07.10.2019 جہاں نما

۔ ہندوستان اورامریکہ کے درمیان تجارتی معاہدہ جلد

۔ آج اخبارات نے جن خبروں کو اہمیت کے ساتھ اپنی اشاعتوں میں شامل کیا ہے۔ ان میں امریکہ اور ہندوستان کے درمیان ہونے والے تجارتی معاہدے کی خبر بھی شامل ہے۔ روزنامہ ٹائمز آف انڈیا اس تجارتی معاہدے کے حوالے سے رقمطراز ہے کہ طرفین اپنے اختلافات دور کرنے اور مزید اشیا کی تجارت پر رضامند ہوگئے ہیں، جس کے بعد اس معاہدے کے جلد طے پاجانے کی توقعات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ہارلے ڈیوڈ سن جیسی ہائی انڈ موٹر سائیکلوں سمیت متنازعہ اشیا پر درآمداتی ڈیوٹی میں تخفیف سے بھی اتفاق کیا ہے۔ اس سلسلے میں ڈیوٹی سے منافعے نیز تجارت میں حجم کا جائزہ لیا جارہا ہے جس کے بعد توقع ہے کہ اگلے چند ہفتوں میں کوئی اعلان کیا جاسکتا ہے۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ چونکہ امریکہ میں صدارتی انتخابات ہونے جارہے ہیں، اس لئے کسی حتمی تاریخ میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ لہذا وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل اور امریکی تجارت کے نمائندے رابرٹ لائتھائزر اس سلسلے میں بعد میں اعلان کریں گے۔ اخبار ذرائع کے حوالے سے رقمطراز ہے کہ جدید ترین ہارٹ اسٹنٹس اور گھٹنوں کی پیوند کاری کے سلسلے میں معاہدہ ہوچکا ہے۔ واضح ہو کہ اس سے قبل قیمتوں کے کنٹرول کے دائرہ کار کے اندر حکومت کے ذریعہ ان اشیا کی خریداری کے بعد ان پر طرفین کے درمیان شدید اختلاف پیدا ہوگیا تھا۔ مستقبل میں ان میڈیکل آلات پر جن کو قیمتوں کے کنٹرول کے تحت یا جن کے تجارتی منافع پر حد عائد کردی گئی ہے، اس میں شامل نہیں ہیں۔ اس کے عوض میں توقع ہے کہ امریکہ ترجیحی پروگرام کے عمومی نظام کے تحت کچھ ہندوستانی اشیا پر ترجیحی ڈیوٹی فوائد دے گا۔ اس سے قبل ٹرمپ انتظامیہ نے اس سال کے اوائل میں اس پروگرام کو منسوخ کردیا تھا کیونکہ ہندوستان نے سیب یا بادام اور اخروٹ جیسی امریکی اشیا کی ڈیوٹی میں انتقامی کارروائی کرتے ہوئے اضافہ کردیا تھا۔ اخبار کے مطابق آم جیسی زرعی پیداواروں کو بھی اس معاہدے کے بعد امریکی منڈیوں تک آسانی سے رسائی حاصل ہوجائے گی۔

۔ فوج نے کنٹرول لائن پر دراندازی کے نئے مقام کا لگایا پتہ ، کارروائی میں دو ملیٹنٹ ہلاک

۔ ٹائمز آف انڈیا کی ایک اور خبر کے مطابق فوج نے ان دو دہشت گردوں کو ہلاک کردیا ہے۔ جنہوں نے گریز سیکٹر کے راستے سے دراندازی کی تھی۔ گزشتہ چھ سال کے دوران اس پرامن علاقے میں یہ پہلی دراندازی ہے۔ اس سے قبل 2013 میں اس خطے میں دہشت گردوں نے دراندازی کی تھی۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ سندھ وادی کے اس حصے میں 27 ستمبر سے 3 اکتوبر کے درمیان یہ کارروائیاں کی گئیں۔ حکام کے مطابق پاکستان کنٹرول لائن کے پار سے اس حصے میں اپنی دہشت گردانہ کارروائیوں میں اضافے کی کوششیں کررہا ہے جن کی وجہ سے مقامی افراد بھی خوف و دہشت کا شکار ہیں۔ اخبار فوجی ذرائع کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ کریو کٹ بالوں والے ان دہشت گردوں کی موجودگی تشویش کا باعث ہے۔ یہ اپنے کاندھے پر راکٹ سے پھینکے جانے والے گرینیڈ لانچر بھی لئے ہوئے تھے، جن کا استعمال اخروٹ اور دیگر جڑی بوٹیاں اگانے والے جپسی لوگ کرتے رہے ہیں۔ جموں وکشمیر پولیس کے اعلی خفیہ اہلکار کا کہنا ہے کہ ان دہشت گردوں کے پاس سے وائر لیس وی ایچ ایف سیٹ بھی برآمد کئے گئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں موجود افراد سے ان کا رابطہ تھا۔ سکیورٹی ایجنسیوں کو چکرا دینے والی ایک اور بات یہ ہے کہ ایک مقامی کنبے نے ایک ملیٹنٹ کی لاش کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ ان دہشت گردوں کی لاشوں کی تدفین ہوچکی ہے۔ اس لئے یہ ادارے ڈی این اے میچ کررہے ہیں۔ ان کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب میں موجود کسی شخص نے اس کنبے کو خبردار کیا تھا، لہذا اس شخص کی شناخت کی بھی کوشش کی جارہی ہے۔ اخبار نے ایک انتہائی خفیہ رپورٹ کے حوالے سے لکھا ہے کہ سری نگر کی سنٹرل جیل سے کچھ افراد، جنوبی کشمیر میں سرگرم جیش محمد کے غیر ملکی ملٹنٹوں کے رابطے میں ہوسکتے ہیں۔ یہ افراد سری نگر اور اونتی پورا میں فضائیہ کے اسٹیشنوں اور راول پورا میں بینک کالونی پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنارہے ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق جیش محمد نے اہم تنصیبات اور سلامتی افواج پر حملوں کے لئے چھ ٹیمیں تشکیل دی ہیں جن میں سے ہر ایک میں دو سے تین ملیٹنٹ شامل ہیں۔ اخبار نے اس رپورٹ کے حوالے سے آگے تحریر کیا ہے کہ اننت ناگ میں بیگو پورا مقام پر چھ ستمبر کو خطرناک ملیٹنٹ ریاض نائیکو دکھائی دیا تھا جو لوگوں کو مزاحمت جاری رکھنے اور سری نگر و دوسرے علاقوں میں تجارتی اداروں کو بند رکھنے کے لئے ورغلاتا رہا ہے۔ اس کے علاوہ اطلاع بھی موصول ہوئی ہے کہ کسی ڈاکٹر سیف اللہ کو حزب المجاہدین کا آپریشنل کمانڈر بنایا گیا ہے او روہ ریاض نائیکو کی جگہ لے سکتا ہے۔

۔ شیخ حسینہ کا دورۂ ہند: اداریہ ٹائمز آف انڈیا

۔ بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ نے حال ہی میں ہندوستان کا دورہ کیا تھا جس کے موقعے پر دونوں ملکوں کے درمیان تین پروجیکٹوں کا افتتاح کیا گیا اور متعدد معاہدوں پر دستخط کئے گئے۔ رونامہ ٹائمز آف انڈیا نے اس دورے پر اپنا اداریہ تحریر کیا ہے جس کے مطابق ان پروجیکٹوں میں بنگلہ دیش سے ایل پی جی کی درآمد، ڈھاکہ کے راما کرشنا مشن میں وویکا نند بھون اور کھلنا کے انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرس میں بنگلہ دیش۔ ہند پروفیشنل اسکل ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوٹ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جو معاہدے طے پائے ہیں ان میں ہندوستان سے اور ہندوستان کے لئے اشیا کی نقل و حمل کے واسطے بنگلہ دیش کے چٹوگرام اور منگلا بندرگاہوں کے استعمال سے متعلق ایس او پی، ثقافتی تبادلہ پروگرام کی تجدیداور بنگلہ دیش کے لئے ساحلی نگرانی نظاموں کے سلسلے میں مفاہمت کی دستاویز شامل ہیں۔ اداریئے کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات وسیع نوعیت کے حامل ہیں۔ یہ دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان تال میل کی وجہ سے ممکن ہوسکا ہے۔ اس کی ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ بنگلہ دیش کو آج جنوبی ایشیا کے ایک تیزی سے ابھرنے والے ڈائمنو کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے۔ واضح ہو کہ اس سال اور اگلے سال، اس کی معاشی نمو میں 8 فیصد سے زیادہ کے اضافے کا امکان ہے اور اس کی فی کس آمدنی اب 2000 ڈالر تک پہنچ رہی ہے۔ اس کے علاوہ یہ اشارے بھی مل رہے ہیں کہ بنگلہ دیش کو چین۔ امریکہ تجارتی جنگ سے بھی فائدہ حاصل ہورہا ہے۔ اخبار نے اس اداریئے میں یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ تاریخی وجوہ سے ہندوستان کی خارجہ پالیسی میں زیادہ تر پاکستان پر توجہ مرکوز رہی ہے۔ لیکن بنگلہ دیش بیشتر معاشی معیارات کے سلسلے میں خاموشی کے ساتھ پاکستان سے آگے نکل گیا ہے۔ لہذا اب وقت آگیا ہے کہ ہندوستان بنگلہ دیش سے سبق لے اور اپنے نظریئے میں تبدیلی لائے۔

۔ ٹرمپ کے خلاف مواخذہ: دوسرا وسل بلوور نمودار

۔ روزنامہ ہندو کی خبر کے مطابق، کچھ دن قبل امریکی صدر ڈونل ٹرمپ نے یوکرین کے صدر سے درخواست کی تھی کہ وہ ان کے سیاسی حریف کے خلاف تحقیقات کرائیں۔ اس سلسلے میں ایک دوسرا وسل بلو ور سامنے آیا ہے۔ وکیل مارک زید کا کہنا ہے کہ اس انٹلی جنس اہلکار وسل بلو ور کو پہلے وسل بلوور کے ذریعہ عائد الزامات کے بارے میں تازہ ترین معلومات حاصل ہیں جس کے بعد ہی ری پبلکن صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کی گئی ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ اس دوسرے وسل بلو ور کے سامنے آجانے کی وجہ سے پہلی شکایت کو خارج کرنے کے لئے صدر ٹرمپ اور ان کے حامیوں کی کوششوں کو دھچکا لگا ہے۔

۔برطانیہ بریگزٹ موقف میں کرسکتا ہے نرمی

۔ برطانیہ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ بریگزٹ سے متعلق اپنے موقف میں نرمی لاسکتا ہے کیونکہ یوروپی یونین کے رہنماؤں نے وزیراعظم بورس جانسن پر دباؤ میں اضافہ کردیا ہے کہ وہ شمالی آئرلینڈ کے سلسلے میں اپنے منصوبوں میں تبدیلی لائیں۔ روزنامہ ایشین ایج نے اپنی خبر میں بریگزٹ سکریٹری اسٹیفن بار کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ اس ہفتے برسلز کو جو منصوبہ باضابطہ طور پر پیش کیا گیا ہے اس کا تعلق وسیع اراضی زون سے تھا اور اس پر آئندہ چند روز میں غور و خوض کیا جانا ہے۔ انہوں نے بلاک پر زور دیا ہے کہ 31 اکتوبر سے پلے کسی معاہدے کے لئے وہ لچک دکھائے۔

۔ شمالی کوریا۔ امریکہ بات چیت کی ناکامی کے بعد پیانگ یانگ اور بیجنگ کا مستحکم دو طرفہ تعلقات کا اعادہ

۔ سویڈن کی راجدھانی اسٹاک ہوم میں امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان بات چیت کی ناکامی کے ایک دن بعد اتوار کے روز اپنے سفارتی تعلقات کے قیام کے 70 سال مکمل ہونے کے موقع پر پیانگ یانگ اور بیجنگ نے اپنے تعلقات یونہی برقرار رکھنے کا عہد کیا۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی ہندوستان ٹائمز تحریر کرتا ہے کہ شمالی کوریا کی وزارت خارجہ نے اتوار کی شام ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ بات چیت کے بارے میں امریکہ رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہاہے۔ بیان کے مطابق امریکہ شمالی کوریا کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی خواہش نہیں رکھتا اور ہوسکتا ہے کہ وہ دو طرفہ تعلقات کو اپنے فائدے کے لئے اندرون ملک غلط طور پر استعمال کررہا ہو۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا ایسی مکروہ اور فضول بات چیت کے حق میں نہیں ہے جیسی اسٹاک ہوم میں ہوئی تھی۔ بیان کے مطابق امریکہ کو شمالی کوریا کے تئیں جارحانہ پالیسی کو ترک کرنا ہوگا تبھی کوئی بات چیت ممکن ہوسکتی ہے۔
شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ اُن سے ملاقات کے دوران چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا کہ گزشتہ 70 برسوں کے دوران دونوں ملکوں کی دوستی ہر موقع پر کھری اتری ہے۔ ان کے جواب میں کم جونگ نے کہا کہ دونوں ملک سوشلزم کے راستے پر گامزن ہیں اور ان کی دوستی ہمیشہ امر رہے گی۔