موضوع: عمران کی بڑھتی پریشانیاں

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان حال ہی میں چین کے دو روزہ دورے پر تھے۔ جناب عمران خان کے بیجنگ پہنچنے سے ایک روز قبل ان کے فوجی سربراہ جنرل قمرجاوید باجوا وہاں پہنچ چکے تھے جہاں انہوں نے اپنے چینی ہم منصب جنرل ژینگ یوشیا   اور دوسرے اعلیٰ فوجی رہنماؤں سے بات چیت کی۔ بعد میں جب وزیراعظم عمران خان نے صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی کیکیانگ سے ملاقات کی تو جنرل باجوا بھی ان میٹنگوں میں شریک تھے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ ایک سال سے کم عرصہ میں عمران خان کا چین کا یہ تیسرا دورہ تھا۔ 

دونوں ملکوں کے رہنماؤں کی بات چیت کے بعد ایک مشترکہ بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ دونوں ملک اپنی اسٹریٹیجک پارٹنر شپ کو مزید مضبوط بنائیں گے۔ امید کے مطابق بیان میں جموں وکشمیر کی صورتحال کا بھی ذکر کیا گیا۔ چین نے اس حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کا ذکر کیا تاکہ پاکستان مطمئن ہوسکے لیکن بیجنگ شاید مانتا ہے کہ یہ قراردادیں ناقابل نفاذ ہیں اس لئے شاید اس نے پاکستان کو واضح پیغام دیا کہ مسئلہ کشمیر کو دو طرفہ بات چیت کے ذریعے حل کیا جاناچاہئے۔ 

یہ بات اہم ہے کہ عمران خان کا بیجنگ دورہ چینی صدر شی جن پنگ کے ہندوستان دورے اور فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس کی میٹنگ سے چند روز قبل عمل میں آیا۔ ٹاسک فورس کا مکمل اجلاس پیرس میں 18اکتوبر تک چلے گا جس میں یہ دیکھا جائے گا کہ دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ پر قدغن لگانے کیلئے پاکستان کیلئے جو نشانہ مقرر کیا گیا تھا اسے اس نے کہاں تک پورا کیا ہے اور اس کے بعد طے کیا جائیگا کہ اسے گرے لسٹ سے نکال کر بلیک لسٹ میں شامل کیا جائے یا نہیں۔ اس بات کی امید کرنا فطری بات ہے کہ چینی رہنماؤں سے ملاقات کے دوران وزیراعظم عمران خان اور جنرل قمر باجوا مسئلہ کشمیر کو ضرور چھیڑیں گے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کریں گے کہ اس موضوع پر چینی قیادت ان کی  ہم خیال ہے۔ لیکن صدر شی جن پنگ کو داد دینی چاہئے کہ انہوں نے مملاّ پورم میں وزیراعظم نریندر مودی کیساتھ اپنی غیررسمی ملاقات کے دوران اس موضوع پر کوئی بات نہیں کی۔ 

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عمران خان کے خطاب اور چین کے ان  کے دورے پر پاکستان میں ملاجلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ زیادہ تر تبصرہ نگاروں نے حقیقت پسندی سے کام لیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ جموں وکشمیر کا خصوصی درجہ ختم کرنے اور ریاست کی تنظیم نو سے متعلق ہندوستان کے فیصلہ کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے کیلئے عمران خان چاہے جتنی کوششیں کرلیں اس کا نتیجہ صفر ہی ہوگا۔ کچھ ایسے تبصرہ نگار بھی تھے جنہوں نے لکھا کہ ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کچھ ایسی ہی تقریریں کی تھیں لیکن کشمیر سے متعلق ہندوستانی موقف پر کوئی اثر نہیں پڑا اور کچھ ایسے سنجیدہ لوگ بھی تھے جنہوں نے دنیا کی اسٹریٹیجک صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئےہندوستان کی عالمی سطح پر بڑھتے مرتبہ اور  طاقت کا اعتراف کیا اور کہا کہ عمران خان کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اپنے فائدے کیلئے آج چین سمیت دنیا کی تمام بڑی طاقتوں کو ہندوستان کی ایک پارٹنر کے طور پر ضرورت ہے۔ 

عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو اب اس حقیقت کا احساس ہوچلا ہے کہ ہندوستان کے اقدام سے وہ پاکستان کی سیاست میں بالکل الگ تھلگ پڑ گئے ہیں۔ کشمیر سے متعلق ہندوستانی فیصلے نے انہیں زیرکرنے کیلئے اپوزیشن کو ایک ہتھیار فراہم کردیا ہے۔ پاکستان کی اپوزیشن پارٹیاں ان کی سیاسی نااہلی کا مذاق اڑارہی ہیں اور کہہ رہی ہیں کہ عمران خان ہندوستانی فیصلہ کا پہلے سے اندازہ لگانے میں ناکام رہے۔ بلاول بھٹو نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ عمران خان محض ایک کٹھ پتلی ہیں جن کی ڈور کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔ ادھر مولانا فضل الرحمن عمران خان کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرنے کا منصوبہ بنارہے ہیں تاکہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف لوگوں میں جو غم وغصہ ہے اس کا سیاسی فائدہ اٹھا سکیں۔ 

پاکستان میں اس وقت افراط زر کی شرح کافی زیادہ ہے۔ بے روزگاری تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ سرمایہ کاری نہ کے برابر ہے۔ ان تمام مسائل کے باعث عمران حکومت کو پریشاینوں کا سامنا ہے۔ مارکٹ ریسرچ  اور کنسلٹنگ کی ایک عالمی کمپنی کے تازہ ترین جائزے کے مطابق پاکستانی معیشت پر لوگوں کا اعتماد کم ہوتا جارہا ہے۔ جن لوگوں سے پاکستانی معیشت کے بارے میں سوال پوچھے گئے ان میں سے 79 فیصد لوگوں نے کہا کہ پاکستان غلط راستے پر جارہا ہے۔ 

عمران کی انحطاط پذیر شہرت سے اپوزیشن پارٹیوں کو امید بندھ گئی ہے کہ مستقبل میں انہیں سیاسی فائدہ حاصل ہوسکتا ہے۔ عمران خان کیلئے پریشانی پیدا کرنے اور فوج کے ساتھ ان کے رشتوں کا امتحان لینے کیلئے بلاول اور نواز شریف دونوں نے فضل الرحمن کے احتجاجی مارچ کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔