موضوع:صدر ٹرمپ کا اچانک دورۂ کابل، امید کی ایک کرن؟

اچانک امریکی صدر ڈونل ٹرمپ گزشتہ دنوں افغانستان کی راجدھانی کابل پہنچے اور افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں سے ملے اور شکریہ ادا کرنے کی رسم نبھائی۔ یاد رہے کہ صدر بننے کے بعد مسٹر ٹرمپ کا یہ پہلا دورہ افغانستان تھا۔ حالانکہ اپنے دور صدارت کے درمیان انہوں نے افغانستان اور اس حوالے سے جنوبی ایشیا سے متعلق کئی اہم فیصلے بھی کئے لیکن افغانستان ان کا جانا نہیں ہواتھا۔ جو اہم فیصلے انہوں نے کئے تھے ان میں جنوبی ایشیا سے متعلق ایک نئی امریکی حکمت عملی نافذ کرنے کا فیصلہ بھی تھا۔ اس وقت انہوں نے پاکستان کے حوالے سے کافی سخت موقف اختیار کیا تھا جس کے تحت انہوں نے پاکستان کو دی جانے والی فوجی اور اقتصادی امداد کو معطل کرنے کا بھی فیصلہ کیا تھا۔ اپنے ایک ٹویٹ میں انہوں نے یہ تک کہا تھا کہ پاکستان کو امریکہ نے کروڑوں روپئے کی امداد فراہم کی لیکن اس کے جواب میں پاکستان کی طرف سے صرف جھوٹ اور دھوکہ ملا۔ بہرحال لیکن جنوبی ایشیا سے متعلق اس نئی پالیسی کے اعلان کے بعد کچھ دوسرے فیصلے بھی آئے۔ ان میں ایک بات یہ بھی سننے میں آئی کہ دوحہ میں طالبان کے نمائندوں اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ امریکہ کی طرف سے ایک سینئر سفارت کار زلمے خلیل زاد خصوصی ایلچی مقرر کئے گئے اور انہیں یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ طالبان نمائندوں سے بات چیت کو آگے بڑھائیں۔ مذاکرات کے کئی راؤنڈ چلے لیکن اس دوران یہ بوالعجبی بھی دیکھنے میں آئی کہ مذاکرات کے ساتھ ساتھ افغانستان میں طالبان کے حملے بھی حسب معمول جاری رہے۔ اور ان حملوں میں افغان سیکوریٹی فورسز اور پولیس اہلکار کے ساتھ ساتھ سیویلین بھی ہلاک اور زخمی ہوتے رہے۔ طالبان نہ تو اپنے حملے بند کرنے پر راضی ہوئے اور نہ ہی افغان حکومت یا اس کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت کرنے پر آمادہ ہوئے۔ بہرحال! مذاکرات کے درمیان ایک مرحلہ ایسا بھی  آیا کہ اب عنقریب سمجھوتہ پر دستخط بھی ہونے والے ہیں اور اس سے عین قبل صدر ٹرمپ افغان صدر اور طالبان قیادت سے ایک خصوصی ملاقات بھی کرنے والے ہیں۔ اس کی تیاریاں بھی ہورہی تھیں اور خبروں کے مطابق اس ملاقات کے لئے صدر اشرف غنی امریکہ کیلئے روانہ بھی ہوچکے تھے۔ لیکن اچانک یہ بھی پتہ چلا کہ صدر ٹرمپ نے مذاکرات کے پورے عمل ہی کو منسوخ کردیا۔ اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی تھی کہ طالبان نے سمجھوتے سے عین قبل ایک زبردست حملہ کیا تھا جس میں ایک امریکی فوجی سمیت متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ لیکن بعد میں یہ بھی پتہ چلا تھا کہ صدر ٹرمپ کی ناراضگی کی کچھ اور بھی وجوہ تھیں جس میں ایک وجہ یہ تھی کہ طالبان والے حکومت افغانستان سے کسی بھی حال میں بات چیت کرنے کے لئے تیا رنہیں تھے۔ 

بہرحال وہ تو بات پرانی ہوگئی اور دوبارہ مذاکرات کب اور کیسے ہونگے اس کے بارے میں بات سننے میں نہیں آرہی تھی صرف قیاس آرائیوں کا سلسلہ چل رہا تھا۔ اور اب براہ راست صدر ٹرمپ کے دورہ کابل اور بیان سے یہ خبر ملی ہے کہ امریکہ اور طالبان کے ساتھ بات چیت ہوگی۔ مسٹر ٹرمپ کے مطابق طالبان والے بات چیت اور سمجھوتے کے لئے تیار ہو گئے ہیں۔ اس بار جو اہم بات سننے میں آرہی ہے وہ یہ ہے کہ اب جو مذاکرات ہونے والے ہیں وہ واقعی امن مذاکرات ہونگے کیونکہ طالبان سیز فائر کے  لئے تیار ہیں۔ صدر ٹرمپ کے بیان کے مطابق ‘‘پہلے ہم طالبان سے جب سیز فائر کے لئے کہتے تھے تو وہ تیار نہیں ہوتے تھے لیکن اب وہ اس کے لئے تیا رنظر آئے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہیں اس بات کا یقین ہے کہ اب جو بات چیت ہوگی وہ بہتر ڈھنگ سے ہوگی جس میں سیزفائر کو اہمیت حاصل ہوگی’’۔ 

صدر ٹرمپ نے یہ بیان کابل میں گزشتہ جمعرات کو دیا تھا اور اس کے بعد جمعہ کو طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ طالبان بات چیت کیلئے تیار ہیں۔ طالبان کے ترجمان نے خبر رساں ایجنسی رائٹرس سے کہا کہ ‘‘ہمارا موقف کوئی نیا نہیں ہے اگر امن مذاکرات شروع ہونگے تو پھر وہیں سے شروع ہونگے جہاں گزشتہ ستمبر میں انہیں روک دیا گیا تھا’’۔ یہ بات بھی مختلف ذرائع سے سننے میں آرہی ہے کہ دوحہ میں طالبان اور امریکی نمائندوں کے مابین گزشتہ ہفتہ سے ہی بات چیت چل رہی ہے اور امید ہے کہ امن مذاکرات کا سلسلہ بھی عنقریب شروع ہوجائے گا۔ صدر ٹرمپ اور طالبان کے ترجمان کی باتوں سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ با ت چیت کا سلسلہ دوبارہ شروع ہونے والا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہوسکتی کہ افغانستان میں پائیدار امن کا قیام ضروری ہے کیونکہ چار دہائیوں سے افغانستان میں معمولی وقفے کے لئے بھی وہاں کے عوام کو امن کا ماحول نصیب نہیں ہوا۔ صدر ٹرمپ کو بھروسہ بھی ہے کہ طالبان والے سیز فائر کے لئے تیار ہوجائیں گے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تویہ  انتہائی مبارک بات ہوگی لیکن طالبان کے اب تک کے رویوں ، اس کے نظریہ اور تخریب پسندانہ حکمت عملی کو دیکھتے ہوئے شاید بہت سارے حلقوں میں اب بھی شبہات باقی رہیں گے۔