16-10-2019 جہاں نما

شمالی شام سے امریکی افواج کی واپسی سے پیدا خلا کو پُر کرنے کے لئے روس کی پیش قدمی

۔روس کی وزارتِ دفاع نے منگل کے روز جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کے فوجی دستے شام اور ترکی افواج کے درمیان ان شمالی حصوں میں گشت کررہے ہیں جہاں سے امریکہ نے اپنی فوجیں واپس بلائی تھیں۔ روزنامہ ہندو نے اس حوالے سے خبر دی ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ ہفتے میں طاقت کا توازن کس طرح منتقل ہوا ہے اور اس علاقے میں امریکہ کے غلبے  میں کمی آگئی ہے۔ واضح ہو کہ اس علاقے میں پیر تک امریکہ کے دو اڈے قائم تھے اور اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ امریکہ اور اس کی اتحادی افواج کے انخلأ سے علاقے میں سلامتی کا جو خلا ءپیدا ہوا ہے، روس اس کو پُر کررہا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ روسی دستے ‘‘ترکی سائڈ’’ سے پوری طرح تال میل قائم کئے ہوئے ہیں نیز شامی حکومت کی فوج نے منبج شہر اور آبادی والے متصل علاقوں پر پوری طرح قبضہ کرلیا ہے۔ مزید برآں اب اس علاقے میں روس اور ترکی کی ہی بین الاقوامی افواج باقی رہ جائیں گی۔ اخبار نے واضح کیا ہے کہ ترکی اور شام کی افواج کے درمیان شام کے شمالی علاقے پر قبضے کے لئے جنگ ہورہی ہے جو 9،اکتوبر تک شامی کرد علاقائی خود مختار حکومت کے تحت تھا۔ بعد میں ترکی کے زیر قیادت حملے کے بعد وہاں امریکی دستوں نے اپنے اڈے بنائے تھے۔

 

۔ ترکی کے خلاف، امریکہ نے عائد کی مزید پابندیاں

۔ شام کے شمالی حصے میں ترکی افواج کے حملے کے ردعمل میں امریکہ نے ترکی حکام پر پابندیاں عائد کردی ہیں جن میں اسپات پر محصولات میں اضافہ اور ایک سو بلین ڈالر کے تجارتی معاہدے پر مذاکرات کی معطلی شامل ہے۔ روزنامہ ایشین ایج نے اپنی خبر میں تحریر کیا ہے کہ صدر ڈونل ٹرمپ نے اس مقصد سے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کردیئے ہیں جس میں انتظامیہ کوترکی کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ امریکی وزارت خزانہ پہلے ہی ترکی کے وزیر دفاع، وزیر داخلہ اور وزیر توانائی کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کرچکی ہے اور صدر ٹرمپ امریکی نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی  کو ایک خط میں ترکی کے معاملے کو قومی ہنگامی صورتحال قرار دے چکے ہیں۔ اخبار نے حوالہ دیا ہے کہ شام سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد ترکی نے سرحد پار کرد جنگجوؤں پر حملہ کیا تھا۔ اس اقدام پر ری پبلکن ارکان نے تنقید کی تھی اور کچھ ارکان نے اس کو کردوں کے ساتھ فریب قرار دیا تھا۔ اخبار اس ایگزیکٹو حکم کے حوالے سے آگے رقمطراز ہے کہ اس کے تحت ان افراد پر شدید اضافی پابندیاں عائد کردی جائیں گی جو حقوق انسانی کی سنگین پامالی، جنگ بندی میں رخنہ اندازی، بے گھر افراد کی وطن واپسی میں روکاوٹ، پناہ گزینوں کو جبراً واپس بھیجنے یا شام میں امن و امان، سلامتی اور استحکام کو خطرے میں ڈالنے میں ملوث ہیں۔ اس حوالے سے صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر ترکی کے رہنما اس خطرناک اور تباہ کن راستے پر آگے بڑھتے رہے تو وہ ترکی کی معیشت کو تیزی کے ساتھ تباہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔

اسی پس منظر میں ترکی کے صدر طیب ارگان نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ شمالی شام سے کسی بھی اسلامک اسٹیٹ جنگجو کو بچ کر بھاگنے نہیں دیں گے۔ روزنامہ اسٹیٹس مین نے وال اسٹریٹ جرنل میں شائع ان کے بیان کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ مغربی ممالک مکر و فریب سے کام لیتے ہوئے خوا مخواہ شور و فوغا کررہی ہیں کہ کرد ملیٹنٹوں کے خلاف ترکی کے حملوں سے بڑے پیمانے پر جہادیوں کے بھاگ نکلنے کا خطرہ پیدا ہورہا ہے۔ اس سے قبل کرد اہلکاروں نے دعوی کیا تھا کہ ترکی کے حملوں کی وجہ سے حراستی مراکز کی سلامتی کو خطرہ پیدا ہورہا ہے اور ان کی وجہ سے اتوار کے روز عین عیسیٰ میں واقع ایک کیمپ سے 800 آئی ایس ارکان فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے جبکہ ترکی افواج کا کہنا ہے کہ کرد افواج نے جان بوجھ کر ان افراد کو رہا کیا تھا تاکہ وہ علاقے میں انتشار پھیلا سکیں۔ اخبار وال اسٹریٹ میں شائع ان کی تحریر کے حوالے سے آگے رقمطراز ہے کہ انقرہ، آپریشنل ایریا میں واقع تمام حراستی کیمپوں پر قابض ہوجائے گا اور ان کی حکومت غیر ملکی دہشت گرد جنگجوؤں کی ازدواج اور بچوں کی باز آباد کاری کے لئے متعلقہ ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار ہیں۔

 

۔ ملک میں ہی تیار دفاعی ساز و سامان سے جیتی جائیں  گی مستقبل کی جنگیں: بری فوج کے سربراہ کا بیان

۔ روزنامہ ہندوستان ٹائمز نے بری فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت کا ایک بیان شائع کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ مستقبل میں ہندوستان ملک میں ہی تیار اسلحہ جات اور آلات کا استعمال کرکے جنگیں جیتے گا۔ دوسری جانب قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال نے بھی قومی سلامتی کے لئے مناسب تکنالوجیوں کی تیاری پر زور دیا ہے تاکہ ان کے ذریعے ہندوستان کے خلاف کارروائیوں کا سد باب کیا جاسکے۔ اخبار لکھتا ہے کہ ان دونوں شخصیات نے ان خیالات کا اظہار ڈی آرڈی  او کے ڈائرکٹروں کی 41 ویں کانفرنس میں اعلی فوجی سائنسدانوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس کانفرنس سے اپنے خطاب میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے سائنسدانوں سے کہا کہ وہ جدید دور کی ضروریات پوری کرنے کے لئے ایسی تکنالوجیاں وضع کریں جن سے ہندوستان نہ صرف خود کفیل ہوسکے بلکہ وہ دفاعی پیداوار میں عالمی قیادت بھی کرسکے۔ اخبار نے واضح کیا ہے کہ ان خیالات کا اظہار ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ہندوستان نے آئندہ برسوں کے دوران ایرو اسپیس اور دفاعی شعبوں میں پانچ اعلی ممالک کی صف میں شامل ہونے کا نشانہ رکھا ہے۔ دفاعی پیداوار پالیسی 2018 کے مطابق ہندوستان نے 2025 تک دفاعی اشیا اور خدمات کے شعبوں میں ایک اعشاریہ سات لاکھ کروڑ کی تجارت کا نشانہ رکھا ہے۔ اخبار نے اپنی خبر میں ملک میں ہی تیار لائٹ کمبیٹ ایرکرافٹ تیجس، ایر بارن ارلی وارننگ اینڈ کنٹرول  اور نیتر کے علاوہ استر اور ارجن سسٹم اور زمین سے فضا میں مار کرنے والے آکاش میزائل سسٹم کا خاص طور پر ذکر کیا ہے۔

 

۔ کشمیر میں پاکستانی فوج کی بلا اشتعال گولہ باری، ایک خاتون ہلاک، زن و شو زخمی

۔ روزنامہ ٹریبیون نے کشمیر میں پاکستان کی گولہ باری کے حوالے سے خبر دی ہے جس کے مطابق پونچھ ضلع کے نونا بندی  گاؤں میں پاکستانی فوج کی گولی باری میں ایک خاتون شمیم اختر ہلاک ہوگئیں جبکہ ان کا 18 سالہ بیٹا معجزاتی طور پر بال بال بچ گیا۔ اخبار لکھتا ہے کہ اَپر قصبہ گاؤں میں گولہ باری سے منظور حسین اور ان کی اہلیہ بھی ہلاک ہوئیں ہیں۔ پاکستانی فوج نے پہلے صبح ساڑھے نو بجے  اور پھر ساڑھے بارہ بجے بلا اشتعال گولہ باری کی اور پھر ہلکے ہتھیاروں سے فائرنگ بھی کی جس کا جواب ہندوستانی فوج نے بھی دیا۔ فائرنگ اور گولہ باری کا تبادلہ تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہا۔ اخبار نے وزارت دفاع کے ترجمان کے حوالے سے لکھا ہے کہ پاکستانی فوج اب تک دو ہزار تین سو بار سے زیادہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرچکی ہے۔ گزشتہ سات روز میں تازہ ترین خلاف ورزی کے دوران کنٹرول لائن پر سپاہی سبھاش تھاپا نے شہادت حاصل کی جبکہ سندر بنی سیکٹر میں تین اور پونچھ ضلع میں چار سپاہی زخمی ہوئے تھے۔

 

۔ پاکستان نے کرتار پور راہداری کا حتمی مسودہ ہندوستان کو بھیجا

۔ ‘‘کرتار پور راہداری کے سلسلے میں معاہدے کا حتمی مسودہ پاکستان نے ہندوستان کو کیا ارسال’’۔ یہ سرخی ہے روزنامہ اسٹیٹس مین کی خبر میں تحریر ہے کہ پاکستان نے ہر یاتری سے 20 ڈالر کی سروس فیس ہٹانے کے ہندوستانی مطالبے کو ٹھکرادیا ہے۔ ذرائع کے مطابق معاہدے کا مسودہ اسلام آباد میں ہندوستانی ہائی کمیشن کے حوالے کردیا گیا ہے۔ سکھ برادری کے مذہبی جذبات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہندوستان نے مطالبہ کیا تھا کہ گردوارہ جانے والے یاتریوں سے سروس فیس وصول نہ کی جائے مگر پاکستان نے اس کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردی ہے کہ راہداری کی آپریشنل لاگت وصول کرنے کے لئے یہ فیس ضروری ہے۔ اخبار آگے رقمطراز ہے کہ جموں و کشمیر میں نافذ دفعہ 370 ہٹائے  جانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگیا تھا۔ اس کے باوجود نئی دہلی اور اسلام آباد نے راہداری پروجیکٹ کو حتمی شکل دینے کے لئے پالیسی رابطہ قائم کیا ہوا تھا۔ خیال رہے کہ اس معاہدے کے تحت پاکستان اس راہداری سے روزانہ پانچ ہزار یاتریوں کی آمد و رفت کی اجازت دے گا جو پنجاب میں ڈیرہ بابا نانک اور پاکستان کے کرتار پور میں گردوارہ دربار صاحب کو جوڑتی ہے اور جس کے لئے پاسپورٹ کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ پرمٹ جاری کئے جائیں گے اور صرف سکھ ہی نہیں بلکہ ہر مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد اس مذہبی مقام کا دورہ کرسکیں گے۔ اخبار کے مطابق ہندوستان کی جانب سے اس راہداری کا افتتاح نومبر میں وزیراعظم نریندر مودی کریں گے۔ توقع ہے کہ یہ راہداری 30 اکتوبر تک مکمل ہوجائے گی اور گرونانک دیو کے 550 ویں یوم پیدائش پر یہ یاتریوں کے لئے  کھول دی جائے گی۔

 

۔ ایٹ وڈ  اور ایورسٹو کو مشترکہ طور پر اس سال کا بُکر پرائز

۔ اس سال کا بُکر پرائز  مشترکہ طور پر کناڈا کی مارگریٹ ایٹ وڈ  اور برطانیہ کی برنارڈن ایورسٹو نے حاصل کیا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا میں عالمی خبروں کے لئے مخصوص صفحے پر شائع اس خبر کے مطابق 1993 کے بعد سے اب تک مشترکہ طور پر یہ انعام کسی نے حاصل نہیں کیا تھا۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ ایک تاریخ ساز فیصلہ ہے کیونکہ دو مصنفین کو مشترکہ طور پر یہ اعزاز قوانین کے خلاف ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ ایٹ وڈ کو ‘‘دی ٹیسٹامنٹس’’  اور ایورسٹو کو ان کی کتاب ‘‘گرل وومن ، اَدر’’ کے لئے یہ پرائز دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ایورسٹو پہلی غیر سفید فام خاتون ہیں۔