جہاں نما

آر سی ای پی میں شمولیت بھارت کے مفاد میں نہیں:وزیراعظم مودی کی وضاحت

وزیراعظم نریندر مودی نے نئی دہلی میں جاپان کے وزیر خارجہ اور وزیردفاع کے ساتھ ایک میٹنگ میں علاقائی جامع اقتصادی ساجھیداری، آر سی ای پی کے بارے میں بھارت کی تشویش کو اُجاگر کیا ہے۔ روزنامہ ہندو نے اس خبرکو صفحہ اول پر پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جناب مودی نے جاپان کے وزیر خارجہ توشی متسو موتیگی   اور وزیر دفاع تاروکونو کے ساتھ میٹنگ میں اس بات کا اعادہ کیا کہ بھارت کیلئے اس آزاد تجارتی معاہدے میں موجودہ شکل میں شامل ہونا اس کے مفادات کے لئے نقصاندہ ثابت ہوگا۔

دونوں ملکوں کے درمیان پہلے دو جمع دو مذاکرات کے بعد جاپان نے کہا کہ وہ اپنی آزاد اور کھلے بھارت- بحرالکاہل حکمت عملی کے حصے طور پر کنیکٹیویٹی  کو نہ صرف بھارت کے باہر بلکہ شمال مشرق سمیت بھارت کے اندر بھی فروغ دینے کیلئے عہد بستہ ہے۔ البتہ اس اہم میٹنگ کےدوران کشمیر کے معاملے پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ 

جناب موتیگی اور کونو نے دو جمع دو مذاکرات سے پہلے جناب مودی سے ملاقات کی تھی۔ خاص بات یہ ہے کہ جناب مودی اور جاپان کے اُن کے ہم منصب شینزو آبے کے درمیان بھی  جلد ہی سربراہ میٹنگ ہونے کا امکان ہے۔ انہوں نے آر سی ای پی کے مشترکہ بیان کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا تھا کہ بھارت کو کچھ معاملات پر اعتراض ہے اور یہ کہ تمام شرکت کرنے والے ملک اِن اُمور کا باہمی طور پر قابل اطمینان حل تلاش کرنے کیلئے ملکر کام کریں گے۔ 

کرتارپور راہداری کے پس پشت پاکستان کے ناپاک عزائم بے نقاب

روزنامہ ہندو نے پنجاب کے وزیراعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ کے اُس ردعمل کو بڑی خبر بنایا ہے جو انہوں نے پاکستان کے ریلوے کے وزیر شیخ رشید احمد کے بیان پر  ظاہر کیا ہے۔خبر کے مطابق جناب امریندر سنگھ نے کہا ہے کہ شیخ رشید کے اس بیان نے، کہ کرتارپور راہداری کی تجویز دراصل پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوا کی ذہنی اُپج تھی، اسلام آباد کے ناپاک عزائم کو ظاہر کردیا ہے۔ 

وزیراعلیٰ نے اپنی تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو امید تھی کہ یہ راہداری دونوں ملکوں کےد رمیان امن کا ایک پُل ثابت ہوگی لیکن شیخ رشید نے پاکستان کے ناپاک عزائم کو اجاگر کردیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے شیخ رشید کے اس بیان پر بھی شدید ردعمل ظاہر کیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ یہ راہداری بھارت کو اس زخم کی یاد دلاتی رہے گی جو جنرل باجوا نے انہیں دیا تھا۔ کیپٹن امریندر سنگھ نے ان کے بیان کو بھارت کی سلامتی اور اتحاد کیلئے ایک کھلی دھمکی قرار دیتے ہوئے پاکستان کو متنبہ کیا کہ وہ کسی بھی قسم کی غلط حرکت کا مرتکب نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس راہداری کو کھولنے کیلئے  ہماری ممنونیت کو ہماری کمزوری نہ سمجھے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ اگر پاکستان نے بھارت کے عوام یا سرحدوں پر حملہ کرنے کی کوئی بھی کوشش کی تو اس کا سخت ترین جواب دیا جائیگا۔ اس بات کا اعلان کرتے ہوئے کہ بھارت کبھی بھی پاکستان کو اس کے ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیگا، کیپٹن امریندر سنگھ نے کہا کہ پاکستان کو ایسی جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑیگا کہ وہ پھر کبھی پنپ نہیں سکے گا۔ 

حقیقت یہ ہے کہ وزیراعلیٰ اس معاملے پر کئی مرتبہ خبردار کرچکے ہیں کہ پاکستان یہ راہداری کھول کر سکھوں کی ہمدردی حاصل کرنے کا خواہشمند ہے تاکہ وہ آئی ایس آئی کی حمایت والے ریفرنڈم 2020 کے ایجنڈے کو نافذ کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف حقائق سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ جنرل قمر باجوا نے ہی  یہ راہداری تعمیر کرنے کے پاکستان کے فیصلے سے پنجاب کے اس وقت کے وزیر نوجوت سنگھ سدھو کو مطلع کیا تھا جو عمران خان کی حلف برداری میں شرکت کیلئے وہاں گئے تھے۔ 

لندن حملے کیلئے  داعش نے ذمہ داری قبول کی

روزنامہ انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق دہشت گرد گروپ داعش نے وسطی لندن میں ایک سزا یافتہ شخص کے ذریعے چاقو سے دو افراد کو ہلاک کردینے کے واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اس حملے میں پولیس نے حملہ آور کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔ سائٹ انٹلی جنس گروپ کے مطابق، جو جہادی سرگرمیوں پر نظررکھتا ہے، داعش کی پروپیگنڈا ایجنسی عمق نیوز نے ہفتے کے روز  دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملہ اس کے ایک جنگجو نے کیا تھا۔ عمق ایجنسی نے کہا ہے کہ جس شخص نے لندن میں حملہ کیاتھا وہ داعش کا ایک جنگجو تھا اور اس نے اتحادی ملکوں کو نشانہ بنانے کے داعش کے حکم پر یہ کارنامہ انجام دیا۔ البتہ داعش نے اپنے اس دعوے کو درست ٹھہرانے کیلئے کوئی ثبوت پیش نہیں کیے۔ 

مشتبہ حملہ آور، جس کی شناخت عثمان خان کے طور پر ہوئی ہے، ایک سزا یافتہ دہشت گرد تھا جسے سات سال پہلے لندن اسٹاک ایکسچینج میں بم نصب کرنے کے ایک منصوبے اور  پاکستان کے قبضے والے کشمیر میں اپنے اہل خانہ کی آراضی پر دہشت گردوں کے لئے ایک تربیتی کیمپ قائم کرنے کی پاداش میں سزا ہوئی تھی۔ جمعہ کے روز اس شخص نے اچانک چاقو سے حملہ کرکے ایک مرد اور خاتون کو ہلاک کردیا تھا اور تین دیگر کو زخمی کردیا تھا جس کے بعد پولیس نے اسے گولی مار کر ہلاک کردیا۔ 

طالبان سے بات چیت ، ڈونل ٹرمپ کی نئی چال:اداریہ

حال ہی میں امریکی صدر ڈونل ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد کہ ان کی حکومت نے طالبان کے ساتھ مذاکرات پھر شروع کردیے ہیں، روزنامہ ہندوستان ٹائمس نے افغانستان سے متعلق امریکہ کی  اس نئی چال پر اپنا اداریہ تحریر کیا ہے۔ اخبار کے مطابق صدر ٹرمپ افغانستان سے امریکی فوج کی واپسی کے لئے مذاکرات کی کوششوں میں مصروف ہیں،حالانکہ طالبان کےساتھ مذاکرات ستمبر میں ختم ہوگئے تھے۔ جناب ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا ہے کہ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کاان کا مقصد کیا ہے لیکن انہوں نے صرف یہی کہا ہے کہ طالبان ایک حقیقی سمجھوتہ کرنے کے خواہشمند ہیں۔ اس مرتبہ انہوں نے افغان صدر اشرف غنی کو شامل رکھنے کی کوشش کی ہے۔ 

اخبار کے مطابق امریکی صدر یوروپ اور کوریا سمیت تقریباً سبھی بیرونی ملکوں سے امریکی فوجیوں کی واپسی کے  خواہشمند ہیں اور افغانستان سے فوجیں بلانا ان کی سب سے بڑی ترجیح ہے ۔ خاص وجہ یہ ہے کہ ایک جانب افغانستان میں اپنے فوجی رکھنے کیلئے امریکہ کو سالانہ تقریباً 50 ارب ڈالر کے اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں جبکہ دوسری جانب یہ امریکہ کی طویل ترین جنگ بنتی جارہی ہے جس سے امریکیوں کے درمیان ناراضگی پائی جاتی ہے۔ اب چونکہ امریکہ میں صدارتی انتخابات قریب ہیں، اسی لئے جناب ٹرمپ اپنی کچھ پالیسیوں کی کامیابی کے لئے  بے صبری سے کوشاں ہیں۔ اخبار کے مطابق بھارت طالبان سے لڑائی جاری رکھنے کے لئے امریکہ کی ستائش کرتا ہے اور اس کی خواہش ہے کہ امریکہ افغانستان میں اپنی فوجیں واپس بلانے سے پہلے وہاں پاکستان کے اثرات کو کم سے کم کردے۔ اخبار کے مطابق امریکہ کی یہ کوشش زیادہ دیرپا ثابت نہیں ہوگی اور یہ صدر کی آخری کوشش ہوسکتی ہے۔ 

ایران کاایٹمی نگراں ادارے کے ساتھ اپنے عہد پر پھر سے غورکرنیکا عندیہ

ٹریبیون کے مطابق ایران نے کہا ہے کہ اگرنیوکلیائی معاہدے سے متعلق یوروپی ممالک اس کی نیوکلیائی سرگرمیوں پر ایسا تنازعہ کھڑا کرسکتے ہیں جس سے اس پر پابندیاں عائد ہوسکیں، تو وہ اقوام متحدہ کے ایٹمی نگراں ادارے کے تئیں اپنے عہد کے بارے میں  پھر سے غور کرنے کیلئے سنجیدہ ہوسکتا ہے۔ 

2015 میں ہوا یہ معاہدہ پچھلے سال اس وقت تک کسی تنازعے سے دوچار نہیں ہوا جب تک کہ امریکہ نے خود کو یکطرفہ طور پر معاہدے سے الگ نہیں کرلیا۔ اگرچہ اس معاہدے میں شامل تین یوروپی ممالک ، برطانیہ فرانس اور جرمنی نے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی لیکن اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر علی لاری جانی نے کہا ہے کہ اگر انہوں نے  کوئی ایسا میکنزم استعمال کرنے کی کوشش کی، تو ایران بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی سے کیے گئے اپنے کچھ وعدوں پر سنجیدگی سے پھر غور کرنے کیلئے مجبور ہوجائیگا۔ 

اُدھر روزنامہ ہندوستان ٹائمس کی ایک خبر کے مطابق یوروپ کی مزید چھ ملکوں نے ایران کے ساتھ تجارت کیلئے ڈالر کے استعمال سے گریز کرنے کی خاطر مبادلہ کاری کا فیصلہ کیا ہے۔ پیرس ،لندن اور برلن نے ہفتے کے روز یوروپ کے اُن چھ نئے ملکوں کا انسٹیکس  بارٹر سسٹم میں شامل ہونے کاخیرمقدم کیا جسے ڈالر کے استعمال کے بغیر ایران کے ساتھ تجارت کیلئے تیار کیا گیا ہے۔ 

عراقی پارلیمنٹ نے وزیراعظم اور ان کی کابینہ کا استعفیٰ قبول کیا

روزنامہ اسٹیٹس مین کی ایک خبر کے مطابق عراق میں تقریباً دو ماہ سے جاری پُرتشدد مظاہروں کے بعد، جس میں 420 سے زیادہ افراد کی موت ہوئی ہے، عراق کی پارلیمنٹ نے اتوار کے روز کابینہ کے استعفے کو منظور کرلیا ہے۔ وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے جمعہ کو کہا تھا کہ وہ پارلیمنٹ کو اپنا استعفیٰ پیش کردیں گے۔ عراق کے عوام وزیراعظم سمیت پورے حکمراں ٹولے کے خلاف تقریباً دو ماہ سے مسلسل مظاہرہ کررہے تھے اور ان کا الزام تھا کہ یہ تمام لوگ انتہائی بدعنوان اور بیرونی طاقتوں کے غلام ہیں۔ ان کے خلاف یہ عوامی مظاہرہ بغداد سے لیکر جنوب میں شیعہ اکثریتی والے علاقے اور شمال میں سنی اکثریتی شہر موصل سے لیکر دیگرتمام بڑے شہروں میں پھیل گیا تھا۔ اتوار کے سہ پہر پارلیمنٹ نے اجلاس کا آغاز کرتے ہوئے عبدالمہدی اور ان کی پوری کابینہ کے استعفے کو منظور کرلیا ہے۔ پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ وہ اب صدر برہم صالح سے کہیں گے وہ نیا وزیراعظم نامزد کریں۔