06.11.2019 جہاں نما

آر سی ای پی معاملہ: چین، ہندوستان کی تشویشات کو دور کرنے کو تیار

حال ہی میں علاقائی جامع معاشی شراکت یعنی آر سی ای پی کامعاملہ سرخیوں میں رہا ہے جس پر ہندوستان نے کچھ تحفظات کے پیش نظر دستخط کرنے سے انکار کردیاتھا۔ آج اخبارات نے اس سلسلے میں چین کی  حکومت کا بیان شائع کیا ہے جس میں اس نے آر سی ای پی سے متعلق ہندوستان کی تشویشات دور کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔ روزنامہ ہندو نے چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ آر سی ای پی کے تحت آزادانہ تجارتی معاہدے میں ہندوستان کی شمولیت کے دروازے بند نہیں ہوئے ہیں نیز بیجنگ حکومت مزید مذاکرات کے ذریعے نئی دہلی حکومت کی تشویشات کو دور کرنے کے لئے تیار ہے۔ چینی ترجمان نے یہ بیان ایک سوال کے جواب میں دیا کہ نئی دہلی اس علاقائی تجارتی بلاک میں شامل ہونے کے لئے تیار نہیں ہےکیونکہ اس کو خدشہ ہے کہ اس معاہدے پر دستخط کے بعد ہندوستانی منڈیوں میں چین کے سامان کی بھرمار ہوجائے گی۔ اخبار آگے رقمطراز ہے کہ پیر کے روز وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ بنکاک میں آر سی ای پی سربراہ کانفرنس میں وزیراعظم نریندرمودی نے اس معاہدے میں شامل نہ ہونے کے ہندوستانی حکومت کے فیصلے سے آگاہ کیا تھا اور اس کی وجہ عالمی تجارتی صورتحال اور شفافیت اور توازن کی کمی کو قرار دیا تھا۔ چین کے ترجمان نے اس مفروضے کو غلط قرار دیا کہ آر سی ای پی میں ہندوستان کی شمولیت سے چین کے ساتھ اس کے تجارتی توازن کو نقصان پہونچے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر 16 رکنی معاہدہ طے پاجاتا ہے تو اس سے دونوں ممالک کو فائدہ پہونچے گا۔ کیونکہ یہ ایک آزادانہ تجارتی نظام ہے جو باہمی طور پر بے حد سودمند ثابت ہوگا اور اس سے ہندوستانی اور چینی بازاروں میں ایک دوسرے کی مصنوعات کو یکساں رسائی حاصل ہوجائے گی۔ اخبار چین کے ترجمان کے بیان کے حوالے سے آگے رقمطراز ہے کہ اس معاہدے کے ذریعے چین کا مقصد اپنے فالتو سامان سے ہندوستانی  بازاروں کو پاٹنا نہیں ہے بلکہ اس سے دونوں ممالک کو اپنی فکر میں وسعت، جامع اقدامات پر عمل درآمد، سرمایہ کاری کو استحکام، پیداواری گنجائش میں اضافے، سیاحت اور دیگر شعبوں میں تعاون میں مدد ملے گی اور ان کے پائیدار تجارتی اور معاشی تعلقات میں توازن پیدا ہوگا۔ 

روزنامہ ہندوستان ٹائمز نے اس تناظر میں وزیر تجارت پیوش گوئل کا بیان شائع کیا ہے جس کے مطابق اگر ہندوستان کی تمام تشویشات دور کردی جاتی ہیں تو وہ اس معاہدے میں شامل ہوجائیگا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس میں شامل نہ ہونے کا اس کا فیصلہ فی الحال حتمی ہے۔ اخبار نے نامہ نگاروں کے ساتھ وزیر موصوف کی بات چیت کے حوالے سے آگے تحریر کیا ہے کہ وہ اس وقت اس معاہدے میں شامل ہوگا جب اس کو بھی علاقے میں اپنی مصنوعات ، خدمات اور سرمایہ کاری کے مواقع دیئے جائیں گے، اس کے تجارتی خسارے میں توازن لایاجائے گا اور اس کے بازاروں کو دیگر ممالک کے فالتو سامان سے پاٹا نہیں جائیگا۔ اس صورتحال میں کوئی بھی حکومت مذاکرات اور مباحثے کے لئے تیار ہوجائے گی۔ 

پاکستان میں حکومت اور احتجاجیوں کے درمیان بات چیت ناکام، احتجاج جاری

پاکستان میں حکومت کے ساتھ حزب اختلاف کی بات چیت ناکام، احتجاج جاری، یہ سرخی ہے روزنامہ ہندوستان ٹائمز کی۔ خبر کے مطابق، حکومت پاکستان اور حزب اختلاف کے درمیان موجودہ تعطل ختم کرنے کے لئے مذاکرات کا دوسرا دور بھی ناکام ہوگیا ہے حالانکہ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ وہ شعلہ بیان مذہبی رہنما اور سیاست داں مولانا فضل الرحمن کی زیرقیادت آزادی مارچ کے احتجاجیوں کی تمام جائز مطالبات کو ماننے کیلئے تیار ہیں سوائے وزیراعظم کے استعفیٰ کی مانگ کے۔ عمران  خان نے یہ بیان وزیردفاع پرویز خٹک کے ساتھ میٹنگ میں دیا جن کو حزب اختلاف کے ساتھ مذاکرات کا اختیار دیا گیاتھا۔ اخبار نے پاکستان کے روزنامے ایکسپریس ٹریبیون میں شائع خٹک کے بیان کے حوالےسے آگے تحریر کیا ہے کہ حکومت حزب اختلاف کے ساتھ کوئی درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کررہی ہے۔ 

زیرزمین پلانٹ میں ایران نے شروع کی یورینیم افزودگی

ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ 2015 کے متنازعہ معاہدے سے پیچھے ہٹتے ہوئے تہران حکومت بدھ سے تہران کے جنوب میں واقع اپنے زیر زمین پلانٹ فورڈو  میں یورینیم افزودگی شروع کردے گا۔ اس حوالے سے روزنامہ اسٹیٹس مین نے خبردی ہے کہ اپنے بیان میں صدر روحانی نے یاد دہانی کرائی کہ دنیا کی بڑی طاقتوں کے ساتھ 2015 میں جو  معاہدہ طے پایا تھا اس کی پاسداری کرتے ہوئے ایران نے اس پلانٹ میں ایک ہزار سے زیادہ سینٹری فیوگ کو روک دیاتھا۔ واضح ہو کہ اس معاہدے کے تحت یہ طے پایا تھا کہ ایران یورینیم کی افزودگی روک دے گا جس کے عیوض میں اس پرعائد بین الاقوامی پابندیاں اٹھالی گئی تھیں۔ لیکن گزشتہ سال مئی میں امریکہ نے اس معاہدے سے ہاتھ کھینچ لیاتھا اوراس پر دوبارہ سخت پابندیاں عائد کردی تھیں۔ اس وجہ سے اب ایران نے بھی اس معاہدے پر عمل درآمدسے انکار کردیا ہے۔ ایران نے اس معاہدے میں شامل دیگر ممالک برطانیہ، چین، فرانس ، جرمنی اور روس کو بار بار خبردار بھی کیا تھا کہ اگر وہ امریکی پابندیاں ختم کرنے میں مدد کریں گے تب ہی وہ معاہدے کی پاسداری کرسکے گا۔ اخبا رسرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ایران کے صدر کی تقریر کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ اس تمام عمل میں شفافیت برتی جائے گی اور اقوام متحدہ کے نگراں ادارے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے انسپکٹروں کی نگرانی میں یہ پورا عمل انجام دیا جائے گا۔ خیال رہے کہ امریکہ کے ذریعے معاہدے سے پیچھے ہٹنے کے لئے یورینیم افزودگی کے سلسلے میں ایران کا یہ چوتھا اعلان ہے۔ دوسری جانب یوروپی یونین نے پیر کے روز خبردار کیا تھا کہ اگر ایران اس معاہدے پر عمل درآمد جاری رکھے گا تو وہ بھی اس معاہدے کی حمایت جاری رکھیں گے۔ 

سعودی ثالثی سے یمن اور علیحدگی پسندوں کے درمیان معاہدے پر دستخط

عالمی خبروں کے لئے مخصوص صفحے پر شائع ایک خبر میں روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے مطلع کیا ہے کہ سعودی حمایت یافتہ یمن حکومت اور ملک کے جنوبی  حصے میں سرگرم علیحدگی پسندوں کے درمیان ،اقتدار کے لئے جاری جنگ کے خاتمے پر ایک معاہدہ طے پایا ہے۔ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اس معاہدے کو کثیر جہتی تنازعے کے خاتمے کی سمت میں ایک وسیع سیاسی حل سے تعبیر کیا ہے۔ اخبار کے مطابق یمن میں سعودی عرب کے ایلچی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ایک ماہ سے زائد عرصے پر محیط بالواسطہ بات چیت کے بعد یہ معاہدہ طے پایا ہے۔ اس کے تحت علیحدگی پسند سدرن ٹرانزیشل کاؤنسل  یعنی ایس ٹی سی دیگر جنوبی علیحدگی پسندلیڈروں کے ساتھ نئی کابینہ میں شامل ہوگی اور تمام مسلح افواج کو حکومت کے تحت لایا جائیگا۔ ریاض میں دستخط کئے جانے کے بعد ایک ٹیلی ویژن نشریے میں محمد بن سلمان نے توقع کا اظہار کیا کہ اس معاہدے سے یمن کی جماعتوں کے درمیان بات چیت میں وسعت پیدا ہوگی تاکہ جنگ کا خاتمہ ہوسکے اور کسی سیاسی حل پر پہونچا جاسکے ۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ ٹوئیٹر پر امریکی صدر ڈونل ٹرمپ نے اس معاہدے کی ستائش کرتے ہوئے تمام متعلقہ جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ حتمی معاہدے پر پہونچنے کے لئے سخت محنت کریں۔ واضح ہو کہ اس معاہدے کے تحت 30دن کے اندر ایک نئی کابینہ تشکیل دی جائے گی جس میں زائد از زائد 24  وزراء ہونگے اور اس میں شمال اور جنوب کی یکساں نمائندگی ہوگی۔

امریکہ میں مواخذے کی تحقیقات: صدر کی حمایت کےلئے امریکی سفیر پر دیا گیا تھا زور

روزنامہ ایشین ایج نے امریکہ میں ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحقیقات کے حوالے سے اپنی خبر میں تحریر کیا ہے کہ ایوان کے تحقیقاتی افراد نے بند کمرے میں مواخذے کی سماعت کے بعد پہلی رپورٹ جاری کی ہےجس میں تحقیقات کے تعلق سے نئی تفصیلات دی گئی ہیں۔ یوکرین کے لئے برخواست امریکی سفیر میری یووانووچ   اور وزیرخارجہ مائیک پامپیو کے سابق اعلیٰ معاون مائیکل میک کنلے نے ایک سو صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں یوکرین کے سلسلے میں انتظامیہ کی سرگرمیوں بشمول ولادیمیر زیلنسکی کو ٹرمپ کی فون کال پر تشویش کااظہار کیا ہے۔ ڈیموکریٹس کا خیال ہے کہ آئندہ دنوں میں مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔ 

پیرس ماحولیاتی معاہدے سے علیحدگی کیلئے امریکہ نے اٹھایا پہلا قدم

امریکہ کے حوالے سے ہی روزنامہ انڈین ایکسپریس نے بھی ایک خبر شائع کی ہے جس کے مطابق پیر کے روز ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پیرس معاہدے سے علیحدگی کے لئے امریکہ نے دستاویزات جمع کرادی ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف جدوجہد سے متعلق اس عالمی معاہدے سے علیحدگی کی سمت میں امریکہ کا یہ پہلا قدم ہے۔ اس اقدام  کے بعد، سب سے زیادہ گیس اخراج کرنے والا اور تیل اور گیس کا اعلیٰ پیداکار امریکہ معاہدے سے الگ ہونے والاواحد ملک بن جائے گا۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ یہ اقدام ڈونل ٹرمپ کی وسیع النوع حکمت عملی کا ایک حصہ ہے جس کا مقصد امریکی صنعت پر لال فیتہ شاہی کو کم کرنا ہے لیکن یہ ایک ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب سائنسداں اور بہت سے ممالک عالمی درجہ حرارت میں کمی لانے پر زور دے رہے ہیں۔ اخبار کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پامپیو نے اس اقدام کی تصدیق کی ہے اور اشارہ دیا ہے کہ امریکہ نے حالیہ برسوں میں توانائی کی پیداوار بڑھانے کے ساتھ ساتھ گیسوں کے اخراج میں بھی کمی کی ہے۔