30.09.2019جہاں نما

نوجوانوں کی خاطر ای-سگریٹ پر لگی پابندی، وزیر اعظم کا بیان

وزیر اعظم نریندر مودی نے نوجوانوں سے تمباکو نوشی ترک کرنے کی اپیل کی ہے۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے نمایاں طورپر اپنے کالموں میں جگہ دی ہے۔ اس خبر کو شہ سرخی کے ساتھ شائع کرتا ہوا روزنامہ دی اسٹیٹسمین تحریر کرتا ہے کہ اتوار کو آل انڈیا ریڈیو پر اپنے ‘‘من کی بات’’ پروگرام میں وزیر اعظم نے کہا کہ ای –سگریٹ پر پابندی اس لئے عائد کی گئی ہے تاکہ نشہ کرنے کی یہ نئی شکل ہمارے نوجوانوں کو برباد نہ کردے۔ انہوں نے کہا کہ ای-سگریٹ کے بارے میں خوش فہمیاں پھیلائی جارہی ہیں کہ اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا،لیکن لوگوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ اس میں نکوٹن ہوتاہے جو ذہن کو متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ای –سگریٹ کے بارے میں کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔ اسی-سگریٹ پر پابندی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس موضوع پر بحث و مباحثے جاری رہیں گے۔ لوگ اس کی حمایت اور مخالفت جاری رکھیں گے لیکن اگر کسی بیماری کی شروع ہی میں تشخیص کرکے اس کا علاج کیا جائے تو اس کے بہت بڑے فائدے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بیماری کے سماج میں جڑ پکڑنے سے پہلے اسے ختم کردینا چاہئے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس بارے میں کوئی شک نہیں ہے کہ سگریٹ سے کافی نقصان پہنچتا ہے۔ اسے پینے والا اور فروخت کرنے والا دونوں اس کے مضر اثرات سے واقف ہیں، لیکن ای-سگریٹ کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ اس کے بارے میں لوگوں کو واقفیت بالکل بھی نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے مضر اثرات سے واقفیت نہ ہونے کے باعث اسے لوگ گھر میں پینا شروع کردیتے ہیں۔ لوگوں سے تمباکو ترک کرنے کی اپیل کرتے ہوئے جناب مودی نے نوجوانوں کو متنبہ کیا کہ ای-سگریٹ، جسے فیشن کے طور پر ا ستعمال کیا جارہا ہے، صحت کے لئے نہایت ہی مضر ہے۔قابل ذکر ہے کہ حکومت نے اس ماہ کی 18 تاریخ کو ای-سگریٹ کی پیداوار ، اس کی درآمد اور فروخت پر پابندی عائد کردی تھی۔اسی دوران جموں و کشمیر کی انتخابی اتھارٹی نے310 بلاکوں میں بلاک ترقیاتی کونسل کے صدر نشیوں کے چناؤ کیلئے پولنگ کی تاریخ کا اعلان کردیا ہے۔آل انڈیا ریڈیو کے مطابق یہ پولنگ 24 اکتوبر کو ہوگی۔ ریاست کے اعلیٰ انتخابی عہدیدار شیلیندر کمار نے سری نگر میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ اس چناؤ کے لئے نوٹیفکیشن کل جاری کیا جائے گا۔

پاکستان کی مشکل کیا کریں کیا نہ کریں

روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیراعظم نریندر مودی کے خطا ب پر اداریہ تحریر کیا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ اگرچہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں ہندوستان کو برا بھلا کہنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑا تاہم وزیر اعظم نریندر مودی نے کیچڑ اچھالنے سے پرہیز کیا۔ انہوں نے اپنی تقریر میں ایک بار بھی پاکستان کا ذکر نہیں کیا۔ اس کے بجائے وہ دہشت گردی، غربت اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے مسائل کی بات کرتے رہے اور اس بات پر زور دیتے رہے کہ ان مسئلوں کو کیسے حل کیا جائے۔ عمران خان نے کشمیر اور مسلمانوں کے مسائل کی بات کی لیکن ان کا دو غلا پن اسی بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ چین کے ایغور مسلمانوں کی حالت زار پر بالکل خاموش رہے ۔ خود ان کے ملک میں اقلیتوں کا جو حال ہے یا جمہوریت وہاں جس صورتحال سے گزر رہی ہے اس بارے میں سبھی بخوبی واقف ہیں۔ اپنے نجی مفادات کے باعث عمران خان کے ہندوستان اور چین کےبارے میں متضاد موقف ہیں۔ کشمیر کو لے کر پاکستانی وزیر اعظم نے جو واویلا مچا رکھا ہے اسے ان کے ملک کے باہر کوئی سننے والا نہیں ہے۔ اس بات کا اعتراف تو وہ خود بھی کرچکے ہیں، لہٰذا اس جال سے نکلنے کے لئے جسے خود انہوں نے ہی بنا ہے، عمران خان کو ہندوستان کے تئیں اپنے نفرت آمیز رویہ کو بدلنا ہوگا۔ اخبار لکھتا ہے کہ ترقی پذیر ہندوستان سے دوستی کرکے کافی فائدے حاصل کئے جاسکتے ہیں لیکن نیوکلیائی ہتھیاروں کی برابری کرکے کچھ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ ہندوستان کے ساتھ اسٹریٹیجک ہتھیاروں کی برابری کرنا محض ایک خواب ہے۔

سعودی فوجیوں کو قید کرنے کا حوثی باغیوں کا دعویٰ

یمن کے حوثی باغیوں نے ہزاروں کی تعداد میں سعودی فوجیوں کو پکڑنے کا دعویٰ کیاہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی ہندوستان ٹائمز لکھتا ہے کہ باغیوں نے ایک ویڈیو جاری کیا ہے جس میں بظاہر بندی بنائے گئے سعودی فوجیوں اور ان کے ہتھیاروں کو دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں جن ہتھیاروں کو دکھایا گیا ہے ان پر سعودی عرب کی مارکنگ ہے۔ ویڈیو میں ایک پہاڑی علاقہ میں حوثی باغیوں کے ساتھ ہورہی جنگ کو بھی دکھایا گیا ہے جہاں باغی آرمرڈ وہیکل میں سعودی فوجوں پر حملے کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ویڈیو میں کچھ لاشوں اور کچھ لوگوں کو دکھایا گیا ہے جو سعودی عرب کی فوجی وردی میں ہیں۔ بہت سے لوگوں نے خود کو سعودی شہری بتایا۔ تاہم سعودی حکام کی جانب سے ابھی تک اس دعوے کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ 2015 سے سعودی عرب کی قیادت میں مخلوط فوجیں یمنی حکومت کی جانب سے حوثی باغیوں سے لڑرہی ہیں۔ ماضی میں بھی حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے دیہاتوں پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ سرحد پر سعودی دیہاتوں میں داخل ہوکر وہاں بینر لگا کر پھر وہاں سے واپس ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے سعودی افسروں اور سپاہیوں کو بھی بندی بنا کر اپنے قبضے میں رکھا ہے تاکہ وہ سعودی حکومت سے سودے بازی کرسکیں۔ 

سعودی فرمانروا کا ذاتی محافظ دوست کے ہاتھوں ہلاک

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان کے ایک اہم ذاتی محافظ کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا ہے۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ روزنامہ دی ہندو اس خبر کے حوالے سے تحریر کرتا ہے کہ میجر جنرل عبدالعزیز الفغم کو بقول سرکاری میڈیا، ذاتی تنازعہ کے باعث گولی ماری گئی ۔ پولیس ذرائع کے مطابق الفغم کی ہلاکت کا واقعہ جدہ میں پیش آیا۔ سعودی حکام کی جانب سے اس قتل کے بارے میں زیادہ تفصیلات نہیں بتائی گئی ہیں۔ پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ الفغم کو گولی مارنے والے کو ہلاک کردیا گیا ہے تاہم اس بھگدڑ میں پانچ دوسرے افسران بھی زخمی ہوئے۔ پولیس کے مطابق میجر جنرل الفغم جدہ میں اپنے ایک دوست کے گھر گئے تھے۔ وہاں ان کے کسی جاننے والے سے کہا سنی ہوگئی۔ اس کے بعد یہ شخص وہاں سے چلا گیا اور اپنے گھر جاکر وہاں سے بندوق لے آیا اور پھر گولی چلانا شروع کردیا جس کے نتیجہ میں الفغم ہلاک اور دو دوسرے زخمی ہوگئے۔ سکیورٹی فورسز کےساتھ بھی اس کی گولی باری ہوئی جس کے نتیجہ میں وہ مارا گیا۔ عبدالعزیز الفغم اس سے پہلے شاہ عبداللہ کے محافظ کے فرائض بھی انجام دے چکے ہیں۔ الفغم کی ہلاکت کے بعد سوشل میڈیا پر انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

پوتن کے ساتھ ٹرمپ کی بات چیت پر امریکی ڈیموکریٹس کی نظر، صدر ٹرمپ نے کہا امریکہ اس وقت داؤ پر

امریکی کانگریس کی ہاؤس انٹلیجنس کمیٹی کے چیئرمین نے کہا ہے کہ کانگریس نے صدر ٹرمپ کی روسی صڈر ولادیمیر پوتن سمیت تمام عالمی رہنماؤں کےساتھ فون پر ہوئی بات چیت کی تفصیل حاصل کرنے کا عہد کر رکھاہے۔ انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ امریکی صدر نے قومی سلامتی کو بھی نقصان پہنچایا ہو۔ اس کے حوالے سے روزنامہ دی ہندوستان ٹائمز تحریر کرتا ہے کہ ڈیموکریٹ ممبر ایڈم شف نے کہا کہ اپنی انتخابی مہم کو فائدہ پہنچانے کے مقصد سے صدر ٹرمپ نے صدر پوتن ا ور دوسرے عالمی رہنماؤں سے جو بات چیت کی ہوسکتا ہے کہ اس سے انہوں نے قومی سلامتی کو نقصان پہنچایا ہو۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کو امید ہے کہ وہسل بلوورجلد ہی اس سے رابطہ کرے گا جس کی شکایت پر صدر ٹرمپ کے مواخذے سے متعلق انکوائری شروع ہوچکی ہے۔ ادھر صدر ٹرمپ نے سنیچر کے روز اپنے حامیوں کو متنبہ کیا کہ اس وقت ملک داؤ پر ہے اور ایسی صورتحال پہلے کبھی نہیں پیدا ہوئی۔ ٹوئٹر پر پوسٹ کئے گئے ویڈیو میں یہ پیغام ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان کانگریس کی جانب سے صڈر ٹرمپ کے خلاف الزامات کی تفتیش شروع کئے جانے کے بعد سامنے آیا۔ صدر ٹرمپ پر الزام ہے کہ انہوں نے آئندہ برس ہونے والے صدارتی انتخابات میں اپنے حریف جو بائڈن کو بدنام کرنے کے لئے یوکرین کے صدر پر دباؤ ڈالا تھا۔ ڈونل ٹرمپ نے اپنے پیغام میں کہا کہ ڈیموکرٹس دائیں بازووں کے ارکان کو ڈرا دھمکا رہے ہیں۔ وہ ہمارے ووٹوں پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ہماری آزادی چھیننا چاہتے ہیں۔ ہم ایسا کبھی نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مجھے روکنا چاہتے ہیں کیونکہ میں ا ٓپ کے لئے لڑ رہا ہوں۔

افغانستان کے صدارتی چناؤ میں اس بار پڑے سب سے کم ووٹ

افغانستان میں سنیچر کے روز ہونے والے صدارتی چناؤ میں اب تک ہونے والے انتخابات میں سب سے کم ووٹ پڑے ہیں۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی ٹائمز آف انڈیا تحریر کرتا ہے کہ ووٹوں میں کمی کی وجہ طالبان کی جانب سے کئے جانے والے تشددہیں۔ اس الیکشن میں حصہ لینے کے لئے تقریباً 9 اعشاریہ 6 ملین لوگوں نے ووٹر کی حیثیت سے اپنا نام درج کرایا تھا لیکن انتخابی کمیشن نے اتوار کے روز جو تفصیلات جاری کیں ا س کے مطابق صرف دو اعشاریہ ایک نو ملین ووٹروں نے ہی ووٹ ڈالا جس کا مطلب ہے کہ تقریباً 25 فیصد ووٹروں نے ہی اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ 2004 کے بعد سے جتنے بھی صدارتی چناؤ ہوئے ہیں ان میں اتنی کم ووٹنگ کبھی نہیں ہوئی۔ حکام نے سنیچر کے روز ہونے والے صدارتی چناؤ کو کامیاب قرار دیا ہے کیونکہ طالبان چناؤ کے دوران بہت زیادہ تشدد برپا کرنےمیں ناکام رہے۔