موضوع: عمران خان کے خلاف ‘‘آزادی مارچ’’

وزیراعظم عمران خان کے خلاف ‘‘آزادی مارچ’’ویسے تو بنیادی طور پر جمعیۃالعلمائے اسلام کے اس دھڑے کی طرف سے چند روز قبل نکالا گیا جس کی قیادت مولانا فضل الرحمن کر رہے ہیں۔ دوسرے دھڑے کے قائد مولانا سمیع الحق ہیں۔ لیکن مولانا فضل الرحمن کا گروپ زیادہ بڑا اور با اثر مانا جاتا ہے۔ مولانا خود ایک شعلہ بیان مولاناؤں میں شمار کئے جاتے ہیں اور ان کی یہ مذہبی جماعت پاکستان کی سیاست میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہے۔ مولانا قومی سیاست میں خاصے سرگرم رہتے ہیں اور عموماً بر سر اقتدار جماعتوں کے قریب بھی رہتے ہیں اور اپنے لئے اہم رول بھی حاصل کر لیتے ہیں۔ وفاقی حکومت کی کشمیر سے متعلق کمیٹی میں ان کا رول بہت نمایاں رہا ہے۔ جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت نے 2002 میں جو نام نہاد انتخابات کرائے تھے تو ان انتخابات میں مین اسٹریم پارٹیوں کو کم سے کم نمائندگی دینے کی غرض سے انہوں نے  ہر امیدوار کے لئے گریجویشن کی ڈگری کی شرط لگا دی تھی اور دوسری طرف مدرسوں کی اسناد کو گریجویشن کے مساوی مان لیا گیا تھا جس کے باعث مذہبی جماعتوں کے امیدواروں کی بہت بڑی تعداد پارلیمنٹ میں پہنچ گئی تھی اور اپوزیشن کے بعض تجربہ کار اور منجھے ہوئے سیاستداں انتخاب لڑنے سے محروم رہ گئے تھے۔ اُس زمانے میں مذہبی جماعتوں نے ایک متحدہ سیاسی محاذ’’ متحدہ مجلسِ عمل’’ کے نام سے قائم کیا تھا اور اس میں شیعہ، سنّی،دیوبندی، بریلوی، غرضیکہ تمام گروپ کے لوگ شامل تھے ۔ پارلیمنٹ میں خاص اپوزیشن گروپ کی حیثیت اسی گروپ کو حاصل تھی۔ اس کے علاوہ صوبۂ سرحد میں جس کا نیا نام خیبر پختونخوا ہے، اس میں اسی گروپ نے حکومت بنائی تھی۔ لیکن اس کے بعد یہ اتحاد ٹوٹ گیا اور تمام مذہبی جماعتیں اپنے اپنے گروپ کے خول میں واپس چلی گئیں۔

2008 میں جب جمہوریت بحال ہوئی تو مین اسٹریم پارٹیوں کی واپسی ہوئی اور مذہبی جمعتوں میں مولانا فضل الرحمن کی جمعیۃالعلمائے اسلام ،سیاست میں سب سے زیادہ سرگرم رہی۔ چند روز قبل عمران حکومت کے خلاف ان کا ‘‘آزادی مارچ’’ کراچی سے شروع ہوا اور سندھ اور پنجاب سے ہوتا ہوا اسلام آباد پہنچا۔ اس مارچ کو مین اسٹریم پارٹیوں کی حمایت حاصل ہے اور یہ سبھی عمران خان سے دیگرمطالبات کے علاوہ ان کے استعفے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔ عمران حکومت نے کچھ شرائط کے ساتھ بات چیت کے لئے آمادگی تو ظاہر کی لیکن دو راؤنڈ کی  بات چیت بے نتیجہ ثابت ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق عمران خان نے اپنے وزیردفاع پر ویز خٹک کو اپنی ٹیم کا سربراہ مقرر کیا اور اپوزیشن لیڈروں سے بات چیت کرنے کی ذمہ داری سونپی ۔ اخبار ایکسپریس ٹریبیون کی فراہم کردہ اطلاع کے مطابق عمران خان نے اپنی ٹیم کے لوگوں کو اس بات سے آگاہ کیا کہ استعفیٰ دینے کے مطالبے کو چھوڑ کر وہ بیشتر مطالبات ماننے کو تیار ہیں۔ پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ حکومت کوئی بیچ کا راستہ تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جس سے دونوں فریق اتفاق کر سکیں۔ ان کے مطابق بات چیت اچھے ماحول میں شروع ہوئی تھی۔ لیکن خبر یہ ہے کہ دونوں میں سے کوئی فریق اپنے طے شدہ موقف سے ہٹنے کو تیار نظر نہیں آتا ، اس لئے بات چیت کا دوسرا دور بھی ناکام ثابت ہوا۔ بہر حال احتجاج اور دھرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ جو مظاہرین ہزاروں ہزار کی تعداد میں موجود ہیں ان میں بیشتر مدرسوں کے طلبا ء ، اساتذہ اور ان کے حامی شامل ہیں۔ البتہ خواتین کی نمائندگی بالکل نہیں ہے۔ مولانا فضل الرحمن عمران خان کو منتخب وزیراعظم بھی ماننے کو تیار نہیں ہیں اور اسی لئے وہ پاکستانی فوج کی بھی تنقید کرنے سے نہیں چوکے۔ حالانکہ مولانا اور دوسری مذہبی پارٹیوں کے لیڈر عموماً فوج کی تنقید کرنے سے کتراتے ہیں۔مولانا کا کہنا ہے کہ عمران خان عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر نہیں آئے بلکہ انہیں فوج نے سیلکٹ کیا ہے۔ یہ الزام صرف مولانا کا ہی نہیں ہے بلکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے نوجوان سربراہ بلاول بھٹّو زرداری سمیت بیشتر اپوزیشن پارٹیاں انہیں ایلکٹیڈنہیں بلکہ سیلکٹیڈ وزیراعظم مانتی ہیں اور ان کی وزارت عظمیٰ پر سوال اٹھاتی ہیں۔ بہر حال کچھ کہا نہیں جا سکتا کہ اس دھرنے اور احتجاج کے بعد کیا صورت حال سامنے آنے والی ہے۔ لیکن عمران خان اپنے ہی جال میں پھنستے نظر آ رہے ہیں۔2014 میں جو طریقۂ کار انہوں نے نواز شریف حکومت کے خلاف استعمال کیا تھا آج اپوزیشن بھی وہی طریقہ اختیار کر رہی ہے۔ اُ س زمانے میں عمران خان اور ان کے حامیوں نے کھلم کھلا فوج سے کہا تھا کہ وہ نواز شریف کو اقتدار سے بے دخل کرے!