21.10.2019جہاں نما

کنٹرول لائن کے پار ہندوستانی فوج کی بڑی کارروائی، 4؍ دہشت گرد کیمپ تباہ، 6؍ سے10؍ پاکستانی فوجی اور درجنوں دہشت گرد ہلاک

آج ملک کے تمام اخبارات نے پاکستان مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردوں کے کیمپوں کے خلاف ہندوستانی فوج کی زبردست کامیابی کو اجاگر کیا ہے اور اس حوالے سے صفحۂ اول پر شہ سرخیاں لگائی ہیں۔ روزنامہ ہندوستان ٹائمز نے اپنی خبر میں تحریر کیا ہے کہ اتوار کے روز ہندوستانی فوجی دستوں نے کنٹرول لائن کے پار دہشت گردوں کے کم ازکم چار کیمپوں اور پاکستانی فوجی اڈوں کو تباہ کردیا۔ یہ حملہ پاکستانی فوج کے ذریعہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کے جواب میں کیا گیا۔ اس خلاف ورزی کا مقصد دراندازوں کو مدد فراہم کرانا تھا۔ اخبار بری فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت کے حوالے سے لکھتا ہے کہ کنٹرول لائن پر تنگ دھار سیکٹر کے سامنے نیلم وادی میں کئے گئے اس حملے میں پڑوسی ملک کی فوج کے چھ سے دس سپاہی اور تقریباً ایک درجن دہشت گرد ہلاک کردئیے گئے اور دہشت گردوں کو زبردست نقصان بھی پہنچایا گیا۔ اخبار نے واضح کیا ہے کہ جموں وکشمیر کے کپواڑہ ضلع میں کرناہ کے مقام پر سنیچر کے روز پاکستانی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ میں ہندوستانی فوج کے دو سپاہی اور ایک شہری ہلاک وتین دیگر زخمی ہوگئے تھے۔ اس کے علاوہ ایک مکان بھی تباہ ہوگیا تھا لہٰذا، ہندوستانی افواج کو انتقاماً یہ کارروائی کرنا پڑی۔ جنرل راوت نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ وزیردفاع راج ناتھ سنگھ کو اس جوابی کارروائی سے آگاہ کردیا گیا ہے۔ وزیرموصوف نے جنرل راوت اور ان کے جانباز سپاہیوں کو اس کامیابی پر مبارک باد دی ہے۔ ایک اہلکار نے بتایا کہ سرحد کے پار پاکستانی فوج کے ذریعہ دہشت گردوں کی مسلسل حمایت کا جواب دینے کے لئے ہندوستانی افواج کو پورا حق حاصل ہے اور اس بار بھی اس نے اس حق کا استعمال کیا ہے۔ اخبار آگے رقمطراز ہے کہ اس سے چند ہفتے قبل کئی انٹلی جنس ایجنسیوں نے فوج کو خبردار کیا تھا کہ تقریباً 60دہشت گرد جموں وکشمیر میں گھس آئے ہیں اور500مزید دراندازی کے لئے تیار ہیں۔ خیال رہے کہ ہندوستان، پاکستان کی جانب سے بات چیت کی پیش کش کو بار بار مسترد کرچکا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ اسی وقت ممکن ہے جب تک اسلام آباد حکومت اپنی سرزمین سے جاری حملوں کے لئے ہندوستان کے خلاف دہشت گردوں پر قدغن نہیں لگاتا۔ ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں کو موصول حالیہ دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان نے جیش محمد، لشکر طیبہ اور حزب المجاہدین سمیت دہشت گرد گروپوں پر عائد پابندیوں میں نرمی کی ہے اور لشکر طیبہ اور جیش محمد نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں دہشت گردانہ کارروائیوں کے لئے بھرتی مہم تیز کردی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستانی فوج ہندوستان میں مزید کشمیرنژاد دہشت گردوں کو بھیجنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ یہ دکھایا جاسکے کہ ملٹنسی مقامی مسئلہ ہے۔ اب یہ گروپ کشمیر میں دفعہ 370ہٹائے جانے کے خلاف جوابی کارروائی کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ اخبار پاکستان کے خلاف اس تازہ ترین کارروائی کے سلسلے میں سابق ڈی جی ملٹری آپریشنز لیفٹننٹ جنرل ونود بھاٹیہ کے حوالے سے لکھتا ہے کہ  ہندوستان میں دہشت گرد روانہ کرنے کے علاوہ پاکستان عالمی برادری کو یہ بھی جتانا چاہتا ہے کہ مسئلۂ کشمیر ایک شعلہ بن چکا ہے ، جس کی شدت میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔نیز ایف اے ٹی ایف کے ذریعہ اس کو دی گئی راحت نے اس کی فوج کو سرحدی علاقوں میں مذموم عزائم انجام دینے کے لئے مزید موقع فراہم کردیا ہے۔

پاکستان 9؍ نومبر سے کرتارپور راہداری کی کرے گا شروعات، منموہن سنگھ نے افتتاحی تقریب میں شرکت سے کیا انکار

پاکستان کے وزیراعظم عمران خاں نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ کرتارپور راہداری 9؍نومبرسے کھول دی جائے گی جس کا کافی دن سے انتظار تھا۔ روزنامہ اسٹیٹس مین نے اس حوالے سے تحریر کیا ہے کہ یہ مجوزہ راہداری پنجاب کے گورداس پور ضلع میں واقع ڈیرہ بابا نانک گورودوارے کو کرتارپور دربار صاحب سے جوڑ دے گی۔اس راہداری سے ہندوستانی سکھ یاتریوں کو بنا ویزا آمد ورفت کی سہولت حاصل ہوگی اور کرتاپور جانے کے لئے ان کو صرف پرمٹ حاصل کرنا  ہوگا۔ واضح ہو کہ کرتارپور صاحب میں گورونانک دیو نے 1522میں گوردوارہ قائم کیا تھا۔ اخبار فیس بک پر عمران خاں کی ایک پوسٹ کے حوالے سے آگے رقمطراز ہے کہ 9؍ نومبر2019کو کرتارپور راہداری کی تکمیل کے بعد پوری دنیا کے سکھوں کےلئے پاکستان کے دروازے کھل جائیں گے۔ یہ وہی موقع ہے جب سکھ مت کے بانی گورو نانک دیو کا 550واں یوم پیدائش 12؍ نومبر کو منایا جائے گا۔ پوسٹ کے مطابق ہندوستان اور دیگر ممالک سے بڑی تعداد میں سکھ دنیا کے اس سب سے بڑے گوردوارے کا دورہ کرنے آتے ہیں۔ اس سے قبل 10؍ اکتوبر کو پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے راہداری کے افتتاح کے سلسلے میں یہ کہتے ہوئے غلط فہمی پیدا کردی تھی کہ اس سلسلے میں کوئی تاریخ طے نہیں پائی ہے جبکہ راہداری پروجیکٹ کے سربراہ ایک پاکستانی اہلکار کا کہنا تھا کہ پاکستان 9؍ نومبر سے ہندوستانی سکھ یاتریوں کو مقدس کرتارپور صاحب کے دورے کی اجازت دے دے گا۔ روزنامہ ہندو میں اسی حوالے کی ایک خبر کے مطابق سابق وزیراعظم منموہن سنگھ پاکستان میں کرتارپور صاحب کی افتتاحی تقریب میں شرکت نہیں کریں گے بلکہ ایک عام یاتری کی طرح وہاں جائیں گے۔ روزنامہ نے منموہن سنگھ کے قریبی ذرائع کے حوالے سے یہ خبر شائع کی ہے ۔ ڈان اخبار میں شائع ایک خبر کے مطابق سنیچر کے روز پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ان کی دعوت قبول کر لی ہے اور وہ ایک عام یاتری کی طرح افتتاحی تقریب میں جانے والے اس جتھے میں شامل ہوں گے جس کی قیادت پنجاب کے وزیراعلیٰ امریندر سنگھ کریں گے۔

پاکستان نے پہلی بار ہندوستان سے ڈاک پر لگائی پابندی

 پاکستان کے حوالے روزنامہ انڈین ایکسپریس نے ایک اور اہم خبر کی طرف قارئین کی توجہ مبذول کرائی ہے۔ خبر کے مطابق تقسیم وطن، ہند۔ پاکستان کے درمیان تین جنگوں اور کشیدگی میں اضافے کے باوجود براستہ مشرقی وسطیٰ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان خط وکتابت کی سروس جاری رکھی تھی مگر کشمیر میں آرٹیکل 370کی منسوخی کے بعد پاکستان نے ڈاک خدمات  بند کردی ہیں۔ اس منسوخی کے تحت 27؍ اگست کے بعد پاکستانی حکام نے اس ملک کے لئے ڈاک پر روک لگادی ہے۔ اخبار نے پوسٹل سروسز، میل اور بزنس ڈیولپمنٹ کے ڈائریکٹر آروی چودھری کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ یہ یک طرفہ فیصلہ ہے جو پہلی بار کیا ہے اور معلوم نہیں یہ پابندی کب تک جاری رہے گی۔ دوسری جانب پاکستان۔انڈیا فورم فار پیس اینڈ ڈیموکریسی کے رکن جتن دیسائی کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کے دور میں اس طرح کی پابندی کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ خط وکتابت خیالات کی ترسیل کا ذریعے ہوتی ہےاور اس حق کو کوئی حکومت چھین نہیں سکتی ہے۔

 جنگ بندی کے بعد شام کے شہر سے کردوں کا پہلا انخلاء، شام سے واپس آنے والی امریکی افواج بھیجی جائیں گی مغربی عراق

‘‘جنگ بندی کے بعد کردوں کا شام سے پہلا اخراج’’ یہ سرخی ہے روزنامہ ٹائمز آف انڈیا کی۔ اخبار لکھتا ہے کہ امریکی ثالثی سے تین روز پرانی جنگ بندی کے بعد محصور شامی سرحدی شہر راسل ایان سے کرد جنگجوؤں سے بھری درجنوں گاڑیوں نے اخراج شروع کردیا ہے اور ترکی کی حمایت یافتہ افواج کی واپسی کا راستہ ہموار کردیا ہے۔ کرد اہلکاروں کے مطابق یہ اخراج منگل کے روز جنگ بندی کی مدت کے خاتمے سے قبل مکمل ہوجائے گا۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ اس کے باوجود  طویل مدتی انتطامات کے حوالے سے سوالات باقی رہ جاتے ہیں۔ ترکی شمال مشرقی سرحد پر اِن کردوں سے پاک ایک سیف زون چاہتا ہے جن کو وہ دہشت گرد تصور کرتا ہے۔ یہ زون اس علاقے سے کہیں زیادہ بڑا ہے جو معاہدے کی شرائط کے تحت کرد خالی کریں گے۔ اخبار نے واضح کیا ہے کہ ملک وبیرون زبردست تنقید کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے اس معاہدے کے لئے ثالثی کی تھی ۔ اور شام سے اپنی افواج کو اچانک واپس بلانے کے لئے ترکی کے حملوں کے لئے راستہ صاف ہوگیا تھا۔ 

اسی اخبار کی ایک اور اہم خبر کے مطابق حالیہ منصوبے کے تحت شام سے واپس آنے والی تمام امریکی فوجیں مغربی عراق روانہ ہوجائیں گی اور فوج وہاں آئی ایس گروپ کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے گی تاکہ ان شورش پسندوں کو دوبارہ سر اٹھانے سے باز رکھا جاسکے۔ اخبار امریکی وزیردفاع مارک ایسپر کے حوالے سے لکھتا ہے کہ انہوں نے اس امکان کو بھی مسترد نہیں کیا کہ امریکی افواج عراق سے شام کے اندر دہشت گردانہ سرگرمیوں کا سد باب کریں گی لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اس منصوبے کی تفصیلات بعد میں طے کی جائیں گی۔ ایسپر نے مزید کہا کہ شام سے واپس آنے والے تقریباً 700فوجیوں کو عراق منتقل کئے جانے کے لئے انہوں نے اپنی عراقی ہم منصب سے بات کی ہے۔ 

 بریگزٹ تاخیر کے سلسلے میں بورس نے بھیجا غیر دستخط شدہ مکتوب

برطانیہ میں ارکان پارلیمان نے 31؍ اکتوبرکے بعد بریگزٹ کی تاخیر کے حق میں ووٹ ڈالے، جس کے بعد مجبور ہو کر وزیراعظم بورس جونسن نے اس سلسلے میں برسلز کو ایک مکتوب ارسال کیا ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ ایشین ایچ نے تحریر کیا ہے کہ بورس جونسن نے جو معینہ تاریخ پر بریگزٹ پر عملدرآمد کے ذریعے اپنی وزارت عظمیٰ کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں، اس مکتوب پر دستخط کرنے سے انکار کردیا جو یوروپی یونین کاؤنسل کے صدر ڈونل ٹسک کوبھیجا گیا ہے۔