موضوع: صدر گوت بایا کے دورے سے ہند-سری لنکا رشتے ہوئے مضبوبط

سری لنکا کے کسی بھی نومنتخب صدر یا وزیراعظم کا سب سے پہلے ہندوستان کا دورہ کرنا کوئی غیرمعمولی بات نہیں ہے۔ صدر گوت بایا نے بھی اپنا عہدہ سنبھالنے کے دس دن بعد سب سے پہلے نئی دہلی کا اپنا سرکاری دورہ کیا۔ ایسا ماضی میں بھی ہوچکا ہے۔ ہندوستان اور سری لنکا کے درمیان تعلقات ہمیشہ اچھے رہے ہیں۔ان تعلقات میں ہمیشہ گرمجوشی دیکھنے کو ملی ہے۔ تاہم دونوں ملکوں کے درمیان بعض معاملوں میں کبھی کبھی نظریات کا اختلاف رہا ہے جسے موجودہ حقائق اور حقیقی توقعات کی روشنی میں دور کرنے کی ضرورت ہے۔ گوت بایا کے صدر کی حیثیت سے  انتخاب کے چند ہی دنوں بعد وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ان سے ملاقات کرنے کیلئے کولمبو کا دورہ کیا۔ انہوں نے نئی دہلی کی جانب سے مبارکباد پیش کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی کا ایک خط انہیں سونپا جس میں انہیں ہندوستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔ اس دعوت نامہ کو قبول کرتے ہوئے بالآخر جناب گوت بایا نے سب سے پہلے ہندوستان کا دورہ کیا۔ صدر گوت بایا نے اپنے دورے کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کو بھی سری لنکا کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔ امید ہے کہ جناب مودی کے کولمبو دورے کی تفصیلات جلد طے کرلی جائیں گی۔ 

ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے گوت بایا کے انتخاب کے فوراً بعد سری لنکا کے دورے پر جانے اور صدر گوت بایا کے سب سے پہلے نئی دہلی کے سرکاری دورے پر آنے سے ثابت ہوتا ہے کہ دونوں ممالک اپنے تعلقات پر ماضی کے نظریات کو حاوی ہونے نہیں دینا چاہتے۔ دونوں کے درمیان نظریات میں اختلاف خاص طور پر اس وقت پیدا ہوا جب سری لنکا ایل ٹی ٹی ای کے خلاف جنگ لڑرہا تھا۔ اس وقت مہندا راج پکشے ملک کے صدر اور جناب گوت بایا راج پکشے سکریٹری دفاع تھے۔ اس جنگ میں ہندوستان نے سری لنکا کی مکمل حمایت کی تھی تاہم نئی دہلی نے کولمبو سے یہ اپیل بھی کی تھی کہ وہ تمل آبادی کے ساتھ اچھا سلوک روا رکھے۔

ظاہر ہے نئی دہلی میں بھی بات چیت کے دوران یہ معاملہ زیر بحث آیا۔ تمل ٹائیگرس کو پراست کرکے سری لنکا کی حکومت اپنے مشن میں کامیاب تو ہوگئی لیکن تملوں کا مسئلہ حل نہیں ہوا۔ وہ آج بھی حکومت کی جانب سے اچھے سلوک کے منتظر ہیں۔ ماضی میں کئے گئے وعدوں کے باوجود ان کے ساتھ وہی سلوک روا رکھا جارہا ہے جیسا کہ ماضی میں تھا۔ بات چیت کے دوران ہندوستان نے اس معاملے پر اپنے موقف کا اعادہ کیا۔ صدر گوت بایا نے بھی اس بارے میں مثبت انداز اپنایا۔ قابل ذکر ہے کہ صدر گوت بایا نے انتخاب جیتنے کے بعد ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ جانتے ہیں کہ سنہالا اکثریت کے ووٹوں کے باعث ہی وہ انتخاب جیتنے میں کامیاب ہوئے ہیں لیکن وہ ان کے بھی صدر ہیں جنہوں نے انہیں ووٹ دیا اور ان کے بھی جنہوں نے انہیں ووٹ نہیں دیا۔ وہ تمل اور مسلم اقلیتوں سمیت سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک کریں گے۔ یہ بیان واقعی ایک مثبت اشارہ ہے۔ اس سلسلے میں ہندوستان کی تشویشات کو دھیان میں رکھتے ہوئے صدر گوت بایا نے نئی دہلی کے اپنے دورے کے دوران کہا کہ وہ چین اور پاکستان کے ساتھ اپنے رشتوں کو ہند۔ سری لنکا تعلقات پر اثرانداز ہونے نہیں دیں گے۔انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ متنازعہ ہمبن ٹوٹا بندرگاہ کو چین کو پٹّے پر دینا ایک غلطی تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر گوت بایا راج پکشے ایک کھلے دماغ سے صدر کی ذمہ داری نبھائیں گے۔ 

دوطرفہ بات چیت کے دوران ہندوستان نے سری لنکا کو 450 ملین ڈالر کا قرض دینے کا وعدہ کیا۔ یہ قرض سری لنکا کے ترقیاتی پروجیکٹوں کیلئے استعمال کئے جائیں گے۔ اگرچہ سری لنکا میں ہندوستان کی مالی امداد چین کی امداد کے مقابلہ کافی کم ہے  پھر بھی بنیادی ڈھانچہ کے پروجیکٹوں کے نفاذ کے معاملہ میں ہندوستان کا ریکارڈ چین سے بہتر ہے۔ اس کے علاوہ سری لنکاکو دھیرے دھیرے اس بات کا احساس ہونے لگا تھا کہ بڑے بڑے پروجیکٹس اور نقد قرض ملک کی معیشت کیلئے شاید مناسب نہیں۔ 

ایک بار جائز تشویشات دور کرلینے کے بعد جو صورتحال پیدا ہوگی وہ ہندوستان اور سری  لنکا دونوں کیلئے سود مند ثابت ہوگی۔ صدر راج پکشے نے کہا ہے کہ اپنے دور میں وہ ہند۔ سری لنکا تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان لمبے عرصہ سے چلے آرہے تاریخی اور سیاسی رشتے ہیں۔ یہ بیان اس بات کا اشارہ ہے کہ سری لنکا کے نئے صدر ہندوستان کیساتھ اپنے تعلقات کو فروغ دینے کی پوری کوشش کریں گے اور اس سلسلے میں انہوں نے ہندوستان کا دورہ کرکے ایک مثبت قدم اٹھا بھی لیا ہے۔