یوم اقوام متحدہ

ہندوستان میں 1948 سے ہر سال 24 اکتوبر کو یوم اقوام متحدہ  منایا جاتا ہے۔ ہندوستان نے ایک بانی رکن کی حیثیت سے 26 جون 1945 کو اقوام متحدہ کے دستور العمل پر دستخط کئے تھے۔ پانچ مستقل ارکان سمیت دستور العمل پر دستخط کرنے والے ملکوں کی اکثریت کی جانب سے اس کی منظوری کے بعد یہ 24 اکتوبر 1945 سے نافذ ہوگیا۔

اکتیس  اکتوبر 1947 کو منعقد ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ایک قرارداد منظور کی گئی جس کے تحت 24 اکتوبر یوم اقوام متحدہ قرار پایا، جس کا  مقصداس عالمی تنظیم کے مقاصد اور حصولیابیوں پر روشنی ڈالنا تھا۔

ہندوستان کو 15 اگست 1947 کو برطانوی حکومت سے آزادی ملی تھی۔ ہندوستان کی آزادی کے دو ماہ سے بھی کم عرصہ کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس قرارداد کی منظوری نے نئی دہلی کو اس کے مقاصد کے حصول میں اپنا کردار ادا کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کیا۔ گزشتہ 72 برسوں کے دوران اقوام متحدہ کی تین بڑی حصولیابیاں رہی ہیں۔ یہ ہیں نوآباد کاری کا خاتمہ، پائدار ترقی کے لئے ایک عالمی ایجنڈے کا تعین اور حقوق انسانی اور آزادی کے بارے میں صلاح و مشورہ کے لئے ایک معیاری فریم ورک کا قیام اور ان تمام شعبوں میں ہندوستان نے اپنا کردار بخوبی ادا کیا ہے۔

ہندوستان وہ پہلا بڑا ملک تھا جسے نو آبادیاتی نظام سے آزادی ملی لہذا دسمبر 1960 میں  جنرل اسمبلی نے نوآبادیاتی نظام کو ختم کرنے کے لئے ایک قرارداد کی منظوری کا جو عمل شروع کیا ، ہندوستان اس میں پیش پیش تھا۔ اس قرارداد نے اقوام متحدہ کے کام کرنے کے طریقہ میں دو بڑی تبدیلیوں کے لئے ایک پلیٹ فارم تیار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان تبدیلیوں کے لئے پہل نئے نئے آزاد ہوئے ترقی پذیر ملکوں نے کی تاکہ عالمی تنظیم ان کی خواہشات کا خاص خیال رکھ سکے۔

ناوابسطہ تحریک کی پہلی سربراہ میٹنگ ستمبر 1961 میں بلگریڈ  میں ہوئی تھی۔ ہندوستان اس تنظیم کے بانی ارکان میں سے تھا جس کی رکنیت 24 سے بڑھ کر اب 122 ہوگئی ہے۔ سرد جنگ کے دور میں جب دنیا دو بلاکوں میں بٹی ہوئی تھی، تب نئے نئے آزاد ہوئے ملکوں کو ناوابستہ تحریک کے باعث بین الاقوامی سطح پر اپنی خود مختاری منوانے میں کافی مدد ملی۔ آج بھی یہ تحریک بہت سے ملکوں کے لئے پسندیدہ تنظیم ہے کیونکہ اس وقت متضاد خیالات رکھنے والی دو بڑی طاقتوں کا انہیں  سامنا ہے جس کی وجہ سے اقوام متحدہ کے بنیادی اصولوں کے لئے بھی ایک چیلنج پیدا ہوگیا ہے۔ دوسری تبدیلی تھی 1964 میں 77 ترقی پذیر ملکوں کے گروپ کا قیام، جسے گروپ آف 77 کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس گروپ کے قیام کے بعد اقوام متحدہ کو اپنے چارٹر میں تبدیلی کرنی پڑی جس کے نتیجے میں ترقی پذیر ملکوں کی تیز رفتار ترقی کے لئے 1965 میں یو این ڈی پی کا قیام عمل میں آیا۔ ہندوستان 1970 میں اس گروپ کا پہلا سربراہ چنا گیا۔

ترقی اور آب و ہوا کی تبدیلی کے دو مقاصد کے یکجا ہوجانے کے بعد وزیراعظم نریندر مودی سمیت تمام عالمی رہنماؤں نے ستمبر 2015 میں پائدار ترقی کے بارے میں اقوام متحدہ کے ایجنڈہ 2030 کو منظوری دی۔ اس پہل کا مقصد پائدار ترقی کے ذریعہ غریبی دور کرنا ہے۔ اقوام متحدہ نے دس دسمبر 1948 کو یونیورسل ڈکلیریشن  آف ہیومن رائٹس ٹریٹی کو منظوری دی۔ حقوق انسانی سے متعلق اس معاہدے کی منظوری میں بھی ہندوستان نے اہم کردار ادا کیا۔

آئندہ سال اقوام متحدہ کی 75 ویں سالگرہ منانے کے لئے رکن ملکوں نے جو موضوع چنا ہے، وہ ہے کثیر جہتی کے تئیں اجتماعی عہد بستگی کا اعادہ۔ آج بڑی طاقتیں یک طرفیت کے اصول پر کار بند ہیں جس سے بین الاقوامی تعاون کے اصول کو خطرہ پیدا ہوگیا ہے اور اقوام متحدہ اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کی پوری کوشش کررہا ہے۔ اس حقیقت کے تناظر میں یہ موضوع کافی اہمیت کا حامل ہوجاتا ہے۔ یک طرفیت کے رجحان سے پیدا چیلنجوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے اس سال ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے تمام رکن ممالک سے اپیل کی تھی کہ وہ اقوام متحدہ  اور کثیر جہتی کو نہ صرف طاقت دیں بلکہ اسے نیا راستہ بھی دکھائیں۔ لہذا یوم اقوام متحدہ کے موقع پر ہندوستان کثیر جہتی کے اصولوں کے تئیں اپنی عہد بستگی کا اظہار کرتاہے۔