کرتارپور راہداری کا افتتاح

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے باوجود نئی دہلی اور اسلام آباد نے پاکستان کے صوبۂ  پنجاب کے نارووال ضلع میں واقع گورودوارہ دربار صاحب کی زیارت کے لئے کرتارپور راہداری کو کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کرتارپور صاحب وہ مقدس مقام ہے جہاں سکھ مذہب کے بانی گورو دیو نانک جی نے اپنی عمر کے آخری سال گزارے تھے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں انہوں نے 18سال تک سکھ مذہب کی تبلیغ کی اور یہی ان کی آخری آرام گاہ ہے۔ نومبر میں پہلے سکھ گورو کے 550یوم پیدائش کے موقع پر راہداری کے افتتاح کا منصوبہ ہے۔ پچھلے سال نومبر میں ہی حکومت ہند نے گورو داس پور میں ڈیرہ بابانانک سے لے کر بین الاقوامی سرحد تک راہداری کی تعمیر کو منظوری دی تھی۔ 

پاکستان میں سکھ مذہب کے تقریباً 173مقدس مقامات ہیں۔ لیکن ہندوستان اور پاکستان کے درمیان 1974کے پروٹوکل کے مطابق ہندوستان کے سکھ یاتریوں کو ان میں سے محض چند مقامات تک ہی رسائی حاصل ہے۔ اس سے پہلے سکھ یاتری سرحد پر واقع ڈیرہ بابا نانک سے دوربین کے ذریعہ گورودوارہ دربار صاحب کا درشن کرتے تھے۔ اس وقت پاکستان صرف محدود یاتریوں کو ہی اپنے یہاں آنے کی اجازت دیتا تھا۔ یہ یاتری بیساکھی ، گورو ارجن دیو جی کے یوم شہادت، مہاراجہ رنجیت سنگھ کی برسی اور گورونانک دیو جی کے یوم ولادت کے موقعوں پر ہی وہاں جاسکتے تھے۔ 

ہندوستانی یاتریوں کے لئے دربار صاحب گورودوارے کو ایک راہداری کے ذریعہ جوڑنے کی تجویز کافی پرانی ہے۔ 1999میں کرتارپور صاحب کی مرمت کا کام پورا ہونے کے بعد اس وقت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی نے لاہور کاتاریخی دورہ کیا تھا۔ اس دورے کے دوران ہندوستان نے راہداری کی تعمیر کی تجویز پیش کی تھی۔ اسی سال پاکستان نے آئی ایس آئی کے سابق ڈی جی، لیفٹیننٹ جنرل جاوید ناصر کی قیادت میں پاکستان گورودوارہ پربندھک کمیٹی کی تشکیل کی۔ اس کمیٹی کی تشکیل کا مقصد پاکستانی سکھوں کو اپنے مقدس مقامات کا انتظام سنبھالنے کی آزادی دینا تھا۔ لیکن یہ تنظیم اب پاکستان ایواکوئی ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ ( Pakistan Evacuee Trust Property Board ) کی تحت کام کر رہی ہے جو برائے نام ہی خود مختار ہے۔ لیکن جب پاکستان نے اعلان کیا کہ وہ کرتاپور کوریڈور کھولنے کے لئے تیار ہے تاکہ سکھ یاتری گرودوارہ دربار صاحب کی زیارت کرسکیں تو دونوں ملکوں نے اس سال مارچ میں اٹاری میں ایک میٹنگ کی اور اس بات پر تبادلۂ خیال کیا کہ راہداری کو کیسے کھولا جائے۔ راہداری کو شروع کرنے کے سلسلہ میں دو مسئلے کافی ٹیڑھے تھے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ ایک پرمٹ سسٹم شروع کرے گا جس کے تحت ہر یاتری کو 20 ڈالر فیس کے طور پر دینے ہوں گے۔ اسلام آباد کی دلیل ہےکہ اس نظام کے تحت حاصل کی گئی رقم کو راہداری کے رکھ رکھاؤ پر خرچ کیا جائے گا۔ ہندوستان نے پاکستان سے درخواست کی ہے کہ سکھ یاتریوں کے ساتھ قونصل خانے کے افسروں اور پروٹوکل افسروں کو جانے کی اجازت دی جائے۔ نئی دہلی کی اس درخواست پر بھی دونوں ملکوں کےد رمیان اختلاف ہے۔  قابل ذکر ہے کہ ماضی میں ہندوستانی ہائی کمیشن کے اہلکاروں کو پنجہ صاحب اور نانکانہ صاحب گورودواروں کے درشن کیلئے آنے والے سکھ یاتریوں سے ملنے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی اور سکیورٹی کا حوالہ دیا جاتا تھا۔ دونوں ملکوں نے اس بات سے اتفاق کرلیا ہے کہ یاتریوں کو ویزے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ تاہم انہیں آن لائن رجسٹر یشن کرانا ہوگا اور یاترا کے وقت انہیں پاسپورٹ ساتھ رکھنا ہوگا۔ ہندوستان نے اگرچہ ہر ر وز دس ہزار یاتریوں کو درشن کرنے کی اجازت دینے کی درخواست کی تھی تاہم پانچ ہزار یاتریوں کو اجازت دینے پر اتفاق ہوگیا ہے۔ ہاں خاص موقعوں پر مزید یاتریوں کو اجازت دی جاسکتی ہے۔ 

راہداری کھولنے کا فیصلہ تو لیا گیا ہے لیکن کچھ ہند مخالف عناصر ہیں جو کرتارپور صاحب میں سکھ یاتریوں کی موجودگی کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ ایسے عناصر ہندوستان میں تخریبی کارروائیوں کے لئے ان یاتریوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ اور ایسے عناصر کو پاکستان کی حمایت حاصل ہوگی۔ یہی وہ مسئلہ ہے جو ہندوستان کے لئے باعث تشویش ہے۔ ماضی میں پنجاب میں جاری عسکریت پسندی کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ تھا اور وہ دوبارہ یہ حرکت کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔ پاکستان کی جانب سے ہند۔مخالف عنصر گوپال سنگھ چاولہ کو کرتارپور آرگنائزننگ کمیٹی کارکن مقرر کئے جانے کے بعد راہداری کا پروجکٹ تنازعہ کا شکار ہوگیا تھا۔ چاولہ ایک بہت بڑا عسکریت پسند ہے جس پر بہت سے ملکوں نے پابندی عائد کر رکھی ہے۔ 

سیکھ یاتریوں کے لئے کرتارپور راہداری کا قیام ایک اہم قدم ہے۔ امید ہے کہ دونوں ملکوں کے کشیدہ رشتوں میں یہ راہداری ‘‘راہداری امن’’ کے طور پر ابھر کر سامنے آئے گی۔