11.10.2019 جہاں نما

مودی-شی جن پنگ ملاقات میں تجارت اور سرحدی تنازعہ کے غالب رہنے کا امکان

۔ ہندوستان اور چین کے درمیان آج غیر رسمی سربراہ میٹنگ ہورہی ہے جس میں تجارت اور سرحدی تنازع جیسے امور  کے غالب رہنے کا امکان ہے۔ اسی طرح کل سنیچر کو وزیراعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جن پنگ اکیلے میں بھی تبادلہ خیال کریں گے۔ بیشتر اخبارات نے اس خبر کو نمایاں انداز میں شائع کیا ہے۔ روزنامہ ہندو کے مطابق  دونوں سربراہوں کے درمیان یہ مذاکرات چنئی کے قریب واقع ساحلی تفریحی مقام ماملا پورم میں ہوں گے۔ امکان ہے کہ ان میں کئی اہم دو طرفہ اور عالمی امور زیر بحث آئیں گے۔ ہندوستانی وزارت خارجہ کے ایک افسر کے حوالے سے اخبار نے بتایا کہ دونوں ملکوں کے درمیان یہ غیر رسمی نوعیت کے مذاکرات ہیں جس میں کسی معاہدے یا مفاہمت کی یاد داشت  پر دستخط ہونے کا امکان کم ہے۔ اس افسر نے کہا کہ مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ بیان جاری ہوسکتا ہے۔ باہمی اعتماد میں کمی، ہندوستانی کمپنیوں کے لئے چینی مارکیٹ میں رسائی، ہواوی کے لئے 5 جی ٹرائیلس اور آزاد تجارت کے معاہدے سے متعلق یقین دہانی وغیرہ جیسے امور پر بھی تبادلہ خیال ہوسکتا ہے۔ سربراہ ملاقات کے بعد دونوں ملکوں کے خصوصی نمائندوں کے درمیان سرحدی تنازعہ پر گفتگو ہو گی۔ اس کے علاوہ دونوں ملکوں کے وزراء تجارت کے درمیان بات چیت ہوگی۔ بنگلہ دیش، چین، ہندوستان اور میانما کے درمیان انفرا اسٹکچر کے منصوبہ کو ترقی  دینے کے موضوع پر بھی بات ہوسکتی۔

سنیچر کو دونوں سربراہوں کے درمیان راست بات چیت ہوں گی جس میں دونوں ممالک اپنی اپنی تشویشات سے ایک دوسرے کو آگاہ کرسکتے ہیں۔ ان میں امریکہ سے تعلقات، جموں و کشمیر ، ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی اور افغانستان وغیرہ شامل ہیں۔ وزارت خارجہ کے افسر نے کہا کہ مذاکرات کی کامیابی کا بہت کچھ انحصار دونوں سربراہوں کے درمیان ‘ذہنی ہم آہنگی’ پر ہے۔

تمل ناڈو کے گورنر بنواری لال پروہت اور وزیراعلی ای پلانی سوامی دونوں رہنماؤں کی چنئی میں آمد پر استقبال کریں گے۔ مہمان صدر کے اعزاز میں ایک ثقافتی محفل کا بھی اہتمام کیا گیا ہے جس میں کلاسیکی رقص پیش کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ وزیراعظم مودی اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان چین کے شہر اوہان  میں گزشتہ سال 28 اپریل پہلے غیر رسمی مذاکرات ہوئے تھے۔

 

۔ ترکی نے فوجی کارروائی میں شمال مشرقی شام کے نشانوں پر کیا قبضہ

۔ ترکی کی طرف سے شام کے کرد علاقے میں فوجی کارروائی کے خلاف نکتہ چینی ہورہی ہے۔ ترکی نے کہا کہ اس کی افواج نے شام کے شمال مشرقی علاقے کے ان مطلوبہ مقامات کو قبضہ میں لے لیا ہے جن پر کرد باغی قابض تھے۔ روزنامہ ہندوستان ٹائمز کے مطابق شام میں گزشتہ آٹھ سال سے جاری خانہ جنگی ایک خطرناک مرحلہ میں داخل ہوگئی ہے۔ امریکہ نے شام کے اس کرد علاقہ سے اپنی فوجیں واپس بلانے کے بعد ترکی نے وہاں فوجی کارروائی کی ہے۔ ترکی کی اس جنگی مہم کی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے کئی سینئر ساتھیوں نے مذمت کی ہے۔ ترکی ناٹو کا ایک حلیف ہے اس کے باوجود حکمراں ری پبلکن پارٹی کے ارکان نے  ترکی کو سخت تنقید کا ہدف بنایا ہے۔ کرد جنگجو امریکہ کے وفادار اور داعش کے خلاف برسر پیکار ہیں۔ کردوں کی زیر قیادت صوبہ کے حکام نے بتایا کہ ترکی کی بمباری سے ایک جیل کو نقصان پہنچا جس میں داعش کے خطرناک دہشت گرد بند ہیں اور ان کے فرار ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ عالمی طاقتوں نے اس خدشہ کا اظہار کیا ہے کہ ترکی کی اس جنگی کارروائی سے شام میں خانہ جنگی کے حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں لیکن ترکی کا اصرار ہے کہ وہ اس کارروائی کے ذریعہ شام میں‘محفوظ علاقے’ قائم کرنا چاہتا ہے تاکہ شامی پناہ گزینوں کو واپس بھیجا جاسکے۔

 

۔ ہندوستان نے شام میں فوجی کارروائی پر ترکی کی نکتہ چینی

۔ ہندوستان نے شام میں فوجی کارروائی پر ترکی کو سخت نکتہ چینی کا ہدف بنایا ہے۔ روزنامہ اسٹیٹس مین کے مطابق ہندوستان نے اس یکطرفہ فوجی کارروائی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ہندوستانی وزارت خارجہ نے اس پر باضابطہ ایک بیان جاری کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ترکی کی اس کارروائی سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کمزور ہوسکتی ہے اور اس سے انارکی اور انسانی بحران پیدا ہونے کا بہت ہی زیادہ خطرہ  پیدا ہوگیاہے۔ ہندوستان نے ترکی سے تحمل سے کام لینے اور شام کی وحدت و خودمختاری کا احترام کرنے کے لئے کہا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہندوستان چاہتا ہے کہ تمام تنازعات اور مسائل پرامن طریقے اور گفتگو کے ذریعہ حل کئے جائیں۔ بدھ کے روز ترکی کی فضائیہ نے کردوں کے زیر تسلط شام کے شمال مشرقی علاقے میں بمباری کرکے کرد باغیوں کی پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا تھا۔ ہندوستان کی اس نکتہ چینی کو ترکی کے کشمیر کے بارے میں حالیہ بیانات کے پس منظر میں دیکھا جارہا ہے۔

 

۔ ایف اے ٹی ایف کے اجلاس سے قبل ممنوعہ جماعت الدعوۃ کے چار بڑے رہنما گرفتار

۔ پاکستان نے پیرس میں فائنانشیل ایکشن ٹاکس فورس (ایف اے ٹی ایف) کی ہونے والی اہم میٹنگ سے قبل جماعت الدعوۃ کے چار بڑے رہنماؤں کو گرفتار کرلیا ہے۔ روزنامہ ایشین ایج کے مطابق ان چاروں رہنماؤں کی شناخت پروفیسر ظفر اقبال،یحیٰ عزیز، محمد اشرف اور عبدالسلام کے طور پر ہوئی ہے۔ ان چاروں پر دہشت گردوں کو مالی مدد دینے کے الزام کے تحت سلامتی کی ایجنسیوں نے گرفتار کیا ہے۔ اس گرفتاری کے نتیجے میں جماعت الدعوۃ اور لشکر طیبہ ان دونوں تنظیموں کی قیادت کے خلاف مقدمات چلانے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ پاکستان کے انسداد دہشت گرد محکمہ کے ترجمان نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت کافی اہم پیش رفت ہوئی ہے اور محکمہ نے ممنوعہ  جماعت الدعوۃ اور لشکر طیبہ کے اہم رہنماؤں کو دہشت گردوں کی مالی اعانت کے الزامات کے تحت گرفتار کیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ جماعت الدعوۃ کا سرغنہ حافظ سعید پہلے ہی جیل میں ہے جس پر دہشت گردوں کو مالی اعانت دینے کا مقدمہ چل رہا ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ انسداد دہشت گردی کا محکمہ ان رہنماؤں کے خلاف مزید تحقیقات کررہا ہے جن میں دہشت گردوں کی مدد کرنے کے نام پر عوامی چندہ جمع کرنے کا بھی الزام ہے۔ بہرحال یہ گرفتاریاں پیرس میں کل سے شروع ہورہے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس سے قبل عمل میں آئی ہیں۔ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو اس معاملے میں گزشتہ سال گرے لسٹ میں کرلیا تھا اور اسے دہشت گردی کے مالی معاونت کے خاتمے کے لئے ایک ایکشن پلان دیا جسے امسال اکتوبر کے آخر تک مکمل کرنا ہے۔

 

۔ بنگلہ دیش میں نوبل انعام یافتہ محمد یونس کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری

۔ بنگلہ دیش کے نوبل انعام یافتہ اور ماہرمعاشیات  محمد یونس کے خلاف ڈھاکہ کی ایک عدالت نے گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا ہے۔ عدالت نے یہ وارنٹ ان کی کمپنی سے برطرف کئے گئے کارکنوں کے ایک مقدمہ میں جاری کیاہے۔ انڈین ایکسپریس نے اس کی خبر دیتے ہوئے بتایا کہ محمد یونس کی کمپنی گرامین کمیونی کیشن نے متعدد اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف کردیا تھا جنہوں نے کمپنی میں مزدور یونین قائم کی تھی۔ محمد یونس اس کمپنی کے چیئرمین ہیں۔ ان برطرف مزدوروں نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا لیکن محمد یونس عدالت میں حاضر نہیں ہوئے کیونکہ وہ اس وقت ملک سے باہر تھے۔ محمد یونس کے وکیل قاضی ارشاد عالم نے کہا کہ عدالت کا سمن ملنے سے پہلے ہی محمد یونس ملک سے باہر چلے گئے تھے اور وہ جیسے ہی واپس آئیں گے، اس سلسلے میں مناسب قانونی قدم اٹھایا جائے گا۔ 79 سالہ محمد یونس معاشیات کے سابق پروفیسر ہیں۔ انہوں نے ملک میں غربت کے خاتمہ کے لئے گرامین بینک قائم کیا جو چھوٹی چھوٹی مالیت کے قرض دیتا ہے۔ ان کے ملک کی وزیراعظم شیخ حسینہ  سے 2007 سال سے سیاسی اختلافات چلے آرہے ہیں۔ جب انہوں نے ملک میں سیاست میں شمولیت اختیار کی تھی۔ انہیں 2011 میں گرامین بینک کے صدر کے عہدے سے ہٹادیا گیا تھا۔ محمد یونس نے یہ بینک 1983 میں قائم کیا تھا جو اپنی نوعیت کا منفرد بینک ہے۔ اسی بنا پر انہیں نوبل انعام ملا تھا۔ اب اس بینک کو شیخ حسینہ کے نامزد کردہ افراد چلارہے ہیں۔ شیخ حسینہ نے محمد یونس پر غریبوں کا خون چوسنے کا الزام لگایا تھا۔ بینک پر الزام تھا کہ وہ غریبوں کو 20 فیصد شرح سود پر قرض دیتا ہے۔

 

۔ ادب کا نوبل انعام پولش اور آسٹریائی زبانوں کے ادیبوں کے نام

۔ ادب کا نوبل انعام  جیتنے والوں کے نام کا اعلان کردیا گیا ہے۔ سال برائے 2019 کے ادب کا نوبل انعام آسٹریائی زبان کے ادیب پیٹر ہینڈ کے  کو دیا گیا ہے جبکہ سال 2018 کے لئے پولش زبان کی ادیبہ محترمہ اولگا توکار زُک کو نوازا گیا ہے۔ خیال رہے کہ گزشتہ سال کا ایوارڈ سیکس اسکنڈل کی وجہ سے ملتوی کردیا گیا تھا۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق 76 سالہ پیٹر ہینڈکے کو ان کے ادبی کارناموں بشمول ناول، ڈرامہ اور مقالات کے لئے منتخب کیا گیا۔ نوبل انعامات سوئیڈن کی سوئڈش اکادمی تقسیم کرتی ہے۔ اکیڈمی نے پیٹر ہینڈ کے  کی ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تحریروں میں انسانی تجربات و احساسات کی عکاسی ہوتی ہے۔ 57 سالہ پولش ادیبہ اولگا کے بارے میں سوئڈش اکیڈمی نے بتایا کہ انہیں سرحدوں کو عبور کرنے کےتجربات کو تخیلاتی انداز میں بیان کرنے کی وجہ سے نوبل انعام کے لئے منتخب کیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نوبل انعام کے لئے منتخب یہ دونوں شخصیات کسی نہ کسی تنازعہ کا شکار ہوئی ہیں۔ پیٹر ہینڈکے  نے بلقان کی جنگوںمیں سربیا کو مظلوم بناکر پیش کیا ہے۔ جس پر تنازع کھڑا ہوا تھا۔ اسی طرح محترمہ اولگا نے پولینڈ کی تاریخ کے تاریک دور کو اپنی تحریروں میں موضوع بنایا ہےجسے پولینڈ کی حکمراں قوم پرست جماعت پسند نہیں کرتی ہے۔