موضوع: ہندوستانی فوج کی جوابی کارروائی میں پاکستانی فوجی ہلاک

در اندازی اور دہشت گردی کو فروغ دینے کی کوششیں کبھی پاکستان کی طرف سے بند نہیں ہوئیں۔ جنرل مشرف کے دور اقتدار میں دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والی مفاہمت میں یہ طے پایا تھا کہ ایل او سی پر سیز فائر کی خلاف ورزی نہیں ہونے دی جائے گی۔ کچھ مدت تک اس پر عمل بھی ہوا جس کے نتیجہ میں سرحدوں پر نسبتاً سکون رہا اور سرحدوں پر واقع آبادیوں میں رہنے والے شہری سکون کی زندگی گزار رہے تھے لیکن شاید پاکستانی فوج اور ایجنسیوں کو یہ سب کچھ پسند نہیں تھا اور پھر سرحدوں پر در اندازی اور سیز فائر کی خلاف ورزی کی واردات بڑھتی گئیں۔ ادھر حالیہ دنوں میں جموں و کشمیر میں دفعہ 370 کو ہٹانے کے لئے ہندوستان نے کچھ فیصلے کئے جوپورے طور پر ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے لیکن پاکستان نے اس ایشو کر لے کر نہ صرف بین الاقوامی پیمانے پر ہندوستان کے خلاف سفارتی اور سیاسی مہم چھیڑ دی بلکہ اندرون پاکستان بھی اشتعال انگیز بیانا ت دینے شروع کئے گئے ۔وزیر اعظم پاکستان نے تو اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے بھی ایسے زہریلے اور اشتعال انگیز بیانات دیئے جو کسی بھی زاویئے سے سفارتی اور سیاسی آداب کے زمرے میں نہیں آتے اور اس کا مقصد اس کے سوا کچھ اور نہیں تھا کہ اس طرح کی زبان استعمال کر کے انتہا پسند حلقوں کو بھڑکایا اور ورغلایا جائے۔ مثلاً ایک جملہ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ کرفیو ختم ہونے کے بعد وادی کشمیر خون میں ڈوب جائے گی۔ خون میں ڈبونے سے ان کی کیا مراد ہو سکتی ہے؟ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔ پاکستانی فوج اور ایجنسیوں کی سر پرستی میں پروان چڑھائی گئی دہشت گرد تنظیموں نے کشمیر کو کس طرح خون میں ڈبو یا تھا۔ یہ کوئی پوشیدہ راز نہیں ہے۔ پاکستان کے درجنوں دہشت گرد گروپوں اور افراد کو اقوام متحدہ نے خطرناک دہشت گرد قرار دیا ہے ۔ پاکستان پر پوری دنیا سے دباؤ پڑ رہا ہے کہ ان کے خلاف پاکستا ن موثر کارروائی کرے لیکن یہ ذمہ داری نبھانے میں پاکستان اب تک نا کام رہا ہے۔ مثلاً منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے فنڈ پر نظر رکھنے والے ادارے ایف اے ٹی ایف نے اسی ماہ ایک بار پھر اسے سخت وارننگ دی ہے کہ وہ آئندہ فروری تک         دہشت گردوں کی منی لانڈرنگ کو روکنے کے لئے ضروری قدم اٹھائے ورنہ اسے قطعی طور پر بلیک لسٹ کر دیا جائے گا۔ یاد رہے کہ اس وقت بھی پاکستان گرے لسٹ پر ہے ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان کا قریبی دوست چین اس وقت ایف اے ٹی ایف کے ایک کلیدی عہدے پر ہے اور اس کی مدد بھی کرتا ہے لیکن اس کے باوجود اسے گرے لسٹ سے نہیں ہٹایا گیا ۔ مطلب یہ کہ اس کا بڑے سے بڑا دوست بھی خاص حد سے زیادہ اس کی مدد نہیں کر سکتا۔ ہندوستان نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی کہ پاکستان سے امن کا ماحول قائم کرے۔ بات چیت کے کئی مواقع آئے لیکن ہر موقع پر پاکستان نے اس موقع کو گنوا دیا۔اکثر ہندوستان نے پاکستان کی جارحانہ کارروائیوں کو نظر انداز کر کے قدم آگے بڑھائے لیکن شاید پاکستان کی خارجہ پالیسی پر کنٹرول کرنے والے عناصر اسے ہندوستان کی کوئی کمزوری سمجھ بیٹھے۔ اسی لئے ہندوستان نے اب اپنے رویوں میں تھوڑی سی تبدیلی کی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پلوامہ حملے کے بعد ہندوستانی فضائیہ کے طیاروں نے گھس کر بالا کوٹ میں جیش محمد کے کیمپ کو تباہ کرنے کی کوشش کی ۔ اور اب در اندازی اور سیز فائر کی ہر خلاف ورزی کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ چند روز قبل لائن آف کنٹرول پر پاکستان سے ہونے والی اشتعال انگیز کارروائیوں کے جواب میں مناسب کارروائی کی گئی ۔ پاکستان نے سیز فائر کی خلاف ورزی کر تے ہوئے دو ہندوستانی سپاہیوں کو شہید کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ ایک عام شہری بھی ہلاک ہوا تھا۔ یہ واقعہ کپواڑہ کی سرحد پر پیش آیا تھا۔ ہندوستانی فوج کی طرف سے ہونے والی جوابی کارروائی میں پاکستان کے 6 تا 10 فوجی ہلاک ہوئے اور مقبوضہ کشمیر میں واقع دہشت گردوں کے تین لانچنگ پیڈ پورے طور پر تباہ ہو گئے اور چوتھے پیڈ کو بھی نقصان پہنچا۔ پاکستان کو یہ محسوس کرنا چاہئے کہ ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے ۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی کو فروغ دینے میں اس نے ایک ایسا رکارڈ قائم کیا کہ آج پوری دنیا میں اس کی ساکھ ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ کوئی اس پر اعتبار نہیں کرتا ۔ اقتصادی طور پر وہ ایسے بحران کا شکار ہے جس سے نکلنے کا فی الحال کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ اگر اس مرحلے  میں بھی پاکستان کے حکمرانوں نے اپنی اصلاح نہیں کی تو انجام کیا ہوگا۔ اسکا صرف اندازہ ہی کیا جا سکتا ہے ۔