28.11.2019

 1.جموں و کشمیر میں دہشت گردانہ واقعات تقریباً نہ کے برابر، راج ناتھ کا بیان

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ 5، اگست کو دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد سے جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے واقعات تقریباً نہ کے برابر ہیں۔ یہ بات کل انہوں نے پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں بتائی۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی انڈین ایکسپریس تحریر کرتا ہے کہ وزیر دفاع نے ایوان کو بتایا کہ وادی کشمیر میں معمول کے حالات بہت جلد بحال ہوجائیں گی۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ کو ڈی کنّل سریش کی جانب سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ پچھلے 30، 35 برسوں سے جموں کشمیر میں دہشت گردانہ واقعات ہورہے ہیں اور میں پورے یقین کے ساتھ یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد سے وہاں دہشت گردی کے واقعات تقریباً نہ کے برابر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک دہشت گردانہ واقعات کا تعلق ہے تو یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ گزشتہ ساڑھے پانچ برسوں میں جموں و کشمیر کو چھوڑ کر ملک میں کہیں بھی کوئی واقعہ  پیش نہیں آیا ہے۔

اسی دوران ایوان بالا میں ایک سوال کے جواب میں وزیر مملکت برائے امور داخلہ جی کشن ریڈی نے کہا کہ 5 اگست کو حکومت کی جانب سے لئے گئے فیصلے کی وجہ سے آمدنی اور روزگار کو جو نقصان ہوا ہے، حکومت کے پاس اس کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ ایک دوسرے سوال کا جواب دیتے ہوئے جناب ریڈی نے کہا کہ 5 اگست کے بعد مرکزی حکومت نے کشمیر میں کوئی اضافی پیسہ خرچ نہیں کیا ہے۔ اس سلسلے میں ٹی ایم سی کے رکن پارلیمنٹ شانتا چھیتری نے پوچھا تھا کہ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد سے مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر کے مرکز کے زیر انتظام علاقے پر کتنا اضافی پیشہ خرچ کیا ہے۔

ادھر  وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ 5 اگست کے بعد کشمیر میں جو اضافی فورسز بھیجی گئی تھیں، انہیں واپس بلالیا گیا ہے۔ نئی دہلی میں ایک نجی نیوز چینل کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب میں انہوں نے کہا کہ اس وقت کشمیر میں اتنی ہی فوجیں ہیں جتنا کہ ماضی میں تھیں۔

 

2۔ خلاء سے دشمنوں پر نظر رکھنے کے لئے کارٹو سیٹ۔3 سیٹلائٹ کیا گیا لانچ

ہندوستانی خلائی ایجنسی، اسرو نے ایک اہم سنگ میل طے کرتے ہوئے سری ہری کوٹہ کے ستیش دھون خلائی مرکز سے کارٹو سیٹ۔3 کے ساتھ امریکہ کے 13 نینو سیٹلائٹس کو کل کامیابی کے ساتھ خلا میں چھوڑا۔ کارٹوسیٹ۔3 دنیا کا سب سے تیز نظر والا ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ ہے۔ اس خبر کو بیشتر اخبارات نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی ہندو تحریر کرتا ہے کہ لانچ کے 17 منٹ 42 سکینڈ بعد یہ سیٹلائٹ اپنی لانچ وہیکل سے الگ ہوکر زمین سے 509 کلومیٹر اوپر مدار میں جاکر قائم ہوگیا۔ اس کا کیمرہ اتنا طاقتور ہے کہ یہ زمین پر 25 سینٹی میٹر کی چیز کی بھی صاف تصویر لے سکے گا۔ یعنی سڑک پر دوڑتی گاڑی کے نمبر، ہاتھ میں موبائل، اسلحے سب کچھ دیکھ سکے گا۔ یہ گاڑی چلانے والی کی تصویر بھی کھینچ سکے گا۔ کارٹو سیٹ۔3 سے سرحد پار کی دہشت گردانہ سرگرمیوں پر باریک نظر رکھی جاسکے گی۔ ابھی تک سب سے تیز نظر رکھنے والا سیٹلائٹ امریکی کمپنی میکسر کا ورلڈ ویو۔3 تھا جو 31 سینٹی میٹر کی کسی چیز کی تصویریں کھینچ سکتا تھا۔

 

3۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل باجوہ کی ملازمت میں توسیع پر سپریم کورٹ نے کی حکومت سے وضاحت طلب

پاکستان کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے فوج کے سربراہ کو ایک ‘‘شٹل کاک’’ میں تبدیل کرنے کے لئے اٹارنی جنرل انور منصور خاں کی سرزنش کرتے ہوئے عمران خان حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ فوج کے سربراہ قمر جاوید باجوہ کی ملازمت میں توسیع سے متعلق فیصلہ پر دوبارہ غور کریں۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے نمایاں طور پر شائع کیا ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی انڈین ایکسپریس لکھتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے 19 اگست کو سرکاری نوٹی فکیشن کے ذریعہ جنرل باجوہ کی ملازمت میں تین سال کی توسیع کردی تھی اور علاقہ میں سلامتی کی صورتحال کو اس کی وجہ بتائی تھی۔ سپریم کورٹ، جنرل باجوہ کی ملازمت میں توسیع کے خلاف ایک عرضداشت کی سماعت کررہا تھا۔ جنرل باجوہ کی ملازمت آج آدھی رات کو ختم ہورہی ہے اور اگر اس سے پہلے سپریم کورٹ نے ان کے حق میں فیصلہ دیا تو وہ فوج کے سربراہ کی حیثیت سے اپنی ملازمت جاری رکھ سکتے ہیں۔ چیف جسٹس کھوسہ نے کہا کہ حکومت کو دوبارہ غور کرنا چاہیے کہ آخر وہ کرکیا رہی ہے۔ اسے اپنے فیصلہ پر از سر نو غور کرنے کے لئے ابھی بھی وقت ہے ۔ چیف جسٹس کھوسہ نے کہا کہ وزیراعظم نے صدر کو جو سمری  بھیجی، اس میں فوج کے سربراہ کی دوبارہ تقرری کی بات کہی گئی ہے جبکہ صدر نے ان کی ملازمت میں توسیع کے لئے نوٹی فکیشن جاری کردیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو یہ بات واضح کرنا ہوگی کہ آیا وہ جنرل باجوہ کی ملازمت میں توسیع چاہتی ہے یا پھر انہیں دوبارہ تقرری دینا چاہتی ہے۔

اسی دوران اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک خصوصی ٹریبیونل کو جنرل پرویز مشرف کے خلاف غداری کے ایک مقدمہ کا فیصلہ سنانے سے روک دیا ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی اسٹیٹسمین تحریر کرتا ہے کہ عدالت اعلی نے خصوصی عدالت کو حکم دیا کہ وہ فی الحال فیصلہ نہ سنائے اور فیئر ٹرائل کے تقاضے کو پور اکرتے ہوئے فریقین کو سن کر فیصلہ کرے۔ عدالت عظمی نے یہ بھی کہا کہ پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر کا موقف بھی سنا جانا چاہیے۔ خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کی عدالت سے مسلسل غیر حاضری اور بیان ریکارڈ نہ کرانے کی وجہ سے انہیں اشتہاری قرار دے دیا تھا اور ان کے وکیل کو عدالت میں اپنے موکل کی پیروی سے بھی روک دیا تھا۔

 

4۔ ڈھاکہ  کیفے پر حملے میں ملوث 7 افراد کو سزائے موت

بنگلہ دیش کی ایک خصوصی عدالت نے 2016 میں دارالحکومت ڈھاکہ میں ایک کیفے پر حملے میں ملوث 7 افراد کو سزائے موت سنادی ہے۔ اس حملے میں ایک ہندوستانی طالبہ سمیت بیس لوگ ہلاک ہوگئے تھے۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ ٹائمز آف انڈیا تحریر کرتا ہے کہ فیصلہ سناتے ہوئے خصوصی عدالت کے جج نے کہا کہ حملہ آور عوام کے تحفظ کو متاثر کرنے کے علاوہ ملک میں انتشار پیدا کرنا چاہتے تھے۔ وہ ایک جہادی ریاست قائم کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ جج نے فیصلہ میں کہا کہ ان 7 مجرموں کو اس وقت تک پھانسی پر لٹکے رہنے دیا جائے جب تک انہیں مردہ قرار نہیں دے دیا جاتا۔ تاہم عدالت نے آٹھویں ملزم کو رہا کردیا۔ خیال رہے کہ رائفلوں اور خنجروں سے لیس افراد نے ڈھاکہ کے علاقہ گلشن میں واقع ایک کیفے میں حملہ کیا تھا جس میں 7 جاپانی اور 9 اطالوی شہری جبکہ بنگلہ دیش پولیس کے دو اہلکار بھی ہلاک ہوئے تھے۔

 

5۔ مواخذے کی کارروائی: صدر ٹرمپ کو سماعت میں شرکت کی دعوت

امریکی ایوان نمائندگان کی جوڈیشری کمیٹی نے صدر ٹرمپ کو مواخذہ کی تحقیقات کے سلسلے میں 4 دسمبر کو کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کےلئے مدعو کیا ہے۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے۔ روزنامہ ایشین ایج تحریر کرتا ہے کہ کمیٹی کے چیئرمین ڈیموکریٹ جیرولڈ نیڈلر  نے کہا کہ مسٹر ٹرمپ یا تو تحقیقات کے عمل میں شامل ہوں یا پھر اس کے خلاف شکایتیں کرنا بند کردیں۔ صدر ٹرمپ کو ارسال کردہ ایک خط میں انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ وہ مواخذہ کی تحقیقات کے سلسلہ میں کمیٹی کے سامنے ضرور پیش ہوں گے کیونکہ یہ کمیٹی آئین کے تقاضوں کے مطابق تشکیل دی گئی ہے۔ پچھلے ہفتہ ایوان کے ذریعہ منظور شدہ ضوابط کے تحت صدر ٹرمپ کو کمیٹی کی سماعت میں شرکت کرنے کے لئے موعو کیا گیا ہے اور صدر کا وکیل کسی بھی گواہ سے جیسے کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کے لئے طلب کیا گیا ہو،سوال پوچھ سکتا ہے۔

 

6۔  مظاہرین نے 731 بینکوں اور 140 سرکاری عمارتوں کو کیا نذر آتش، ایران کا دعویٰ

ایران کے وزیر داخلہ عبدالرضا رحمانی فاضل نے کہا ہے کہ ملک میں حالیہ مظاہروں کے دوران 731 بینکوں اور 140 سرکاری عمارتوں کو نظر آتش کیا گیا۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی ہندوستان ٹائمز تحریر کرتا ہے کہ جناب فاضل نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز  جن اڈوں کو استعمال کررہی تھیں، ان میں سے 50 سے زیادہ پر حملے کئے گئے اور تقریباً 70 پٹرول پمپوں کو آگ کے حوالے کیا گیا۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ واقعات کہاں رونما ہوئے۔ لندن کی ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پیر کے روز کہا تھا کہ تشدد کے دوران کم از کم 143 افراد ہلاک ہوئے ہیں تاہم ایران نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی اس رپورٹ کو مسترد کردیا ہے۔ جناب رحمانی نے کہا کہ  گیس کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف تقریباً دو لاکھ لوگوں نے ملک گیر احتجاجات میں شرکت کی۔ ادھر عراق میں جاری تشدد کے دوران بغداد اور ملک کے جنوبی علاقہ میں چھ افراد سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے گئے۔ عراق کی جدید تاریخ میں یہ آج تک کی سب سے بڑی احتجاجی تحریک ہے جس میں اب تک کم از کم 350 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

*****