10.11.2019

پاکستان: صحافت کی حالت زار

پاکستان میں صحافت اور پریس کی آزادی کے حوالے سے جو تصویر اس وقت ہمارے سامنے ہے اس کا کوئی بھی پہلو روشن نظر نہیں آتا۔ فوجی حکومتوں کو چھوڑیئے، آزادی اظہار کے حوالے سے اُن حکومتوں کا رویہ انتہائی افسوسناک ہے جو جمہوری طور پر منتخب ہوکر آئی ہیں۔ بات صرف اتنی ہے کہ سیاستداں صحافیوں کو اپنے آلہ کار اور ماؤتھ پیس کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ایسا نہ ہونے پر ان صحافیوں کو حق گوئی اور بے باکی کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔

اسی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے معروف کالم نگار جناب کمال صدیقی نے روزنامہ دی ایکسپریس ٹری بیون میں تحریر کیا ہے کہ 2نومبر کو صحافیوں کے خلاف جرائم میں سزا سے بریت کے خاتمے کے حوالے سے عالمی دِن کے طور پر منایا جانا ہے۔ اس دن نہ صرف مقتول صحافیوں کو ہم یاد کرتے ہیں بلکہ یہ بھی کہ بہت سے ممالک میں آج بھی صحافیوں کے قاتل قانون کی گرفت سے بچ نکلتے ہیں۔ 

میڈیا پر نظر رکھنے والے ایک ادارے ‘‘فریڈم نیٹ ورک’’  کے مطابق پاکستان میں گزشتہ چھ برس میں 33 صحافی ہلاک کئے گئے جن میں سات صرف پچھلے ایک سال میں مارے گئے۔ 

اس کی رپورٹ کا عنوان ہے ‘‘قاتلوں کو صد فی صد بریت،مقتول صحافیوں کو انصاف نہیں کے برابر : پاکستان کی صحافتی دنیا میں جرم و سزا کی صورتحال۔’’اس میں بتایا گیا ہے کہ نومبر 2018 اور اکتوبر 2019 کے درمیان ہلاک شدہ 7 صحافیوں کے معاملے میں ایف آئی آر بھی درج کی گئیں اور فرد جرم داخل کی گئیں لیکن کوئی بھی مقدمہ پایۂ تکمیل تک نہ پہنچ سکا۔ یہی نہیں، ایسے مجرموں کی بریت کے حوالے سے پاکستان دنیا بھر میں سرفہرست ہے۔ یہ رپورٹ ایف آئی آر کے مطالعے اور مقتول صحافیوں کے اعزاء، وکلاء اور ساتھیوں کے بیانات پر مبنی ہے۔ 

کمال صدیقی مزید کہتے ہیں کہ 2013 اور 2019 کے درمیانی وقفہ میں 33صحافی مارے گئے۔ ان میں 32 کی ایف آئی آر درج کی گئی۔ ان میں سے بھی صرف 20 معاملات کو عدالت نے قابل تفتیش گردانا اور انہیں کی فرد جرم داخل کی گئی۔ ان 20 میں سے صرف 6 مقدمات ہی فیصل کئے جاسکے۔ لیکن ان میں مجرم ٹھہرائے گئے لوگ اپیل کرنے کے بعد بری ہوگئے ا ور مقتولین کے اہل کنبہ کو وسائل کی قلت کی بنا پر چارہ جوئی سے دستبردار ہونا پڑا۔ اس کی ایک وجہ مجرموں کی طرف سے ملنے والی دھمکیاں بھی تھیں۔ 

صحافیوں کے تحفظ سے متعلق کمیٹی   (سی پی جے) کے مطابق یہ صورتحال افغانستان ، پاکستان، روس اور دس دیگر ممالک میں زیادہ سنگین ہے۔ ‘‘میڈیا فریڈم’’  کی اطلاع کے مطابق ان ممالک میں جرائم پیشہ گروہ، سیاستداں، سرکاری افسران اور دیگر طاقتور افراد تنقیدی اور تفتیشی رپورٹنگ کا گلا گھونٹنے کے لئے تشدد کا استعمال کرتے ہیں۔ اس کی درجہ بندی میں پاکستان کا مقام آٹھواں ہے جہاں ایسے حل طلب کیسوں کی تعداد 16 بتائی گئی ہے۔ سی پی جے کے مطابق ان 13 ممالک میں گزشتہ دس برسوں میں ایسی ہلاکتوں  کے 222 معاملات سامنے آئے جن میں سے بہت سوں کا تعلق جنگ اور عوامی شورش سے تھا۔ 

اس کے علاوہ انٹرنیشنل پریس انسٹی ٹیوٹ (آئی پی آئی) نے 2نومبر کے حوالے سے ایک بیان میں کہا ہے کہ جمہوری حکومتیں صحافیوں کاتحفظ کرنے، اُن کے خلاف کئے جانے والے جرائم، نیز اُن کی ہلاکتوں کی تفتیش کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ 

ادارے کے مطابق گزشتہ برس کے دوران 40صحافی اپنی جان سے ہاتھ دھوچکے ہیں۔ ان میں 25 کو نشانہ بناکر قتل  کیا گیا تھا۔ ان کا قصور یہ تھا کہ اُنہوں نے اپنی رپورٹنگ سے بدعنوانی اور جرائم پیشہ عناصر کی سرگرمیوں سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی تھی۔ ادارے نے افغانستان، شام اور یمن سے بھی ایسی مثالیں پیش کی ہیں اور عموماً جمہوری حکومتوں میں اِن واقعات کے ہونے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ 

آخر میں صدیقی کہتے ہیں کہ صحافت کی آواز کو اس طرح دبایا نہیں جاسکتا۔ بدعنوانی اور غلط کاریوں پر سے پردہ اٹھایا جانا ہی چاہئے۔ ذرائع ابلاغ جمہوریت کے ایک مضبوط ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔اس ادارے کے مؤثر طور پر کام کرنے کے لئے ضروری ہے کہ صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنایاجائے۔اگر ایسا انتظام نہیں کیا جاتا ہے، جیسا کہ اس وقت ہم دیکھ رہے ہیں، تو پھر ہم سب کو اس کا خمیازہ بھگتنے کے لئے تیار رہنا چائے۔ ان ہلاکتوں پر مجرمانہ خاموشی کا اب پاکستان متحمل نہیں ہوسکتا۔ 

پاکستان: لبوں پر مہر لگی ہے

اپنے مخالفین کی آواز کو دبانا اکثر سیاستدانوں اور عموماً حکمرانوں کا ہمیشہ سے وتیرہ رہا ہے اور یہ بات کسی ایک ملک یا خطے کے سیاستدانوں یا رہنماؤں کے ساتھ مخصوص نہیں ہے، بلکہ اس کے نظارے تقریباً ہر جگہ دیکھنے کو مل جاتے ہیں۔ پاکستان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ بلکہ یہاں تو اس کارخیر میں سیاستدانوں اور حکمرانوں کے ساتھ ساتھ مذہبی رہنما بھی شامل ہوجاتے ہیں۔ نتیجے میں عوام کو جس طرح کے مسائل ومصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ اس وقت سب کے سامنے ہے۔ 

انہی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے تجزیہ نگار محترمہ رفیعہ ذکریا   روزنامہ ‘‘ڈان’’ میں تحریر کرتی ہیں کہ اپنے ظاہر وباطن کو سنوارنا انسان کا اپنا کام ہے، کوئی دوسرا اس میں کچھ نہیں کرسکتا۔ 

اس کے بعد وہ کہتی ہیں کہ اس وقت ملک کے کچھ حصوں سے انسانی سیلاب آزادی کا مطالبہ کرنے کے لئے  اسلام آباد میں امنڈپڑا ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی آزادی کا مطالبہ تو کررہے ہیں مگر اس کے لئے یہ دوسروں کو پابند سلاسل کرنا بھی ضروری سمجھتے ہیں۔ 

لیکن اسی ماحول میں کہ جب لفظ آزادی کی تشریح وتعبیر پر سوال اُٹھائے جارہے ہیں، اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک جرأت مندانہ قدم کی تعریف ہر طرف کی جارہی ہے۔ اس عدالت نے ایک کیس میں عوامی ورکرس پارٹی (اے ڈبلیو پی) کے حق میں جو فیصلہ صادر کیا اسے کولمبیا یونیورسٹی نے اپنے گلوبل فریڈم آف ایکسپریشن ڈاٹا بیس   میں شامل کرلیا ۔ اس ڈیٹا بیس میں دنیا بھر سے اظہار رائے کی آزادی سے متعلق اہم ترین مقدمات کو جگہ دی جاتی ہے۔ عوامی ورکرس پارٹی بنام پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے نام سے اس مقدمہ میں 19ستمبر 2019 کو فیصلہ سنایا گیا تھا۔ 

بات یہ تھی کہ 2018 میں انتخابی مہم کے دوران اے ڈبلیو پی کی ویب سائٹ کو پی ٹی اے نے بلاک کردیا تھا۔ پارٹی  نے اس کے خلاف عدالت میں عرضی دائر کی تھی۔ پی ٹی اے کی طرف سے اپنے دفاع میں دلیل یہ دی گئی کہ اُسے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ   (پی ای سی اے) 2016 کے تحت ایسا کرنے کا حق حاصل ہے اور قومی سلامتی کے پیش نظر اپنے آزادانہ قیاس کی بنیاد پر کسی بھی جماعت یا تنظیم کی ویب سائٹ کو وہ بلاک کرسکتے ہیں۔

جبکہ استغاثہ کا عندیہ تھا کہ ایسے کسی بھی قانون کی تدوین کیلئے آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق سے صرفِ نظر نہیں کیا جائیگا۔ پی ٹی اے کے وکلاء نے یہ تو مانا کہ ایسی کسی شرط پر عمل نہیں کیا گیا لیکن یہ بھی کہا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ حکومت ویب سائٹ کو بلاک نہیں کرسکتی۔ 

جسٹس اطہر من اللہ کا دو ٹوک فیصلہ یہ تھا کہ بنیادی حقوق کی شرائط سے صرف نظر کرکے پی ٹی اے کوئی حکم جاری  نہیں کرسکتی۔ نیز یہ کہ ویب سائٹ بلاک کرنے کے سلسلے میں ضابطے وضع کرنا اور اُن کا نوٹیفکیشن جاری کرنا اتھارٹی کی ذمہ داری ہے۔ ان ضوابط کی تشکیل کے لئے عدالت نے اتھارٹی کو 90 دن کا وقت دیاتھا۔ 

تجزیہ نگار کے خیال میں یہ قابل غور ہے کہ حکومت نے آن لائن مواد پر پابندی کا اقدام کیا، جبکہ آف لائن، تقاریر وغیرہ کو چھوڑ دیا۔ اس میں حکومت کی جو غرض رہی ہوگی وہ اس بات سے سمجھ میں آسکتی ہے کہ ملک میں کچھ تحریکوں کو ان کی تمام تر زہر افشانیوں کے باوجود کھلی چھوٹ دے دی جاتی ہے۔ ان کی وجہ سے عام لوگوں کی زندگی عذاب بن جاتی ہے۔ قومی املاک کو زبردست نقصان ہوتا ہے۔ 

قوانین اور آزادیوں کے نقشۂ عمل اور جن کے خلاف انہیں نافذ کیا جانا ہے اُن کے طرز فکر وغیرہ کے پیش نظر طے کیا جاتا ہے کہ کس کو سناجائے اور کس کو دیکھا جائے۔ آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو حق گوئی اور راست بازی کے محافظ ہیں ۔ جسٹس اطہر      من اللہ اُس کی ایک روشن مثال ہیں۔ آج کے دور پُرفتن میں، جب قومی اداروں کا اعتبار اٹھتا جارہا ہے ، ایسے افراد لائق صد تحسین اور دوسروں کے لئے مشعل راہ ہیں۔ 

رفیعہ ذکریا اس امید کے اظہار کے ساتھ اپنی بات ختم کرتی ہیں کہ مستقبل میں اس منصب پر فائز دیگر افراد بھی اُن کی پیروی کریں گے اور اشتعال انگیز تقریریں کرنے والوں کے خلاف بھی ویسے ہی قوانین کا استعمال کیاجائیگا جو ویب سائٹ اور انٹرنیٹ استعمال کرنے والی تنظیموں کے خلاف بروئے کار لائے جاتے ہیں۔