23.09.2019جہاں نما

ٹرمپ کی موجودگی میں مودی کا دہشت گردی کی حمایت کے لئے پاکستان پر حملہ

۔ امریکی شہر ہاؤسٹن میں صدر ڈونل ٹرمپ کی موجودگی میں وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارت اور تمام دنیا میں دہشت گردی پھیلانے کے لئے پاکستان کو جم کر لتاڑا اور کہا کہ دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن لڑائی کا اب وقت آ گیا ہے۔اس خبر کو تمام اخبارات نے شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ ٹائمز آف انڈیا تحریر کرتاہے کہ این آر جی اسٹیڈیم میں ’ہاوڈی مودی‘تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس موقع پر موجود تمام لوگوں سے اپیل کی کہ وہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی کے لئے صدر ٹرمپ کا زور دار تالیوں کے ساتھ استقبال کریں۔ اس سے پہلے صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ بنیاد پرست اسلامی دہشت گردی سے معصوم لوگوں کو بچانے کی ضرورت ہے۔ جموں و کشمیر کو انڈین یونین میں ملانے کی نئی دہلی کی کوششوں کے تناظر میں صدر ٹرمپ کا بیان کافی اہمیت کا حامل ہے۔ اگر چہ صدر ٹرمپ نے کشمیر کا نام نہیں لیا اور نہ ہی اس معاملہ میں ثالثی کی کوئی بات کہی تا ہم ان کے بیان سے لگتا تھا کہ امریکہ بھارت کے موقف کا حامی ہے۔ وزیر اعظم مودی نے پاکستان کا نام لئے بغیر کہا کہ جو لوگ اپنا ملک نہیں سنبھال پا رہے وہ کشمیر پر بھارت کے بڑے فیصلے کی مخالفت کر رہے ہیں۔جموں و کشمیر کو انڈین یونین میں شامل کرنے کے بھارت کے اقدام کی پاکستانی مخالفت کا مذاق اڑاتے ہوئے انہوں نے سوال کیاکہ خواہ وہ نیو یارک میں 9/11 کا حملہ ہو یا ممبئی میں26/11 کے حملے آخر ان حملوں کا منصوبہ بنانے والے کون تھے اور کہاں تھے؟ وزیر اعظم نریندر مودی ہاؤسٹن میں منعقدہ پروگرام میں شرکت کرنے کے لئے پہنچے تھے۔اس  تقریب میں پچاس ہزار سے زیادہ ہند نژاد امریکی شہریوں اور غیر مقیم ہندوستانیوں نے شرکت کی۔ اسٹیج بھلے ہی امریکہ کا تھا لیکن میزبانی بھارت کر رہا تھا۔ جناب مودی نے خود صدر ٹرمپ کا استقبال کیا اور انہیں ڈائس تک لے گئے۔

 

نئے کشمیر کی تعمیر کا وزیر اعظم کا وعدہ

۔ جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے کے تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے اتوار کے روز کہا کہ کشمیری پنڈتوں کے ایک وفد کے ساتھ انہوں نے خصوصی بات چیت کی ہے اور انہیں ایک نئے کشمیر کی تعمیر کا یقین دلایا ہے۔ایک ایسا کشمیر جو سب کا ہوگا۔ اس خبر کےحوالے سے روزنامہ انڈین ایکسپریس لکھتا ہے کہ اس وفد نے وزیر اعظم سے ہاوسٹن میں ملاقات کی جو ایک ہفتے کے دورے پر امریکہ میں ہیں۔ جناب مودی نے وفد کو بتایا کہ اس وقت کشمیر میں نئی ہوا بہہ رہی ہے اور ہم سب مل کر ایک ایسا کشمیر بنائیں گے جو سب کا ہوگا۔ انہوں نے 30 سال تک صبروتحمل سے کام لینے کے لئے کشمیری پنڈتوں کی برادری کا شکریہ ادا کیا۔ اس سے قبل وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ کشمیری پنڈتوں کے ایک وفد نے ہاؤسٹن میں وزیر اعظم سے ملاقات کر کے تمام ملک کی ترقی کے لئے حکومت کی جانب سے کی جا رہی کوششوں کی حمایت کی۔وفد نے جموں و کشمیر کے تعلق سے کئے گئے اقدام کے لئے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا۔ وزیر اعظم نے داودی بوہرا برادری کے ایک وفد سے بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات کے بعد جناب مودی نے ایک ٹوئٹ میں لکھا کہ داودی بوہرا تمام دنیا میں اپنا نام روشن کر رہے ہیں۔ ہاؤسٹن میں مجھے ان کے ایک وفد سے ملاقات کرنے کا موقع ملا۔ میں نے ان کے ساتھ بہت سے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔ سکھ برادری کے ایک وفد نے بھی جناب مودی سے ملاقات کی۔

 

اپنی غلطیاں دہرانے کی کوشش نہ کرے، اسلام آباد کونئی دہلی کا انتباہ

۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے پاکستان کو متنبہ کیا ہے کہ وہ 1965 اور1971 کی غلطیوں کو دہرانے کی کوشش نہ کرے۔اس خبر کو تمام اخبارات نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی ہندو تحریر کرتا ہے کہ پٹنہ میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ اگر پاکستان نے بلوچ اور پشتون عوام کے حقوق انسانی کی خلاف ورزیاں نہیں روکیں تو  اس کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گے۔ جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کئے جانے کے حکومت کے فیصلے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ دفعہ370 ایک ناسور کی طرح تھا جو ریاست کو کھائے جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے عوام کی اکثریت حکومت کے فیصلے کی حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ا ن کی پارٹی نے دفعہ370 پر اپنے موقف کو کبھی بھی نرم نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ ہماری پارٹی ایک ایماندار پارٹی ہے اور عوام سے کیا گیا اپنا وعدہ نبھاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ دفعہ370 اور دفعہ35اے کے باعث  جموں و کشمیر میں دہشت گردی پنپ رہی تھی۔ لیکن آئندہ پانچ سال کے اندر ریاست کی صورت پوری طرح بدل جائے گی۔ پاکستان کے ساتھ بات چیت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے ساتھ اب اگر کوئی بات چیت ہوگی تو وہ صرف پاک مقبوضہ کشمیر پر ہوگی اور اس کے لئے بھی پاکستان کو دہشت گردی کی معاونت بند کرنا ہوگا۔

 

پاکستان ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں شامل ہونے کے قریب

۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے بلیک لسٹ میں شامل ہونے سے بچنے کے لئے پاکستان کو 27 نکاتی ایکشن پلان دیا تھا اور کہا تھا کہ دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے خلاف اس منصوبے کے تحت کارروائی کرے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ وہ مکمل طور پر کارروائی کرنے میں نا کام رہا ہے۔اس خبر کے حوالے سے روزنامہ ٹائمز آف انڈیا تحریر کرتا ہے کہ دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف پاکستان کی کارروائی پر نظر رکھنے والے ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد اب تک 27 میں سے صرف 6 نکات پر ہی کارروائی کر سکا ہے۔ ذرائع کے مطابق اقوام متحدہ نے سو سے زیادہ پاکستانی شہریوں یا تنظیموں  کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے جو اس وقت پاکستان کی سر زمین پر موجود ہیں لیکن اسلام آباد نے ابھی تک صرف پانچ کے خلاف ہی کارروائی کی ہے۔ان پانچوں میں حافظ محمد سعید کی لشکر طیبہ، جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت شامل ہیں۔دہشت گردی کی مالی معاونت کے الزام میں سعید کو جولائی میں گفتار کر لیا گیا تھا۔تب سے وہ زیر حراست ہے۔ پاکستان سے موصولہ خبروں کے مطابق دہشت گردوں کی مالی معاونت کے الزام میں مدرسوں اور دوا خانوں سمیت900 سے زیادہ جائیدادوں کو منجمد کر دیا گیا ہے۔ ان میں سے 75 کا تعلق فلاح انسانیت سے جبکہ150 کا تعلق جیش محمد سے ہے۔لیکن پاکستان ابھی تک یہ پتہ لگانے سے قاصر ہے کہ جن جائیدادوں کو منجمد کیا گیا ہے ان کی فنڈنگ کا ذریعہ کیا ہے۔ پاکستانی حکومت نے منجمد جائدادوں کے مالکان کے خلاف کوئی مقدمہ بھی درج نہیں کیا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کئے جانے کے ایک سال بعد جولائی میں ٹررفنڈنگ کے 23 معاملات درج کئے گئے ۔ اس کے بعد بلیک لسٹ  سے بچنے کے لئے پاکستان کو کارروائی کے لئے27 نکاتی منصوبہ دیا گیا۔ٹرر فنڈنگ کے 23 معاملات میں ان 65 دہشت گردوں کے نام شامل کئے گئے جو اس وقت دہشت گردانہ کارروائی میں ملوث ہیں۔پاکستان بلیک لسٹ میں شامل ہونے سے بچنے کی تمام کوششیں کر رہا ہے لیکن اس سلسلہ میں اب تک اس نے جو کچھ کیا ہے وہ کافی نہیں ہے اور بلیک لسٹ میں شامل ہونے کا خطرہ اس کے سر پر منڈلا رہا ہے۔ اکتوبر میں ٹاسک فورس کا مکمل اجلاس ہونے والا ہے اور تبھی یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کیا جائے یا نہیں۔

 

ایران کا اقوام متحدہ میں خلیج کی سیکورٹی کا منصوبہ پیش کرنے کا عندیہ،پامپیو نے کہا، امریکہ ایران کے ساتھ جنگ کا خواہاں نہیں

۔ ایران کے صدر حسن روحانی اس ہفتے نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خلیج کے لئے علاقہ کے دوسرے ملکوں کے تعاون سے سیکورٹی کا ایک منصوبہ پیش کریں گے۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے ۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی انڈین ایکسپریس لکھتا ہے کہ صدر روحانی نے اپنی سرکاری ویب سائٹ پر لکھا کہ ا س سال ایران اقوام متحدہ میں دنیا کے سامنے بحیرۂ عمان اور خلیج فارس میں سلامتی کا ایک منصوبہ پیش کرے گا جسے علاقہ کے ملکوں کے ساتھ مل کر تیار کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایران کبھی بھی دوسروں کی سرحدوں کی خلاف ورزی نہیں کرے گا اور دوسروں کو بھی اپنی سرحدوں کی خلاف ورزی کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ اسی دوران امریکہ کے وزیر خارجہ مائک پامپیو نے اتوار کے روز کہا کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا اور خلیج میں اضافی فوجیں تعینات کرنے کا مقصد دفاع کو مضبوط بنانا ہے۔ فاکس نیوز کے ساتھ ایک انٹر ویو میں انہوں نے کہا کہ اگر اس طرح کے اقدامات نا کام ہوئے تو صدر ٹرمپ ضروری کارروائی کریں گےا ور یہ بات ایرانی قیادت بھی بخوبی جانتی ہے۔

 

اسرائیلی عرب پارٹیوں کا نتن یاہو کو دور رکھنے کے لئے وزارت عظمیٰ کے لئے گینٹز کی حمایت کا فیصلہ

۔ اسرائیلی عرب کی سیاسی پارٹیوں نے حیران کن قدم اٹھاتے ہوئے اسرائیلی فوج کے سابق سر براہ بینی گینٹز کو وزیر اعظم کے عہدے کے لئے اپنی حمایت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔اس خبر کے حوالے سے روزنامہ ایشین ایج تحریر کرتا ہے کہ ان پارٹیوں نے یہ قدم نتن یاہو کو حکومت بنانے سے روکنے کے لئے اٹھایا ہے۔ اسرائیلی عرب کی پارٹیوں کے اتحاد عرب جوائنٹ لسٹ کو 120 ارکان والی پارلیمنٹ میں 13 سیٹیں ملی ہیں۔ منگل کے روز آئے نتیجوں میں کسی بھی پارٹی کو اکثریت حاصل نہیں ہوئی ہے۔