کے روز اعلان کیا کہ 9 نومبر کو کرتار پور راہداری سکھ زائرین کے لئے کھول دی جائے گی۔اس خبر کو تمام اخبارات نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی ہندوستان ٹائمز تحریر کرتا ہے کہ یہ اعلان لاہور سے تقریباً25 کلو میٹر دور نارووال میں زیر تعمیر راہداری کے مقامی اور غیرملکی صحافیوں کے دورے کے دوران کیا گیا۔ پروجیکٹ ڈائرکٹر عاطف مجید نے دورے پر آئے صحافیوں کو بتایا کہ راہداری کا 86 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے اور باقی کام آئندہ ماہ تک مکمل کر لیا جائےگا۔انہوں نے کہا کہ راہداری 9 نومبر کو سکھ یاتریوں کے لئے کھلو دی جائے گی۔ یہ راہداری کرتار پور میں دربار صاحب کو پنجاب کے گوروداس پور میں ڈیرہ بابا نانک سے جوڑے گی۔کرتار پور جانے کےلئے ہندوستانی یاتریوں کو ویزے کی ضرورت نہیں ہوگی انہیں صرف ایک پرمٹ حاصل کرنا ہوگا۔یہ راہداری گورو نانک دیو جی کی 550ویں سالگرہ سے پہلے کھول دی جائے گی۔ پاکستان روزانہ پانچ ہزار سکھ یاتریوں کو کرتار پور آنے کی اجازت دینے کے لئے تیار ہو گیا ہے۔

 

میانما میں چھ لاکھ روہنگیاؤں کو نسل کشی کے خطرات کا سامنا

اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں کا کہنا ہےکہ میانما میں باقی بچے روہنگیا مسلمانوں کو نسل کشی کے خطرات کا سنگین سامنا ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی ہندو لکھتا ہے کہ تفتیش کاروں نے متنبہ کیا ہے کہ تقریباً دس لاکھ روہنگیاؤں کا جو فوجی آپریشن کے بعد ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے وطن واپس آنا نا ممکن ہے۔ گذشتہ برس حقوق انسانی کمیشن نے حقیقت کا پتہ لگانے کے لئے ایک مشن قائم کیا تھا ۔ اس ٹیم نے میانما کا دورہ کیا اور حقائق کا پتہ لگانے کے بعد نتیجہ نکالا کہ2017 کا فوجی آپریشن در اصل نسل کشی تھی۔ مشن نے اس جرم کے لئے فوج کے سر براہ من آنگ ہینگ سمیت اعلیٰ فوجی کمانڈروں کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ تقریباً سات لاکھ چالیس ہزار روہنگیا فوجی آپریشن کے دوران اپنے جلتے ہوئے مکانوں کو چھوڑ کر قتل و غارت گری اور عصمت دری کے درمیان بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے تھے۔لیکن اپنی تازہ رپورٹ میں اقوام متحدہ کی ٹیم نے کہا کہ میانما کے رخائن صوبے میں ابھی بھی تقریباً 6 لاکھ روہنگیا موجود ہیں جو کافی خستہ حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ٹیم نے اپنی حتمی رپورٹ میں کہا کہ رخائن میں باقی ماندہ روہنگیاؤں کو ابھی بھی نسل کشی کے سنگین خطرات کا سامنا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حکام اس بات سے انکار کر رہے ہیں کہ انہوں نے کچھ غلط کیا ہے۔ وہ تمام شواہد کو مٹا رہے ہیں اور موثر تفتیش کرانے سے انکار کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ وہ ان گھروں کو گرا کر اس پر نئی عمارت تعمیر کر رہے ہیں جہاں کبھی وہ روہنگیا مسلم رہا کرتے تھے جو اب ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ یہ رپورٹ آج جنیوا میں پیش کی جائے گی۔