22.10.2019 جہاں نما

پاکستان کو منہ توڑ جواب ملتا رہےگا، راج ناتھ سنگھ کا بیان 

۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ ہندوستانی فوج نے پاکستان کی دہشت گردوں کو ہندوستانی علاقہ میں بھیجنے کی کوششوں کا منہ توڑ جواب دیا ہے اور اگر اسلام آبادا یسی ہی گھناونی حرکت کرتا رہا تو اس کا اسی طرح جواب دیا جاتا رہے گا۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے نمایاں طور پر شائع کیاہے ۔ اس خبر کےحوالے سے روزنامہ دی اسٹیٹسمین تحریر کرتا ہے کہ مشرقی لداخ میں شائی کان ندی پر1400 فٹ لمبے کرنل چیوانگ رنچن پل  کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ جموں و کشمیر سے دفعہ370 اور35اے منسوخ کئے جانے کے بعد اب لداخ کے علاقہ میں صرف دوست ہی دکھائی دیں گے ۔ جہاں دشمنوں کا کائی گذر نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان کے خلاف کبھی بھی جارحیت نہیں کی ہے لیکن اس کے بر عکس اسلام آباد دہشت گردوں کی ہمیشہ مدد کرتا رہا ہے اور انہیں ہندوستانی علاقوں میں بھیج کر ہماری سالمیت کے لئے خطرہ پیدا کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ لیکن ہندوستانی فوجوں نے پاکستان کی اس طرح کی تمام کوششوں کا منہ توڑ جواب دیا ہے۔جناب راج ناتھ سنگھ کا یہ بیان فوج کے سر براہ جنرل بپن راوت کے بیان کے ایک دن بعد آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہندوستانی فوجوں نے کنٹرول لائن پر پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کے جواب میں پاک مقبوضہ کشمیر میں واقع دہشت گردوں کے تین کیمپوں کو بر باد کر دیا ہے ۔ وزیر دفاع نے کہا کہ اگر پاکستان نے دہشت گردوں کو ہندوستانی علاقہ میں بھیجنے کی حرکت نہیں بند کی تو ہم اس کو اسی طرح منہ توڑ جواب دیتے رہیں گے۔

 اسی دوران جموں و کشمیر کے گورنر ستیہ پال ملک نے پیر کے روز کہا کہ اگر پاکستان نے ہندوستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائی ختم نہیں کی تو ہندستانی فوج اندر تک گھس کر دہشت گردوں کے کیمپوں کو تباہ و برباد کر دے گی۔جناب ملک نے سری نگر میں ایک تقریب کے موقع پر نامہ نگاروں سے باتیں کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان اپنی حرکتوں سے باز نہیں آیا تو اس بار ہندوستانی فوج اتوار کو کئے گئے حملے سے زیادہ شدید حملہ کر کے دہشت گردوں کے کیمپوں کو بر باد کر دے گی۔

اینٹ کا جواب پتھر سے، ٹائمز آف انڈیا کا اداریہ

۔ ابھی کچھ روز قبل فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے پاکستان کو دہشت گردی کی مالی اعانت اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لئے ایک او رموقع دیا گیا تھا اور اسے وارننگ دی گئی تھی کہ اگر اس نے ایکشن پلان کے وضع کردہ نکات کے تحت کارروائی نہیں کی تو بالآخر اسے بلیک لسٹ میں شامل کر لیا جائے گا۔ لیکن اس کے چند گھنٹے کے بعد ہی  کنٹرول لائن پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کر کے اس نے بین الاقوامی برادری کو بتا دیا کہ اسے ان کا کوئی پاس نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے ایک اداریہ تحریر کیا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ اسلام آباد اس انتظار میں تھا کہ ا یف اے ٹی ایف کا مکمل اجلاس پیرس میں ختم ہو اور وہ اپنی مذموم حرکت دوبارہ شروع کر دے۔ پاکستان کی ان حرکتوں کا جواب ہندوستانی فوج نے پاک مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردوں کے متعدد کیمپوں کو تباہ کر کے دیا ۔ اس حملے میں بہت سے پاکستانی فوجی بھی مارے گئے۔لیکن ہندوستان کے لئے مشکل یہ ہے کہ مختلف مواقع پر منہ کی کھانے کے بعد بھی پاکستان ہندوستان کو نقصان پہنچانے کی اپنی روش سے باز نہیں آتا۔ اگست میں جموں و کشمیر سے دفعہ370 کی منسوخی کے بعد سے پاکستان ہندوستان کے اس اقدام کے  خلاف بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے میں مصروف ہے لیکن ہر محاذ پر اسے نا کامی ہی حاصل ہوئی ہے ۔ اس طرح کی سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ وہ دہشت گردوں کو وادی کشمیر میں بھیجنے کی بھی پوری کوشش کر رہاہے تاکہ وادی میں تشدد دوبارہ شروع ہو سکے۔ چونکہ اسلام آباد کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے فی الحال چھٹکارا مل گیاہے اس لئے وہ سمجھتا ہے کہ اس وقفہ میں اسے اپنی مذموم حرکتوں کو جاری رکھنا چاہئے۔ بد قسمتی یہ ہے کہ چین ، ترکی اور ملیشیا ، ایف اے ٹی ایف جیسی تنظیموں میں پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں۔ پاکستان دہشت گردوں کا ہمیشہ سے میزبان رہا ہے۔ وہ دہشت گردوں کی مالی اعانت روکنے والا نہیں ہے اور اس کی اسی روش کی وجہ سے ان تینوں ملکوں کو بین الاقوامی برادری میں خفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ہندوستان کرتار پور راہداری سے متعلق معاہدے پر کرے گا اس ہفتے دستخط 

۔ ‘‘ہندوستان کرتار پور راہداری پر اس ہفتے کرے گا دستخط’’یہ سرخی ہے آج کے ہندوستان ٹائمز کی۔ اخبار لکھتا ہےکہ نئی دہلی نے پیر کے روز اسلام آباد کو مطلع کیا کہ وہ بدھ کے روز کرتار پور راہداری سے متعلق معاہدے پر دستخط کرے گا۔ حالانکہ ہندوستان نے ایک بار پھر 20 ڈالر فی کس کی فیس نہ لینے کا پاکستان سے مطالبہ کیا ۔ اس معاملہ سے جانکاری رکھنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ فیس کا یہی مسئلہ راہداری کے افتتاح میں دونوں ملکوں کے درمیان ایک اہم روڑہ ہے۔ اس راہداری سے گوروداس پور میں ڈیرہ بابا نانک گورو دوراے کوپاکستان میں واقع گورو دوارہ دربار صاحب سے جوڑا گیا ہے ۔ دونوں ملکوں نے کہا ہے کہ نومبر میں سکھ مذہب کے بانی گورو نانک کے 550 ویں یوم ولادت کے موقع پر اس راہداری کو کھول دیا جائے گا۔وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سروس فیس کی پاکستانی تجویز سے ہندوستان کو مایوسی ہوئی ہے اور حکومت ہند اس تجویز کو واپس لینے کا مطالبہ کرتی ہے۔  مرکزی وزیر ہر سمرت بادل کے ایک ٹوئٹ کے مطابق امید ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی راہداری کے ہندوستانی حصہ کا افتتاح کر کے 550 یاتریوں کے ایک گروپ کو جھنڈا دکھا کر روانہ کریں گے۔ اسی دن پاکستان بھی اپنی طرف ایک علیٰحدہ تقریب میں راہداری کا افتتاح کرے گا۔

غیر اعلانیہ جنگ بندی پر ہو راضی، طالبان کو پاکستان کا مشورہ

۔ طالبان کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کی پاکستان کے وزیر خارجہ سے ملاقات کے کچھ دنوں بعد اسلام آباد نے عسکریت پسند گروپ کو غیر اعلانیہ جنگ بندی سے راضی ہونے کے لئے مشورہ دیا ہے ۔اس خبر کو بیشتر اخبارات نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیاہے ۔ اس خبر کے حوالہ سے روزنامہ دی انڈین ایکسپریس پاکستانی روزنامہ ایکسپریس ٹریبیون کا حوالہ دیتے ہوئے تحریر کرتا ہے کہ امریکہ نے بھی پاکستان کے اس مشورہ سے اتفاق کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر طالبان ذاتی طور پر جنگ بندی کا وعدہ کریں تو وہ امن مذاکرات دوبارہ شروع کر سکتا ہے۔ جنگ بندی سے ایک معقول ماحول بنے گا جس سے امن معاہدے تک پہنچنے میں مدد ملے گی۔ طالبان پولیٹیکل کمیشن کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے اس ماہ کے  اوائل میں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی تھی۔ طالبان نے کہا ہےکہ وفد کے پاکستان دورے کامقصد امن مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنا ہے۔ ایک سینئر افسر نے اپنا نام بتائے بغیر اخبار کو بتایا کہ پاکستان طالبان کو جنگ بندی کے لئے راضی کرنے کے لئے اس پر دباؤ ڈالتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد نے طالبان پر واضح کر دیا ہے کہ اگر وہ جنگ بندی کا اعلان نہیں کرنا چاہتے تو ذاتی طور پر غیر اعلانیہ جنگ بندی کے لئے راضی ہو سکتے ہیں۔ پاکستان کی اس تجویز کا طالبان نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

نتن یاہو حکومت سازی میں نا کام،حریف گینز کے لئے راستہ ہموار

۔ اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو نے حکومت تشکیل دینے کی اپنی کوششیں ترک کر دی ہیں اس طرح ان کے حریف اور سابق فوجی سر براہ بینی گینز  کے لئے ملک کا نیا وزیر اعظم بننے کی کوشش کرنے کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔ اس خبر کو روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے ۔ اخبار لکھتا ہے کہ نتن یاہو نے جو2009 سے ملک کے وزیر اعظم ہیں صدر ریو وین ریولن کو پیر کے روز بتایا کہ وہ حکومت سازی کے لئے در کار61 ارکان پارلیمنٹ کی حمایت حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ جس کے بعد صدر ریولن نے کہا کہ اب وہ جلد از جلد اعتدال پسند بلو اینڈ وائٹ  پارٹی کے سر براہ گینز کو حکومت سازی کا موقع دیں گے۔ قانون کے تحت گینز کو آئندہ 28 روز کے اندر61 ارکان پارلیمنٹ کی حمایت حاصل کرنا ہوگی۔ اسی دوران گینز کی پارٹی نے ایک بیان میں کہا کہ وہ بینی گینز کی قیادت میں اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایک اعتدال پسند حکومت تشکیل دینے کی پوری کوشش کرے گی۔ تا ہم یہ واضح نہیں ہے کہ گینز کو حکومت سازی کے لئے ضروری ارکان کی حمایت حاصل ہوگی یا نہیں۔ نتن یاہوکو اب گینز کی نا کامی کا انتظار ہے۔ اگر گینز بھی حکومت بنانے میں ناکام رہے تو تیسری بار انتخابات ہوں گے۔

مہاراشٹر اور ہریانہ اسمبلی انتخابات میں ووٹوں کی شرح میں کمی تاہم انتخابات رہے پر امن

۔ مہاراشٹر کی 288 اور ہریانہ کی 90  اسمبلی سیٹوں کے لئے کل ووٹ ڈالے گئے۔ ان انتخابات میں 2014 کے انتخابات کے مقابلے کم ووٹ پڑے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی ہندو تحریر کرتا ہے کہ نئی دہلی میں انتخابی کمیشن کے صدردفتر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی الیکشن کمشنر چندر بھوشن اور سندیپ سکسینہ نے بتایاکہ ا س بار مہاراشٹر میں 60 اعشاریہ پانچ فیصد اور ہریانہ میں 65 فیصد ووٹنگ ہوئی جبکہ2014 میں مہاراشٹر میں63 اعشاریہ صفر آٹھ فیصد اور ہریانہ میں 76 اعشاریہ پانچ چار فیصد ووٹ پڑے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حتمی اعداد و شمار آنے کے بعد ووٹوں کی شرح میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔