موضوع: پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی طرف سے سخت وارننگ ملنے کا امکان

بین الاقوامی سطح پر مالیاتی نظام کو بہتر بنانے اور غیر قانونی یا ناجائز  طور پر مالی لین دین کو بڑھاوا دینے جیسی سر گرمیوں پر روک لگانے کے لئے ایک کثیر قومی بین حکومتی ادارہ 1989 میں قائم کیا گیا تھا تاکہ وہ بین الاقوامی پیمانے پر مالی بد عنوانیوں اور دہشت گردی یا غیر قانونی سر گرمیوں میں ملوث افراد اورگروپوں کے غلط ڈھنگ سے فنڈ اکٹھا کرنے اور منی لانڈرنگ جیسی سر گرمیوں پر کڑی نظر رکھ سکے۔ چونکہ حالیہ دہائیوں میں دنیا کے مختلف خطوں میں دہشت گردی کو بعض گروپوں اور ان کی حمایت کرنےو الی حکومتوں نے بڑے پیمانے پر فروغ دیا ہے اور انہوں نے مختلف طریقوں سے سرمایہ بھی کافی اکٹھا کیا ہے۔ اس لئے یہ کثیر قومی ادارہ جسے فائننشیل ایکشن ٹاسک فورس کا نام دیا گیا ہے ، ایسے گرپوں اور ممالک پر کڑی نظر رکھ رہا ہے جو براہ راست یا بالواسطہ منی لانڈرنگ جیسی سر گرمیوں میں ملوث ہیں۔ اس اعتبار سے پاکستان کے متعدد گروپ ایسے ہیں جو نہ صرف مختلف خطوں میں تخریب کا رانہ کارروائیوں  کو فروغ دے رہے ہیں بلکہ فنڈ بھی اکٹھا کر رہے ہیں اور منی لانڈرنگ کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ پاکستان میں متعدد افراد و گروپ ایسے ہیں جو خاص طور سے دہشت گردی اور تخریب کاری کو بڑھاوا دینے کے لئے قائم کئے گئے ۔ان میں متعدد گروپ ایسے ہیں جنہیں اقوام متحدہ نے عالمی پیمانے پر خطرناک دہشت گرد گروپ قرار دیا ہے۔ اور اکثر وہاں کے اسٹبلشمنٹ کی طرف سے ان کی حوصلہ افزائی بھی ہوتی رہی ہے۔ لہذا ایف اے ٹی ایف پاکستان کے ایسے گروپوں کی سر گرمیوں پر خاص نظر رکھ رہاہے ۔ اس سلسلے میں حکومت پاکستان کو اس ادارے کی طرف سے کئی بار وارننگ دی گئی کہ وہ ایسے گروپوں کے خلاف سخت کارروائی کرے لیکن وہاں کے ارباب اختیار نے اس پر سنجیدہ تو جہ نہیں دی۔ ایک بار ایف اے ٹی ایف نے وارننگ دیتے ہوئے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ ایسے گروپوں کو لگام دے۔ کئی سال تک پاکستان اس لسٹ میں شامل رہا ۔ اس کے بعد اس نے کافی کوششیں کیں اور بعض اتحادی او ر دوست ملکوں کی مدد سے اسے اس لسٹ سے باہر کیا گیا تھا۔ امید کی گئی تھی کہ پاکستان اب مؤثر کارروائی کرے گا اور اپنے یہاں سر گرم دہشت گرد گروپوں کو لگام دے گا لیکن پاکستان کا ریکارڈ پھر بھی خراب رہا اور ایسے مؤثر قدم نہیں اٹھائے گئے جن سے حالات میں کچھ سدھار آتا۔گذشتہ سال جون کے مہینہ میں ایک بار پھر اسے گرے لسٹ میں شامل کیا گیا اور یہ وارننگ دی گئی کہ اکتوبر 2019 تک وہ اپنا ریکارڈ بہتر کرے  اور ایسے گروپوں کے خلاف سخت کارروائی کرے جو اپنی سر گرمیوں سے باز نہیں آئے ہیں۔ اس سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ ا گر اب بھی صورت حال میں تبدیلی نہیں آئی تو اسے گرے لسٹ سے ہٹا کر بلیک لسٹ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

اکتوبر کا مہینہ آ گیا اور اب پیرس میں ایف اے ٹی ایف کی میٹنگ شروع ہو چکی ہے ۔18 اکتوبر کو پاکستان کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا کہ اسے گرے لسٹ ہی پر رہنے دیا جائے یا بلیک لسٹ میں شامل کر لیا جائے۔ اگر پاکستان کی حالیہ دنوں کی کارروائیوں کی بات کی جائے تو پاکستان نے ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے جس سے اس کا ریکارڈ بہتر ہو تا ایف اے ٹی ایف کے علاقائی گروپ یعنی ایشیاء پیسیفک گروپ نے اپنے تازہ ترین جائزہ میں کہا تھا کہ پاکستان کی کار کردگی انتہائی مایوس کن رہی ہے ۔گذشتہ سال ایف اے ٹی ایف کی طرف سے ایک 27 نکاتی ایکشن پلان دیا گیا تھا تاکہ وہ اس پر عمل کرے۔ لیکن رپورٹ کے مطابق اس نے 27 میں سے صرف 6 نکات پر عمل کیا ۔ قیاس یہ ہے کہ ہو سکتا ہے کہ اسے گرے لسٹ سے ہٹا کر بلیک لسٹ میں شامل کر لیا جائے یا گرے لسٹ اور بلیک لسٹ کے درمیان ایک اور مرحلہ ہے ڈارک گرے لسٹ کا۔ اس لئے یہ بھی ممکن ہے کہ اسے ایک اور انتہائی سخت وارننگ دے کر ڈارک گرے لسٹ میں شامل کر لیا جائے۔ پاکستان کے حکمرانوں یا پردے کے پیچھے سے نظم چلانے والوں کو یہ محسوس کرنا ہی ہوگا کہ پاکستان اگر عالمی برادری کا حصہ بن کر رہنا چاہتا ہے تو اسے اپنی خارجہ پالیسی کا بنیادی عنصر بدلنا ہی پڑے گا۔ خبروں کے مطابق  پاکستان اس بات کی بھر پور کوشش کر رہا ہے ایف اے ٹی ایف میں شامل بعض ملکوں کی مدد سے اسے تھوڑی سی راحت مل جائے اور وہ بلیک لسٹ میں شامل ہونے سے بچ جائے۔ لیکن اس طرح کی عارضی راحت سے بات نہیں بننے والی۔ اسے دہشت گردی کے خلاف موثرکارروائی کرنا ہی پڑے گی۔

در اصل پاکستان کا نظام سیاست ہی کچھ ایسا ہے کہ دہشت گردی پر قابو پانے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ اگر سیولین حکومت تک معاملہ محدود ہوتا تو کچھ بہتری کی امید کی جا سکتی تھی لیکن پاکستانی فوج کی طاقت کے آگے تمام دوسرے ریاستی ادارے اپنے آپ کو بے بس پاتے ہیں۔ لیکن قیاس یہی ہے کہ یہ سسٹم بھی اب پاکستان کو عالمی برادری کے ٹھوس اقدام سے نہیں بچا پائے گا۔ عالمی برادری اور عالمی اداروں کی قوت بر داشت  کی بھی ایک حد ہوتی ہے اور پاکستان اس حد کو توڑتا نظر آ تا ہے۔ بہر حال یہ وہاں کے ارباب اختیار کے لئے لمحۂ فکریہ ہے۔