موضوع: سیریا میں ترکی کی یکطرفہ کارروائی ناقابل قبول 

عالمی امن کو خطرہ اس وقت لاحق ہوتا ہے جب ایک ملک کسی دوسرے آزاد اور خود مختار ملک کے اندرونی معاملات مین دلچسپی لیتا ہے اور اس میں مداخلت کرنے سے بھی نہیں چوکتا۔ ایسی جارحانہ ذہنیت کئی شکلوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ ان میں ایک شکل یہ بھی ہے کہ ترکی نے شمال مشرقی سیریا کے ان علاقوں پر یکطرفہ طورپر حملہ کیا ہے، جہاں کردوں کی ایک بڑی تعداد رہتی ہے۔ ترکی، کرد باغیوں کے خلاف ہے اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کے درپے ہے لیکن سیریا کے اس خطے پر صرف اس لیے حملہ کیا جائے کہ وہاں کرد رہتے ہیں قطعی قابل قبول نہیں ہے۔ کیوں کہ یہ حملہ صرف کردوں پر حملہ نہیں بلکہ سیریا کی آزادی اور خودمختاری پر بھی حملہ ہے۔ اس لیے ہندوستان نے اس حملے کی سخت لفظوں میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس سے حالات انتہائی پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔ نہ صرف اس علاقہ کا امن غارت ہوسکتا ہے بلکہ یہ خطہ عدم استحکام کا بھی شکار ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ دہشت گردی سے لڑنے کی جو کوششیں ہورہی ہیں ان میں بھی رکاوٹ پیداہوسکتی ہے۔

اتفاق سے ترکی کی یہ یکطرفہ کارروائی ایک ایسے وقت میں شروع ہوئی جب ہندوستان اور چین کی اعلی قیادت کی سربراہ ملاقات  تامل ناڈو کے ایک تاریخی مقام مہابلی پورم میں ہونے والی تھی۔ یہ دو روزہ میٹنگ 11 اکتوبر کو شروع بھی ہوگئی۔ بہر حال ہند-چین کے لیڈروں کی سربراہ ملاقات کی تیاریوں کے درمیان ہی یہ خبر آئی کہ ترکی نے شمال مشرقی سیریا پر کردوں کے خلاف جارحانہ حملہ کیا۔ ظاہر ہے ہندوستان اس پر خاموش نہیں رہ سکتا تھا۔ کیوں کہ یہ ایک ایسا قدم ہے جو سیریا کی آزادی اور اس کی علاقائی سالمیت کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ ہندوستان ایک آزادانہ خارجہ پالیسی کے اصولوں کو مانتا ہے اور اس نے ہمیشہ اور ہر پلیٹ فارم پر اس بات کی وکالت کی ہے کہ کسی ملک کی آزادی اور علاقائی سالمیت پر حملہ کرنا ناقابل قبول فعل ہوتا ہے۔ اگر ترکی کا کوئی اندرونی معاملہ ہے تو اسے اپنے طور پر یہ مسئلہ اپنی سرحدوں میں رہ کر سلجھانا چاہیے۔ اس علاقے میں داعش کی سرگرمیاں کتنی برھی ہوئی تھیں اس سے ساری دنیا واقف ہے۔ اگرچہ بیشتر علاقے داعش کے قبضے سے آزاد کرالیے گئے ہیں لیکن اس کی دہشت گردانہ کارروائیوں کے خلاف جنگ ابھی جاری ہے۔ ایسے میں ترکی کی یہ جارحانہ کارروائی حالات کو اور زیادہ خراب کرسکتی ہے اور ایک نیا فتنہ کھڑا ہوجانے کے باعث یہ جنگ کمزور پڑسکتی ہے۔ ترکی سے ہندوستان کے تعلقات  اگرچہ خراب نہیں ہیں حالانکہ ترکی حالیہ دنوں میں کشمیر کے سوال پر پاکستان کی ہمنوائی کرتے ہوئے ہندوستان کے اندرونی معاملے پر ترکی نے رائے زنی کی تھی لیکن ترکی یہ نہ سمجھے کہ چونکہ اس نے کشمیر کے معاملہ میں پاکستان کے موقف ہی کی حمایت کی تھی اس لیے ہندوستان جوابی کارروائی کے طور پر سیریا میں اس کی حالیہ کارروائی کے خلاف آواز اٹھارہا ہے۔ ایسا بالکل نہیں ہے۔ اسی معاملے میں چین نے پاکستان کی بھرپور تائید وحمایت کی ہے۔ ویسے بھی چین اور پاکستان ہرموسم کے دوست کہے جاتے ہیں اور ہرمعاملے میں چین اس کی حمایت کرتا ہے لیکن ان حقائق کے باوجود ایسا نہیں ہے کہ چین اور ہندوستان کے تعلقات بالکل بگڑگئے۔ اس وقت بھی ریاست تمل ناڈو کے ایک مقام پر چینی صدر اور ہندوستان کے وزیر اعظم کے درمیان سربراہ ملاقات چل رہی ہے جس میں ظاہر ہے علاقائی اور عالمی امور کے علاوہ دونوں ملکوں کے باہمی رشتوں کو مضبوط بنانے کے امکانات پر بھی بات چیت ہوگی۔ یعنی صرف بعض امور پر اختلاف کے باعث سارے تعلقات منقطع نہیں ہوجاتے، بات چیت اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔اس لیے ترکی یہ نہ سمجھے کہ چونکہ اس نے کشمیر کے سوال پر پاکستان کے موقف کی حمایت کی اس لیے ہندوستان نے اس کے اس حملے کی مذمت کی ہے۔یہ تصور ہی غلط ہے۔ ہندوستان اصولی طور پر یہ بات پسند نہیں کرتا کہ ایک ملک کسی بھی طور پرکسی دوسرے ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کو خطرے میں ڈال کر اس کے کسی حصے پر حملہ کرے۔ خود چین کے صوبہ شن جیانگ (Xingjiang) میں ایغور باشندوں کے خلاف ہونے والی کچھ کارروائیوں کے خلاف ترکی کے بھی کچھ تحفظات رہے ہیں۔ لیکن بعض دوسرے معاملات میں دونوں ایک دوسرے کے ہم خیال بھی ہیں۔ بات اصول کی ہوتی ہے اور ہندوستان کی خارجہ پالیسی کا یہ اصول رہا ہے کہ ایک ملک کی کسی دوسرے ملک میں مداخلت یا جارحانہ کارروائی ناقابل قبول ہوتی ہے۔ ترکی کو تحمل کامظاہرہ کرتے ہوئے جارحانہ کارروائی سے گریز کرنا چاہیے۔