18.09.2019 جہاں نما

افغانستان میں صدارتی ریلی پر خودکش حملہ، 48 ہلاک، صدر اشرف غنی محفوظ   انتخابات سے قبل مزید دھماکوں کی طالبان نے دی دھمکی

آج ملک کے بیشتر اخباروں نے افغانستان میں منگل کے روز طالبان کے ذریعے کیے گئے شدید بم دھماکوں اور صدر اشرف غنی کے بال بال بچ جانے کی خبروں کو مختلف شہ سرخیوں کے تحت شائع کیا ہے۔ روزنامہ ہندو اپنی خبر میں لکھتا ہے کہ صدارتی انتخابات سے 11 دن قبل کیے گئے، ان دھماکوں میں 48 افراد ہلاک ہوئے ہیں، پہلا حملہ صوبہ پروان  میں چاری کار مقام پر ایک خودکش حملہ آور کے ذریعے صدر کی انتخابی ریلی پر کیا گیا۔ صدر دوسری صدارتی مدت کےلئے انتخابی میدان میں ہیں، جو 28 ستمبر کو ہوں گے۔ اس حملے میں 26 افراد ہلاک اور 42 زخمی ہوئے ہیں۔ حملے میں صدر اشرف غنی بال بال بچ گئے۔ اخبار کے مطابق دوسرا دھماکہ ملک کی دار الحکومت کابل میں ہوا، جب پیدل چلنے والے ایک شخص نے خود کو دھماکے سے اڑالیا، اس دھماکے میں 22 افراد ہلاک اور 38 زخمی ہوئے۔ اخبار آگے رقمطراز ہے کہ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھماکے کا مقصد اشرف غنی کی انتخابی ریلی کو منتشر کرنا تھا۔ ان ہی کے الفاظ میں طالبان پہلے ہی لوگوں کو خبردار کرچکے ہیں کہ وہ انتخابی ریلیوں میں شرکت نہ کریں۔ اب اگر ان کو کوئی نقصان پہنچا ہے تو وہ اس کے خود ذمہ دار ہیں۔ اخبار ایک اور خبر میں لکھتا ہے کہ طالبان نے انتخابات سے قبل  اسی طرح کے مزید حملوں کی دھمکی دی ہے۔ یہ دھماکے اس وقت ہوئے ہیں، جب امریکی صدر ڈونل ٹرمپ نے اس ماہ کے اوائل میں طالبان سے مذاکرات اچانک منقطع کردیے تھے، ان مذاکرات کا تعلق اس معاہدے پر اتفاق رائے سے تھا، جس کے تحت امریکہ کو افغانستان میں طویل ترین جنگ سے اپنی افواج کو واپس بلانا تھا۔ اخبار نے تحریر کیا ہے کہ صدر اشرف غنی نے ان دھماکوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان کو امن و استحکام، صلح اور سمجھوتے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی ایک بیان میں ان دھماکوں کی مذمت کی ہے اور الزام لگایا ہے کہ طالبان کی ان حرکتوں سے یہ ظاہر ہورہا ہے کہ ان کو عوام کی قیمتی جانوں اور بنیادی حقوق انسانی کی کوئی پرواہ نہیں ہے اوروہ نہیں چاہتے کہ عوام جمہوری عمل میں حصہ لیں۔

ایک نہ ایک دن پاکستان مقبوضہ کشمیر قانونی طور پر بن جائے گا ہندوستان کا حصہ: وزیر خارجہ

اخبارات کی دوسری اہم خبروں میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر کا وہ بیان شائع کیا گیا ہے، جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ایک دن مقبوضہ کشمیر قانونی طور پر ہندوستان کا حصہ بن جائے گا۔ صفحہ اوّل پر شائع اس خبر میں روزنامہ ٹائمز آف انڈیا لکھتا ہے کہ اگلے ہفتے اقوام متحدہ میں پاکستان کے ساتھ سخت رویہ اپنانے کا اشارہ دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر پر ہندوستان کا موقف بالکل واضح ہے۔وہ یہ کہ یہ خطہ ہندوستان کا حصہ ہے۔ اخبار کے مطابق ایس جے شنکر کا یہ تازہ بیان ان بیانات کے سلسلے کی ایک کڑی ہے، جن کے مطابق، پاکستان کے ساتھ جموںوکشمیر کی حیثیت پر کوئی بات چیت نہیں ہوگی، نیز یہ کہ اب ہندوستان نے ایک نیا سفارتی موقف اپنایا ہے۔ اس سے قبل مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بھی جموںوکشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 کے خاتمے پر لوک سبھا میں تقریر کرتے ہوئے اسی موقف پر زور دیا تھا، جس پر بعد میں وزیر دفاع راجناتھ سنگھ اور نائب صدر وینکیا نائیڈو نے بھی اس کا اعادہ کیا تھا۔ اخبار آگے رقمطرات ہے کہ وزیر خارجہ بننے کے بعد پہلی اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےے ایس جے شنکر نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ کشیدگی کی وجہ ہندوستان کے ذریعہ جموں وکشمیر کے خصوصی درجے کا خاتمہ نہیں بلکہ اپنی سرزمین سے دہشت گردی کے اڈوں کے خاتمے سے پاکستان کا انکار ہے۔ اخبار نے ایک اور خبر میں بیجنگ میں دیے گئے ایک چینی اہلکار کے بیان کے حوالےسے تحریر کیا ہے کہ آئندہ ہفتوں میں جب تمل ناڈو میں وزیراعظم نریندرمودی اور صدر شی جنگ پنگ کی ملاقات ہوگی تو اس میں جموںوکشمیر کا معاملہ زیر بحث نہیں آئے گا، بلکہ دونوں رہنما اسٹریٹجک اہمیت کے معاملات پر گفت و شنید کریں گے۔ روزنامہ ٹری بیون نے وزیرخارجہ ایس جے شنکر کی اخباری کانفرنس کے حوالے سے ایک خبر میں تحریر کیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ اس وقت  تک کوئی بات چیت نہیں ہوگی، جب تک وہ اپنی دہشت گردی بند نہیں کردیتا۔ ہندوستان، ایک پڑوسی کے علاوہ بقیہ تمام پڑوسیوں کے ساتھ فراخدلانہ اور بے غرض تعلقات قائم کیے ہوئے ہیں، جب تک یہ پڑوسی سرحد پار سے دہشت گردی بند نہیں کردیتا اور عام پڑوسیوں کا رویہ اختیار نہیں کرلیتا، اس وقت وہ ہندوستان کےلئے ایک منفرد چیلنج بنا رہے گا۔ اخبار اس بیان کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین پر اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک کرتا رہتا ہے، مگر دوسری جانب جموںوکشمیر کے معاملے پر شور و غوغا کرتا رہتا ہے۔

نریندرمودی اور عمران خان سے ملاقات کریں گے صدر ٹرمپ

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ جلد ہی وزرائے اعظم نریندرمودی اور عمران خان سے ملاقات کریں گے، مگر اس کے ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں پڑوسیوں کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کےلئے کافی پیش رفت ہوئی ہے۔ روزنامہ ایشین ایج اس حوالے سے لکھتا ہے کہ 22 ستمبر کو ہوسٹن میں ‘‘ہوڈی -مودی’’ عظیم الشان تقریب میں وزیراعظم مودی اور صدر ٹرمپ 50 ہزار سے زائد ہند نژاد امریکیوں سے خطاب کریں گے، مگر امریکی صدر نے یہ نہیں بتایا کہ وہ پاکستانی وزیراعظم سے کب اور کہاں ملاقات کریں گے۔ اخبار کے مطابق ٹرمپ نے پیر کے روز وہائٹ ہاؤس میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے یہ بیان دیا۔ اپنے شیڈول کے مطابق صدر ٹرمپ اس ماہ کے واخر میں، نیویارک میں ہونے والے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر عمران خان سے ملاقات کریں گے۔

‘‘ہَوڈی- مودی’’  عظیم الشان تقریب میں ٹرمپ کی شرکت، باہمی تعلقات کےلئے اہم ٹائمز آف انڈیا کا اداریہ

روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے ‘‘ہوڈی-مودی’’ عظیم الشان تقریب کے حوالے سے اپنا اداریہ تحریر کیا ہے، جس کے مطابق غیر مقیم ہندوستانیوں کے اس اجتماع ہوڈی-مودی سے نریندرمودی کے خطاب اور اس میں صدر ٹرمپ کی شرکت ہند-امریکہ تعلقات میں زبردست اہمیت کی حامل ہے۔ اخبار اس کو ہندوستانی سفارتکاری کی بڑی فتح قرار دیتے ہوئے رقمطراز ہے کہ ایسے وقت میں جب پاکستان کشمیر کو بین الاقوامی معاملہ بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ ہوسٹن کے اس اجتماع میں صدر ٹرمپ کی شرکت سے ان کے سابقہ بیانات پر چھائی غلط فہمی ختم ہوگئی ہے، جن میں انھوں نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی بات کی تھی،اپنے اداریے میں اخبار آگے لکھتا ہے۔ دوسری جانب اس شرکت سے ٹرمپ کا مفاد بھی وابستہ ہے۔ ہند-نژاد امریکیوں کا امریکی سیاست پر غلبہ بڑھتا جارہا ہے، لہٰذا اگلے سال ہونے والے صدارتی انتخابات کے پیش نظر ٹرمپ کی نگاہیں اس ووٹ بینک پر لگی ہوئی ہیں، اس لیے امریکی صدر، ہند-امریکہ تعلقات کو اجاگر کر کے ان کو خوش کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ اخبار نے آگے تحریر کیا ہے کہ ہند-امریکہ تجارتی تعلقات میں اختلافات کے پس منظر میں ان تعلقات میں کچھ تلخی آگئی ہے، جس کو دور کرنا ہوگا۔

‘‘ہَوڈی- مودی’’تقریب سے ہند-امریکی تجارتی اختلافات ہوسکتے ہیں رفع

ہوڈی-مودی  ہوسٹن تقریب کے حوالے سے روزنامہ ہندو نے خیال ظاہر کیا ہے کہ اس موقع پر مودی اور ٹرمپ کی ہونے والی ملاقات سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ دونوں ممالک شدت کے ساتھ طویل مدتی تجارتی اختلافات کو حل کرنے میں مصروف ہیں خصوصاً وہ تجارتی اختلافات جن کا تعلق میڈیکل آلات، زراعت اور ای کامرس سے ہے۔ خبروں کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ ہندوستان میں امریکی سفیر کینتھ آئی جسٹر ان معاملات کے سلسلے میں منگل کے روز وزیر تجارت پیوش گوئل سے ملاقات کی ہے۔ اس موقع پر امریکی میڈیکل آلات کے مینوفیکچرنگ اور فارما سیوٹیکل کمپنیوں کی جانب سے تیار کردہ ایک ڈھائی گھنٹہ طویل رپریزنٹیشن  بھی دکھایا گیا۔ اخبار نے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی ایک اخباری کانفرنس کا بھی حوالہ دیا، جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ہند-امریکی تعلقات اچھی حالت میں اور تجاری مسائل معمول پر آگئے ہیں۔ امریکہ نے اپنی فارما سیوٹیکل کمپنیوں کی جانب سے ہندوستان سے میڈیکل آلات پر قیمتوں کی حد ختم کرنے کے مطالبات کیے ہیں۔ خصوصاً دل اور گھٹنوں کےلئے بائیو ایبزارب ایبل اسٹنٹ کے سلسلے میں۔

2032 تک ہندوستان کو 10 ٹریلین معیشت بنانے کا نشانہ : وزیر داخلہ

‘‘2032 تک  ہندوستان کو 10 ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کا نشانہ: راجناتھ سنگھ’’ یہ سرخی ہے روزنامہ ٹری بیون کی۔ خبر کے مطابق وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ڈی آرڈی او کے ذریعے تیار ٹیکنالوجیوں کو نجی شعبے کو دینے کےلئے حکومت کام کررہی ہے۔ وہ منگل کے روز نئی دہلی میں سوسائٹی آف انڈین مینوفیکچرس کے دوسرے اجلاس سے خطاب کررہے تھے، جس کا عنوان تھا۔ میک ان انڈیا:2025 تک دفاعی صنعت کو 26 بلین کے نشانے کی طرف مارچ۔ راجناتھ سنگھ نے مزید کہا کہ حکومت ہندوستان کو ایک نیٹ ایکسپورٹر  بنانے کی کوشش کررہی ہے۔ اخبار وزیر موصوف کے حوالے سے آگے رقمطراز ہے کہ 2032 تک ہندوستان 10 ٹریلین ڈالر کی معیشت بن جائے گا، جس میں دفاعی آلات اہم کردار اداکریں گے، نیز یہ کہ عالمی سپلائی چین میں شمولیت اختیار کر کے دفاعی مینو فیکچررس ہندوستان میں خصوصی کردار بنائیں گے۔ انھوں نے دفاعی شعبے میں نجی اداروں کے ذریعے پیداوار میں حوصلہ افزائی کےلئے کچھ اقدامات کی بھی نشاندہی کی۔