پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کے ذریعے خالصتانی علیحدگی پسندی کے احیاء کی ناپاک کوشش

اس میں کوئی شک نہیں کہ کرتارپور کاریڈور کو سکھ عقیدتمندوں کے لیے کھول کر پاکستان نے ایک مثبت قدم اٹھایا ہے،لیکن سکھ زائرین کی کرتارپور آمد سے ٹھیک پہلے جس طرح اسلام آباد اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں سکھ علیحدگی پسندوں خصوصاً جرنیل سنگھ بھنڈراں والا کے پوسٹر نظر آرہے ہیں اس سے پاکستان کی بد نیتی کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ گرو نانک دیو کے مقام پیدائش کرتارپور کو سکھوں میں بیحد عقیدت سے دیکھا جاتا ہے اور وہاں  تک ہندوستانی سکھ زائرین کی رسائی میں سہولتیں پیدا کرنے کا مطالبہ بھی دو دہائی سے زیادہ پرانا ہے۔کچھ عرصہ قبل ہندوستانی سرحد سے کرتار پور تک ایک کاریڈور بنانے کا اعلان پاکستان نے کیا تھا۔یہ کاریڈور اب گرونانک دیو کی 550 ویں جینتی یا سالگرہ کے موقع پر ہندوستان سے کرتارپور آنے والے زائرین کے لیے باقاعدہ کھولا جا رہا ہے۔9 نومبر کو576 سے زیادہ سکھ زائرین کے کرتار پور گرودوارہ آنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔سکھ زائرین میں اس موقع پر بجا طور پر کافی جوش بھی ہے،لیکن جس طرح پاکستان کی راجدھانی اسلام آباد میں خالصتان علیحدگی پسندوں کے پوسٹر اس موقع پر نظر آرہے ہیں اس سے پاکستان کی بد نیتی واضح ہو جاتی ہے۔اس سے یہ خدشہ بھی قوی ہوتا ہے کہ پاکستان اپنے اس قدم کا استعمال سکھ انتہا پسندی کو  حمایت دینے اور ہندوستان کو نقصان پہنچانے کے لیے کرنے کے منصوبے بنا رہا ہے۔حالانکہ پاکستان کی طرف سے سکھ زائرین کو کئی سہولتیں دینے کا اعلان بھی کیا گیا ہے لیکن پاسپورٹ لازمی نہ ہونے کے عمران خان کے ٹویٹ پر ہندوستان نے بجا طور پر یہ کہہ کر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان یکطرفہ طور پر اس طرح کے اعلانات نہیں کر سکتا اور اس سلسلے میں دونوں ممالک کے درمیان جو معاہدہ طے پایا ہے اس پر عمل کیا جانا چاہیے۔پاکستان اگر واقعی کرتارپور کاریڈور کھولنے کے تعلق سے مخلص ہے تو اسے سکھ علیحدگی پسندوں کے ہاتھوں میں کھیلنے سے بچنا چاہیے اور اس کاریڈور کو دونوں ممالک کے رشتوں کو بہتر بنانے کے موقع کے طور پر دیکھنا چاہیے،لیکن بد قسمتی سے اس کے برعکس خالصتانی علیحدگی پسندوں کے پاکستان میں پوسٹر لگے ہونا اس بات کا اشارہ ہے کہ پاکستان بنیادی طور پر ایک پر امن قدم کو بھی اپنی ریشہ دوانیوں کے موقع کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

  دراصل پاکستان کا یہ رویہ ہی ہندوستان کے ساتھ خوشگوار تعلقات یا معمول کے تعلقات قائم کرنے میں مانع رہا ہے۔ہندوستان بار بار پاکستان پر یہ واضح کر چکا ہے کہ اگر وہ انسداد دہشت گردی کو ختم کرکے ہندوستان کے ساتھ پر امن بقائے باہمی کے اصول کے تحت اپنے رشتے استوار کرنا چاہتا ہے تو اس کا مثبت جواب دیا جائیگا۔لیکن پاکستان نہ صرف ہندوستان بلکہ عالمی برادری کو بھی اس معاملے میں دھوکہ دیتا رہاہے۔

یہ بات دوہرانے کی ضرورت نہیں کہ کرتار پور گرودوارہ سے دنیا بھر کے سکھوں کے مذہبی جذبات وابستہ ہیں۔اسی لیے جب پاکستان نے ہندوستانی سرحد سے کرتار پور تک ایک کاریڈور بناکر سکھ زائرین کو اس کے لیے کھولنے کا اعلان کیا تو اس قدم کا بڑے پیمانے پر خیر مقدم کیا گیا۔ہندوستانی سکھوں میں بھی اس تعلق سے جوش خروش کا ہونا فطری بات ہے،لیکن ایسے معاملات میں بھی اگر بدنیتی اور پڑوسی ملک ہندوستان میں حالات بگاڑنے کی  نیت کارفرما ہو تو اس پر سخت رخ اختیار کیے جانے کی  ضرورت ہے۔پاکستان میں خالصتان کے علیحدگی پسندوں کے اشتہار لگنا در حقیقت پاکستان کی سازش کا ہی ایک حصہ ہے۔شائد پاکستان اس طرح ہندوستان کے علیحدگی پسند عناصر کی پشت پناہی کا راستہ تلاش کر رہا ہے۔خالصتانی انتہا پسندوں کے پاکستان  خصوصاً پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے رشتے کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔لیکن ان دہشت گردوں کی پشت پناہی کے باوجود پاکستان اپنے ارادوں میں جب کامیاب نہیں ہو سکا تو اب اس نے کرتار پور کے جذباتی ایشو پر اپنا کھیل دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں کرکے کاریڈور کھولنے کے مثبت اور قابل تعریف فیصلے کو بھی متنازعہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ہندوستان اس بات کا دل سے معترف ہے کہ کرتار پور کاریڈور ہندوستان کے سکھ زائرین کو گر نانک دیو کی جائے پیدائش کی زیارت کرانے کا ایک آسان اور بہتر موقع فراہم کریگا،لیکن اس موقع کا پاکستان کے ذریع کسی بھی صورت میں اگر غلط استعمال ہوتا ہے تو ایسی کسی بھی کوشش کو نظر انداز نہیں کیا جائیگا۔ہندوستان اس بات کو دوہراتا رہا ہے کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے بغیر دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کی کوئی گنجائش نہیں ہے اس کے باوجود پاکستان میں خالصتانی انتہاپسندوں کے اشتہار چسپاں ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان دراصل ہندوستان سے رشتے سدھارنے کے تعلق سے سنجیدہ نہیں ہے اور کرتار پور کاریڈور کھولنے جیسے غیر سیاسی معاملے کا استعمال اپنی سیاسی سازشوں کے لیے کرنا چاہتا ہے۔