22.09.2019

پاکستان کسی بھی صورت میں کشمیر کا ہمدرد نہیں ہے 

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان سمیت ملک کے دیگر تمام رہنما عالمی پیمانے پر اپنی ساکھ اور معتبریت کھوتے جارہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کشمیر سمیت دیگر امور پر پاکستان کی ریکارڈ پر کوئی توجہ نہیں دے رہا ہے۔ عالمی پیمانے پر پاکستان سے متعلق یہ تاثر عام ہے کہ پاکستان کشمیر یا کشمیریوں کا ہرگز خیر خواہ نہیں ہے۔ اس سلسلے میں فرانس میں مقیم پاکستان کے معروف اور ایوارڈ یافتہ صحافی طٰحہ صدیقی نے الجزیزہ ڈاٹ کام میں شائع اپنے مضمون میں پاکستانی حکام کو مشورہ دیا ہے کہ اگر پاکستان کشمیر کے معاملے میں سنجیدہ ہے اور کشمیر کے عوام کی فلاح وبہبود کا متمنی ہے تو اسے اپنے اس عزم کا اپنے ہی ملک میں مظاہرہ کرنا چاہئے۔ اس کے تحت اسے پاکستانی مقبوضہ کشمیر اور گلگت بلتستان میں جاری حقوق انسانی کی پامالی روکنے کے لیے دیانتداری کے ساتھ اقدامات کرنے ہوں گے۔ اس کے ساتھ اگر وہ انسانی حقوق کی پامالی کو روکتا ہے اور کشمیریوں کو اپنے مستقبل سے متعلق فیصلہ کرنے کی اجازت دیتا ہے تو اس کے بعد دنیا کشمیر سے متعلق اس کی تشویش کو سنجیدگی کے ساتھ سنے گی۔ اپنے مضمون میں طٰحہ صدیقی تحریر کرتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان نے بھی کشمیر کے معاملے پر سابق وزیراعظم کی روش اختیار کی ہے اور دنیاکے سامنے اپنے آپ کو کشمیریوں کا سب سے بڑا ہمدرد کے طور پر پیش کیا ہے۔ نیو یارک ٹائمز کو دیئے گئے اپنے انٹرویو میں عالمی برادری سے کشمیر کے معاملے پر خصوصی توجہ دینے کی اپیل کرتے ہوئے تنبیہ کی ہے کہ اس معاملے میں اگر جلد مداخلت نہ کی گئی تو ہندوستان اور پاکستان کےدرمیان نیو کلیائی جنگ کا خطرہ ہوسکتا ہے۔ طٰحہ صدیقی نے کشمیر مسئلے کا تاریخی حوالہ دیتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کی آزادی کے وقت کشمیر نے آزاد رہنے کا فیصلہ کیا تھا جسے برطانیہ سمیت ہندوستان اور پاکستان نے تسلیم بھی کیا تھا بلکہ اس معاملے میں پاکستان نے کشمیر کے ہندو حکمراں مہاراجہ ہری سنگھ کے ساتھ معاہدہ بھی کیا تھا لیکن چند مہینوں بعد ہی اس نے معاہدے سے انحراف کرتے ہوئے پشتون قبائلیوں کو کشمیر میں داخل ہونے میں مدد کی بلکہ وادی پر اپنے تسلط کے لیے اپنے سلامتی دستے کشمیربھیجے۔ کشمیری حکمراں کی مدد کی درخواست پر ہندوستان نے مدد کے لیے  اپنے ساتھ شمولیت کی شرط پر مدد فراہم کی۔ اس تنازعہ نے ہندو پاک جنگ کی شکل اختیار کر لی جو انیس سو سیتالیس۔اڑتالیس، اس کے بعدانیس سو پینسٹھ اور 1999میں کارگل جنگ کے طور پر رونما ہوئیں۔ ایوارڈ یافتہ معروف صحافی اپنے مضمون میں مزید لکھتے ہیں کہ پاکستان نے کشمیر میں 1987کے انتخابات کے دوران بھی کافی ہنگامے کرائے۔ اس دوران پاکستان کی اعانت سے بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے بھی کئے گئے۔ ان مظاہروں کے دوران جموں کشمیر لبریشن فرنٹ ؍جے کے ایل ایف کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگئی اور کشمیر کی مسلح مزاحمت کی ترجمان بن گئی۔ اس کے چند برسوں بعد ہی پاکستان سے جنگجوؤں نے وادی میں داخل ہونا شروع کیا اور جے کے ایل ایف جیسے آزادی حامی گروپوں کے رہنماؤں کو نشانہ بنانا اور قتل کرنا شروع کردیا۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ پاکستانی جنگجوؤں نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران نہ صرف کشمیر بلکہ ہندوستان کے اہم شہروں میں اپنی دہشت گردانہ سرگرمیاں جاری رکھیں ، جن میں سال 2001میں نئی دہلی میں پارلیمنٹ پر دہشت گردانہ حملہ، سال دوہزار آٹھ میں ممبئی میں دہشت گردانہ حملے اور پٹھان کوٹ اور پلوامہ کے حالیہ دہشت گردانہ حملے شامل ہیں۔ طٰحہ صدیقی مزید لکھتے ہیں کہ ہندوستان اور عالمی برادری کے اصرار اور دباؤ کے بعد پاکستان نے اپنی سرزمین پر دہشت گردی کے خاتمے کے لئے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں صورت حال بہت تشویشناک ہے ، جہاں کسی بھی سیاسی پارٹی کو پاکستان کے ساتھ الحاق کے بغیر عام انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہے۔ اسی سبب پاکستان کی اپنی سیاسی پارٹیاں ہی انتخابات میں حصہ لیتی ہیں اور خطے میں ہونے والے انتخابات میں جیت حاصل کرتی ہیں جبکہ اصل کشمیری اس سے محروم رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں عوام کو حکومت میں نمائندگی سے محروم کیا گیا ہے جہاں تمام بیورو کریسی اور سول سروسز حکومت پاکستان کے زیر کنٹرول ہے جبکہ پاکستانی وزیراعظم کے زیر قیادت کشمیر کونسل نام کا ادارہ تمام سرکاری امور کی نگرانی کرتا ہے۔ مزید براں پاکستان نے کشمیر کے چند حصوں کو گلگت بلتستان کے خطے میں شامل کرنے کی کوششیں بھی کیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان نے گلگت بلتستان کا خصوصی درجہ بھی ختم کردیا جہاں کے تمام امور حکومت پاکستان کی راست نگرانی میں انجام دئیے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جموں وکشمیر کی فکر سے پہلے پاکستان کو اپنے یہ تمام معاملات درست کرنے ہوں گے ۔ ایسی صورت میں ہی عالمی برادری کسی بھی معاملے میں پاکستان کی تشویش کو اہمیت دے سکے گی۔ موجودہ وقت میں تمام حقائق کی روشنی میں یہ امر روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان کسی بھی صورت میں کشمیر کا ہمدرد، خیرخواہ یا رفیق نہیں ہے۔

 

عمران خان کے زیر قیادت حکومت نا اہل

پاکستان کو اپنے قیام سے اب تک مختلف محاذ اور امور میں مسلسل ناکامی کا سامنا رہا ہے تاہم ملک میں وزیراعظم عمران خان کے زیر قیادت حکومت کے قیام کے بعد لوگوں کو کامیابی کی ایک کرن نظر آئی تھی لیکن طویل انتظار کے بعد ان لوگوں میں مایوسی نے ایک بار پھر گھر کرلیا ہے۔ پاکستان کے سیاسی امور پر دسترس رکھنے والے معروف کالم نگار سائرل المیڈا نے روزنامہ ڈان میں شائع اپنے مضمون میں عمران خان کے زیر قیادت حکومت کو مخالف حکومت سے تعبیر کیا ہے۔ المیڈا اپنے مضمون میں لکھتے ہیں کہ عمران خان نے واضح پیغام دیا تھا کہ وہ پاکستان کا مکمل نظام ایک ریکارڈ وقت میں درست کریں گے۔ انہوں نے عوام سے اپنے اوپر مکمل اعتماد کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ضرورت سے زیادہ توقعات ہمیشہ حقیقت سے متصادم  ہوتی ہیں اور یہی عمران خان کے بلند وبانگ دعوؤں کا حال ہوا ہے جس کی کسی کو امید نہیں تھی۔ پاکستان میں پہلے ہی متعدد معاملات خراب ہوچکے ہیں اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک میں معاشی محاذ پر ہونے والے نقصان کو کبھی چھپایا نہیں جاسکتا بالخصوص صارفین کے تعلق سے موجودہ وقت میں پاکستان میں ملازمت کے مواقع ختم ہوگئے ہیں اور عوام اور امیدواروں کو اس کا علم ہوگیا ہے کہ ملک میں کیا صورت حال ہے ،اس لیے امیدوار ملازمت کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ سائرل المیڈا اپنے مضمون میں مزید لکھتے ہیں کہ عمران خان نے ملک میں پوری نسل کو ہی سیاسی رنگ میں رنگ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شاید عمران خان کو اپنی زندگی کے آخری مرحلے میں پاکستان کا وزیراعظم بننے کے علاوہ کسی دوسرے معاملے میں کوئی دلچسپی نہیں اور اپنی اس خواہش کی تکمیل میں عمران خان ایک نہایت نازک اور تشویشناک صورت حال میں پھنس گئے جہاں وہ معلق ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ عمران خان اس وقت مرکز میں ایک لیم ڈک یعنی بے اختیار شخص بن کر رہ گئے ہیں۔ علاوہ ازیں ناقص پالیسیوں کی وجہ سے مانیٹری فنڈ؍ آئی ایم ایف نے پاکستان پر جو پابندیاں عائد کی ہیں، اس کے سبب عمران خان حکومت کے متعدد وزراء بے دست وپا ہو کر رہ گئے ہیں۔ کالم نگار لکھتے ہیں کہ عمران خان صوبائی امور کے انتظام وانصرام میں بھی ناکام ثابت ہوئے ہیں جہاں مرکز اور صوبوں میں تصادم کی صورت حال ہے۔ جہاں ایک تاثر یہ ہے کہ صوبوں کے نظام کو مرکز کے ذریعہ کنٹرول نہیں کیا جاسکتا وہیں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ نظام حکومت میں صوبوں کے اندر کثیر اختیاری مراکز کو برداشت نہیں کیا جاسکتا ہے۔ یہ ایک ایسی نازک صورت حال ہے جس کا کوئی حل مستقبل قریب میں نظر نہیں آتاہے۔کالم نگار سائرل المیڈا مزید لکھتے ہیں کہ موجودہ وقت میں پاکستان کی باگ ڈور عمران خان کے ہاتھ میں ہے تو اس کے معنی ہر گز یہ نہیں ہے کہ ان سے بہتر اور باصلاحیت قائد تلاش نہیں کیا جاسکتا۔ بے شک مناسب مقام اور مناسب وقت پر ان سے زیادہ صلاحیت والے امیدوار کو تلاش کیا جاسکتا ہے۔ کسی بھی ملک کے قائد میں ٹیکنو کریٹ کی صلاحیتیں، سیاسی بصیرت اور عوام میں مقبولیت کا ہونا لازمی ہوتا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کے ساتھ اس طرح کا معاملہ ہرگز نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک نا اہل قائد کے زیرکنٹرول حکومت کو متعدد اور مختلف اندرونی تضاد کا سامنا رہتا ہے اور جن کو جامع طریقے سے طے بھی کر لیا جاتا ہے ، لیکن پاکستان کی صورت حال مختلف ہے جہاں حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں۔ پاکستان میں ابھی بھی حکومت عمران خان کے زیر قیادت ہے ، یہ ایک اچھی اور بری دونوں ہی خبر ہے۔ سائرل المیڈا نے پاکستان کی سرزمین کے لیے خیر کی دعا کے ساتھ اور سب کے لیے نیک خواہشات کے ساتھ اپنے مضمون کا اختتام کیا۔