23.10.2019جہاں نما

 ۔ ہندوستان کے ساتھ مذاکرات کے لئے پاکستان کو ترک کرنا ہوگا دہشت گردی کا راستہ: امریکہ

۔ روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے ہندوستان کے خلاف پاکستان کی حمایت سے جاری دہشت گردانہ سرگرمیوں کے پس منظر میں امریکی انتظامیہ کے ایک اہلکار کا اہم بیان شائع کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ علاقے میں ملیٹنٹوں اور دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کے ذریعے ٹھوس اور پائیدار اقدامات ہی نئی دہلی اور اسلام آباد کے درمیان مذاکرات کی کامیابی کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں حقوق انسانی کی صورتحال پر سماعت کے دوران ایک تحریری بیان میں خطے کے لئے امریکی نائب وزیر خارجہ ایلیس ویلز نے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے اس حالیہ واضح بیان کا خیر مقدم کیا کہ کشمیر میں پرتشدد سرگرمیوں میں مصروف پاکستانی دہشت گرد، کشمیریوں اور پاکستان دونوں کے دشمن ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بات بھی زور دے کر کہی کہ لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسے دہشت گردانہ گروپوں کو  جو کنٹرول لائن کے پار تشدد پھیلا رہے ہیں، پاکستان کے ذریعہ پناہ دینے کی وجہ سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہورہا ہے اور پاکستانی حکام پر ان سرگرمیوں کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اخبار ہاؤس کمیٹی میں پیش کردہ ایلیس ویلز کی دستاویز کے حوالے سے آگے رقمطراز ہے کہ امریکہ کے خیال میں شملہ معاہدے میں بیان کردہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان براہ راست مذاکرات کشیدگی دور کرنے میں اہمیت کے حامل ہیں لیکن تعمیری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لئے اعتماد کی بحالی ضروری ہے اور اس راہ میں سرحد پار سے دہشت گردی میں مصروف انتہاپسند گروپوں کو پاکستان کی مسلسل حمایت، ایک بڑی روکاوٹ ہے۔

 

۔ ترکی کے نیوکلیائی ملک بننے کی کوشش کے درمیان پاکستان کی نیوکلیائی توسیع ایک بار پھر  جانچ کے دائرے میں

۔  ترکی کے ذریعے نیوکلیائی اسلحہ جات کے حصول کی وجہ سے پاکستان کی نیوکلیائی توسیع ایک بار پھر جانچ کے دائرے میں آگئی ہے۔ اس حوالے سے روزنامہ ٹائمز آف انڈیا لکھتا ہے کہ 15 سال قبل پاکستان کے نیوکلیائی اسمگلر عبدالقدیر خاں نے نیوکلیائی اسمگلنگ اور غیر قانونی برآمدات کا اعتراف کیا تھا جس کے بعد حال ہی میں یہ معاملہ ایک بار پھر روشنی میں آگیا ہے کیونکہ ترکی کے صدر طیب اردگان نے پارٹی کنونشن میں مبینہ طور پر ترکی کو نیوکلیائی ملک بنانے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے الفاظ میں کچھ ممالک کے پاس نیوکلیائی اسلحہ جات لے جانے کی صلاحیت کے حامل میزائل ہیں لیکن ترکی اس سے محروم ہے۔ اس کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ اگر امریکہ، ترکی رہنماؤں کو اپنے کرد اتحادیوں کے خلاف حملہ کرنے سے نہیں روک سکتا تو وہ ترکی کو ایک نیوکلیائی ملک بنانے یا ایران کی طرح نیوکلیائی ٹکنالوجی حاصل کرنے سے کس طرح روک سکتا ہے۔ اخبار آگے رقمطراز ہے کہ نیویارک ٹائمز نے پیر کے روز ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں اشارہ کیا گیا ہے کہ ترکی نے بم پروگرام پر پہلے ہی عمل شروع کردیا ہے جس کا مطلب یورینیم کے ذخائر اور ریسرچ رئیکٹرس اور نیوکلیائی دنیا کے بدنام بلیک مارکیٹیر عبدالقدیر خاں کے ساتھ پوشیدہ رابطے ہیں۔ لندن کے تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے ذریعہ خان کے نیٹ ورک کی اسٹڈی کے مطابق ترکی میں کچھ فرموں نے یوروپ سے مواد کی درآمدات، سینٹری فیوگ کے پرزوں کی تیاری اور گاہکوں کو تیار سامان کی فراہمی کے لئے خان کو مدد دی تھی۔ اخبار مزید رقمطراز ہے کہ اب سوال یہ ہے کہ ایران، لیبیا اور شمالی کوریا کے بعد خان کے نیٹ ورک نے آیا چوتھا گاہک تیار کرلیا ہے۔ رپورٹ میں خفیہ ذرائع کے حوالے سے اس خدشے کا اظہار کیاگیا ہے کہ خان کا چوتھا گاہک بننے کے بعد ترکی کے پاس نامعلوم ذرائع سے حاصل کردہ بڑی تعداد میں سینٹری فیوگس ہوسکتے ہیں۔ واضح ہو کہ خان کا نیٹ ورک ملیشیا میں  بھی پھیلا ہوا ہے۔

 

۔ مقبوضہ کشمیر میں پاکستان سے آزادی کے حامی مظاہرین پر پولیس کا لاٹھی چارج، 2 ہلاک 80 زخمی

۔ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں حقوق انسانی کی صورتحال کے حوالے سے روزنامہ ہندوستان نے خبر دی ہے کہ منگل کے روز مظفر آباد میں پولیس نے ان لوگوں پر زبردست لاٹھی چارج کیا جو پاکستان سے آزادی کا مطالبہ کررہے تھے۔ اس بہیمانہ کارروائی میں دو افراد جاں بحق اور 80 سے زیادہ زخمی ہوگئے۔ اخبار لکھتا ہے کہ پاکستان کے  حکمرانوں سے پریشان لوگ آل انڈی پنڈنٹ پارٹیز الائنس اے آئی پی اے کے بینر تلے پرامن اجلاس کررہے تھے جس کے دوران مظاہرہ شروع ہوگیا اور پولیس نے مظاہرین پر ظالمانہ انداز میں لاٹھایاں برسائیں۔ مظاہرہ کرنے والے ایک فرد کا کہنا تھا کہ انتظامیہ چاہے جتنا بھی ظلم کرلے، وہ اپنی آواز اٹھانے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ واضح ہوکہ گزشتہ سال 22 اکتوبر کو بھی اسی طرح کا مظاہرہ مظفر آباد، راول کوٹ، گلگت، راولپنڈی اور دیگر مقامات پر کیا گیا تھا۔ اسی اخبار نے ایک خبر میں اطلاع دی ہے کہ پولیس کی  اس ظالمانہ کارروائی کو ماہرین نے پاکستان کی بوکھلاہٹ سے تعبیر کیا ہے کیونکہ وہ اپنے حالات کو درست کرنے میں بری طرح ناکام ہے اور ہندوستان میں عدم استحکام پھیلانے کی ناکام کوششوں کے بعد اپنے زیر قبضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک شروع ہونے کے بعد سے مایوسی کا شکار ہورہا ہے۔ اخبار نے سابق خارجہ سکریٹری ششانک کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ پاکستان اپنے زیر قبضہ کشمیر کو آزاد کشمیر کہتا ہے مگر اس کی فوج اس علاقے میں طویل عرصے سے حقوق انسانی کی دھجیاں اڑاتی رہی ہے۔ وہاں جس طرح سے لوگوں کو مفلسی میں جینے کے لئے مجبور کیا جارہا ہے اور پاکستانی فوج جس طرح سے ان کا استحصال کررہی ہے، اس کی وجہ سے وہاں آزادی کا مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے۔

 

۔ کناڈا میں جسٹن ٹروڈو کو انتخابات میں فتح مگر حکومت اقلیت میں

۔  کناڈا میں قومی انتخابات کے بعد وزیراعظم جسٹن ٹروڈو دو بارہ اقتدار میں آگئے ہیں لیکن اس بار ان کی حکومت اقلیت میں ہے اور ان کو بائیں بازو کی چھوٹی پارٹیوں پر انحصار کرنا ہوگا۔ روزنامہ ٹائمز آف انڈیا لکھتا ہے کہ وزارت عظمی کے لئے اس سخت مقابلے کے دوران ان پر اسکینڈلوں کا سایہ طاری رہا۔ لبرل پارٹی کو ان انتخابات میں جیت حاصل ہوئی اور ان کو 338 نشستوں والے ایوان میں 156 پر سبقت حاصل رہی جبکہ ان کو اکثریتی حکومت کے لئے 170 سیٹوں کی ضرورت تھی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ قانون سازی کے لئے ان کو کسی مخالف پارٹی پر انحصار کرنا ہوگا۔ دوسری جانب ان کے حریف انڈریو کی زیر قیادت کنزرویٹیو پارٹی کو 121 سیٹیں ملی ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی نے جسٹن ٹروڈو کو اس کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے اپنے ٹوئیٹ میں لکھا ہے کہ ہند اور کناڈا کے درمیان مشترکہ اقدار موجود ہیں اور دونوں ہی ممالک ڈیموکریسی  اور تکثیریت کے لئے پرعزم ہیں۔

۔ عدالت عظمی نے چدمبرم کو دی مشروط ضمانت

۔  سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم کو عدالتِ عظمی نے مشروط ضمانت دے دی ہے۔ اس حوالے سے روزنامہ اسٹیٹس مین نے تحریر کیا ہے کہ پی چدمبرم آئی این ایکس میڈیا کرپشن کیس میں دو ماہ سے انفورسمنٹ ایجنسیوں کی حراست اور جیل میں تھے۔ اس ضمانت کے باوجود وہ رہا نہیں کئے  جائیں گے کیونکہ وہ ایک اور منی لانڈرنگ مقدمہ میں ای ڈی کی حراست میں ہیں۔ جسٹس آر بھانومتی کی صدارت والی بنچ نے منگل کو ضمانت دیتے ہوئے کہا تھا کہ درخواست گزار کو ضمانت پر رہا کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ وہ کسی دوسرے معاملے میں حراست میں نہ ہو۔ واضح ہو کہ سابق وزیر خزانہ اور سینئر کانگریسی رہنما پی چدمبرم نے دہلی ہائی کورٹ سے ضمانت کی درخواست مسترد ہونے کے بعد عدالت عظمی میں اپیل کی تھی۔ اس فیصلے کے بعد دہلی ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم ہوجائے گا۔ اخبار اس فیصلے کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ جانچ ایجنسی جب بھی پوچھ تاچھ کے لئے ان کو بلائے گی، ان کو حاضر ہونا پڑے گا اور اس کے علاوہ وہ ملک سے باہر بھی نہیں جاسکیں گے۔

روزنامہ ہندو  کی خبر کے مطابق  عدالت عظمی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس بات کی جانچ کرے گی کہ آیا فیس بک اور وہاٹس ایپ جیسے سوشل میڈیا تک جرائم اور دہشت گردی سے نپٹنے کے لئے حکومت کو رسائی کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ جسٹس دیپک گپتا اور جسٹس انورادھا بوس پر مشتمل بنچ نے اس معاملے پر مختلف عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کو اپنے تحت منتقل کیا تھا۔ اخبار لکھتا ہے کہ عدالت نے مرکزی حکومت کو نظرثانی شدہ انفارمیشن ٹکنالوجی انٹر میڈیریز  گائڈ لائنس کا نوٹی فکیشن جاری کرنے کے لئے 15 جنوری تک کی مہلت دی ہے۔ ان رہنما اصولوں کے تحت آن لائن عریانیت، فحاشی، بغاوت، نفرت، من گھڑت خبروں، ملک مخالف سرگرمیوں اور دہشت گردی کو روکنے کے لئے حکومت کو سخت کارروائی کی ضرورت ہے۔

 

۔  عوامی شعبے کی 11 اکائیوں کو فروخت کرنے کا فیصلہ

۔ ‘‘عوامی شعبے کی 11 اکائیوں کو فروخت کرنے کا فیصلہ’’ یہ سرخی ہے روزنامہ ایشین ایج کی۔ خبر کے مطابق سرمایہ نکالنے کے اپنے منصوبے کے تحت مودی حکومت نے پہلی بار فیصلہ کیا ہے کہ خسارے کی شکار 11 اکائیوں کو فروخت کردیا جائے۔ تاہم اس اقدام کا مقصد مالی خسارے کے خاتمے کے نشانے کو پورا کرنا اور معیشت کو دوبارہ  مستحکم کرنا ہے۔ ان اکائیوں میں بھارت ہیوی الیکٹریکلس، اینڈریو یولے اینڈ کمپنی، آئی ٹی ڈی سی کا اشوک ہوٹل، بامرلاری انویسٹمنٹس اینڈ بامر لاری اینڈ کمپنی، ایم ٹی ای ایل، این ٹی پی سی وغیرہ شامل ہیں۔