09.11.2019

۔ پاکستانی میڈیا کے لئے خطرے کی گھنٹی

پیمرا یعنی پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی جس حسن و خوبی کے ساتھ اپنا کام کررہی ہے، اس کا جائزہ جِبران پیش امام    نے لیا ہے۔ دی نیوز آن سنڈے میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں وہ لکھتے ہیں کہ ٹیلی ویژن اینکروں پر دوسرے چینلوں یا اپنے چینل میں بھی دوسرے پروگراموں میں شرکت  کرنے پر پابندی لگانے کا پیمرا کا اقدام میڈیا کے معاملات میں کھلی مداخلت تو ہے ہی ساتھ ہی اس سے یہ پتہ بھی چلتا ہے کہ اس معاملے میں حکومت کی نئی پالیسی کیا ہے حالانکہ اس معاملے میں سخت احتجاج کئے جانے پر پیمرا نے یہ کہہ کر پلہ جھاڑنے کی کوشش کی کہ یہ چینلوں کو دیا جانے والا ایک مشورہ تھا، ہدایت نہیں تھی۔

جبران پیش امام نے اپنے مضمون میں یہ وضاحت کی ہے کہ چینلوں کو پیمرا نے جو خط بھیجا تھا اس میں ‘مشورہ‘ نہیں بلکہ واضح طور پر لفظ ‘ہدایت’ درج تھا۔ وہ لکھتے ہیں کہ اس معاملے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی سرزنش پر پیمرا نے  اپنی ہدایت واپس تو لے لی ہے۔ اب پیمرا کو معمولی تنبیہ اور پابندی ہٹائے جانے کے بعد اینکرز اپنا کام جاری رکھ سکتے ہیں۔

میڈیا پر لگام کسنے کے سلسلے میں حکومت پاکستان کے ذریعہ واپس لئے گئے اس اقدام کے بارے میں جبران پیش امام کی رائے یہ ہے کہ یہ اقدام گزشتہ اقدامات کی طرح جانچ پرکھ کر اور ناپ تول کر نہیں کیا گیا۔اس لئے اس کے مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہوئے اور اس کو واپس بھی لینا پڑا، مگر اس طرح کے اقدام کا حوصلہ پیمرا کو اپنی گزشتہ کامیابیوں سے ہی ملا ہے۔

پیمرا کی گزشتہ کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ پاکستان میں اپریل 2019 میں پیمرا نے ٹیلی ویژن نیوزچینل سے کہا کہ فوج سے ریٹائرڈ ایک دفاعی تجزیہ کار کو کسی پروگرام کیلئے مدعو کرنے سے قبل انہیں آئی ایس پی آر سے اس کی اجازت لینی ہوگی۔ بعد میں آئی ایس پی آر نے اس سلسلے میں منظور شدہ افراد کی ایک فہرست بھی جاری کی تھی۔ اس کو ٹی وی چینلوں نے کسی خاص احتجاج کئے بغیر تسلیم کرلیا تھا۔ یہ اقدام پیمرا کے ردعمل کا اندازہ لگانے کےلئے کیا تھا اور اس کو اس میں کامیابی ملی۔

اس کے بعد مفرور افراد کے انٹرویو کے بارے میں  پیمرا نے مشورہ دیا۔ جبرا ن پیش امام کے مطابق پیمرا نے میڈیا کو مشورہ دیا کہ مفرور افراد کے انٹرویو نہ کرنا اور انہیں کوریج نہ دینا میڈیا کی اخلاقی ذمہ داری ہے کیونکہ اس سے ناظرین کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ اسی زمرے میں سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار بھی آتے ہیں۔ یہ مشورہ بھی اس وقت دیا گیا جب معیشت کی بگڑتی ہوئی حالت کی تپش حکومت پاکستان اور اس کے حامی محسوس کرنے لگے تھے۔

وہ لکھتے ہیں کہ اسحٰق ڈار کے انٹرویو پر پابندی کو میڈیا  نے تسلیم کرلیا تو اس کے بعد ان کے کسی بیان پر رپورٹنگ نہ کئے جانے کا بھی مشورہ دیا گیا اور پھر ان کے اس وقت کے بیانات کو بھی شامل کرنے پر پابندی لگادی گئی جب انہیں مفرور قرار نہیں دیا گیا تھا۔ جبران پیش امام نے خصوصی طور پر  ذکر کیا ہے کہ سابق صدر جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف پر کبھی اس طرح کی پابندی عائد نہیں کی گئی۔ حکومت پاکستان کی موجودہ اقتصادی پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنانے والے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمعٰیل اخبار میں کالم بھی لکھا کرتے تھے۔ ان کو گرفتار کیا گیا اور ان کے معاملے میں بھی میڈیا پر پابندی لگادی گئی۔

جبران پیش امام کی رائے میں اس پابندی کے ساتھ حکومت پاکستان نے جمہوریت کے چوتھے ستون ذرائع ابلاغ کے ایک اہم قلعے پر فتح حاصل کی۔ وہ لکھتے ہیں کہ مفرور افراد کے بعد مجرم قرار دیئے گئے افراد کے انٹرویو پر پابندی عائد کی گئی اور اس نئے زمرے میں مریم نواز کو بھی شامل کیا گیا۔ یہ پابندی اس وقت لگائی گئی جب نواز شریف کو مجرم قرار دینے والے  جج کا ایک متنازعہ ویڈیو سامنے آنے پر مریم نواز کی تحریک زور پکڑ رہی تھی۔

وہ لکھتے ہیں کہ اس کے بعد پیمرا نے ٹی وی چینلوں کے لئے اپنے مشورے میں ان لوگوں کو بھی شامل کرلیا جو کسی عدالت میں الزامات کا سامنا کررہے ہیں۔ اس مشورے کی وجہ سے پاکستان کے سابق صدر آصف علی زرداری کا انٹرویوٹی وی پر شروع کئے جانے کے چند منٹوں بعد ہی ہٹادیا گیا۔ اس کے بعد جبران پیش امام کے مطابق پاکستان کے بدنام احتساب بیورو کے سوالات  کے طریقے پر تنقید کئے جانے پر پیمرا نے عدالت میں زیر غور معاملات پر رائے زنی پر پابندی عائد کردی۔ یہ تمام پابندیاں پیمرا نے محض اپنے مشوروں کے ذریعہ عائد کیں۔ اس کے بعد مولانا فضل الرحمن کے انٹرویو پر پابندی عاید کی گئی۔ ان کی پریس کانفرنس کے کوریج پر بھی پابندی لگائی گئی۔ اس طرح مولانا فضل الرحمن کو ٹی وی اسکرین سے غائب کردیا گیا۔

جبران پیش امام کی رائے میں حکومت پاکستان آہستہ آہستہ پاکستان میں سنسر شپ کے ذکر کے بغیر میڈیا پر مکمل سنسر شپ نافذ کرنا چاہتی ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لئے ٹی وی اینکروں کو متحد ہوکر کارروائی کرنے کی ضرورت ہے اور کسی نہ کسی کو تو خطرے کی گھنٹی بجانے کی ہمت کرنی ہی ہوگی۔

2۔ قرضوں کے سہارے معیشت

غیر ملکی اور بین الاقوامی اداروں کی امداد حاصل کرنے کے معاملے میں پاکستان کو شہرت حاصل ہے۔ فری لانس کالم نگار محمد جمیل کی رائے میں یہ صورتحال پاکستان کے حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے۔ روزنامہ ڈیلی ٹائمز میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں وہ لکھتے ہیں کہ 1958 سے لیکر اب تک پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے ساتھ 22 معاہدے کئے ہیں جن میں موجودہ پی ٹی آئی حکومت کے ساتھ حال ہی میں کیا جانے والا معاہدہ بھی شامل ہے۔ اس سے قبل پی پی پی اور پی  ایم ایل۔ نواز حکومت نے بھی قرض یا بحران سے نکلنے کا پیکج حاصل کرنے کے لئے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کئے ہیں اور آئی ایم ایف کی سخت شرائط کو تسلیم کیا ہے۔

محمد جمیل نے سوال اٹھایا ہے کہ پاکستان جیسے وسائل سے مالا مال ملک کو آئی ایم ایف سے قرض لینے کی ضرورت  آخر کیوں پیش آتی ہے۔ اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی ہے کہ پاکستان کے اخراجات اس کی آمدنی سے زیادہ ہیں اور اس کی درآمدات بھی اس کی برآمدات سے زیادہ ہیں۔ اس خسارے کو پورا کرنے کے لئے پاکستان بینکوں پر انحصار کرتا ہے اور موجودہ چالو کھاتے کے خسارے کو پورا کرنے کے لئے ہی اس نے آئی ایم ایف سے رجوع کیا ہے۔ ان کی رائے میں آئی ایم ایف کی شرائط کا کثیر جہتی اثر پڑتا ہے۔ اس کے باوجود آئی ایم ایف سے قرض حاصل کرنے کےلئے پاکستان مجبور ہے۔ یہ بحران اس کا اپنا پیدا کیا ہوا ہے۔ ایک تو بدعنوانی اس کے علاوہ کاروباری لوگ ٹیکسوں کی ادائیگی سے بچتے ہیں۔

پاکستان بزنس کونسل کی ایک ریسرچ کا حوالہ دیتے ہوئے محمد جمیل لکھتے ہیں کہ حال ہی میں ایک رپورٹ کے مطابق چین سے 12 بلین امریکی ڈالر مالیت کا سامان برآمد کیا جاتا ہے مگر ایس بی پی کے مطابق چین سے درآمد شدہ اشیا کی مالیت 6 بلین امریکی ڈالر رہی۔ اس کامطلب یہ ہے کہ ان دونوں کے فرق کا مال ہنُڈی کے ذریعہ بھیجا گیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ آئی ایم ایف اور عالمی بینک دونوں طاقتور ممالک کے آلہ کار ہیں۔ وہ کسی بھی ملک کی مدد کرنے سے پہلے اپنا مفاد دیکھتے ہیں۔

پی ایم ایل۔ نواز حکومت کے دوران معیشت کو خستہ حالی سے نکالنے سے آئی ایم ایف سے 6.6 بلین امریکی ڈالر  کےقفرض کا معاہدہ کیا گیا تھا۔ محمد جمیل لکھتے ہیں کہ یہ 36 ماہ کا پروگرام تھا جس کا مقصد پاکستان میں افراط زر کی شرح کو نیچے لانا اور مالی خسارے کو کم کرنا تھا۔ اس پروگرام کا مقصد اور زیادہ شمولیت والی ترقی کی اونچی سطح حاصل کرنا تھا۔ یہ کام توانائی کے شعبے کی مشکلات کو دور  کرتے ہوئے کیا جانا تھا۔ اس وقت کے وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے کہا تھا کہ اس سے پاکستان پائیدار ترقی کے راستے پر آگے بڑھے گا۔ لیکن آئی ایم ایف نے اس رقم میں سے 547 ملین امریکی ڈالر ہی پاکستان کو فراہم کرائے ،باقی رقم کےلئے اس نے سخت شرائط عائد کیں، جن کو تسلیم کرلیا گیا۔

محمد جمیل کے مطابق پاکستان کے سابق وزیراعظم شوکت عزیز نے پاکستان کے پاس 15 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ کاغیر ملکی زر مبادلہ ہونے کا ذکر کرتے ہوئے  کہا تھا کہ پاکستان نے بھیک کا کٹورہ توڑ دیا ہے اور اب وہ آئی ایم ایف سے کوئی قرض نہیں مانگے گا تو آئی ایم ایف کی شرائط بھی اسے تسلیم نہیں کرنی ہوں گی  لیکن ان کی مدت کار ختم ہونے کے بعد 6 ماہ کے اندر پاکستان کی معیشت کی خستہ حالی اور زرمبادلہ کے ذخائر کی صورتحال نے پاکستان کی غلط پالیسیوں کی پول کھول دی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ بجٹ کے خسارے کو دور کرنے کے لئے اشیائے صارفین کی قیمتوں میں اضافے، بالواسطہ ٹیکسوں کے اضافی  بوجھ، چھٹنی اور نجکاری سے سب سے زیادہ پاکستانی عوام متاثر ہوئے ہیں۔