14.10.2019 جہاں نما

شام میں کرد کے زیر قبضہ شہر میں واقع حراستی کیمپ سے بڑی تعداد میں آئی ایس افراد فرار، جرمنی اور فرانس نے ترکی کو اسلحہ جات کی فروخت پر لگائی پابندی

شمالی کوریا میں ترکی کی زیرقیادت افواج اور کرد جنگجوؤں کے درمیان اتوار کے روز خونریز جنگ جاری رہی اور اسی درمیان اسلامک اسٹیٹ کے سینکڑوں حامی حراستی کیمپوں سے فرار ہوگئے۔ روزنامہ انڈین ایکسپریس نے امریکہ کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ترکی نے اپنے اصل منصوبے سے الگ ہٹ کر جنوبی حصے میں اپنے حملوں میں توسیع کا منصوبہ بنایا ہے جس کے بعد ایک ہزار امریکی سپاہیوں کو شمالی حصے سےواپس بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے پس پشت ایک اور وجہ یہ ہے کہ امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر  نے اشارہ دیا ہے کہ واشنگٹن کے کرد اتحادی سیرین ڈیموکریٹک فورسز ترکی کے حملوں کو روکنے کے لئے روس کے ساتھ معاہدے کی تیاری کررہی ہیں۔ اخبار آگے رقمطراز ہے کہ ترکی کےصدر رجب طیب اردغان نے اپنےمقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ان حملوں میں مغربی حملے کے کوبانی سے لے کر مغربی حصے کے ہساکا تک توسیع کی جائے گی۔ آخرالذکر حصہ شام کے علاقے میں 30کلو میٹر اندر واقع ہے جس کا تعلق پہلے کے اعلانیہ کے مطابق سیف زون میپ سے ہے۔ اخبار کے مطابق ان حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ کے ذریعے علاقے میں امریکی افواج کے الگ رہنے کے احکامات کے بعد اس ہفتے کے دوران انتشار میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ ایسپر کا کہنا ہے کہ امریکی افواج دو پیش قدمی کرتی ہوئی فوجوں کے درمیان پس رہی ہیں۔ لہٰذا امریکی افواج سے شمالی علاقہ چھوڑنے کے لئے کہا گیاہے۔ 

اسی پس منظر میں روزنامہ ایشین ایج نے جرمنی کی وزارت خارجہ کے ترجمان کے حوالے سے خبردی ہے کہ شام میں کرد وائی پی جی  ملیشیا پر ترکی کے حملوں کی وجہ سے جرمنی نے ترکی کو اسلحہ کی برآمدات پر پابندی لگادی ہے۔ امریکہ اور یوروپی یونین پہلے ہی ترکی کو ممکنہ پابندیاں لگانے کے سلسلے میں متنبہ کرچکے ہیں۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ اسی دوران فرانس نے سنیچر کے روز کہا ہے کہ اس نے ترکی کو ہر اقسام کے اسلحہ جات کی فروخت معطل کردی ہے اور انقرہ حکومت کو خبردار کیا ہے کہ شمالی شام میں اس کے حملوں سے یوروپ کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ 

 

ترکی کے خلاف پابندیوں کے لئے امریکہ تیار

روزنامہ ہندوستان ٹائمز نے شام اور ترکی کے درمیان جاری جنگ کے حوالے سے مزید خبردی ہےکہ شام میں ترکی کے حملوں کے جواب میں امریکہ اس کے خلاف مزید پابندیاں لگانے کی تیاری کررہا ہے۔ اس سے قبل امریکی  وزیر دفاع مارک ایسپر نے کہا تھا کہ امریکی افواج کی سلامتی کے پیش نظر ان کو شام کے شمالی حصے سے واپس بلانے کیلئے صدر ٹرمپ نے احکامات جاری کردیئے ہیں۔ اخبار کے مطابق ان پابندیوں کے خطرات کو نظرانداز کرتے ہوئے ترکی کے صدر رجب طیب اردغان نے کہا تھا کہ ان کا مقصد ایک ایسے محفوظ علاقے کی تشکیل ہے جو شام میں 30سے 35 کلو میٹر اندر واقع ہو۔ اخبار خبررساں ایجنسی صنعا کےحوالے سے آگے رقمطراز ہے کہ اس دوران شام کے شمالی حصے میں ترکی کے حملوں کو روکنے کے لئے شامی دستوں کو روانہ کردیاگیا ہے جہاں انقرہ حکومت کی فوجیں کرد کی زیرقیادت افواج سے برسرپیکار ہیں۔ اسی دوران کردوں کے ایک اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ کردوں اور دمشق کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ 

 

چنئی رابطہ: اداریہ ہندو

وزیراعظم نریندر مودی اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان حالیہ مذاکرات کے سلسلے میں روزنامہ ہندو نے اپنا اداریہ تحریر کیا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ اس ملاقات سے پہلے سینئر عہدیداروں نے کہا تھا کہ ووہان سربراہ کانفرنس کے بعد ہونے والی اس نوعیت کی دوسری ملاقات کا مقصد یہ دکھانا تھا کہ اب عمل کا وقت آگیا ہے۔ مملاّ پورم میں دونوں رہنماؤں نے اپنی ملاقات میں یقین دہانی کرائی کہ دونوں ممالک عمل میں سنجیدگی کا اظہار کریں گے۔ اس ملاقات میں ان دونوں رہنماؤں نے وزرائے خارجہ کے درمیان ایک اعلیٰ اختیاراتی  معاشی اور تجارتی مذاکرات کے طریقہ کار کی تشکیل کا فیصلہ بھی کیا جس کا مقصد تجارت میں اضافہ ، زبردست باہمی تجارتی خسارے کو کم کرنا اور طے شدہ شعبوں میں باہمی سرمایہ کاری میں اضافہ کرنا ہے۔ اداریے کے مطابق اگر یہ طریقہ کار کامیاب ہوجاتا ہے تو اس سے نہ صرف تعلقات میں اہم روکاوٹیں دور ہوں گی بلکہ اس سے دونوں ممالک کی بااثر تجارتی برادری کوتعلقات کو فروغ دینے میں مدد ملے گی نیز نئی دہلی اور بیجنگ حکومتوں کو کثیرجہتی میدان میں ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنے میں بھی مدد ملے گی اس کے علاوہ بنکاک میں اس ماہ کے آخر میں ہونے والی آسیان سربراہ کانفرنس کے موقع پر دونوں رہنماؤں کی ملاقات سے اعتماد سازی اور خوشگوار تعلقات کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔ اس کانفرنس میں 16 رکنی ممالک کے درمیان آزادانہ تجارتی ، علاقائی جامع معاشی معاہدے کی تکمیل کا اعلان بھی متوقع ہے۔ اخبار کاکہنا ہے کہ چین کی غلبے والی تجارتی پالیسیوں کی وجہ سے ہندوستان کو اس معاہدے میں شرکت سے پس وپیش تھا۔ چنئی سربراہ کانفرنس سے نہ صرف چینی رابطے کو ووہان جذبے سے منسلک کردیا ہے بلکہ اس میں دیگر فیصلوں کے علاوہ 2020 میں ہند۔ چین تعلقات کی تشکیل کی 70سالہ تقریبات منانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ سب سے بڑی بات یہ کہ دونوں رہنماؤں نے ووہان کانفرنس کی طرح اختلافات کو دانشمندی کے ساتھ سلجھانے کا فیصلہ کیا اور یہ بھی طے کیا کہ اختلافات کو تنازعات نہ بننے دیا جائے گا۔ اخبار نے واضح کیا ہے کہ اس پر کہنے کے مقابلے عمل کرنا زیادہ دشوار ہے کیونکہ ہندوستان، چین کے ساتھ اپنے رابطوں کو چین۔ پاکستان تعلقات کی عینک سے دیکھتا ہے۔ جبکہ چین، ہندوستان کے کردار کے پس پشت امریکہ کے کردار کو دیکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین پاکستان معاشی راہداری اور ہند۔ امریکہ مشترکہ ہند۔ بحرالکاہل وژن کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کافقدان رہا ہے۔ اگر نئی دہلی اور بیجنگ چاہتے ہیں کہ ان کے درمیان تعلقات میں بہتری آئے  اور اختلافات کے خاتمے کے لئے ماحول کی تشکیل ہو تو ان کو تیسری جماعتوں سے متعلق تشویشات کو دور کرنا ہوگا۔

پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے یا نہ کرنے پر ایف اے ٹی ایف کا اجلاس شروع

امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف کارروائی پر دیا زور

روزنامہ ہندوستان ٹائمز نے پیرس میں فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس کی میٹنگ میں پاکستان کی رپورٹ کے  حوالے سے ایک خبر شائع کی ہے۔ خبر کے مطابق پاکستان نےمیٹنگ میں اپنی رپورٹ پیش کی جبکہ ایسی رپورٹیں موصول ہورہی تھیں کہ دہشت گردی کے لئے رقومات کی فراہمی کو روکنے اور منی لانڈرنگ کے سلسلے میں اس عالمی ادارے نے جو شرائط عائد کی تھیں پاکستان ان کو پورا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ واضح ہو کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل ہے اور اپنی سرزمین پر سرگرم ملیٹینٹ گروپوں کو مالی امداد کی فراہمی روکنے کے سلسلے میں اس پر زبردست دباؤ ہے۔ اخبار آگے رقمطراز ہے کہ پیرس میں 13 سے 18 اکتوبر کے درمیان اس میٹنگ میں یہ طے کیا جائیگا کہ آیا پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کیا جائے جس کے بعد اس کو سخت معاشی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا نیز اس کی وجہ سے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی جانب سے 6 ملین ڈالر کے اعانتی پروگرام پر بھی اثر پڑے گا۔ اخبار کے مطابق ایک اعلیٰ امریکی سفارتکار ایلس ویلزنے سنیچر کے روز کہا ہے کہ پاکستان کو اپنی سرزمین سے جاری دہشت گردانہ سرگرمیوں کو روکنا چاہئے۔ جنوبی اوروسط ایشیائی امور بیورو کے نائب وزیر نے مزید کہا کہ عمران خان کہہ چکے ہیں کہ پاکستان کو اپنے بہتر مستقبل کے لئے اپنی سرزمین سے جاری دہشت گردانہ سرگرمیوں کو روکنا ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ نے لشکرطیبہ کے چار سرغنوں کی گرفتاری کا خیرمقدم کیا ہے اور اس کو امید ہے کہ 2008 کے ممبئی حملوں کے دہشت گرد حافظ سعید سمیت دیگر دہشت گردوں کو سزا ملے گی۔ واضح ہو کہ پاکستانی حکام نے سعید کے چار معاونین کو دہشت گردانہ سرگرمیوں میں اعانت کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ اخبار آخر میں رقمطراز ہے کہ اس سے قبل نئی دہلی حکومت نے دہشت گردوں کو مالی اعانت کرنے والے منظم مجرمانہ نیٹ ورکس کے خلاف اقوام متحدہ اور ایف اے ٹی ایف جیسے اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے پر زور دیا تھا۔ ستمبر میں ہندوستان کے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے بھی کہا تھا کہ دہشت گردوں کی اعانت کرنے پر ایف اے ٹی ایف، پاکستان کو کسی بھی وقت بلیک لسٹ کرسکتی ہے۔ 

 

جموں وکشمیر کے بقیہ حصوں میں بھی پوسٹ پیڈ موبائل خدمات بحال

آل انڈیا ریڈیو کی خبر کے مطابق جموں وکشمیر کے بقیہ حصوں میں بھی پوسٹ پیڈ موبائل خدمات بحال کردی گئی ہیں۔ اس بات کا اعلان جموں وکشمیر انتظامیہ نے سنیچر کے روز کیا تھا۔ تاہم وادی میں انٹرنیٹ خدمات کی بحالی کے لئے صارفین کو مزید انتظار کرنا پڑے گا۔ واضح ہو کہ وادی میں موبائل فون کے قریب 66 لاکھ استعمال کنندگان ہیں۔ اے آئی آر کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق بی ایس این ایل اور دیگر نجی ٹیلی مواصلاتی کمپنیوں کی پوسٹ پیڈ خدمات کی بحالی کے بعد وادی کشمیر میں لاکھوں صارفین کا ایک دوسرے سے رابطہ ہوجائیگا۔ جموں وکشمیر ڈائرکٹر جنرل پولیس دلباغ سنگھ کے مطابق امن وامان  برقرار رکھنے کے لئے تمام احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں گی۔ 

 

نیپال میں 500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کے لئے شی نے کیا وعدہ

‘‘نیپال  میں500 ملین ڈالر کی سرمایہ کیلئے شی کا وعدہ ’’یہ سرخی ہے روزنامہ ٹریبون کی۔ خبر کے مطابق نیپال کے ساتھ حوالگی کے معاہدے پر دستخط کے لئے چین کو سیاسی ناکامی ہوئی ہے لیکن کاٹھمنڈو میں شی جن پنگ کے حالیہ دورے کے بعد چین نے ایک معاشی پیش قدمی کی ہے۔ اس سلسلے میں نیپال کے وزیر اعظم کے پی شرما اولی کے ساتھ ملاقات میں شی جن پنگ نے دوسال کے دوران نیپال میں 500 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا ہے۔ اس رقم کا بیشتر حصہ دونوں ملکوں کو جوڑنے والی شاہراہ پر خرچ کیا جائیگا جس کو 2015 میں گورکھا زلزلے کے دوران زبردست نقصان پہونچا تھا۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ نیپال کی وزارت خارجہ کے ذریعے جاری بیان میں حوالگی کے اس معاہدے کا کوئی ذکر نہیں ہے جس سے چین کو براستہ نیپال ہندوستان جانے والے تبتیوں کی حوالگی کا اختیار مل جاتا۔