پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کو فروغ دینے کا سلسلہ ہنوز جاری

پاکستان لاکھ یہ ڈھول پیٹے کہ وہ اب دہشت گرد گروپوں کی حمایت نہیں کرتا اور یہ کہ موجودہ حکومت اس بات کی بھرپور کوشش کررہی ہے کہ پاکستان میں سرگرم ان دہشت گرد گروپوں پر لگام کسی جاسکےجو پڑوسی ملکوں میں تخریب کاری پھیلاتے ہیں، لیکن اس قسم کے دعوے صرف بین الاقوامی برادری کی آنکھ میں دھول جھونکنے کے مترادف ہیں۔ پاکستان بار بار اس دعویٰ کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ خود دہشت گردی کا شکار ہے اور یہ کہ اب تک ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی،  دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاک ہوچکے ہیں ۔ پاکستان کا یہ دعویٰ تو کسی حد تک صحیح ہوسکتا ہے کہ اس نے ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی ہے، جو خود پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے عملے یا شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ لیکن جن دہشت گردوں کی پناہ گاہیں پاکستان میں ہیں اور جو ہندوستان یا افغانستان میں حملے کرتے ہیں، ان کے بارے میں پاکستان یہ دعوی قطعی نہیں کرسکتا۔ تھوڑی بہت دکھاوے کی کارروائی ضرور ہوتی ہے لیکن ان کا مقصد ہندوستان یا افغانستان میں ہونے والے حملوں کو روکنا نہیں ،بلکہ بین الاقوامی برادری اور عالمی اداروں کی آنکھوں میں دھول جھونکنا ہوتا ہے۔ اس کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہوسکتی ہے کہ ایف اے ٹی ایف نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں بھی پاکستان کو یہ وارننگ دی ہے کہ  آئندہ فروری تک وہ دہشت گرد گروپوں کی فنڈنگ اور منی لانڈرنگ سے متعلق ایکشن پلان کا نشانہ پورا کرے ورنہ اسے بلیک لسٹ مین شامل کرلیا جائے گا۔ ایف اے ٹی ایف کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان کو 27 نکات پر مشتمل ایکشن پلان پر عمل کرنا تھا لیکن اس نے صرف 5 یا 6 نکات پر ابھی تھوڑی کارروائی کی ہے۔ اس سے کیا یہ حقیقت عیاں نہیں ہوتی ہے کہ وہ انتہائی بد دلی اور سست روی سے کام کررہا ہے؟ اگر پاکستان کی نیت ٹھیک ہوتی تو جس انداز کی وارننگ اسے عالمی اداروں سے مل رہی ہے۔ اس کے پیش نظر وہ دہشت گردوں کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کرتا۔ پاکستان اب بھی ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل ہے حالانکہ اس نے پوری کوشش کی کہ وہ اس لسٹ سے باہر نکالا جائے لیکن کامیاب نہ ہوسکا۔ دہشت گرد گروپوں میں بیشتر ایسے ہیں جنہیں اقوام متحدہ کی متعلقہ کمیٹی نے خطرناک عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق بھی پاکستان نے دہشت گرد گروپوں کے خلاف اب تک کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی ہے۔ ان تمام باتوں سے یہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ دہشت گردی کے تعلق سے پاکستان کے رویہ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور اس کی توقع بھی کم ہی نظر آتی ہے۔دراصل پاکستان میں سب  کچھ پاکستان کے فوجی ایسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور یہ ادارہ خود پاکستان میں کسی کی نہیں سنتا۔ زیادہ دن کی بات نہیں ہے نواز شریف حکومت نے عالمی برادری کے بڑھتے دباؤ کے تحت فوجی حکام کویہ سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ دہشت گردی سے متعلق اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کریں اور ان گروپوں کے خلاف مؤثر کارروائی کریں جو پاکستان کی ساکھ کو عالمی برادری میں گرانے کا باعث بن رہے ہیں۔ بس یہ ہدایت دینا تھا کہ فوج کے ٹولے میں بھونچال آگیا اور نوازشریف اور ان کے پورے خاندان کے خلاف سازشوں کا جال بچھا دیا گیا۔ انہی سازشوں کے نتیجہ میں نوازشریف اور ان کی بیٹی سزا کاٹ رہے ہیں اور نواز شریف کی حالت انتہائی نازک بتائی جاتی ہے۔

موجودہ حکومت کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ فوج نے ہی اسے اقتدار میں لانے کے لئے فضا ہموار کی تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عمران خان فوج کے حامی اور مداح رہے ہیں۔ ظاہر  ہے موجودہ حکومت سے یہ امید ہی نہیں جاسکتی کہ وہ پاکستانی فوج کو مثبت نوعیت کی کارروائی کرنے پر مجبور کرسکے گی۔ عالمی دباؤ ہی کے پیش نظر عمران خان نے کہا ہے کہ جو لوگ کشمیر میں جہاد کو فروغ دینا چاہتے ہیں، وہ اس طرح کی کارروائیوں سے گریز کریں ۔ لیکن کیا ان کی اس بات کا کوئی اثر دہشت گردوں اور دراندازوں پر پڑرہا ہے؟ دہشت گرد گروپوں کی نکیل تو فوجی ٹولے کے ہاتھ میں ہے۔ ایک تازہ مثال یہ ہے کہ کرتارپور صاحب کاریڈور کے سلسلے میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ہندوستان سے آنے والے سکھ زائرین کے لئے پاسپورٹ کی شرط نہیں ہوگی لیکن اب یہ خبر سننے میں آئی کہ پاکستانی فوج نے وہ فیصلہ بدل دیا۔ اس کے علاوہ پاکستان میں خالصتان کے پوسٹر بھی دیکھے گئے اس سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستانی فوج اپنے گندے کھیل سے باز نہیں آئی بلکہ وہ شرپسندی کے نئے نئے راستے تلاش کرتی ہے۔