اور اب کشمیر پر بات چیت کرنے کے لئے عمران خان کا دورۂ سعودی عرب

شاید پاکسان کے لئے اقتصادی بدحالی ، افراط زر،ناخواندگی، غریبی اور بیماری کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے، جس سے وہاں کے حکمرانوں کو کوئی فکر لاحق ہوسکتی ہے۔ ان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہندوستان میں کیا ہو رہا ہے ، یہاں کی اندرونی صورتحال کیا ہے۔ چنانچہ حکومت ہند کی جانب سے کشمیر کے تعلق سے دفعہ 370ہٹائے جانے کے بعد پاکستانی حکمراں ایکدم حرکت میں آگئے اور سب کچھ چھوڑ کر دنیا بھر کی راجدھانیوں کے چکر لگانے لگے تاکہ ہندوستان کو کٹہرے میں کھڑا کرکے اس سے باز پرس کی جائے کہ اس نے اپنے ملک کی ایک ریاست میں انتظامی تبدیلی کیوں کی؟ سفارتی سطح پر اس نے زمین آسمان کے قلابے ملائے کہ کوئی ہندوستان سے پوچھے کہ اس نے ایسا کیوں کیا؟ امریکی صدر ٹرمپ سے پاکستان کے وزیر اعظم نے گزارش کی کہ وہ ہندوستان کو سمجھائیں۔ صدر ٹرمپ نے یہ کہا کہ اگر دونوں ملک چاہیں تو وہ ثالثی کا رول انجام دے سکتے ہیں۔ ہندوستان نے ان سے اور دوسرے تمام لوگوں سے یہی کہا کہ ہندوستان کا ایک اٹل موقف ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جو آپسی معاملات ہیں وہ صرف باہمی گفتگو کے ذریعہ ہی حل کئے جاسکتے ہیں۔ کسی تیسرے فریق کی ثالثی کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور صرف ہندوستان ہی کا یہ موقف نہیں ہے بلکہ شملہ سمجھوتے میں یہ بات درج ہے اور اس پر پاکستان کے بھی دستخط ہیں۔ شملہ سمجھوتے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان اپنے باہمی معاملات اور تنازعات کسی بین الاقوامی ادارے میں نہیں لے جائیں گے بلکہ آپسی گفت وشنید کے ذریعہ حل کریں گے لیکن پاکستان نے اس معاہدے کا کبھی پاس نہیں کیا۔ یہ معاہدہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان 1972میں ہوا تھا۔ پھر 1999میں دونوں ملکوں کے کے درمیان لاہور اعلامیہ بھی جاری ہوا تھا۔ لیکن پاکستان نے اس کی بھی دھجیاں اڑائیں۔ پاکستان کا نظام سیاست ہی کچھ ایسا ہے کہ سیویلین حکومت کے زمانے میں جو معاہدے ہوتے ہیں، وہ فوجی   ٹولے کے  ذریعہ سبوتاژ کر دیئے جاتے ہیں۔ پاکستانی فوج ہندوستان سے ہمیشہ دشمنی کے  جذبات کو فروغ دیتی ہے۔ دراصل اس کی ڈکشنری میں پڑوسی کے ساتھ اچھے تعلقات جیسے الفاظ کا گزر ہی نہیں۔ اسی لئے اس نے دشمنی کودائمی مشکل دینے کے لئے دہشت گردی کو فروغ دیا اور ہندوستان سے  کبھی بہتر تعلقات قائم کرنے ہی نہیں دئیے۔ اس حکمت عملی سے پاکستان کو کتنا فائدہ پہنچایہ تو وہی لوگ جانیں جو ان حالات کے  ذمہ دار ہیں لیکن فی الحال پاکستان کی اقتصادی صورت حال یہ ہے کہ معیشت پوری طرح لڑکھڑا رہی ہے۔ قرضوں کا بوجھ اتنا بڑھ گیا ہے کہ ان قرضوں کی ادائیگی کے لئے عام پاکستانیوں پر ناقابل برداشت حد تک بوجھ بڑھتا جارہا ہے۔ حال ہی میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے 6ملین ڈالر کا قرض دیا تھا لیکن اس کی شرائط کچھ ایسی تھیں جو پاکستان کے لئے خاصی پریشان کن ہیں۔ ظاہر ہے اس کا بوجھ عوام پر پڑ رہا ہے اور وہ عمران حکومت سے نالاں ہیں۔ ایسے میں عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے کشمیر کی اندرونی صورت حال کو بہانہ بنا کر  ہر طرف اشتعال پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

عمران خان ، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے امریکہ جارہے ہیں اور اپنے پروگرام کے مطابق وہ یہاں کشمیر کا ذکر چھیڑیں گے لیکن اس سے پہلے انہوں نے سعودی عرب جانے کا فیصلہ کیا لیکن اس بار وہ کسی طرح کی ایڈ یا قرض مانگنے نہیں گئے بلکہ بطور خاص ہندوستان کے خلاف ایک محاذ قائم کرنے کی غرض سےگئے۔ وہاں پہنچ کر انہوں نے ولیٔ عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی اور ان سے کشمیر کی موجودہ صورت حال پر تبادلۂ خیال کیا۔ کشمیر کی موجودہ صورت حال سے ان کی کیا مراد ہوسکتی ہے، اس کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے۔ ظاہر ہے وہ اپنے نقطۂ نظر سے اور اپنی پالیسی کے مطابق کشمیر کی تصویر پیش کریں گے ۔ یعنی ہندوستان کے خلاف بھڑاس نکالیں گے اور یہ کہیں گے کہ وہاں انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔ لیکن پاکستان کے یہ وہ رٹے رٹائے جملے ہیں جو پاکستانی حکمراں اکثر استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان نے پوری کوشش کر لی کہ کشمیر سے متعلق عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرسکے لیکن ہر طرف سے اسے یہ سننے کو ملا ہے کہ علاقائی معاملہ باہمی بات چیت سے حل کیا جانا چاہئے۔ بہر حال اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان کو سعودی عرب کے اس دورے سے کیا ملتا ہے۔ ہندوستان کے تعلقات بھی عرب اور خلیجی ممالک سے اچھے ہیں۔ یہ رشتے دن بدن مضبوط ہی ہورہے ہیں۔ ابھی حال ہی میں متحدہ عرب امارات کی طرف سے ہندوستان کے وزیر اعظم کو سب سے بڑا سیویلین اعزاز بھی عطا کیا جا چکا ہے۔ اقوام متحدہ اندرونی یا باہمی نوعیت کے معاملات کے بارے میں بحث کرنے کا ادارہ نہیں ہے بلکہ وہاں عالمی مسائل پر بحث ہونی چاہئے اور ہوتی  بھی ہے۔ دنیا کو اور بھی بہت سے مسائل درپیش ہیں جن پر پوری عالمی برادری کی توجہ درکار ہوتی ہے۔ پاکستان، ہندوستان کے خلاف اپنی سفارتی مہم چلانے کی جگہ اپنے گھریلو مسائل پر توجہ دے تو زیادہ فائدے  میں رہے گا۔ اکتوبر کے مہینہ میں اسے ایف اے ٹی ایف اور آئی ایم ایف کے سامنے جوابدہ ہونا ہے اگر اس کے گھریلو حالات قابو میں ہوتے تو اسے اس طرح کی مشکلات کبھی درپیش نہیں آتیں۔