29.11.2019

1اودھو ٹھاکرے نے مہاراشٹر کی نئی سیکولر حکومت کے وزیراعلی کے طور پر حلف لیا 

شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے نے جمعرات کو مہاراشٹر کے وزیراعلی کے عہدے کا حلف اٹھالیا۔ ان کی حلف برداری تقریب میں بڑی تعداد میں ملک کی سیاسی اور کاروباری شخصیتیں موجود تھیں۔ دی ایشین ایج کے مطابق ان کی حلف برداری تقریب میں مکیش امبانی سمیت کئی ریاستوں کے وزرائے اعلی موجود تھے۔ اس موقع پر شیواجی پارک میں تقریباً پچاس ہزار کا مجمع بھی تھا۔ جناب ادھو ٹھاکرے نے شیوسینا، کانگریس اور این سی پی اتحاد ‘مہاوکاس اگھادی’ کے وزیراعلی کے طور پر حلف لیا۔ انہوں نے کم سے کم مشترکہ پروگرام کے بارے میں بھی بتایا اور کہاکہ وہ سیکولر اقدار پر قائم رہیں گے۔ جیسا کہ ہمارے آئین میں ذکر ہے۔ ان کے ہمراہ تینوں پارٹیوں کے دو دو ارکان نے بھی وزیر کے طور پر پر حلف لیا۔  

2 پاکستان کے سپریم کورٹ نے جنرل باجوا کی مدت کار کی توسیع کو تین سال سے کم کرکے 6 ماہ کیا 

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے فوجی سربراہ کی ملازمت میں توسیع کے تنازعے کو درست ثابت کرنے کیلئے حکومت کو چھ ماہ کا وقت دیا ہے۔ پاکستان میں اس غیرمعمولی اقدام نے حکومت اور عدلیہ کو آمنے سامنے  کھڑا کردیا تھا۔ انڈین ایکسپریس کی ایک خبر کے مطابق گزشتہ اگست میں وزیراعظم عمران خان کی کابینہ نے یہ کہتے ہوئے کہ خطہ میں ہندوستان کے ساتھ محاذ آرائی کے سبب قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔ جنرل قمرجاوید باجوا کی ملازمت میں تین سال کی توسیع کی جاتی ہے۔ لیکن منگل کو اچانک سپریم کورٹ نے توسیع کو معطل کردیا اور کہاکہ حکومت اس سلسلے میں قانونی تفصیلات پیش کرے جن کے تحت ان کی ملازمت میں توسیع کی گئی تھی۔ 

جمعرات کو عدالت نے باجوا کی مدت ملازمت میں صرف چھ ماہ کی توسیع منظور کی اور کہاکہ حکومت پارلیمنٹ میں اس سلسلے میں قانون منظور کرے اور واضح کرے کہ مسلح افواج کی کس دفعہ کے تحت یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے مزید کہاکہ توسیع دینے کے بارے میں ہم عدالت کی جانب سے نرمی برت رہے ہیں وہ اس سے متعلق قانون  بنایا جائے۔ 

وزیراعظم عمران خان نے اس فیصلہ کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ افسوس کی بات ہے کہ کچھ لوگ اداروں کے درمیان رسہ کشی کا ماحول دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ ملک میں عدم واستحکام کے حالات پیدا ہوں۔ انیس سو اسی میں باجوا نے ایک  آرمی افسر کی حیثیت سے فوج میں تقرری حاصل کی تھی اور ہندوستان وپاکستان کی دو جنگوں کے دوران ان کی تعیناتی فیلڈ کمانڈر کی حیثیت سے رہی تھی۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے دو ہزار سولہ میں ان کی تقرری اہم عہدے پر کی تھی۔ ایک وزیر نے بتایا کہ جنرل کو حکومت  کے کلیدی شعبوں میں کنٹرول کرنے میں زیادہ دلچسپی ہوگی۔

پاکستان کی ایک خصوصی عدالت نے سابق ڈکٹیٹر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کو غداری کیس میں پانچ دسمبر تک اپنا بیان قلمبند کرانے کی اجازت دے دی ہے لیکن اسی کے ساتھ عدالت نےیہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ بیان سپریم کورٹ کی ہدایت پر ہوگا نہ کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر ۔ اخبار ٹریبیون کی اطلاع کے مطابق اسلام آباد کی پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کی قیادت والی خصوصی بینچ نے جمعرات کو کہاکہ خصوصی ٹریبیونل صرف سپریم کورٹ کی ہدایات کا پابند ہے، ہائی کورٹ کی ہدایات کا نہیں۔ اخبار مزید لکھتا ہے کہ جسٹس وقار نے کہاکہ بینچ اسلام آباد ہائی کورٹ پر کسی بھی طرح کے ردعمل کا اظہار نہیں کرے گی بہرحال انہوں نے 76 سالہ پرویز مشرف کو پانچ دسمبر تک اپنا بیان قلمبند کرانے کا حکم دیا ہے۔ 

3 وزیراعظم عمران خان خود اپنی بھول بھلیاں میں پھنسے

پاکستان میں فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوا کی مدت کار میں توسیع کے تنازعہ پر سپریم کورٹ کے فیصلہ پر اخبار دی ہندو اپنے اداریئے میں رقمطراز ہے کہ جنرل باجوا کی مدت کار میں جس طرح توسیع کی گئی ہے وہ عمران خان کی حکومت کیلئے باعثِ گرفت ہے کیونکہ اس میں آئینی ضابطوں کی تکمیل نہیں کی گئی اور وہ خود اپنی بھول بھلیاں میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ عمران خان نے پہلی بار توسیع کا حکم نامہ 19؍اگست کو جاری کیا تھا جبکہ آئین کی دفعہ 243 میں واضح طور پر تحریر ہے کہ فوجی سربراہ کی تقرری کا اختیار صدر کے پاس ہے جبکہ صدر پہلے ان کی توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کرچکے تھے ان کی مدت کار کی میعاد جمعرات کی شب کو ختم ہورہی تھی۔ اب سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ حکومت اس سلسلے میں ایک دوسرا نوٹیفکیشن جاری کرے۔ حکومت نے کابینہ کی ہنگامی میٹنگ بلا کر اور فوجی قوانین کے ضابطہ 255 کا حوالہ دے کر مدت کار میں توسیع کردی لیکن عدالت نے اسے تسلیم نہیں کیا اور کہا کہ حکومت ایک اور نوٹیفکیشن پاس کرکے اسے پارلیمنٹ میں منظور کرائے تاکہ اس مسئلہ پر غلط فہمی کو دور کیا جاسکے۔ اخبار اپنے اداریہ میں مزید تحریر کرتا ہے کہ عمران خان کو اس پر احتیاط کے ساتھ قدم اٹھانا ہوگا۔ اس کے لئے انہیں حزب اختلاف سے مشورہ کرنا ہوگا اور پارلیمنٹ میں اتفاق رائے پیدا کرکے قانون کو منظور کرانا ہوگا اور یہ ایک تاریخی موقع ہوگا جب عوام کو احساس ہوگا کہ مسلح افواج وفاقی حکومت کی کمان میں ہے۔ 

4 ہانگ کانگ پر امریکی بل کی چین کی جانب سے مذمت 

امریکہ نے ہانگ کانگ میں جمہوریت کی حمایت میں ایک بل پر دستخط کردیئے ہیں جبکہ چین نےامریکہ کے اس اقدام کی یہ کہتے ہوئے مذمت کی ہے کہ یہ اس کے ملک کے اندرونی معاملات میں ایک بڑی مداخلت ہے۔ ہندوستان ٹائمز کی ایک خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہانگ کانگ میں انسانی حقوق اور جمہوریت سےمتعلق بل دوہزار انیس پر دستخط کردیئے ہیں۔ اس بل سے واشنگٹن کو یہ اختیار مل گیا ہے کہ وہ اس بات پر نظر رکھے کہ  چین کے اس خودمختار شہر کو مناسب خودمختاری حاصل ہے کہ نہیں۔ چین امریکہ پر الزام لگاتارہا کہ وہ دوسرے مغربی ملکوں کی طرح ہانگ کانگ میں جمہوریت حامیوں کی مدد کررہا ہے اس سے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات اور تجارت متاثر ہورہی ہے۔ چین کی وزارت خارجہ نے جمعرات کو ایک بیان میں کہاکہ امریکی حکومت کے اس اقدام سے ہانگ کانگ میں صریح مداخلت ہوتی ہے اور یہ نہ صرف بین الااقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ بین الاقوامی تعلقات کے بھی منافی ہے۔ چنانچہ چینی حکومت اور عوام اس اقدام کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکہ اب مزید غلط راستے پر نہ چلے ورنہ چین بھی جوابی کارروائی کرے گا اور اس کے نتائج امریکہ کو بھگتنے ہوں گے۔ امریکہ کی جانب سے سخت اقدام اس وقت سامنے آیا جب چین کے وزیر خارجہ نے امریکی سفارت کار کو طلب کیا۔ یہ دوسری بار ہے جب انہیں چینی وزارت خارجہ میں طلب کیا گیا۔ 

5 عراق میں مظاہرین کے خلاف کارروائی میں پندرہ ہلاک 

عراق کی مسلح افواج نے شورش زدہ جنوبی علاقے  میں بڑے پیمانے پر کارروائی کی جس میں پندرہ افراد ہلاک ہوگئے۔  تشدد کے دوران حکومت مخالف مظاہرین نے ایک ایرانی سفارت خانہ کو نذرآتش کردیا۔ اخبار دی اسٹیٹس مین کی ایک رپورٹ کے مطابق عراق کی راجدھانی بغداد اور اس کے جنوب میں 2003 کےا مریکی حملوں کے بعد سے ہنگامے جاری ہیں۔ انہیں حملوں کے دوران صدام حسین کی حکومت کا خاتمہ  ہوا۔ مظاہرین میں نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے اور ان کی حمایت پڑوسی ایران کررہا ہے۔ گزشتہ بدھ کو نجف کے شہر میں ایران کے قونصلیٹ میں آگ لگا دی گئی تھی۔ اس پر ایران نے عراق کی مذمت کی تھی۔ وزیراعظم عبدل عبدل مہدی نے فوجی افسروں کو فوری طور پر احکامات جاری کئے ہیں کہ متاثرہ علاقوں میں فوج بھیجیں۔ خود ان کا وطن نصیریہ جو ایک جنوبی شہر ہے گزشتہ کئی ہفتوں سے جنگ کا میدان بنا ہوا ہے۔ انہوں نے فوج سے کہا ہے کہ امن وقانون جلد سے جلد بحال کیا جائے۔ اخبار مزید لکھتا ہے کہ فوجی ذرائع سے موصولہ اطلاع کے مطابق دو پلوں پر دھرنا دینے والوں کو منتشر کرنے کیلئے سلامتی دستوں نے فائرنگ کی جس میں 15 افراد ہلاک اور ایک سو پچاس سے زائد زخمی ہوگئے۔ مظاہرین نے اشتعال میں ایک پولیس اسٹیشن کو بھی نذرآتش کردیا۔ اکتوبر سے جاری تشدد میں اب تک تین سو 70 افراد ہلاک اور پندرہ سو سے زائد لوگوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ 

6 مالدیپ کے سابق صدر کو منی لانڈرنگ کے جرم میں جیل  

مالدیپ کے سابق صدر عبداللہ یامین کو منی لانڈرنگ کے جرم میں پانچ سال قید کی سزا دی گئی ہے۔ اس موقع پر عدالت میں موجود ان کے حامیوں نے نعرے بازی کی اور انہیں بے گناہ بتایا۔ ٹریبیون کی خبر کے مطابق عبداللہ یامین نے پانچ سال تک بہت ہی مضبوطی کے ساتھ حکومت کی تھی اور غیرمتوقع طور پر گزشتہ برس انتخاب ہار گئے تھے۔ اسی کے بعد ان کے خلاف منی لانڈرنگ کی تفتیش چل رہی تھی جس میں وہ قصوروار پائے گئے۔ ان پر الزام تھا کہ ایک جزیرہ پر ہوٹل کی تعمیر کے لئے انہوں نے ایک کمپنی سے ایک ملین ڈالر کی رقم حاصل کی تھی جبکہ وہ اس سلسلے میں کئی بار تردید کرچکے ہیں۔