18-10-2019 جہاں نما

برطانیہ اور یوروپی یونین کے درمیان نیا بریگزٹ معاہدہ

۔ آج اخبارات نے جن خبروں کو شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے ان میں برطانیہ اور یوروپی یونین کے درمیان نئے بریگزٹ معاہدے کی خبر اہمیت کی حامل ہے۔ اخبارات نے اس خبر کو مختلف شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ روزنامہ انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق، یوروپی یونین کے رہنماؤں نے برطانیہ کے ساتھ جمعرات کے روز بریگزٹ معاہدے کی متفقہ طور پر حمایت کی لیکن اس کے ساتھ ہی برطانوی وزیراعظم بورس جونسن پر یہ ذمہ داری بھی عائد کی کہ وہ دو روز کے اندر  برطانوی پارلیمان سے اس پر منظوری کا ووٹ حاصل کریں گے۔ واضح ہو کہ برطانوی اور یوروپی یونین کے رہنماؤں نے تین سال کے گرماگرم بحث ومباحثے کے بعد اس معاہدے سے اتفاق کیا ہے جس کی وجہ سے یوروپی یونین اور برطانیہ کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے۔ اخبار آگے رقمطراز ہے کہ معاہدے کے اعلان کے بعد ایک مشترکہ بیان جاری کیا گیا جس میں بورس جونسن نے امید ظاہر کی کہ ویسٹ منسٹر میں ارکان پارلیمان بناکسی تاخیر کے بریگزٹ کی منظوری دیں گے۔ خیال رہے کہ اس سال اکتیس مارچ کو بریگزٹ پر عمل درآمد ہونا تھا لیکن اب تاریخ موخر ہوکر 31 اکتوبر ہوگئی ہے بشرطیکہ برطانوی اور یوروپی پارلیمان اس کی منظوری  دے دیں۔ اخبار کے مطابق سنیچر کے روز پارلیمان کے غیرمعمولی اجلاس میں بورس جونسن کو اس کی حمایت میں ووٹ حاصل کرنا ہے لیکن ان کے لیے یہ اتنا آسان نہیں ہوگا۔ شمالی آئرلینڈ کی ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی نے جو کسی بھی معاہدے کی توثیق کے لئے بورس جونسن کے لئے ضروری ہے، اس کی حمایت سے انکار کردیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ شمالی آئرلینڈ کے مفاد میں نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اہم حزب اختلاف لیبر پارٹی کے سربراہ جریمی کوربن نے بھی اس معاہدے پر اپنی ناخوشی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس کے خلاف ووٹ دیں گے۔ 

 اپنی نوعیت کے پہلے واقعے میں امریکہ میں غیرقانونی طور پر داخل ہونے والے تین سو گیارہ ہندوستانیوں کو میکسیکو نے واپس ہندوستان بھیجا۔

۔ میکسیکو نے ان  تین سو گیارہ ہندوستانیوں کو واپس ان کے وطن بھیج دیا ہے جو ملک کے مختلف حصوں میں بنا واجب دستاویزات کے رہ رہے تھے۔ روزنامہ ٹائمز آف انڈیا اس حوالے سے رقمطراز ہے کہ ہندوستانی سفارت خانے نے میکسیکو میں غیرقانونی طور پر داخل ہونے والے ان افراد کی شناخت کرلی ہے۔ میکسیکو نے یہ قدم امریکی صدر ڈونل ٹرمپ کی اس تنبیہ کے بعد اٹھایا ہے کہ وہ امریکہ میں غیرقانونی طور پر داخل ہونے  والے غیرقانونی تارکین وطن کو روکے۔ اخبار میکسیکو کے نیشنل مائیگریشن انسٹی ٹیوٹ کے ایک بیان کے حوالے لکھتا ہے کہ ان افراد کو ساٹھ فیڈرل مائیگریشن ایجنٹوں کی نگرانی میں وطن بھیجا گیا ہے۔ یہ تارکین وطن بغیرمناسب اور ضروری دستاویزات کے میکسیکو میں داخل ہوئے تھے اور وہاں گزشتہ کئی مہینوں سے رہ رہے تھے۔ ذرائع کے مطابق ان تارکین وطن میں سے ہر ایک نے ایجنٹوں کو پچیس سے تیس لاکھ روپئے دیئے تھے جنہوں نے میکسیکو میں ان کے داخلے کا انتظام کیا تھا  اور وعدہ کیا تھا کہ وہ غیرقانونی طور پر امریکہ کی سرحد پار کرنے میں مدد کریں گے۔ 

 پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں رہ سکتا ہے شامل۔

۔ ‘‘گرے لسٹ میں پاکستان کی شمولیت جاری رہے گی’’۔ یہ سرخی ہے روزنامہ ہندو کی۔ خبر کے مطابق پیرس میں منعقدہ فنانشیل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو بلیک لسٹ تو نہیں کیا ہے مگر اس  کوگرے لسٹ سے بھی نہیں ہٹایا ہے لیکن ساتھ ہی اس کو سخت وارننگس بھی جاری کی ہیں۔ اخبار نے واضح کیا ہے کہ جمعرات کے روز ایف اےآئی ٹی ایف کے انٹرنیشنل کو آپریشن گروپ نے دہشت گردی کیلئے رقوم کی فراہمی اور منی لانڈرنگ کے خلاف پاکستان کے مبینہ اقدامات کا جائزہ لیا تھا اور انتالیس  رکنی ادارے نے اس پر غوروخوض کیا تھا کہ پاکستان کو گرے لسٹ پر جاری رکھا جائے یا پھر بلیک لسٹ کردیا جائے۔ چونکہ چین، ترکی اور ملیشیا پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کے خلاف تھے لہذا پاکستانی حکام کا خیال تھا کہ اس بار تویہ ممالک ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ اخبار آگے رقمطراز ہے کہ چودہ ؍اکتوبر کو سی ایف ٹی اور اے ایم ایل پر ایک رپورٹ ایشیا پیسفک گروپ نے جاری کی تھی جس میں پاکستان کو نیشنل رسک ریٹنگ  میں اوسط کا درجہ دیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں خاص بات یہ ہے کہ فروری دو ہزار بیس تک پاکستان پر ستائیس نکاتی ایکشن پلان پر عمل درآمد کیلئے زبردست دباؤ رہے گا اسی تاریخ کو ادارے کا مکمل اجلاس بھی منعقد ہوگا۔ گروپ کے مطابق جائزے کی مدت کے دوران پاکستان نے 228 ٹی ایف معاملات رجسٹر کئے تھے اور 58 افراد کو سزا دی تھی مگر یہ اقدامات پاکستان کی مجموعی ٹی ایف رسک سطح کے خاتمے کے عین مطابق نہیں تھے۔ اخبار ایف اے ٹی ایف اجلاس کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ اس سے قبل مشیر برائے قومی سلامتی اجیت ڈوبھال نے اس اجلاس میں کی گئیں ہندوستانی ایجنسیوں کی کوششوں کو سراہا تھا اور کہا تھا پاکستان پر سب سے بڑا دباؤ ایف اے ٹی ایف کی جانب سے ہے۔ 

 کرتار پور زائرین کی ہندوستان واپسی پر ہوسکتی ہے سخت جانچ۔

۔ روزنامہ ہندو  کی ہی ایک اور خبر کے مطابق، پاکستان میں کرتار پور کے مقدس مقام کا دورہ کرنے کے بعد واپس ہندوستان آنے والے یاتریوں کی سخت جانچ کی جائے گی کیونکہ خدشہ ہے کہ پاکستان ان یاتریوں کے ساتھ خالصتانی پروپیگنڈہ مٹیریل ،ہلکے ہتھیار اور منشیات بھیج سکتا ہے۔ اخبار ایک سرکاری سینئر اہلکار کے حوالے سے لکھتا ہے کہ ان سکھ یاتریوں کو کرپان لے جانے کی اجازت ہوگی مگر موبائل فون لے جانے کی سخت ممانعت رہے گی۔ اس سلسلے میں سکیورٹی چیک کے طریقۂ کار ابھی زیرغور ہیں اور اس مقصد کے لئے کون سی ایجنسیوں سے کام لیا جائے ان کے نام  بھی جلد طے ہوجائیں گے۔ ان میں امیگریشن، کسٹمز، پولیس اور بی ایس ایف اہم ہیں۔ کرتارپور راہداری معاہدے کے سلسلے میں اخبار نے وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے حوالے سےتحریر کیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ کئی دور کی بات چیت کے بعد یہ معاہدہ طے پاگیا تھا مگر سروس فیس کے معاملے پر اتفاق نہیں ہوسکا تھا۔ پاکستان کا اصرار ہے کہ تمام یاتریوں سے 20 ڈالرکی سروس فیس وصول کی جائے مگر ہندوستان کا کہنا ہے کہ ایسا کرنا یاتریوں کے مفاد اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان رابطے کے حق میں نہیں ہوگا۔ واضح ہو کہ کرتارپور کے مذہبی مقدس مقام کی زیارت کیلئے یاتریوں کا پہلا جتھّا 8؍نومبر کو روانہ ہونے کی توقع ہے۔ اس سلسلے میں پاسپورٹ اہم دستاویز ہوگا اور یاتریوں کی اسی دن واپسی ہوگی۔ اخبار آخر میں رقمطراز ہے کہ اس سے قبل ہندوستان نے تشویش ظاہر کی تھی کہ پاکستان ، اس راہداری کو ہند مخالف پروپیگنڈے کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔ جولائی میں ہندوستان نے  پاکستان کو ایسی دستاویزات سونپی تھیں جن میں گزشتہ چار برس کے دوران ایسے 30 واقعات کا ذکر تھا جن کے تحت پاکستان کے دورے پر جانے والے سکھ یاتریوں کے سامنے ایسا پروپیگنڈا کیا گیاتھا۔ 

 مغربی بنگال میں ہند-بنگلہ دیش سرحد پر بی جی بی کی فائرنگ، بی ایس ایف کا ایک جوان ہلاک۔

۔ روزنامہ اسٹیٹس مین نے سرکاری حکام کے حوالے سے خبر دی ہے کہ بنگلہ دیش کے سرحدی محافظوں نے جمعرات کے روز بی ایس ایف کی ایک ٹیم پر فائرنگ  کی جس کے نتیجے میں ایک جوان ہلاک اور دوسرا زخمی ہوگیا۔ اخبار کے مطابق اپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ ہے جو مغربی بنگال میں ہند-بنگلہ دریائی سرحد پر فلیگ میٹنگ کے بعد پیش آیا ہے۔ حکام نے ہندوستانی جوانوں کے خلاف اس کارروائی کو بارڈر گارڈ بنگلہ دیش کے ہاتھوں میں من مانی قرار دیا ہے جس کی وجہ سے کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔ اس واقعے کے بعد بی ایس ایف سربراہ وی کے جوہری نے ہاٹ لائن پر اپنے بنگلہ دیشی ہم منصب سے بات کی۔ بی جی بی کے ڈی جی نے یقین دلایا کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جائے گی۔ اخبار نے واضح کیا ہے کہ ہند اور بنگلہ دیش کی سرحدی فوجوں کے درمیان تعلقات دوستانہ رہے ہیں اور دہائیوں سے ان کے درمیان ایک بھی گولی نہیں چلائی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کا واقعہ ایک  بھول چوک ہوسکتی ہے اور صورتحال کو خراب ہونے سے بچانے کیلئے کوششیں کی جارہی ہیں۔ اس واقعے نے وزارتِ داخلہ اور خارجہ کو متحیر کردیا ہے ۔ حکام کے مطابق پریشانی اس وقت شروع ہوئی جب بی جی بی اہلکاروں نے ان تین ہندوستانی ماہی گیروں کو گرفتار کرلیا تھا جنہیں بی ایس ایف نے بین الاقوامی بحری علاقے میں ماہی گیری کی اجازت دی تھی۔ بی ایس ایف کے ایک پوسٹ کمانڈر اور ایک سب انسپکٹر چھ رکنی ٹیم کے ساتھ موٹر بوٹ پر اس معاملے کو سلجھانے کے لئے روانہ ہوئے تو انھوں نے جب وہاں جارحیت کا ماحول دیکھا اور ان کو محصور کئے جانے کا خطرہ محسوس ہوا تو پارٹی واپس ہونے لگی جس کے بعد بی جی بی کے جوانوں نے اس پر فائرنگ کردی۔ اخبار لکھتا ہے کہ سرحد پر سلامتی اقدامات میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ 

 شام میں جنگ بندی پر ترکی تیار۔

۔ روزنامہ ایشین ایج نے ترکی اور شام کے درمیان جنگ کے حوالے سے خبر شائع کی ہے جس کے مطابق ترکی نے جنگ بندی سے اتفاق کرلیا ہے۔ اس بات کا اعلان امریکی نائب صدر مائیک پینس نے کیا۔ اخبار لکھتا ہے کہ اس سے قبل امریکہ کے عہدیداروں کے اعلیٰ اختیاراتی وفد نے انقرہ میں ترکی صدر طیب اردگان سے ملاقات کی تھی۔ مائک پینس کا کہنا ہے کہ فوجی کارروائیاں 120 گھنٹے کیلئے روک دی گئی ہیں تاکہ امریکہ کے اتحادی شامی کرد کی وہاں سے واپسی ہوسکے۔