پاکستان میں خاتون صحافیوں کی آن لائن ہراسانی کے واقعات

ان دنوں پاکستان میں یوں تو کسی بھی لحاظ سے حالات درست نہیں ہیں۔ کہیں حکومت کے خلاف دھرنا چل رہا ہے تو کہیں ناراض عوام جلسے اور جلوس نکال رہے ہیں۔ اور کسی کے بھی سمجھ میں یہ نہیں آرہا ہے کہ آخر یہ نیا پاکستان کیسا ہے، جس کے وزیر اعظم عمران خان نے وعدہ کیا تھا اور کیا یہی وہ ریاست مدینہ ہے جس کا خواب پاکستانی عوام کو دکھایا جارہا ہے۔

ان سب کے درمیان ایک رضاکار تنظیم میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی نے ایک رپورٹ جاری کی ہے۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ جمہوریت کا اہم ستون‘صحافت اوراس سے وابستہ بالخصوص خاتون صحافیوں کی پاکستان میں حالت کتنی تشویش ناک ہے۔رپورٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں مرد ساتھیوں کے مقابلے میں خواتین صحافیوں کو زیادہ آن لائن ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔جس سے تنگ آکر وہ یا تو خود اپنے آپ پر سیلف سنسرشپ عائد کرلیتی ہیں، یا پھر میڈیا انڈسٹری ہی چھوڑ دیتی ہیں، کیونکہ اگر وہ اپنے کیریئر میں آگے بڑھنا چاہیں تو ان کے اہل خانہ یا معاشرے کی جانب سے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جنسی ہراسانی کا شکار ہونے والی ایسی خاتون صحافیوں کی تعداد 77فیصد ہے۔اور ہر 10میں سے تین خاتون صحافی سنگین آن لائن جرائم مثلاًبلیک میل یا تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔

پاکستان میں آن لائن میڈیا پر نگاہ رکھنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نگہت دادکا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ پاکستانی میڈیا انڈسٹری میں موجود خواتین کی مشکلات کا احاطہ کرتی ہے اور ہمیں علم ہوتا ہے کہ خواتین کے لیے صحافت کی دنیا میں آگے بڑھنا کس قدر مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ آن لائن اور آف لائن، دونوں صورتوں میں انہیں صنفی تفریق کا سامنا ہوتا ہے۔ انہیں ان کے کام کی بجائے لباس اور چال ڈھال کے حوالوں سے پرکھا جاتا ہے۔

رپورٹ میں اس جانب اشارہ کیا گیا ہے کہ آن لائن ہراسانی صرف ناخوشگوار ہی نہیں ہوتی بلکہ اس کے اثرات اصل زندگی میں بھی پڑتے ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے اکثرو بیشتر مرد حضرات اپنی طاقت کا مظاہرہ کرکے خواتین کی آواز کو دبا دیتے ہیں۔ اس طرح کی زیادتیوں میں جنسی زیادتی اور قتل کی دھمکیاں بھی شامل ہیں۔اس دوران جن خواتین کے انٹرویوز کیے گئے انہوں نے بتایا کہ اکثر و بیشتر ایسی کسی شکایت پر انہیں ان کے ایڈیٹرز یا سپروائزرز کی جانب سے مناسب حمایت نہیں ملتی۔

رپورٹ کے مطابق زیادہ تر خواتین کو ان کی صنف کی وجہ سے پریس کلبوں کی رکنیت نہیں دی جاتی یا اگر وہ رکن ہوں بھی تو وہاں کا ماحول ایسا نہیں ہوتا کہ وہ وہاں جاسکیں۔ ایک خاتون صحافی کے مطابق کئی سال سے پریس کلب کی رکن ہونے کے باوجود بھی وہ اُسی وقت وہاں جاتی ہیں جب ان کے مرد ساتھی، انہیں وہاں ہونے والے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے مدعو کرتے ہیں۔

آن لائن شرانگیزی سے تنگ آکر بعض خواتین میڈیا انڈسٹری ہی چھوڑ دیتی ہیں، کیونکہ اگر وہ اپنے کیریئر میں آگے بڑھنا چاہیں تو ان کے اہل خانہ یا معاشرے کی جانب سے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ خواتین صحافی اپنے آپ پر دو طرح سے پابندیاں لگاتی ہیں، ایک تو وہ ایسے موضوعات پر لکھتی ہی نہیں، جن میں انہیں خطرات کا سامنا ہو دوسری طرف  وہ سوشل میڈیا پر اپنے نظریات، خیالات یا تبصروں کے حوالے سے بہت محتاط رہتی ہیں۔خواتین صحافیوں کا کہنا ہے کہ وہ کسی مخصوص سماجی مسئلے پر اس لیے نہیں لکھتیں کیونکہ وہ رِسک نہیں لینا چاہتیں۔

اسی دوران انٹرنیٹ کی آزادی پر نگاہ رکھنے والے‘  امریکہ سے سرگرم ادارہ دی فریڈم ہاوس نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں پاکستان میں اظہار رائے کی آزادی میں رکاوٹ پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ’دی فریڈم ہاؤس‘ نے اپنی رپورٹ کہاہے کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں عوام کو انٹرنیٹ پابندیوں کا سامنا ہے۔ یہ مسلسل نواں سال ہے جب پاکستان کو انٹرنیٹ آزادی نہ رکھنے والا ملک قرار دیا گیا ہے اور سال 2019 میں انٹرنیٹ آزادی سے متعلق 100 ممالک میں پاکستان ایک درجہ تنزلی کے بعد 27ویں نمبر سے 26ویں نمبر پر آگیا ہے۔عالمی سطح پر پاکستان انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل میڈیا کی آزادی سے متعلق دنیا کے بدترین ممالک میں شامل ہے جبکہ خطے کے لحاظ سے ویتنام اور چین کے بعد پاکستان تیسرا بدترین ملک ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ حکام نے صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو مختلف طریقوں سے خاموش کروانے کی کوششیں کیں۔ اس میں کہا گیا کہ صارفین کو توہین مذہب سے متعلق مواد آن لائن پوسٹ کرنے کے الزام میں سزائے موت بھی سنائی گئی۔اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ 2018ء میں پاکستان نے آٹھ لاکھ سے زائد ویب سائٹس کو بلاک کیا تھا۔

ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نگہت داد کے مطابق خواتین صحافیوں کو آن لائن ہراساں کیے جانے کے مسئلے کے خاتمے کے لیے پہلا قدم یہ ہے کہ اس بات کو تسلیم کیا جائے کہ صحافت کی دنیا میں، مرد ساتھیوں کے مقابلے میں خواتین صحافیوں کو زیادہ آن لائن ہراسانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔