15.10.2019جہاں نما

ابھیجیت اور دو دوسروں کو اقتصادیات کا نوبل انعام

۔ رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز نے ہند نژاد امریکی شہری ابھیجیت بنرجی، ان کی اہلیہ استھر ڈفلواور مائیکل کریمر کو 2019 کا اقتصادیات کا نوبل انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اس خبر کے حوالے سے دی ہندو تحریر کرتا ہے کہ تینوں ماہرین اقتصادیات  نے اس بارے میں تحقیق کی ہے کہ تمام دنیا سے غریبی کو کیسے دور کیا جائے۔ ڈاکٹر بنرجی اور ڈاکٹر ڈفلو کا تعلق امریکہ کی ایم آئی ٹی سے ہے جبکہ ڈاکٹر کریمر ہاورڈ یونیور سٹی میں پروفیسر ہیں۔ اس انعام کے تحت 9 ملین سویڈش کرونا دیئے جاتے ہیں۔9 ملین کرونا کی یہ رقم تینوں ماہرین کے درمیان تقسیم کی جائے گی۔ رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز  نے ایک ریلیز میں کہا کہ ان تینوں ماہرین کی تحقیقات سے عالمی غربت سے لڑنے کے لئے ہماری صلاحیتوں میں اضافہ کرنے میں کافی مدد ملی ہے۔کلکتہ یونیور سٹی سے1981 میں بی ایس سی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد جناب بنرجی نے1983 میں دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیور سٹی سے ایم اے کی تعلیم مکمل کی ۔ اس کے بعد وہ ہارورڈ یونیورسٹی چلے گئے جہاں انہوں نے 1988 میں اپنی پی ایچ ڈی مکمل کی ۔46 سالہ پروفیسر ایستھر ڈفلو دنیا کی دوسری خاتون ہیں جنہیں اقتصادیات کے لئے نوبل انعام دیا گیا ہے۔بنرجی سے پہلے امرتیہ سین کو  یہ انعام ملا تھا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ابھیجیت بنرجی کو نوبل انعام ملنے پر مبارکباد پیش کی ہے۔ ٹوئیٹر پر اپنے ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ جناب بنرجی نے دنیا سے غربت ختم کرنے کے سلسلہ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے ایستھر ڈفلو اور مائیکل کریمر کو بھی مبارکباد پیش کی۔

 

پاکستانی دہشت گردی کے نقوش کو محفو ظ رکھنے کے لئے ایجنسیوں کو ڈوبھال کی ہدایت

۔ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال نے کہا ہے کہ اگر چہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے لئے پاکستان پر کافی دباؤ بنا رکھا ہے ، ہندوستان کی انسداد دہشت گردی کی ایجنسیوں کو پاکستان کی جانب سے جاری دہشت گردی کے نقوش کے شواہد کو سنبھال کر رکھنے کی ضرورت ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ ٹائمز آف انڈیا لکھتا ہے کہ کل نئی دہلی میں قومی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اےکی جانب سے منعقدہ خصوصی ٹاسک فورس اور انسداد دہشت گردی کی ایجنسیوں کے سربراہوں کی ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جناب ڈوبھال نے کہا کہ سبھی جانتے ہیں کہ پاکستان دہشت گردی کی نہ صرف حمایت کرتا ہے بلکہ اس کی مالی اعانت بھی کرتا ہے لیکن صرف ماننا ہی ضروری نہیں ہے بلکہ اس کے شواہد بھی اکٹھا کرنے ضروری ہیں۔ انہوں نے کانفرنس میں موجود افسروں سے کہا کہ ا ٓپ بخوبی جانتے ہیں کہ ایسی اطلاعات کو شواہد میں کیسے تبدیل کیا جا سکتاہے۔ ایسے شواہد جو قانون پر کھرے اتریں۔ اس لئے ہمیں حقائق پر انحصار کرنا ہوگا۔ ان حقائق کو محفوظ رکھنا ہوگا تاکہ ضرورت پڑنے پر انکا استعمال کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پر اس وقت ایف اے ٹی ایف کا زبر دست دباؤ ہے۔ انہوں نے اے ٹی ایف اور ایس ٹی ایف کے سر براہوں سے کہا کہ وہ دہشت گردانہ حملوں میں پاکستان کے کردار کا انکشاف کریں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے سلسلہ میں بہت سارے پاکستانی گرفتار ہوئے ہیں۔ میڈیا کو ان کی پہچان بتانے میں کوئی نقصان نہیں ہے۔ دنیا کومعلوم ہونا چاہئے کہ پاکستان کیا کررہا ہے۔

 

پاکستان کی ایف اے ٹی ایف کی ‘‘ ڈارک گرے لسٹ ’’ میں شمولیت کے قوی امکانات

۔ پیرس میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے مکمل اجلاس میں بلیک لسٹ میں شامل ہونے سے بچنے کے لئے پاکستان چین، ملیشیا اور ترکی کی حمایت پر انحصار کر رہا ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ ہندوستان ٹائمز تحریر کرتا ہے کہ اتوار کے روز سے ایف اے ٹی ایف کاپیرس میں اجلاس شروع ہوا جو ایک ہفتہ تک چلے گا۔ اس اجلاس میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، اقوام متحدہ اور عالمی بینک کے205 نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔ اجلاس کے دوران دہشت گردی کی مالی اعانت اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا جائےگا۔ تنظیم کا مکمل اجلاس پہلی بار چین کی صدارت میں ہو رہا ہے۔ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان کے وضع کردہ نکات کےتحت کارروائی  کی رپورٹ پیش کرنے کے لئے معاشی معاملات کے وزیر حماد اظہر کی قیادت میں ایک پاکستانی وفد پیرس میں پہلے سے ہی موجود ہے۔ پاکستان کو پچھلے سال دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے خلاف مناسب کارروائی نہ کرنے کے لئے گرے لسٹ میں شامل کر لیا گیا تھا۔ اور کہا گیا تھا کہ وہ ایکشن پلان کے مطابق کارروائی کرے ورنہ اسے گرے لسٹ سے نکال کر بلیک لسٹ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ بلیک لسٹ مین شامل ہونے سے بچنے کے لئے پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے 39 ارکان میں سے کم از کم تین ارکان کی حمایت حاصل کرنا ضروری ہے۔ کہا جاتا ہے کہ چین ، ملیشیا، اور ترکی نے اس سلسلہ میں اپنی حمایت کا یقین دلایا ہے۔ ادھر ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کو ‘‘ڈارک گرے لسٹ ’’ میں شامل کیا جا سکتاہے کیونکہ اس وقت وہ بالکل الگ تھلگ پڑ چکا ہے‘‘ڈارک گرے لسٹ’’ کا مطلب ہے کہ یہ اس کے لئے آخری وارننگ ہوگی۔ اور اسے کار کردگی بہتر بنانے کے لئے آخری موقع دیا جائےگا۔ اسی دوران امریکہ نے کہا کہ پاکستان کو اپنے یہاں سر گرم دہشت گردوں کو اپنی سرزمین استعمال کرنے سے ہر حال میں روکنا ہوگا۔ امریکی وزارت خارجہ میں جنوبی اور وسطی ایشیا بیورو کے سر براہ ایلس ویلس نے کہا کہ اسلام آباد کو لشکر طیبہ کے سر غنہ حافظ سعیداور اس کے دوسرے دہشت گردوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنی ہی ہوگی۔ انہوں  نےلشکر طیبہ اور جماعت الدعوہ کے چار اعلیٰ لیڈروں کی گرفتاری کا خیر مقدم کیا۔

 

کردوں کی مدد کے لئے شامی فوجوں کی تعیناتی

۔ حکومت شام کی فوجیں پیر کے روز کردوں کی مدد کے لئے ملک کے شمالی علاقے کے مختلف قصبوں اور دیہاتوں کی طرف روانہ ہو گئیں جس سے ترکی کی فوجوں کے ساتھ ان کے ٹکرواؤ کا خطرہ بڑھ گیاہے۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے نمایا ںطور پر شائع کیا ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی اسٹیٹسمین تحریر کرتا ہے کہ یہ اقدام حکومت شام اور کردوں کے درمیان ایک معاہدے کے بعد کیا گیا ۔ شام کے کردوں اور اس کی حکومت کے درمیان یہ معاہدہ امریکی فوجوں کی علاقہ سے واپسی کے بعد سامنے آیا ہے۔ امریکی فوجوں کی واپسی سے کرد اکیلے پڑ گئے تھے جس کے باعث انہیں حکومت شام سے یہ معاہدہ کرنا پڑا۔ شام کی فوجوں کی ترکی سے لگی سرحد پر تعیناتی سے دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس بات کا بھی خطرہ بڑھ گیاہے کہ داعش امریکی فوجوں کی عدم موجودگی میں دوبارہ سرا ٹھا سکتا ہے۔ ادھر شمالی شام میں ترکی کی فوجی کا رروائیاں جاری ہیں اور اس نے امریکہ اور یوروپ کے اپنے ناٹو اتحادیوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اس کے راستے میں نہ آئیں۔ ترکی فوجوں کے حملوں کے باعث کم از کم ایک لاکھ 30 ہزار لوگ بے گھر ہو گئے ہیں۔ ترکی کے صدر طبیب اردغان نے اعلان کیا ہے کہ ان کی فوجیں منبج پر حملے کے لئے تیار ہیں جہاں کردوں سے معاہدے کے مطابق شام کی فوجیں پہنچ چکی ہیں۔ شامی فوجیں تال تمرقصبے میں بھی داخل ہو چکی ہیں جو ترکی کی سرحد سے صرف20 کلو میٹر دور ہے۔

 اسی دوران یوروپی یونین نے ملک شام میں کئے گئے ترکی کے حملوں کی مذمت کی ہے۔ روزنامہ ایشین ایج کی ایک رپورٹ کے مطابق یونین نے ایک بیان میں کہا کہ وہ ترکی کی فوجی کارروائی کی مذمت کرتی ہے جس کی وجہ سے تمام علاقہ کی سالمیت کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ یوروپی یونین نے فوجی کارروائی کی مذمت تو کی لیکن ترکی کو اسلحوں کی فروخت پر پابندی کاا علان نہیں کیا۔اسی دوران صدر امریکہ ڈونل ٹرمپ نے انتباہ دیا ہے کہ شمالی شام میں فوجی کارروائی کے باعث ترکی پر سخت پابندیاں عائد ہو سکتی ہیں۔ تا ہم انہوں نے کہا کہ واشنگٹن انقرہ کے ساتھ جنگ کا حامی نہیں ہے۔

 

افغانستان کے صدارتی انتخابات کے نتائج کا اعلان اس ماہ کے آخر تک

۔ افغانستان کے صدارتی انتخابات کے نتائج کا اعلان ابھی تک نہیں ہوا ہے لیکن امید ہے کہ اس ماہ کے آخر تک اس کا اعلان کر دیا جائے گا۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی ہندو تحریر کرتاہے کہ ملک کے انتخابی کمیشن نے اس بات کا اعلان پیر کے روز کیا۔ افغانستان میں طالبان کی دھمکیوں کے باوجود پچھلے ماہ کے اوائل میں صدارتی انتخابات ہوئے تھے ۔ تا ہم اس میں دھاندلیوں کی خبریں سامنے آئی تھیں۔ پھر نتائج کے اعلان سے قبل ایک اہم امیدوار عبداللہ عبدا للہ  نے دعویٰ کیا تھاکہ وہ انتخاب جیت چکے ہیں جس سے تنازعہ پیدا ہو گیا تھا۔ کمیشن نے کہا کہ تکنیکی خرابیاں دور کرنے کے بعدتقریباً دس لاکھ ووٹروں کی تفصیلات سرور میں منتقل کر دی گئی ہیں اور اس ماہ کے آخر تک نتائج آنے کی امید ہے۔