پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں رہے گا برقرار

پاکستان کی جانب سے کنٹرول لائن پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے بعدہندوستانی فوج نے پاک مقبوضہ کشمیر میں واقع دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور پاکستان کی فوجی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے کہا  کہ ہندوستانی فوج کی اس جوابی کارروائی میں بہت سے دہشت گرد اور پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

پاکستان جنگ بندی کی ہمیشہ سے خلاف ورزی کرتا رہا ہے لیکن جموں وکشمیر سے دفعہ 370ختم کئے جانے کے بعد سے اس میں کچھ زیادہ شدت پیدا ہوگئی ہے۔ کشمیر کے معاملے میں پاکستان بین الاقوامی برادری کی حمایت حاصل کرنے میں بری طرح ناکام  رہا ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ وہ نہ صرف جنگ بندی کی خلاف ورزی پر اتر آیا ہے بلکہ اس نے دہشت گردوں کو ہندوستانی علاقہ میں بھیجنے کی اپنی مہم میں بھی شدت پیدا کردی ہے۔ لیکن اس کی ہر کوشش کو ہندوستانی فوجوں نے ناکام بنا دیا ہے۔ 

اسی دوران فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پیرس میں اپنے مکمل اجلاس میں پاکستان کو فروری 2020تک اپنی گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اس طرح اس نے اسلام آباد کو دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے خلاف سخت  کارروائی کرنے کا مزید چار ماہ کا وقت دے دیا۔ مزید مہلت دینے سے پہلے ٹاسک فورس نے پاکستان کو ایکشن پلان کے وضع کردہ نکات کے تحت منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف کارروائی نہ کرنے کے لئے سخت وارننگ دی ۔ ایف اے ٹی ایف نے ایک  بیان میں کہا کہ اگر پاکستان نے اس کے ایکشن پلان کے وضع کردہ نکات کےمطابق مکمل اور اطمینان بخش کارروائی نہیں کی تو اسے بلیک لسٹ میں شامل کر لیا جائے گا اور اس کےساتھ تجارتی اور اقتصادی رشتے رکھنے پر پابندی عائد ہوجائے گی۔ ٹاسک فورس نے یہ بات بھی واضح کردی کہ پاکستان نے اس کے وضع کردہ 27نکات میں سے صرف پانچ پر ہی کارروائی کی ہے۔ اس طرح دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے خلاف کی جانے والی کارروائی اطمینان بخش نہیں ہے۔ ایف اے ٹی ایف کی میٹنگ میں یہ بات نوٹ کی گئی کہ لشکرطیبہ اور جیش محمد جیسی دہشت گردتنظیموں کو ابھی بھی مالی امداد مل رہی ہے، جو ہندوستان میں متعدد حملوں کی ذمہ دار ہیں۔ 

پاکستان کے بلیک لسٹ میں شامل کئے جانے کی کافی امید تھی لیکن چین، ملیشیا اور ترکی نے اس کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ اسے اپنی حرکتیں سدھارنے کے لئے ایک اور موقع دیا جانا چاہئے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کسی بھی ملک کو بلیک لسٹ میں شامل ہونے سے بچنے کے لئے اسے 39ارکان میں سے کم ازکم تین ارکان کی حمایت حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ابھی تک صرف شمالی کوریا اور ایران  ہی ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں ہیں۔ پاکستان کو اگر بلیک لسٹ میں شامل کر لیا جاتا ہے تو وہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، عالمی بینک، یوروپی یونین اور دوسرے مالی اداروں سے قرض حاصل نہیں کرسکے گا۔ ان تینوں ملکوں نے پاکستان کی حمایت تو کردی تاہم انہوں نے اسلام آباد کو سخت وارننگ دینے کا فیصلہ کیا۔ چین اس وقت ایف اے ٹی ایف کا چیئرمین ہے۔ اس کے نمائندے نے کہا کہ پاکستان کو تیز اور مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اس نے مزید کہا کہ ایف اے ٹی ایف کے وضع کردہ نکات کے تحت مکمل کارروائی نہ کرنا ایک سنجیدہ معاملہ ہے اور اگر آئندہ سال فروری تک پاکستان نے مکمل کارروائی نہیں کی تو اسے بلیک لسٹ میں شامل کر لیا جائے گا۔ 

دہشت گردی کی مالی معاونت میں اس کی شمولیت کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو جون 2018میں گرے لسٹ میں شامل کیا تھا۔ اس کے بعد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے لئے اسے لگاتار وارننگ ملتی رہی ہے اور اسے گرے لسٹ میں برقرار رکھا گیا ہے لیکن اس کے باوجود اس نے ایکشن پلان کے مطابق کارروائی نہیں کی۔ 

پاکستان ایف اے ٹی ایف کو یہ باور کرانے کی کوش کرتا رہا ہےکہ وہ دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے لئے سنجیدہ کارروائی کر رہا ہے۔ پاکسان کو مزید وقت دینے کا صاف مطلب ہے کہ عالمی برادری اسے اپنی حرکتیں سدھارنے کاایک اور موقع  دینا چاہتی ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ اسلام آباددہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لئے واضح اور فیصلہ کن کارروائی کرے۔ 

ہندوستان نے پاکستان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ میٹنگ میں امریکہ سمیت دوسرے ملکوں نے بھی ہندوستانی مطالبہ کی حمایت کی۔نئی دہلی نے کہا کہ دہشت گرد تنظیموں کے بینک اکاؤنٹ منجمد ہونے کے باوجود جیش محمد کے سرغنہ مسعود اظہر کو اپنے کھاتے سے پیسے نکالنے کی اجازت دی گئی۔ یہ اقدام اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ  دہشت گردی کے خلاف لڑائی کے معاملہ میں پاکستان دنیا کو بے وقوف بنا رہا ہے۔ دنیا کی نظر اب اس بات پر ہوگی کہ ایف اے ٹی ایف کے سخت انتباہ کے بعد پاکستان کیا قدم اٹھاتا ہے۔ اگر پاکستان ملک کی ترقی چاہتا ہے تو اسے گرے لسٹ سے باہر نکلنا ہوگا اور اس کے لئے اسے دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لئے واضح اور سخت ترین کارروائی کرنی ہوگی۔