10.10.2019 جہاں نما

وزیراعظم  نریندر مودی سے غیررسمی ملاقات کیلئے صدر شی جن پنگ کی آمد کل

نئی دہلی نے کل باضابطہ طور پر اعلان کیا کہ چین کے صدر شی جن پنگ وزیراعظم نریندر مودی سے غیررسمی ملاقات کیلئے جمعہ کے روز سے ہندوستان کے دو روزہ دورے پر ہونگے۔ اس خبر کو بیشتر اخبارات نے شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی ایشین ایج تحریر کرتا ہے کہ وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ صدر شی جن پنگ وزیراعظم مودی سے غیر رسمی بات چیت کیلئے 11 سے 12 اکتوبر کے درمیان تمل ناڈو کی راجدھانی چنئی میں ہونگے جہاں وہ مہابلی پورم میں جناب مودی کے ساتھ دو طرفہ ، علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔ اس کے علاوہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان ترقی کیلئے بڑھتی پارٹنر شپ پر بھی گفت وشنید کریں گے۔ قابل ذکر ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلی غیررسمی بات چیت اپریل 2018 میں چین کے شہر ووہان  میں ہوئی تھی نئی دہلی کی جانب سے یہ اعلان پاکستان میں چینی سفیر کے قابل اعتراض بیان کے خلاف بیجنگ سے زبانی احتجاج درج کرانے کے بعد آیا ہے۔ چینی سفیر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ کشمیریوں کو انصاف اور ان کا بنیادی حق دلانے کیلئے چین کام کررہا ہے۔ ذرائع کے مطابق چین نے ہندوستان کو یقین دلایا ہے کہ پاکستان میں اس کے سفیر کی جانب سے دیا گیا بیان بیجنگ کا موقف نہیں ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے دوران ہندوستان کشمیر مسئلہ کو نہیں اٹھائے گا۔ 

مودی۔ شی ملاقات سے قبل ہندوستان اور چین کے درمیان کشمیر مسئلہ پر سخت کلامی

صدر شی جن پنگ سے ملاقات سے قبل منگل کے روز جس وقت پاکستانی وزیراعظم عمران خان بیجنگ میں تھے، چین کی وزارت خارجہ کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ مسئلہ کشمیر میں کسی دوسرے ملک کی ثالثی کی ضرورت نہیں ہے اور اسے دو طرفہ طور پر مذاکرات کے ذریعے پُرامن طور پر حل کیا جانا چاہئے۔ اس بیان میں اقوام متحدہ کے دستور العمل اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کا بھی ذکر نہیں تھا جس سے لگتا تھا کہ چین نے اپنی پوزیشن میں تبدیلی کرلی ہے اور وہ ہندوستان کے موقف سے اتفاق کرتا ہے لیکن عمران خان کی شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد جو بیان سامنے آیا ہے اس سے لگتا ہے کہ بیجنگ اپنی پوزیشن سے انحراف کررہا ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی ٹائمز آف انڈیا تحریر کرتا ہے کہ دونوں رہنماؤں کی ملاقات کے بعد جو بیان جاری کیا گیا اس میں کہا گیا ہے کہ جموں وکشمیر کے تنازعہ کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جانا چاہئے۔ چین کے اس بیان پر سوالوں کا جواب دیتے ہوئے ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے کہا کہ ہندوستان کا موقف بالکل واضح ہے کہ جموں وکشمیر ہندوستان کا داخلی معاملہ  ہے اور ہماری اس پوزیشن سے چین بخوبی واقف ہے لہٰذا ہمارے داخلی معاملات پر کسی دوسرے ملک کو بیان دینے کی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان ملاقات کے بارے میں خبروں سے وہ واقف ہیں خبروں کے مطابق صدر جن پنگ نے عمران خان سے ملاقات کے دوران کہا کہ بدلتی علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال کے باوجود چین اور پاکستان کے تعلقات اسی طرح مضبوط بنے رہیں گے اور دونوں ملکوں کے درمیان تعاون برابر جاری رہے گا۔ چین کے سنٹرل ٹیلی ویژن کے مطابق صدر جن پنگ نے عمران خان سے کہا کہ اپنے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کیلئے پاکستان جو کچھ کررہا ہے بیجنگ اس کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ متعلقہ پارٹیاں مذاکرات کے ذریعے تنازعہ کو پرامن طور پر حل کرلیں گے۔ 

ہندوستان اور فرانس کا دفاعی تعلقات کو مضبوط بنانے کاعہد

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنی فرانسیسی ہم منصب کیساتھ نتیجہ خیز بات چیت کی ہے جس کے دوران دفاع کے شعبہ میں دونوں ملکوں کےدرمیان تعلقات کاوسیع جائزہ لیا گیا۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ روزنامہ دی اسٹیٹسمین تحریر کرتا ہے کہ جناب راج ناتھ سنگھ نے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کیلئے دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے پر  زور دیا اور کہا کہ اس لعنت سے نمٹنے کیلئے ہندوستان اور فرانس دو طرفہ تعاون کو مزید فروغ دیں گے جناب راجناتھ سنگھ اور فرانس کی مسلح افواج کی وزیر فلورینس پارلی نے پیرس میں وزارتی سطح کی میٹنگ کی۔میٹنگ کے فوراً بعدجناب راجناتھ سنگھ نے ایک ٹوئیٹ میں کہا کہ انہوں نے اپنی فرانسیسی ہم منصب پارلی کیساتھ نتیجہ خیز بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون کے تمام پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ جناب سنگھ نے کہا کہ دونوں ملکوں نے دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے دو طرفہ تعاون کو فروغ دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ بحرہند کے علاقہ میں مشترکہ مفادات کے تحفظ کیلئے ہند۔ فرانس پارٹنر شپ نہایت ضروری ہے۔ 

ملک شام میں کرد جنگجوؤں کے خلاف ترکی کی فوجی کارروائی

ملک شام سے امریکی فوجوں کی واپسی کے ایک دن بعد ترکی نے بدھ کے روز شام کے شمالی حصہ میں کردجنگجوؤں پر فوجی کارروائی شروع کردی۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے نمایاں طور پراپنے کالموں میں جگہ دی ہے۔ روزنامہ دی ہندو تحریر کرتا ہے کہ یہ کرد امریکی فوجوں کے شانہ بہ شانہ داعش کے خلاف لڑتے رہے ہیں۔ اس فوجی کارروائی کا اعلان صدر طیب اردوغان نے ٹوئیٹر پر کیا اور اسے آپریشن پیس اسپرنگ   کانام دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مشن کا مقصد ترکی کی جنوبی سرحد پر دہشت گردی کو روکنا ہے تاکہ وہاں امن قائم ہوسکے۔ صدر اردوغان کے اعلان سے چند منٹ پہلے ترکی کے جنگی طیاروں نے راس العین میں شام کی کرد فوجوں کے ٹھکانوں پر بمباری شروع کردی۔ ترکی کی فوجی کارروائی شروع ہونے کے بعد سڑکوں پر افراتفری دیکھنے کو ملی۔ اس بمباری میں سیرین ڈیموکریٹک فورسیز کاکم از کم ایک رکن مارا گیا۔ امریکہ کی قیادت والی اتحادی فوجوں کے ایک اہلکار نے کہا کہ ترکی نے ابھی تک جن جگہوں پر حملہ کیا ہے وہاں اتحادی فوجیں موجودنہیں ہیں۔ علاقہ سے امریکی فوجوں کی واپسی کے فیصلہ پر امریکی کانگریس کے اپوزیشن ارکان نے سخت نکتہ چینی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ امریکی پالیسی کے بالکل خلاف ہے۔ اس فیصلے سے وہ لوگ بالکل اکیلے پڑ گئے ہیں جو امریکی فوجوں کے ساتھ داعش کے خلاف لڑتے رہے ہیں۔ اسی دوران صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا کہ ترکی کی فوجی کارروائی کے فیصلہ سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ انہوں نےکہا کہ امریکہ اس حملے کی حمایت نہیں کرتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترکی پر یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ یہ ایک غلط فیصلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی نے وعدہ کیا ہے کہ عیسائیوں سمیت مذہبی اقلیتوں اور عام شہریوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ 

مواخذے کی تفتیش میں تعاون نہ کرنے کا وہائٹ ہاؤس کا اعلان

وہائٹ ہاؤس نے امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان سے کہا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کے خلاف بقول اس کے غیرآئینی اور غیر معمولی مواخذے کی تفتیش میں ان کا تعاون نہیں کرے گا۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی ہندوستان ٹائمز تحریر کرتا ہے کہ وہائٹ ہاؤس کے اس اقدام کے جواب میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ارکان نے متنبہ کیا کہ تفتیش میں تعاون کرنے سے انکار کانگریس کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہوگا۔ وہائٹ ہاؤس کی سرتابی اس خط کے بعد سامنے آئی جسے صدر ٹرمپ کے وکیل پیٹ سیپولون   نے اسپیکر ننسی پیلوسی، ہاؤس ا نٹلی جنس کمیٹی کے چیئرمین ایڈم شف اور جوڈیشری کمیٹی کے چیئرمین جیری نیڈلر کے نام لکھا ہے۔ یہ تمام لوگ مواخذے کی انکوائری کی قیادت کررہے ہیں۔ ٹرمپ کے وکیل نے لکھا کہ آپ لوگوں نے جو انکوائری شروع کی ہے وہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتی ہے اور جو آئین کے مطابق بھی نہیں ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ صدر ٹرمپ اس یکطرفہ اور جانبدارانہ انکوائری میں شرکت کیلئے اپنی انتظامیہ کو اجازت نہیں دے سکتے۔ بدھ کے روز مختلف ٹوئیٹس میں صدر ٹرمپ نے اس انکوائری کو ایک دھاندلی قرار دیا اور کہا کہ ملک کی بہتری کیلئے اس معاملہ کو ختم کردیا جانا چاہئے۔ اس کے جواب میں اسپیکر پیلوسی نے کہا کہ وہائٹ ہاؤس کو متنبہ کردیا جانا چاہئے کہ امریکی عوام سے سچائی چھپانے کی مسلسل کوشش کانگریس کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہوگی۔ 

انہوں نے صدر ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ قانون سے بالاتر نہیں ہیں اور آپ کو اپنے کئے کاحساب دینا ہی ہوگا۔ وہائٹ ہاؤس کے بجٹ آفس نے بدھ کے روز کہا کہ وہ یوکرین سے متعلق دستاویزات فراہم کرنے کی کانگریس کی درخواست پر کوئی کارروائی نہیں کریگا۔