07.11.2019 جہاں نما

 ویڈیو میں بھنڈرانوالے کی تصویر پر ہندوستان کا پاکستان سے احتجاج

۔ حکومت پاکستان نے کرتارپور راہداری کے بارے میں بدھ کے روز ایک ویڈیو جاری کیا جس میں جرنیل سنگھ بھنڈرانوالے سمیت دوسرے خالصتانی علیحدگی پسند لیڈروں کو دکھایا گیا ہے۔ پاکستان کے اس اقدام کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے نئی دہلی نے اسلام آباد سے سخت احتجاج کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ علیحدگی پسندوں کی حمایت کرنے اور بد امنی پھیلانے کی کوشش سے گریز کرے۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے نمایاں طور پر شائع کیا ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی ایشین ایج تحریر کرتا ہے کہ ہندوستان نے پاکستان سے صاف طور پر کہا کہ راہداری کے افتتاح کے روز کوئی بھی علیحدگی پسند عناصر ہندوستان کی اہم شخصیات کے ساتھ نہیں دکھائی دینا چاہئے۔ قابل ذکر ہے کہ سابق وزیراعظم منموہن سنگھ اور پنجاب کے وزیراعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ اس موقع پر موجود ہونگے جن کی سیکیورٹی کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لئے نئی دہلی نے اسلام آباد سےایک ایڈوانس ٹیم کے دورے کی اجازت طلب کی ہے۔ ذرائع کے مطابق ہندوستان کی اس درخواست کے باوجود پاکستان نے ایڈوانس ٹیم کو کرتارپور جانے کی اجازت نہیں دی ہے۔ لیکن اسلام آباد میں ہندوستانی ہائی کمیشن کے اہلکاروں کو بدھ کے روز صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے کرتارپور جانے کی اجازت دے دی گئی ۔ پاکستان نے یقین دلایا ہے کہ وہ ہندوستان کے احساسات اور تمام یاتریوں کی سیکیورٹی کا پورا  خیال رکھے گا۔ پاکستان کی اس یقین دہانی کے باوجود سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اسلام آباد نے وہ ویڈیو کیوں جاری کیا جس میں دوسرے یاتریوں کے ساتھ علیحدگی پسند لیڈر میجر جنرل شابیگ سنگھ، امریک سنگھ خالصہ اور بھنڈرانوالےایک گورو دوارے کا درشن کرتے نظر آرہے ہیں جبکہ پاکستان کا کہنا ہے کہ کرتارپور راہداری کا قیام خیر سگالی کے جذبے کے تحت کیا گیا ہے۔ان تینوں خالصتانی علیحدگی پسندوں کو جون 1984 میں آپریشن بلو اسٹار کے دوران ہلاک کر دیا گیا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ ہندوستان کرتارپور راہداری پر قریبی نظر بنائے رکھے گا کیونکہ ایسا محسوس کیا جا رہا ہے کہ علیحدگی پسندی کو ہوا دینا اور ہندوستان کے خلاف پروپیگنڈہ پھیلانا پاکستان کا ایجنڈہ ہے۔

 اگر مطالبات پورے نہ ہوئے تو ملک میں پھیلے گی بدامنی، فضل الرحمن کا انتباہ

۔ حکومت پاکستان کے خلاف آزادی مارچ نکالنے والے مولانا فضل الرحمن نے متنبہ کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ کئے گئے تو ملک میں انتشار پھیل جائے گا۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی انڈین ایکسپریس لکھتا ہے کہ فضل الرحمن نے کہا کہ عمران حکومت کے خلاف دھرنے پر بیٹھنا اور اس کے استعفے کا مطالبہ کرنا قومی ذمہ داری ہے۔ پاکستانی روزنامہ ڈان کا حوالہ دیتے ہوئے اخبار تحریر کرتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اگر حکومت پاکستان تعطل ختم کرنا چاہتی ہے تو اسے اپوزیشن پارٹیوں کو اپنے مشورے پیش کرنے ہونگے۔ دائیں بازو کی جمعیت العلمائے اسلام (فضل) لیڈر حکومت کے خلاف ایک بڑے احتجاج کی قیادت کر رہے ہیں۔ مظاہرین عمران خان حکومت کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ ان کا الزام ہے کہ 2018 میں ہونے والے انتخابات میں عمران نے دھاندلی کی تھی۔ پاکستان مسلم لیگ (نواز) اور پاکستان پیپلز پارٹی حکومت مخالف ریلی کی حمایت کر رہی ہیں۔ 

 ‘‘آزادی مارچ’’ بنا عمران خان کیلئے درد سر

۔ اگست 2018 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ پاکستانی وزیراعظم عمران خان کیلئے شاید سب سے بڑا سیاسی بحران ہے۔ اس موضوع پر اپنا اداریہ تحریر کرتے ہوئے روزنامہ دی ہندو لکھتا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام (فضل) کے رہنما فضل الرحمن نے کہا ہے کہ جب تک مطالبات پورے نہیں ہوجاتے وہ اسلام آباد میں اپنا دھرنا ختم نہیں کرینگے۔ ان کے مطالبات میں حکومت کا استعفیٰ، تازہ انتخابات اور سیاست میں فوج کی مداخلت کا خاتمہ شامل ہیں۔ خاص اپوزیشن پارٹیاں، پاکستان مسلم لیگ (نواز)اور پاکستان پیپلز پارٹی فضل الرحمن کو اپنی حمایت دے رہی ہیں۔ شروع میں عمران خان نے فضل الرحمن کی پارٹی کو سنجیدگی سے نہیں لیا کیونکہ سیاسی طور پر وہ بہت مضبوط طاقت نہیں ہے لیکن دھیرے دھیرے فضل الرحمن کے حامیوں کی تعداد بڑھتی گئی اور انہیں دو بڑی سیاسی پارٹیوں کی حمایت بھی مل گئی جس کے بعد وہ ایک قومی شخصیت بن کر ابھرے اور وزیراعظم عمران خان کے سامنے ایک بڑا چیلنج پیش کردیا۔ احتجاج اور مظاہروں کے باعث حکومت کو بات چیت کیلئے آگے آنا پڑا۔ تاہم تعطل ابھی بھی بنا ہوا ہے کیونکہ فریقین کسی معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے۔ 

عمران خان کیلئے اس وقت وہی صورتحال ہے جو خود انہوں نے 2014 میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کے لئے پیدا کی تھی۔ انہوں نے بھی اسلام آباد میں دھرنا دے کر نواز شریف کے استعفی کا مطالبہ کیا تھا۔ ہفتوں تک دھرنا جاری رہا  تھا لیکن عمران خان اس وقت کا میاب نہیں ہوئے۔ اور آج ایسا نہیں لگتا کہ فضل الرحمن عمران خان کو استعفیٰ دینے کیلئے مجبور کر دیں گے کیونکہ ان کی حکومت کو فوجی اسٹیبلشمنٹ ابھی بھی پسند کرتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ خاص اپوزیشن اس وقت کمزور ہے اور پھر مولانا کی تحریک میں بھی لوگ مختلف رائے رکھتے ہیں۔ پی پی پی اور پی ایم ایل (نواز) میں بھی کچھ لوگ فضل الرحمن کو حمایت دینے کے خلاف تھے۔ اس لئے فی الحال وزیراعظم کی حیثیت سے عمران خان کی پوزیشن مستحکم لگتی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ وہ سیاسی جماعتوں سے پیدا چیلنجوں کو نظر انداز کر نے کے متحمل ہو سکتے ہیں۔ عمران خان معیشت کو درست کرنے اور بدعنوانی کے خاتمہ کے وعدے کے بل بوتے پر اقتدار میں آئے تھے لیکن آج بھی دونوں کا برا حال ہے۔ عمران خان کو انہیں مسائل کو حل کرنے کیلئے اقدامات کرنے ہونگے ورنہ فضل الرحمن جیسے دوسرے مولانا کل کھڑے ہو جائیں گے جو پاکستانی سیاست کیلئے نیک شگن نہیں ہے۔ 

 مقامی انتخابات میں شکست نے کیا ٹرمپ کی پریشانیوں میں اضافہ

۔ امریکہ میں کینٹ ٹکی ریاست کے گورنر کے عہدے کیلئے ہونے والے انتخابات میں صدر ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہاں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار اینڈی بیشیئر نے ریپبلکن امیدوار میٹ بیوِن کو شکست دی۔ قابل ذکر ہے کہ اس ریاست میں ریپبلکن پارٹی کا بول بالا تھا۔ ادھر ریاست ورجینیا میں اسمبلی اور سینٹ میں بھی ریپبلکن امیدواروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ گذشتہ تقریباً 25برسوں میں پہلی بار ایسا ہوا ہے ۔ ان شکستوں سے صدر ڈونل ٹرمپ کو زبردست دھچکا لگا ہے جو پہلے ہی مواخذے کی انکوائری کا سامنا کر رہے ہیں۔ اسی دوران ہاؤس انٹلیجنس کمیٹی کے چیئرمین ایڈم شف نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے مواخذہ سے متعلق انکوائری کی سماعت آئندہ ہفتہ شروع ہو جائے گی۔ یوکرین میں امریکہ کے ایک اعلیٰ سفارتکار ولیم ٹیلر سمیت دو امریکی اہلکار آئندہ بدھ کے روز سماعت کیلئے کمیٹی کے سامنے پیش ہونگے۔ قابل ذکر ہے کہ ولیم ٹیلر نے الزام لگایا ہے کہ ٹرمپ نے اپنے سیاسی مفاد کیلئے یوکرین کے صدر پر جو بائیڈن کے خلاف تحقیقات کیلئے دباؤ ڈالا تھا۔ 

 تھائی لینڈ میں مشتبہ باغیوں کے ہاتھوں 15 افراد ہلاک

۔ جنوبی تھائی لینڈ میں مشتبہ مسلم عسکریت پسندوں کی جانب سے چھپ کر کئے گئے ایک حملہ میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی اسٹیٹس مین تحریر کرتا ہے کہ تھائی لینڈ کے تین جنوبی صوبے تشدد کی زد میں ہیں جہاں اب تک سات ہزار سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں۔ اس علاقہ میں ملیالی مسلم عسکریت پسند زیادہ خود مختاری کیلئے حکومت سے لڑ رہے ہیں۔ اس علاقہ میں پولیس اور فوج کا کنٹرول ہے اور مقامی لوگ ان پر ظلم تشدد کا الزام عائد کرتے ہیں۔ عسکریت پسندوں نے منگل کے روز پالا صوبے میں دو چوکیوں کو نشانا بنایا جسکے نتیجے میں 15 لوگ مارے گئے۔ 

 روس میں راج ناتھ سنگھ نے کی فوجی تعاون میٹنگ کی مشترکہ صدارت

۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کل ماسکو میں اپنے روسی ہم منصب جنرل سرگئی شویگوکے ساتھ فوجی اور فوجی تکنیکی تعاون کے موضوع پر بھارت-روس بین حکومتی کمیشن کی میٹنگ کی مشترکہ صدارت کی۔ ایک سرکاری بیان کا حوالہ دیتےہوئے آل انڈیا ریڈیو نے خبردی ہے کہ جناب سنگھ نے زور دے کر کہا کہ اس برس ستمبر میں ولادی وُستک سربراہ کانفرنس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان خصوصی اور مراعات کی حامل کلیدی شراکت داری مزید مستحکم ہوئی ہے۔ انہوں نے بھارت میں مشترکہ پروجیکٹوں کے ذریعے پُرزے، آلات اور چھوٹے چھوٹے سامان کی مینوفیکچرنگ کے سلسلے میں بین حکومتی معاہدے کی اہمیت کو اجاگر کیا جس سے لاگت میں کمی آئے گی، وقت پر سپلائی ممکن ہوگی اور نتیجتاً ترقی پسند دیسی اشیا بن کر سامنے آئیں گی۔ امید ہے کہ اس معاہدے سے میک ان انڈیا پہل کو زبردست فروغ حاصل ہوگا۔ وزیر دفاع کے طور پر روس کا اپنا پہلا دورہ کرنے والے جناب راج ناتھ سنگھ کا استقبال کرتے ہوئے جنرل سرگئی شویگو نے بھارت کو خصوصی کلیدی دفاعی شراکت دار قرار دیا۔ جناب سنگھ کی دعوت پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے روس کے وزیر دفاع نے اگلے برس فروری میں لکھنؤ میں ہونے والے ڈیف ایکسپو2020میں روس کی وسیع تر شرکت کی یقین دہانی کرائی ۔