17-10-2019 جہاں نما

ترکی نے کیا جنگ بندی کا مطالبہ مسترد

ملک شام میں پچھلے ایک ہفتہ سے جاری ترکی کی فوجی کارروائی روکنے کیلئے ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے اعلیٰ عہدیداروں کو صدر اردغان سے بات چیت کیلئے انقرہ روانہ کر دیا ہے جبکہ روسی فوجی اس علاقہ میں پہنچ چکے ہیں جسے امریکی فوجیوں نے اچانک خالی کردیا ہے۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے اپنے کالموں میں نمایاں جگہ دی ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی انڈین ایکسپریس تحریر کرتا ہے کہ وہائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ اوبرائن ترکی کے وزیر خارجہ میولٹ کاووسوگلوسے اس سلسلے میں بات چیت کرنے کیلئے کل انقرہ پہنچے۔ امید ہے کہ آج نائب صدر مائک پینس اور وزیر خارجہ مائک پومپیو صدر طیب اردغان سے ملاقات کر کے ان سے شمالی شام میں جنگ بندی کیلئے کہیں گے۔لیکن صدر اردغان نے واضح کردیا ہے کہ وہ کسی حال میں بھی جنگ بندی کے لئے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ وہ آئندہ ماہ اپنا امریکہ کا دورہ منسوخ کر سکتے ہیں کیونکہ امریکی سیاستدانوں نے اس معاملہ میں ان کی کافی بے عزتی کی ہے۔ صدر اردغان نے کہا کہ وہ ہم سے جنگ بندی کیلئے کہہ رہے ہیں۔ وہ ہمارے اوپر پابندیاں عائد کر رہے ہیں۔ لیکن ہم کسی پابندی سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ ہمارا مقصد بالکل صاف اور واضح ہے ۔ اسی دوران حکومت شام کی فوجوں کے ساتھ روسی فوجیں کوبانی شہر میں داخل ہو گئی ہیں۔ سیرئین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق سرحدی شہر کوبانی اسٹریٹجک اعتبار سے کافی اہمیت کا حامل ہے اور یہ ایسا علاقہ ہے جہاں سے وسیع ترجنگ چھڑ سکتی ہے۔ صدر ٹرمپ نے بدھ کے روز اس بحران کے بارے میں کہا کہ یہ لڑائی ترکی اور شام کے درمیان ہے اور اگر روس اپنے اتحادی شام کی اس میں مدد کرنا چاہتا ہے تو اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی پر پابندیاں عائد کرنا اس علاقہ میں لڑنے سے بہتر ہے۔ صدر ٹرمپ نے پیر کے روز ترکی پر پابندیوں کا اعلان کیا جسے ان کے ناقدین نے ناکافی قرار دیا ہے۔

سعودی تیل تنصیبات پر حملوں کے بعد امریکہ نے کیا تھا ایران پر سائبر حملہ

امریکہ کے دو اہلکاروں نے خبر رساں ایجنسی رائٹر کو بتایا ہے کہ 14ستمبر کو سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملوں کے بعد واشنگٹن نے ایران کے خلاف خفیہ سائبر آپریشن شروع کیا تھا۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی ہندوستان ٹائمز لکھتا ہے کہ ان اہلکاروں نے بتایا کہ یہ آپریشن ستمبر کے آخر میں ہوا تھا جس میں تہران کی پروپیگنڈہ پھیلانے کی صلاحیت کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ایک اہلکار نے بتایا کہ اس آپریشن سے ایران کے ہارڈرویئر کو نقصان پہنچایا گیا تھا اس نے اس کی تفصیل بتانے سے انکار کیا۔ امریکہ، سعودی عرب، برطانیہ ، فرانس اور جرمنی نے 14 ستمبر کے حملے کیلئے ایران کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔ تاہم تہران نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ حملوں کے بعد یمن کے حوثی باغیوں نے حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ امریکہ نے ان حملوں کے بعد سعودی عرب میں اپنے مزید فوجی تعینات کردیئے ہیں تاہم سائبر حملے کے بارے میں اس نے کچھ کہنے سے انکار کیا ہے۔ پنٹاگان کے ایک ترجمان نے کہا کہ سلامتی کے مدد نظر ہم سائبر اسپیس آپریشن، جاسوسی یا منصوبہ بندی کے بارے میں کوئی بات نہیں کرتے۔

پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں فروری تک رہے گا برقرار

پاکستان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ میں آئندہ برس فروری تک برقرار رہے گا۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ ایشین ایج تحریر کرتا ہے کہ فروری میں ہونے والی میٹنگ میں اس بات کا ایک بار پھر جائزہ لیا جائے گا کہ دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلئے اس نے کیا کیا قدم اٹھائے ہیں اور اس سلسلہ میں اسے جو نشانہ دیا گیا تھا اس نے کس حد تک پورا کیا ہے۔ اس میٹنگ کے بعد ہی طے ہو پائے گا کہ اسے بلیک لسٹ میں شامل کیا جائے یا نہیں۔ ایف اے ٹی ایف کامکمل اجلاس اس وقت پیرس میں ہو رہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بدھ کے روز میٹنگ میں تبادلہ خیال کے دوران پاکستان سے کہا گیا کہ وہ دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کو مکل طور پر ختم کرنے کیلئے تیز اور اضافی اقدامات کرے۔ پاکستان نے میٹنگ کے دوران یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اس نے دہشت گرد گروپوں کے خلاف سخت کارروائی کرکے ان کی مالی معاونت روکنے کی پوری کوشش کی ہے۔ اسے امید تھی کہ اس کی اس دلیل کے بعد وہ گرے لسٹ سے باہر ہو جائے گا لیکن ایسا نہ ہوسکا اوراسے اس لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ایف اے ٹی ایف کے ایشیا پیسفک گروپ نے جو اس کے 9علاقائی گروپوں میں سے ایک ہے، اگست میں کینبرا میں اپنی ایک میٹنگ بلائی جس میں پاکستان کی کارکردگی کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ یہ میٹنگ 18سے 23اگست تک چلی ۔میٹنگ کے بعد پایا گیا کہ پاکستان کیلئے دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ پر قدغن لگانے کیلئے جو نشانہ مقرر کیا گیا تھا اسے پورا کرنا تو درکناربیشتر معاملات میں اس نے انتہائی سست روی کا مظاہرہ کیا ہے۔ لہذا ایشیاء پیسفک گروپ نے اس ناقص کارکردگی کے باعث اسے انتہائی نچلی سطح کی فہرست میں شامل کرلیا جو بلیک لسٹ میں شامل کئے جانے کے مترادف ہے۔ بدھ کے روز بھی جو میٹنگ ہوئی اس میں بھی اسلام آباد کی کارکردگی کو ناقص پایا گیا جس کے باعث اسے گرے لسٹ میں بنائے رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اب اسے اپنی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے مزید چار ماہ کا وقت دیا گیا ہے۔

پنس اور گیولیانی کا مواخذے کی انکوائری سے تعاون کرنے سے انکار 

امریکی نائب صدر مائک پینس اور صدر ڈونل ٹرمپ کے ذاتی وکیل روڈی گیولیانی نے کہا ہے کہ وہ ایوان نمائندگان کی صدر ٹرمپ کے مواخذے سے متعلق انکوائری میں تعاون نہیں کرینگے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی ٹائمز آف انڈیا تحریر کرتا ہے کہ اس اعلان کے بعد ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک سرکردہ رکن نے کہا کہ اس سے صدر کے خلاف معاملہ اور مضبوط ہو جائے گا۔ پنٹاگان نے بھی کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کے سیاسی حریف کے خلاف تفتیش کیلئے یوکرین کے صدر پر دباؤ ڈالنے سے متعلق دستاویزات حوالے کرنے کی قانون سازوں کی درخواست پر کوئی کارروائی نہیں کرے گا۔ ان تمام باتوں سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ ڈیموکریٹک قانون سازوں کی جانب سے مواخذے سے متعلق تفتیش کو ناکام بنانے کی پوری کوشش کرے رہے ہیں۔ ڈیموکریٹس کے نمائندے ایڈم شف  نے ایک اخباری کانفرنس میں کہا کہ کانگریس کی کارروائی میں ہر طرح کی رکاوٹ ڈالنے کی کوششیں جاری ہیں۔ لیکن دوسرے سرکاری اہلکار تفتیش میں تعاون کرنے سے انکار نہیں کر رہے ہیں۔ بدھ کے روز وزیر خارجہ مائک پومپیو کے سابق معاون مائیکل میک کنلے بند کمرے میں ایوان کی مواخذہ کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے۔ منگل کے روز وزارت خارجہ کے ایک اہلکار جارج کینٹ نے کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر بتایا کہ انتظامیہ کے لوگوں نے انہیں یوکرین معاملہ پر زبان بند رکھنے کیلئے کہا تھا۔

کِم جونگ اُن کا امریکی پابندیوں سے مقابلہ کرنے کا عہد

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے کہا ہے کہ امریکی پابندیوں کے باعث ان کے ملک کو کافی مشکلات کا سامنا ہے تاہم انہوں نے عہد کیا کہ وہ ان تمام مشکلات پر قابو پالیں گے۔ اس خبر کو روزنامہ دی اسٹیٹس مین نے نمایاں طور پر شائع کیا ہے ۔ اخبار شمالی کوریا کی سرکاری میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتا ہے کہ کِم ایک سفید گھوڑے پر سوار ہو کر پائکتو کی مقدس چوٹی پر بھی گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ کوئی بھی بڑا فیصلہ لینے سے پہلے کِم اس پہاڑی کا دورہ کرتے ہیں۔ 2013 میں اپنے طاقتور چچا کو موت کے گھاٹ اتارنے سے پہلے کِم نے اس چوٹی کا دورہ کیا تھا۔ 2018 میں بھی جب امریکہ اور جنوبی کوریا کے ساتھ سفارتکاری کی شروعات کی تھی تب بھی وہ یہاں آئے تھے۔ شمالی کوریا کے رہنما کے اس اقدام سے جنوبی کوریا کی میڈیا نے قیاس آرائی شروع کردی ہے کہ کِم جونگ اُن امریکہ کے ساتھ بات چیت میں کوئی نئی حکمت عملی اختیار کر سکتے ہیں۔ شمالی کوریا کے دستاویزات کے مطابق کِم کے دادا کِم اِل سنگ 1910 سے 1945 کے دوران کوریائی جزیرہ نما پر جاپانی حکومت کے دوران پائکٹو کی چوٹی سے جاپان کے خلاف چھاپہ مار کارروائیاں کیا کرتے تھے۔ سفید گھوڑے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جاپان کی نو آبادیاتی حکومت کے خلاف لڑائی میں کِم اِل سنگ اسی گھوڑے کا استعمال کیا کرتے تھے۔ کِم نے سیمجیون کاؤنٹی کا بھی دورہ کیا جہاں انہوں نے نیوکلیائی پروگرام کے باعث امریکہ کی قیادت میں اقوام متحدہ کی پابندیوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جارح طاقتوں کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں اور دباؤ کے باعث ملک کافی مشکل حالات سے گذر رہا ہے تاہم ہمارے ملک کے عوام نے ان تمام مشکلات کا ڈٹ کر سامنا کیا ہے اور ثابت کر دیا ہے کہ ایسی مشکلات کے باوجود صورتحال پر کیسے قابو پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن چاہے جو بھی کرلے ہم اپنی ترقی اور خوشحالی کا راستہ خود نکال لیں ۔