08.11.2019 جہاں نما

کرتار پور راہداری کو خالصتان تحریک کے احیاء کے لئے پاکستان کرسکتا ہے استعمال: اداریہ ٹائمز آف انڈیا

 آج ملک کے تمام اخبارات نے جہاں کرتار پور راہداری سے متعلق خبروں کو شہ سرخیوں کے تحت شائع کیا ہے، وہیں کچھ اخبارات نے اس موضوع پر اداریئے بھی شائع کئے ہیں۔‘‘ کرتار پور اوپننگ’’  کے زیر عنوان اپنے اداریئے میں روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پاکستان اس راہداری کو خالصتان علیحدگی پسند تحریک کے احیاء کیلئے استعمال کرسکتا ہے۔ اخبار کے مطابق جب سکھ برادری کرتارپور راہداری کے افتتاح کا بڑے بے بیتابی انتطار کررہی ہے، جس کی وجہ سے پاکستان میں سکھوں کے عظیم گرو، گرونانک کی آخری آرام گاہ کے درشن میں بے حد سہولت ہوجائے گی، وہیں دوسری جانب اسلام آباد حکومت نے اس تحریک سے متعلق ایک ویڈیو بھی جاری کیا ہے، جس میں جرنیل سنگھ بھنڈراں والے سمیت خالصتان علیحدگی پسندوں کے پوسٹر بھی شامل ہیں۔ اخبار کے مطابق خالصتان علیحدگی پسندوں کے ایجنڈے کو فروغ دے کر پاکستان کرتار پور راہداری کا ستعمال کرکے اپنی مخصوصی حکمت عملی کے تحت، خالصتان علیحدگی پسند ایجنڈے کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ اس حقیقت کے پیش نظر کہ پاکستانی فوج گزشتہ برس سے اس پروجیکٹ پر کام کررہی ہے،ہندوستانی سلامتی اداروں کو ہوشیار ہوجانا چاہیے۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ راہداری کا معاملہ سکھ برادری کے مذہبی جذبات سے وابستہ ہے اور ہندوستان اس کے لئے گزشتہ 20 برس سے کوشاں ہے۔ اسی لئے شاید بی جے پی، پنجاب میں کانگریس کی حالیہ مقبولیت میں اضافے کے پیش نظر کرتار پور کو کھوئی ہوئی سیاسی مقبولیت حاصل کرنے کےلئے استعمال کرسکتی ہے۔ لیکن دوسری جانب اسلام آباد اور راولپنڈی اپنے ایجنڈے کو فروغ دینے کے لئے اس سے فائدہ  اٹھا سکتے ہیں۔

پاکستان نے راہداری معاملے کو زندہ رکھا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کے لئے یہ معاملہ اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے۔ دوسری جانب اخبار نے اس معاملے کے روشن پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر پاکستان، ہندوستان کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں ہے اور اپنے دہشت گردانہ عزائم ترک کردے تو یہ راہداری، امن کی راہداری بھی بن سکتی ہے لیکن اگر پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی مل کر اس راہداری کے ذریعے خالصتانی علیحدگی پسندگی کو دوبارہ زندہ کرنا چاہتے ہیں تو ہندوستان کو اپنا موقف سخت کرنا پڑے گا اور اس کے عزائم کو شکست دینےکے لئے تمام متبادلات پر عمل کرنا ہوگا۔

کرتار پور راہداری کے افتتاح میں کچھ وقت باقی، پاکستان کی جانب سے متضاد بیانات، پاسپورٹ استعمال پر صدر پاکستان کو فوج کی جانب دھچکا

کرتار پور راہداری کے حوالے سے اپنی خبر میں روزنامہ انڈین ایکسپریس نے تحریر کیا ہے کہ پاکستانی فوج نے وزیراعظم عمران خان کی اس پیش کش کو ٹھکرادیا ہے کہ ہندوستانی سکھ یاتریوں کے لئے پاسپورٹ ضروری نہیں ہوگا۔ اخبار کے مطابق اب جبکہ سکھ یاتریوں کے پہلے جتھے کی پاکستان روانگی میں بہت کم  وقت باقی رہ گیا ہے اور جس میں سابق وزیراعظم منموہن سنگھ بھی شامل ہوں گے، پاکستانی حکومت اور فوج کی جانب سے متضاد بیانات آرہے ہیں۔ اخبار، پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان کے ایک ٹوئیٹ کے حوالے سے رقمطراز ہے کہ بابا گرونانک کے 550 ویں یوم پیدائش کے مبارک موقعے پر پاکستان نے سکھ یاتریوں کے لئے خصوصی سہولیات کا اعلان کیا ہے لیکن بقول ترجمان ہندوستان نے ان خصوصی مراعات کو مسترد کردیا ہے۔ دوسری جانب نئی دہلی حکومت نے پاکستان کی جانب سے آنے والی متضاد خبروں کی طرف توجہ دلائی ہے اور کہا ہے کہ وہ گزشتہ ماہ طے پائے معاہدے پر عمل کریں گے جس کے مطابق صرف پاسپورٹ لازمی ہوں گے نہ کہ ویزا۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ اس سے قبل ہندوستانی حکومت نے پاکستان سے وضاحت کرنے کو کہا تھا کہ آیا سرکاری ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر عمران خان کی پیش کش پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ واضح ہو کہ جمعرات کے روز پاکستانی فوج کے ترجمان کے حوالے سے پاکستانی ذرائع ابلاغ کا  اب یہ کہنا ہے کہ پاکستان کی سلامتی یا خود مختاری سے کوئی سجھوتہ نہ کرتے ہوئے پاسپورٹ لازمی ہوں گے، جس کے بعد ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے الزام لگایا ہے کہ اب جبکہ سنیچر کے روز کرتار پور راہدری کا افتتاح ہونے والا ہے، پاکستان آخری لمحات میں الجھن پیدا کررہا ہے۔ ترجمان نے پاکستان کی اس حرکت کی بھی مذمت کی جس کے تحت اس نے خالصتان حامی مواد جاری کرکے راہداری کے پس پشت جذبے کو نقصان پہنچایا ہے۔

ایران نے فورڈو پلانٹ میں شروع کی یورینیم افزودگی

‘‘فورڈو میں ایران نے یورینیم افزودگی کا دوبارہ کیا آغاز’’ یہ سرخی ہے روزنامہ اسٹیٹس مین کی خبر کی۔ اخبار کے مطابق ایران نے جمعرات کے روز سے اپنے زیر زمین فورڈو پلانٹ میں یورینیم افزودگی کا عمل دوبارہ شروع کردیا جو 2015 کے نیوکلیائی معاہدے کی خلاف ورزی کا ایک تازہ اقدام ہے۔ واضح ہو کہ 2015 میں بین الاقوامی طاقتوں کے ساتھ نیوکلیائی معاہدے پر دستخط کے بعد ایران نے اس پلانٹ میں یورینیم افزودگی روک دی تھی اور جس کے عوض اس پر سے امریکہ نے پابندیاں اٹھالی تھیں۔ اخبار آگے رقمطراز ہے کہ گزشتہ سال مئی میں امریکہ نے اس معاہدے کو مسترد کردیا تھا اور ایران پر یک طرفہ سخت پابندیاں عائد کردی تھیں جس کے بعد معاہدے میں شامل دوسرے ممالک برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی اور روس نے اس معاہدے کو بچانے کی کوششیں شروع کردی تھیں۔ ایران نے ان طاقتوں پر زور دیا تھا کہ وہ اس کو پابندیوں سے آزاد کرانے کےلئے امریکہ پر زور ڈالیں کیونکہ اس نے نیوکلیائی پروگرام کے فوجی استعمال کی ہمیشہ تردید کی ہے اور اب ایران کے ذریعے اس تازہ اقدام نے معاہدے میں شامل دیگر ممالک کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ ایران نے یہ بات زور دے کر کہی کہ اس کے تمام اقدامات شفاف ہوں گے اور اگر بقیہ ممالک امریکی پابندیاں ہٹانے کے لئے راستہ نکال لیں گے تو وہ فوراً ہی یورنینم افزودگی بند کردے گا۔

امریکہ کے سابق اعلی سفیر کے ذریعے صدر ٹرمپ کی یوکرین صدر کو فون کال کی تصدیق

 امریکہ میں صدر ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحقیقات کا عمل جاری ہے جس میں امریکی صدر کے خلاف یوکرین کے صدر پر دباؤ ڈالنے کا معاملہ سامنے آرہا ہے۔ اس حوالے سے اخبار ہندوستان ٹائمز نے خبر دی ہے کہ امریکہ کے ایک اعلی سابق سفیر ولیم ٹیلر  نے تحقیقات میں شامل ارکان کو بتایا کہ صدر ٹرمپ نے یوکرین حکومت پر براہ راست دباؤ ڈالا تھا کہ وہ ان کے سیاسی حریفوں جو بائڈن اور دیگر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کریں۔

جمعرات کو جاری ٹرانسکرپٹ کے حوالے سے اخبار آگے لکھتا ہے کہ اپنے سیاسی حریفوں کے خلاف تحقیقات سے صدر ٹرمپ نے یوکرین کو سکیورٹی امداد مشروط کردی تھی۔ ٹیلرکے الفاظ میں سکیورٹی رقوم اس وقت تک جاری نہیں کی جاسکتی تھیں جب تک یوکرین صدر وولادی میر زیلنسکی حریفوں کے تحقیقات کا وعدہ نہیں کر لیتے۔ اس کے فوراً بعد ہی ٹرمپ نے امریکی اٹارنی جنرل ولیم بَر  سے اخباری کانفرنس بلانے کے لئے کہا تھا تاکہ اس بات کی وضاحت کی جاسکے کہ صدر یوکرین کو فون کرنے کے پس پشت کوئی غلط ایما نہیں تھی۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اس کو مسترد کردیا گیا تھا۔

بابری مسجد۔ رام جنم بھومی مقدمے کے فیصلے سے قبل اجودھیا میں 4 ہزار سلامتی اہلکار تعینات

  اخبارات کی دوسری خبروں میں بابری مسجد۔ رام جنم بھومی مقدمے سے متعلق خبریں بھی شامل ہیں۔ روزنامہ ہندو نے اس حوالے سے تحریر کیا ہے کہ اب جبکہ اس مقدمے کا فیصلہ آنے میں کچھ ہی دن باقی رہ گئے ہیں، مرکزی حکومت نے سینٹرل آرمڈ پولیس فورسز کے چار ہزار اہلکاروں کو اجودھیا بھیج دیا ہے۔ وزارت داخلہ نے تمام ریاستوں کو امن و قانون برقرار رکنے کی بھی ہدایات جاری کی ہیں۔واضح ہو کہ ٹائٹل سوٹس سے متعلق 2010 میں الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہندو اور مسلم دونوں فریقوں نے اپیل کی تھی جس پر گزشتہ 40 دنوں سے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی گئی اورجس کے بعد عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ رکھا تھا  توقع ہے کہ 17 نومبر سے قبل فیصلہ سنادیا جائے گا۔ اسی تاریخ کو چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس رنجن گوگوئی سبکدوش ہورہے ہیں۔ اخبار نے مزید تحریر کیا ہے کہ ریلوے پروٹیکشن فورس نے 80 حساس اسٹیشنوں کی نشاندہی کی ہے اور اہلکاروں سے وہاں سخت نگرانی کے لئے کہا ہے۔ اس کے علاوہ اترپردیش کے ڈائرکٹر جنرل پولیس نے تمام ضلعی پولیس سربراہوں سے کہا ہے کہ ان نشان زد حساس علاقوں میں پیدل گشت کی جائے اور ہر علاقے کے لئے فسادات پر کنٹرول کی اسکیم بھی تیار کی جائے۔

امریکہ کے اسٹیٹ انتخابات: چار ہند نژاد امریکی فتحیاب 

امریکہ میں اسٹیٹ اور مقامی انتخابات کے حوالے سے روزنامہ ایشین ایج نے ایک اہم خبر شائع کی ہے جس میں چار ہند نژاد امریکیوں نے فتح حاصل کی ہے۔ ان افراد میں ایک مسلم خاتون اور وہائٹ ہاؤس ٹیکنالوجی پالیسی کے سابق مشیر بھی شامل ہیں۔ روزنامہ کے مطابق مسلم خاتون غزالہ ہاشمی ورجینیا اسٹیٹ سینیٹ کے لئے منتخب ہونے والی پہلی مسلم خاتون ہیں اور انہوں نے نئی تاریخ رقم کی ہے جبکہ سابق صدر براک اوبامہ کے سابق وہائٹ ہاؤس ٹیکنالوجی پالیسی مشیر سُہاس سبرامنیم کو ورجینیا اسٹیٹ کے ایوانِ نمائندگان کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔