موضوع: غیررسمی سربراہ ملاقات کے باوجود کشمیر کے سوال پر چین کا موقف ناقابل قبول

گیارہ اور بارہ اکتوبر کو تمل ناڈو کے مقام مہابلی پورم میں وزیراعظم نریندر مودی اور صدر چین شی جن پنگ کے درمیان غیررسمی سربراہ ملاقات ہونے جارہی ہے جس کا مقصد ووہان  اسپرٹ کو بحال کرنا ہے۔ یاد رہے کہ اس نوعیت کی پہلی سربراہ ملاقات دونوں لیڈروں کے مابین اپریل 2018 میں چین کے ایک علاقے ووہان میں ہوئی تھی۔ اس میٹنگ میں ہند-چین باہمی تعلقات اور اہم علاقائی اور عالمی مسائل پر تبادلہ خیال ہوا تھا۔ وہ کانفرنس ہر اعتبار سے کامیاب تصور کی گئی تھی اور یہ بھی عہد کیا گیا تھا کہ آئندہ بھی اس طرح کی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ ا س سلسلے میں وزارت خارجہ کی جانب سے ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ اس ملاقات کے دوران دونوں لیڈران باہمی تعلقات کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ اہم علاقائی اور عالمی معاملات پر بھی تبادلہ خیال کریں گے اور باہمی پارٹنر شپ کو استحکام عطا کرنے کے طریقوں پر غور وخوض کیا جائے گا۔ اتفاق سے یہ سربراہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہورہی ہے جب کشمیر سے متعلق چین کے موقف اور بعض بیانات پر ہندوستان کو سخت اعتراض ہے۔ بہرحال ان اعتراضات سے چین کو پورے طور پر آگاہ کردیا گیا ہے جس کا واضح پیغام یہ ہے کہ ہندوستان اپنے اندرونی معاملات میں کسی طرح کی مداخلت پسند نہیں کرتا اور نہ ہی کسی سمجھوتے بازی کاقائل ہے۔ جس روز وزارت خارجہ کی جانب سے چینی صدر شی  جن پنگ کے ہندوستان آنے کی خبر کا اعلان کیا گیا اس سے صرف ایک روز قبل ہندوستان نے اپنا زبانی احتجاج درج کرایا تھا کہ چینی سفیر برائے پاکستان نے کچھ ایسی باتیں کہی ہیں جن پر ہندوستان کو سخت اعتراض ہے۔ چینی سفیر نے کہا تھا کہ چین اس بات کی کوشش کررہا ہے کہ کشمیریوں کے ساتھ انصاف ہو اور ان کے بنیادی حقوق بحال کئے جائیں۔ حالانکہ سرکاری طور پر چین نے اس بات کی وضاحت کردی ہے کہ چینی سفیر کا وہ بیان چین کے سرکاری موقف کی عکاسی نہیں کرتا۔ چینی صدر مسٹر شی اور وزیراعظم مودی کے درمیان جو ملاقات ہونے والی ہے اس کے لئے عام تاثر یہ ہے کہ ہندوستان اپنی طرف سے کشمیر سے متعلق کوئی سوال نہیں اٹھائے گا لیکن چینی صدر اگر مسئلہ کی تہ تک جانے کے لئے کچھ جاننا چاہیں گے تووزیراعظم مودی اس سلسلے میں ہندوستان کی پوزیش واضح کریں گے۔ 

کشمیر کے تعلق سے جہاں تک ہندوستان کے موقف کا سوال ہے تو ہندوستان نے بارہا غیر مبہم الفاظ میں یہ کہا ہے کہ کشمیر سے متعلق کوئی بھی بات ہندوستان کسی بین الاقوامی ادارے یا کسی تیسرے ملک میں بحث کرنے کا قائل نہیں ہے۔ اسے وہ اپنا اندرونی معاملہ سمجھتا ہے۔ اگر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان باہمی نوعیت کا کوئی معاملہ ہے تو اسے صرف باہمی بات چیت کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔ ہندوستان نے اس بات کا بھی بار بار اعادہ کیا ہے کہ کسی بھی تیسرے فریق کی مداخلت یا ثالثی کو وہ قبول نہیں کرے گا۔ حالیہ دنوں میں امریکی  صدر ڈونل ٹرمپ نے متعدد بار ہندوستان سے کہا کہ وہ ثالثی کیلئے تیار ہیں اور اگر دونوں ملک چاہیں تو وہ اس جانب قدم بڑھا سکتے ہیں۔ لیکن ہندوستان نے ہر بار انہیں یہی جواب دیا کہ ہندوستان ایسا ہرگز نہیں کرسکتا۔ ظاہر ہے ہندوستان کے اس موقف سے چین بھی اچھی طرح واقف ہے۔ ہندوستان اس بات سے اچھی طرح واقف ہے کہ چین اور پاکستان کی دوستی بہت گہری ہے اور اکثر بین الاقوامی اداروں میں چین پاکستان کی حمایت کرتا رہا ہے۔ لیکن ہندوستان کو ان دونوں ملکوں کے آپسی رشتوں یا آپسی تعاون واشتراک سے کوئی پریشانی نہیں ہے۔ دو ملک اپنے طور پر اگر آپس میں دوستی بڑھاتے ہیں یا پارٹنر کے طور پر اپنی ترجیحات طے کرتے ہیں تو اسے بھلا ہندوستان یا کسی اور ملک کو کیا گلہ ہوسکتا ہے۔ بات وہاں غلط رخ اختیار کرنے لگتی ہے جب کوئی ملک براہ راست کسی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات یا فیصلوں میں مداخلت کی کوشش کرتا ہے۔ چند روز قبل وزیراعظم پاکستان بیجنگ گئے تھے اور دونوں ملکوں کی طرف سے مشترکہ بیان جاری کیا گیا تھا۔ اس میں بھی کشمیر کا حوالہ موجود تھا۔ 

چین پاکستان تعلقات اپنی جگہ لیکن ہندوستان کا یہ موقف واضح ہے کہ کشمیر سے متعلق ہندوستان نے جو بھی فیصلہ کیا ہے، وہ اس کا اندرونی معاملہ ہے اور اس سے چین سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہئے۔ چین بہرحال اس بات کے بھی حق میں ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کو باہمی معاملات گفت وشنید کے ذریعے سلجھا نے چاہئیں۔ لیکن حالیہ بعض بیانات سے ہندوستان نے شدید اختلاف کیا ہے۔ اس نازک معاملے کو چین کو سمجھنا چاہئے۔ چین کے بھی کچھ اندرونی معاملات ہوتے ہیں ان میں سے ایک معاملہ تو صوبہ زن جیانگ کے ایغور مسلمانوں کا بھی ہے جس کا ذکر اکثر عالمی پیمانے پر بھی ہوتا ہے۔ ہندوستان اس پر کسی طرح کا تبصرہ کرنے سے گریز کرتا ہے۔ 

بہرحال یہ بات خوش آئند ہے کہ گیارہ اور بارہ اکتوبر کو دونوں ملکوں کے لیڈر غیر رسمی سربراہ ملاقات کے لئے اکٹھا ہورہے ہیں اور اس بات کی پوری امید ہے کہ نہ صرف دونوں ملکوں کے درمیان مزید تعاون اور اشتراک کی راہیں ہموار ہوں گی بلکہ علاقائی اور عالمی معاملات کے بارے میں بھی وسیع تر اتفاق رائے پیدا ہوگا دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے احساسات وجذبات کا خیال رکھتے ہوئے نئے اُفق کی جانب دیکھنا چاہئے۔ بقائے باہم اور عالمی امن سبھی کا مقصد ہے اور ہوناچاہئے۔