09.10.2019 جہاں نما

فرانس نے کیا پہلا رافیل جنگی طیارہ ہندوستان کےحوالے

ہندوستان کو پہلا رافیل جنگی طیارہ مل گیا ہے۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کل فرانس میں واقع پلانٹ میں پہنچ کر اسے باضابطہ طو رپر حاصل کیا۔ اس خبرکو تمام اخبارات نے اپنے کالموں میں نمایاں طور پر شائع کیا ہے۔ اس خبر کو شہ سرخیوں کیساتھ شائع کرتے ہوئے روزنامہ دی ہندو تحریر کرتا ہے کہ طیارے کو باضابطہ طور پر حاصل تو کرلیا گیا  تاہم اس کی پہلی کھیپ مئی 2020 میں ہی ہندوستان پہنچ سکے گی، اخبار لکھتا ہے کہ طیارے کے حصول کے بعد جناب راجناتھ سنگھ نے اس میں پرواز بھی کی۔ جسے طیارہ بنانے والی کمپنی داسو کے چیف پائلٹ اڑا رہے تھے۔ وزیر دفاع نے پرواز سے پہلے ہندو رسم ورواج کے مطابق اس کی پوجا کی۔ اس سے قبل انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہندوستانی فضائیہ کو رافیل طیارہ مل جانے سے اس کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ملک اپنی دفاع کیلئے یہ طیارے خریدرہا ہے۔ فروری 2021تک ہندوستان کو 18 طیارےمل جائیں گے اور اپریل 2022 تک ہمیں تمام 36 طیارے سونپ دیئے جائیں گے۔ اس سے پہلے جناب راجناتھ سنگھ نے فرانس کے صدر ایمینوئل میکرون سے ایلیسی پلیس میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دفاعی پارٹنر شپ کے اہم پہلوؤں پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کو مزید بہتر بنانے کا عہد کیا۔ ملاقات کے بعد ہندوستانی وزیر دفاع نے کہا کہ انہوں نے ہندوستان کے میک اِن انڈیا پروگرام کو حمایت فراہم کرنے اور اسٹریٹیجک شراکت داری کو مضبوط بنانے میں صدر فرانس کی حمایت کا شکریہ ادا کیا۔ پروگرام کے مطابق جناب سنگھ آج فرانس کی دفاعی صنعت کے چیف ایگزیکیٹو افسروں سے خطاب کریں گے۔ امید ہے کہ وہ ان سے میک اِن انڈیا پروگرام اور آئندہ سال 5 سے 8فروری تک ہونے والی دفاعی نمائش میں شرکت کرنے کی اپیل کریں گے۔ 

چین کی عمران کو دو ٹوک، کہا مسئلہ کشمیر دو طرفہ طور پر کریں حل

چین نے مسئلہ کشمیر پر اپنی پوزیشن میں تبدیلی لاتے ہوئے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان سے کہا ہے کہ وہ ہندوستان کے ساتھ تمام تنازعات کو دوطرفہ مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے جلی سرخیوں کیساتھ شائع کیا ہے۔ روزنامہ دی ٹائمز آف انڈیا لکھتا ہے کہ چین کے وزارت خارجہ کے ترجمان گینگ شوانگ   نے ایک بیان میں ہندوستان اور پاکستان سے اپیل کی کہ وہ کشمیر سمیت تمام معاملات کو دوطرفہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں تاکہ آپسی اعتماد بحال ہوسکے۔ بیان کے مطابق یہ اقدام نہ صرف دونوں ملکوں کے مفاد میں ہوگا بلکہ یہ دنیا کی خواہشات کے مطابق بھی ہوگا۔ یہ بیان وزیراعظم عمران خان کے بیجنگ دورے کے دوران اور صدر شی جن پنگ کے نئی دہلی کے دورے سے قبل سامنے آیا ہے۔ امید ہے کہ چینی صدر 11 سے 13 اکتوبر کے درمیان ہندوستان کا دورہ کریں گے۔ قابل ذکر ہے کہ چین کی موجودہ پوزیشن اس کی پہلی پوزیشن سے بالکل مختلف ہے جو اس نے جموں وکشمیر سے متعلق دفعہ 370 ختم کئے جانے کے بعد پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بیجنگ دورے کے دوران  اختیار کی تھی۔ اس وقت قریشی کے چینی ہم منصب وینگ یی نے کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کے دستور العمل، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور دو طرفہ معاہدوں کے مطابق پرامن طور پرحل کیاجانا چاہئے۔ دراصل چین نے کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی میٹنگ میں بھی یہی موقف اختیار کیا تھا جو بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگئی تھی۔ اقوام متحدہ میں بھی چین نے پاکستان کی حمایت کی تھی۔ تاہم منگل کے روز بیجنگ نے اشارہ دیا کہ وہ 5 اگست سے پہلے کی پوزیشن پر واپس جانے کیلئے تیار ہے جب اس نے کہا تھا کہ کشمیر مسئلہ کو نئی دہلی اور اسلام آباد کو دو طرفہ طور پر حل کرنا چاہئے۔ ایسے وقت میں جب وزیراعظم عمران خان اور ان کے فوجی سربراہ قمرجاوید باجوا صدر شی جن پنگ اور دوسرے رہنماؤں سے بات چیت کیلئے بیجنگ کا دورہ کررہے ہیں، چینی وزارت خارجہ کے بیان میں اقوام متحدہ کے دستور العمل اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کا حوالہ نہ دینا کافی اہمیت کا حامل ہے۔ اس بیان سے صاف ظاہر ہے کہ چین ہندوستان کے اس موقف سے اتفاق کرتا ہے کہ اس مسئلہ میں کسی تیسرے ملک کی ثالثی کی ضرورت نہیں ہے۔ 

برصغیر میں القاعدہ کا سرغنہ اور یوپی کا دہشت گرد امریکی فضائی حملے میں ہلاک

خیال کیا جاتا ہے کہ برصغیر میں القاعدہ کا سرغنہ مولانا عاصم عمر ستمبر کے مہینے میں افغانستان میں ایک امریکی فضائی حملے میں مارا گیا۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی ٹائمز آف انڈیا تحریر کرتا ہے کہ عمراترپردیش کے شہر سنبھل کا رہنے والا تھا جہاں اسے ثناء الحق کے نام سے جانا جاتا تھا۔ وہ 1990 کی دہائی میں پاکستان فرار ہوگیا تھا۔ جولائی 2018 میں امریکہ نے اسے عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا۔ اس کی موت کی تصدیق افغانستان کے سلامتی سے متعلق قومی ڈائرکٹوریٹ نے ٹوئیٹرپر کی ہے۔ اس نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ ہلمند صوبے کے موسیٰ قلع ضلع میں طالبان کے کمپاؤنڈ پر 23 ستمبر کو کئے گئے اس حملے میں القاعدہ کے کچھ دوسرے دہشت گرد بھی مارے گئے۔ عمر نے دیوبند کے دارالعلوم سے تعلیم حاصل کی تھی۔ پاکستان پہنچ کر اس نے نوشیرا کے دارالعلوم حقانی میں داخلہ لے لیا تھا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ حرکت المجاہدین میں شامل ہوگیا۔ بعد میں وہ اسے چھوڑ کر تحریک طالبان پاکستان میں شامل ہوگیا۔ القاعدہ لیڈر ایمن الظواہری نے ستمبر 2014 میں ہندوستان، میانما اور بنگلہ دیش میں دہشت گردی پھیلانے کیلئے اس تنظیم کی تشکیل کا اعلان کیا تھا جس کے بعد اس نے عمر کو اس کا سرغنہ بنادیا۔ 

ترکی کی فوج ملک شام میں کارروائی کیلئے تیار

ملک شام سے امریکی فوجوں کا انخلاء شروع ہوتے ہی ترکی نے منگل کے روز اعلان کیا کہ اس نے شام کے شمال مشرقی علاقہ میں فوجی کارروائی کی تمام تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے نمایاں طور پر شائع کیا ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ ہندوستان ٹائمز لکھتا ہے کہ امریکی فوجوں کی واپسی کے باعث اس بات کے خدشات بڑھ گئے ہیں کہ ترکی کی فوج کردوں کے خلاف کارروائی کرسکتی ہے جنہیں وہ دہشت گرد قرار دیتی ہے جب کہ کرد امریکہ کے شانہ بشانہ داعش کے خلاف لڑتے رہے ہیں۔ ترکی کی وزارت دفاع نے منگل کے روز کہا کہ ترکی اپنی سرحدوں پر دہشت گردی کی راہداری کے قیام کی کبھی بھی اجازت نہیں دے گا۔ اس نے مزید کہا کہ فوجی کارروائی کی تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ وزارت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ علاقہ میں امن واستحکام کے لئے ایک پرامن زون کا قیام لازمی ہے۔ اسی دوران صدر طیب اردغان نے کہا کہ وہ شام کے شمالی حصہ میں تقریباً 20 لاکھ پناہ گزینوں کی بازآبادکاری کیلئے منصوبہ بنارہے ہیں۔ 

امریکہ کی ترکی کی معیشت تباہ کرنے کی دھمکی

اسی دوران امریکی صدر ڈونل ٹرمپ نے ترکی کو متنبہ کیا ہے کہ اگر اس نے حد پار کی تو امریکہ اس کی معیشت کو تباہ وبرباد کردے گا۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی اسٹیٹسمین تحریر کرتا ہے کہ اپنے متعدد ٹوئیٹس میں صدر ٹرمپ نے ملک شام سے امریکی فوجوں کی واپسی سے متعلق اپنے فیصلہ کا دفاع کیا تاہم ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کے اتحادیوں نے اس کی سخت مذمت کی۔ ٹرمپ کے اس اچانک فیصلہ کو کردوں نے پیٹھ میں چھرا گھونپنےکے مترادف قرار دیا۔ وزارت دفاع اور وزارت خارجہ کے سینئر حکام نے بھی ٹرمپ کو ایسا نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ ناقدین کا خیال ہے کہ امریکی فوجوں کی واپسی کے باعث علاقہ میں داعش دوبارہ سر اٹھا سکتا ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ نے ترکی کو متنبہ کیا کہ وہ ان کے فیصلہ کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کرے اگر اس نے ایسا کیا تو اس کی معیشت کو تباہ وبرباد کردیا جائیگا۔ ادھر ترکی کے صدر طیب اردغان نے کہا کہ ان کا مقصد سرحدی علاقوں میں کرد عسکریت پسندوں سے لڑنا اور ان شامی پناہ گزینوں کیلئے ایک محفوظ زون قائم کرنا ہے جو اس وقت ترکی میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ 

اسی دوران امریکی کانگریس کے ریپبلکن ارکان نے بھی صدر ٹرمپ کے فیصلے کی سخت مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ داعش کے خلاف جنگ میں کرد امریکہ کے اہم اتحادی رہے ہیں اور انہیں اس طرح اکیلے چھوڑنا قطعی مناسب نہیں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ صدر ٹرمپ کے فیصلہ سے امریکی مفادات کو زبردست نقصان پہنچے گا۔ 

عظیم مکے باز میری کوم خواتین کی عالمی باکسنگ چمپئن شپ کے کوارٹر فائنل میں

ہندوستان کی عظیم باکسر ایم سی میری کوم خواتین کی عالمی باکسنگ چمپئن شپ کے 51 کلو گرام وزن کے زمرے کے کوارٹر فائنل میں داخل ہوگئی ہیں۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اس خبر کے حوالے سے انڈین ایکسپریس تحریر کرتا ہے کہ منگل کے روز اپنے دوسرے میچ میں انہوں نے تھائی لینڈ کی جوتامس جت پونگ   کو پانچ ۔ صفر سے شکست دی۔ میری کوم کو پہلے میچ میں بائی مل گیا تھا۔ اپنے بدلے ہوئے وزن کے زمرے میں 51 کلو گرام میں پہلے عالمی خطاب کے لئے رِنگ میں اتری ہندوستانی مکے باز نے اپنی شناخت کے مطابق ہی مظاہرہ کیا۔ دونوں باکسروں نے جارحانہ آغاز کیا یہی وجہ تھی کہ کئی بارریفری کو ان دونوں کو علیحدہ کرنا پڑا۔ میری پہلے دور کے اختتام پر تھوڑا دفاعی انداز میں کھیلنے لگی تھیں لیکن بعد میں انہوں نے جارحانہ انداز اختیار کرلیا اور بالآخر فاتح قرار دی گئیں۔