ایف اے ٹی ایف کی طرف سے پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کئے جانے کا امکان

عالمی مالیاتی نظام  کو بہتر،شفاف اور ریگولر بنانے کے لئے کثیرقومی ادارہ فائننشیل ایکشن ٹاسک فورس یعنی ایف اے ٹی ایف اس بات پر نظر رکھتا ہے کہ مالی لین دین میں غیر قانونی طریقے اختیار نہ کئے جائیں اور دہشت گرد گروپوں اور افراد کو یہ موقع نہ ملے کہ وہ ناجائز طور پر فنڈ اکٹھا کریں اور منی لانڈرنگ کو بڑھاوا دیں۔چونکہ دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان  دنیا کا ایک بد نام ملک ہے جہاں بے شمار دہشت گرد گروپوں کی پناہ گاہیں اور نیٹ ورک قائم ہیں۔ اس لئے ایف اے ٹی ایف پاکستان پر کڑی نظر رکھتا ہے۔پاکستان کے بعض گروپ تو ایسے بھی ہیں جن کی دولت اور املاک کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے اور وہ اکثر غیرقانونی طریقوں سے فنڈ اکٹھا کرتے ہیں اور منی لانڈرنگ کے کام میں ملوث ہوتے ہیں۔ اس وقت بھی پاکستان  پر ایف اے ٹی ایف کڑی نظر رکھ رہا ہے کیونکہ اس کی بار بار کی وارننگ اور ہدایت کے باوجود حکومت پاکستان نے ایسے مناسب قدم نہیں اٹھائے ہیں جن کے تحت دہشت گردوں کی فنڈنگ اور منی لانڈرنگ جیسی لعنتوں پر روک لگ سکے۔ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف نے کئی سال تک گرے لسٹ پر رکھا۔پاکستان کی درخواست اور مستقبل میں موثر کارروائی کرنے کے وعدوں اور یقین دہانیوں کی وجہ سے اسے گرے لسٹ سے چند سال قبل ہٹا لیا گیا تھا لیکن بات نہیں بنی اور پاکستان نے اپنے وعدے پورے نہیں کئے۔نتیجہ یہ نکلا کہ اسے ایک بار پھر گرے لسٹ میں شامل کر لیا گیا اور چند ماہ قبل اسے یہ وارننگ بھی دی گئی تھی کہ اکتوبر تک وہ دہشت گرد گروپوں کی منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لئے جو ایکشن پلان ترتیب دیا گیا ہے اس کا طے شدہ نشانہ پورا کرے ورنہ اسے گرے لسٹ سے ہٹا کر بلیک لسٹ میں شامل کر لیا جائے گا۔ پاکستان اگر بلیک لسٹ پر آ جائے گا تو اسے بہت بڑی مصیبت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ بین الاقوامی مالیاتی ادارہ تک اس کی رسائی بہت مشکل ہو جائے گی جبکہ پاکستان پہلے ہی سے اقتصادی بد حالی کا شکار ہے ۔ غیر ملکی زر مبادلہ کی صورت حال بہت نازک ہے اور قرضوں کا بوجھ اتنا بڑھ گیا ہے کہ ان کی ادائیگی کا مسئلہ انتہائی سنگین شکل اختیار کر گیا ہے ۔ دوسروں کی امداد کے علاوہ اسے مزید قرضوں کی ضرورت پڑ رہی ہے ۔ بین الاقوامی مالی فنڈ سے اسے 6 بلین ڈالر کی رقم سخت شرائط کے ساتھ منظور کی گئی تھی جس کی وجہ سے عام پاکستانیوں کی پریشانیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔ اور اگر ایسے میں ایف اے ٹی ایف کی طرف سے اگلے ماہ یعنی اکتوبر میں کوئی سخت فیصلہ آتا ہے تو اس بات کا قیاس کرنا کچھ مشکل نہیں ہے کہ پاکستان کتنے بڑے مالی بحران کے بھنور میں پھنس سکتا ہے۔ یاد رہے کہ ایف اے ٹی ایف نے 27 نکات پر مبنی ایکشن پلان تیار کیا تھا جس کے تحت پاکستان کو ضروری کارروائیاں کرنی تھیں۔ یہ بات واضح کر دی گئی تھی کہ اگر پاکستان بلیک لسٹ میں شامل ہونے سے بچنا چاہتا ہے تو 27 نکات کے پلان کو عملی جامہ پہنانا ہوگا۔ ایف اے ٹی ایف کے جو ذرائع پاکستان کی کار کردگی پر نظر رکھ رہے ہیں ان کاکہنا ہے کہ پاکستان  نے ابھی تک 27 میں سے صرف 6 کا نشانہ پورا کیا ہے ۔ کچھ ہی دن بعد ایف اے ٹی ایف کی پلینری میٹنگ پیرس میں ہونے والی ہے ۔ ان ذرائع کے مطابق اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دیئے گئے عناصر کی تعداد پاکستان میں اس وقت سو سے زیادہ ہے۔لیکن پاکستان نے اب تک صرف 5 کی نشاندہی کی ہے۔ان پانچ میں حافظ سعید بھی شامل ہے جو لشکر طیبہ ،جماعت الدعوہ اور فلاح انسانیت ٹرسٹ وغیرہ کا سر براہ ہے۔ اسے جولائی میں دہشت گردوں کو فنڈ مہیا کرانے کے الزام میں پاکستانی حکام نے گرفتار کیا تھا۔

پاکستان سے موصول ہونے والی خبروں کے مطابق 900 سے زیادہ املاک کو دہشت گردی کے لئے فنڈ فراہم کرنے کے معاملے میں ضبط کیا گیا ہے ۔ ان میں  مدرسے اور ڈسپنسریاں بھی شامل ہیں۔ ان میں سے 750 کا تعلق فلاح انسانیت سے تھا اور 150 کا جیش محمد سے لیکن پاکستان نے ابھی تک ان ضبط شدہ املاک کو فنڈ مہیا کرانے والے ذرائع کا بھی پتہ نہیں لگایا اور نہ ہی ان کے مالکان کے خلاف کوئی کیس درج کیا۔ ایک اور بات قابل ذکر اور قابل غور ہے جتنی بھی املاک ضبط کی گئی ہیں ان میں تقریباً سب کی سب مدرسوں اور ڈسپنسریوں کی شکل میں ہیں۔ان میں دہشت گردوں کے لئے ٹریننگ کیمپ یا اسلحوں او رگولہ بارود کے ذخیرے وغیرہ شامل نہیں ہیں۔اس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ املاک کو ضبط کرتے وقت حکام نے  اس بات کا خیال رکھا کہ دہشت گردی سے جڑی کوئی ایسی تنصیب یا فیسلیٹی گرفت میں نہ آئے جو براہ راست تخریبی سر گرمیوں کی نشاندہی کرتی ہو۔

بہر حال پاکستان یہ کوشش تو کر رہا ہے کہ اس کی ایسی امیج بنے کہ وہ گویا دہشت گردوں کے تئیں انتہائی سخت رویہ اختیار کر رہا ہے لیکن اس نے اب تک جو قدم اٹھائے ہیں ان سے تو یہی پتہ چلتا ہے کہ ایف اے ٹی ایف نے جو معیار وضع کیا ہے اور جو نشانہ طے کیا تھا  پاکستان اس منزل سے کوسوں دور ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اکتوبر میں اس حوالے سے ایف اے ٹی ایف کا کیا فیصلہ آتا ہے ۔