ہندوستان میں حملے کرنے کا جیش محمد کا نیا منصوبہ

پاکستان نہ  صرف یہ کہ کشمیر کے سوال پر ہندوستان کے خلاف سفارتی سطح پر جھوٹا پروپگنڈا کرنے اور ہندوستان کے ایک گھریلو معاملے کو بین الاقوامی رنگ دینے کی شر انگیز کوشش کر رہا ہے بلکہ پاکستان میں سر گرم ہند مخالف دہشت گرد گروپوں کو نئے سرے سے ٹریننگ اور اسلحے مہیا کرانے کی بھی بھر پور کوشش کر رہا ہے تاکہ یہ گروپ کشمیر اور ہندوستان کے دوسرے علاقوں میں تخریبی سر گرمیاں انجام دے سکیں۔ یاد رہے کہ گذشتہ فروری کے وسط میں جیش محمد کے دہشت گردوں نے جموں و کشمیر کے پلوامہ  میں سی آر پی ایف کے 40 جوانوں کو شہید کر دیا تھا جس کے بعد ہندوستان نے عالمی پیمانے پر دہشت گرد قرار دیئے گئے اس گروپ کے خلاف پہلی بار پاکستان کے اندر گھس کر کارروائی کی تھی۔ فروری کے اواخر میں ہندوستانی فضائیہ کے جیٹس نے صوبہ خیبر پختون خوا میں واقع بالا کوٹ میں جا کر جیش کے ٹریننگ سینٹر اور فیسلیٹی پر حملہ کیا تھا اور اس کے بعد نہ صرف جیش محمد بلکہ دوسرے بعض گروپوں کو بھی پاکستان نے یہ ہدایت دی تھی کہ وہ اپنی سر گرمیاں محدود کر دیں ۔ در اصل حکومت پاکستان نے اس بات پر خاص زور دیا تھا کہ انتہا پسند گروپ سنبھل کر کام کریں تاکہ عالمی ادارے ان کا نوٹس نہ لے سکیں۔ اس کے بعد چند ماہ تک یہ گروپ پھونک پھونک کر قدم اٹھاتے رہے۔ کیونکہ ایف اے ٹی ایف کی وارننگ سے بھی پاکستان خاصا پریشان تھا۔ لیکن 5 ؍اگست کو ہندوستان نے ریاست جموں و کشمیر کے سلسلے میں جو نئے انتظامی اور قانونی فیصلے کئے اس کے بعد پاکستان بوکھلا اٹھا اور اس نے بد حواسی کے عالم میں سیاسی اور سفارتی مہم جوئیوں کے ساتھ ساتھ دہشت گردوں کو نئے ڈھنگ سے منظم کرنے کی بھی کوشش شروع کر دی ۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر اس نے بطور خاص ان گروپوں کی حوصلہ افزائی کی جو ہندوستان پر حملے کرتے رہے ہیں۔ پاکستان کی بد نام زمانہ خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے جو عناصر جیش محمد کی کارروائیوں میں مدد کرتے ہیں اور انہیں تربیت دیتے ہیں انہیں انہوں نے جموں و کشمیر اور ہندوستان کے دوسرے حصوں میں جہاد اور تخریب کاری کے لئے اکسایا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق کشمیر ی نسل کے دہشت گردوں کو بطور خاص استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں مشتاق زرگر کی تنظیم کو نئے سرے سے منظم کیا  جا رہا ہے۔ آئی ایس آئی نے جیش کے اس مرکز کو دو بارہ تعمیر کر کے اسے فعال بنایا ہے جسے ہندوستانی فضایہ نے تباہ کر دیا تھا۔ پاکستان کی دہشت گردانہ سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کے حوالے سے معتبر ذرائع نے بتایا ہے کہ بہاولپور میں واقع مرکز سبحان اللہ اور مرکز عثمان و علی میں جیش محمد نے جہادیوں کو خاص طرز کی ٹریننگ دینی شروع کر دی ہے۔ اس کے علاوہ اس گروپ کے جو مراکز پشاور اور جمرود میں واقع ہیں انہیں بھی دوبارہ فعال بنایا جا رہا ہے جن کی سر گرمیاں ادھر کافی کم ہو گئی تھیں۔صوبہ خیبر پختون خوا میں جیش محمد کے کئی مراکز ہیں اور ان سب کو فعال بنا دیا گیا ہے تاکہ کشمیر میں شرارت آمیز کارروائیاں انجام دی جاسکیں۔ ان میں چار سدا،سوابی اور مر دان کے مراکز بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ ان مراکز میں نئے لوگوں کو بھی بحال کر کے ٹریننگ دی جا رہی ہے۔ ان تمام کارروائیوں کی نگرانی جیش محمد کے علیل سر براہ مسعود اظہر کا بھائی مفتی اصغر خود کر رہا ہے۔ یہ بھی خبر ہے کہ مسعود اظہر نے ایک ایسا منصوبہ ترتیب دیا ہے جس کے تحت وہ اپنے کیڈر کو مرحلہ وار طور پر افغانستان سے واپس بلا کر کشمیر کی طرف منتقل کرے گا۔

خفیہ ذرائع کی اطلاعات کے مطابق جیش کے 100 کے قریب تربیت یافتہ دہشت گرد وادیٔ نیلم کے پاس پونچھ اور راجوری سیکٹر کے اس پار لانچنگ پیڈ پر در اندازی کے لئے انتظار کر رہے ہیں اور یہاں ان کا نشانہ سرینگر کی بجائے جموں ہے۔5؍اگست کے چند ہی روز بعد یعنی 11 اگست کو مفتی اصغر نے سیالکوٹ میں اپنے کیڈر کو یہ ہدایت دی تھی کہ ان کا نشانہ جموں میں واقع فوجی کنٹونمنٹ ہوں گے ۔اس کے علاوہ ہندوستانی سیکورٹی فورسز کی گاڑیوں کے جو قافلے نیشنل ہائی وے سے گذرتے ہیں ان پر بھی انہیں حملے کرنے ہوں گے ۔ جیش محمد کے علاوہ لشکر طیبہ کو بھی فعال بنانے کی کوششوں میں اس وقت راول پنڈی میں واقع فوجی ہیڈ کوارٹر مصروف ہے۔ یعنی فوج اپنی حکمت عملی پر پوری مستعدی سے کام کر رہی ہے اور دوسری طرف عمران خان اس کے آلہ کار کے طور پر سیاسی اور سفارتی مہم جوئیوں میں مصروف ہیں۔ شاید وہ اس بات سے بے خبر ہیں کہ ان مہم جوئیوں کے عبرتناک نتائج سے فوج کا تو کچھ نہیں بگڑے گا لیکن خمیازہ سویلین وزیر اعظم کو بھگتنا پڑے گا۔ پاکستان مین اس سے پہلے بھی یہی سب کچھ ہوا کیا ہے۔