جہاں نما

موسمیاتی تبدیلی پر اقوام متحدہ کی عالمی کانفرنس شروع

اقوام متحدہ کی ماحولیات سے متعلق دو ہفتوں تک چلنے والی  عالمی کانفرنس پیر کے روز اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں شرو ع ہوئی ۔ جہاں عالمی رہنماؤں کو یہ ثابت کرنا ہوگاکہ وہ عالمی حرارت کے تباہ کن اثرات سے بچنے کے لئے موثر اقدامات کر رہے ہیں۔ اس خبر کو تمام اخبارات نے نمایاں طور پر اپنے کالموں میں جگہ دی ہے ۔ اس خبر کے حوالے سے روزنامہ دی ایشین ایج تحریر کرتا ہے کہ اجلاس شروع ہونے سے قبل اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے عالمی رہنماؤں کو عالمی حرارت کے تباہ کن اثرات سے خبر دار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بحران ایک ایسے مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں سے واپسی شاید ممکن نہیں۔ پیر کے روز مکمل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب ہمیں دو میں سے کسی ایک چیز کو چننا ہے۔ یا تو ہم بالکل ہتھیار ڈال دیں یا پھر ابھی امید قائم رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک راستہ ہے ہتھیار ڈالنے کا جہاں اپنی کوتاہیوں کے باعث ہم ایسے مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں سے واپسی ناممکن بھی لگتی ہے۔اور ہماری ان حرکتوں کی وجہ سے ہی کرۂ ارض پر ہر شخص کی صحت و تحفظ کو خطرہ لاحق ہے۔ کیا ہم ایسی نسل کے طور پر یاد کیا جانا پسند کریں گے جو جلتے ہوئے کرۂ ارض پر دھیان نہ دے کرلا پر وائی اور غیر ذمہ داری کی آغوش میں سویا رہا۔ جناب گتریس نے عالمی طاقتوں کی جانب سے کاربن ڈائی آکسائڈ کے اخراج پر روک لگانے کے لئے کی جانے والی ناکافی کوششوں پر سخت نکتہ چینی کی۔ قابل ذکر ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث جنگلوں  میں لگنے والی آگ، سمندری طوفان، سیلاب و دیگر شدید موسمی حالات کی وجہ سے پچھلے دس برسوں میں بیس ملین سے زیادہ لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔

پاکستان میں فوجی سر براہ کی مدت کار میں توسیع کے بارے میں وزرا کی کمیٹی تشکیل

حکومت پاکستان نے فوج کے سر براہ کی مدت کار میں توسیع یا ان کی دو بارہ تقرری کے بارے میں ایک نئے قانون کا مسودہ تیار کرنے کےلئے تین اہم وزرا پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اس خبر کے حوالے سے میڈیا رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے روزنامہ دی ٹریبیون لکھتا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے فوج کے سر براہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت کار میں مشروط چھ ماہ کی توسیع کئے جانے کے بعد یہ کمیٹی بنائی گئی ہے ۔ اخبار کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ، وزیر دفاع پرویز کھٹک اور منصوبہ بندی کے وزیر اسد قمر اس کمیٹی کا حصہ ہوں گے۔ سپریم کورٹ نے عمران خان حکومت کو چھ ماہ کے اندر کمیٹی تشکیل دیکر قانون بنانے اور فوجی سر براہ کی دوبارہ تقرری یا ان کی مدت کار میں توسیع کے عمل میں پائی جانے والی خامیوں کو دور کرنے کی ہدایت دی تھی۔ رپورٹ کے مطابق کمیٹی کے ارکان پارلیمنٹ اپوزیشن پارٹیوں سے بھی اس سلسلہ میں صلاح و مشورہ کریں گے۔ جنرل باجوہ کی مدت کا رمیں توسیع کے خلاف پٹیشن کی سماعت کے دوران عدالت عظمی کی ایک تین رکنی بنچ کے سامنے اٹارنی جنرل انور منصور خاں نے یہ حلف نامہ دیا تھا کہ اس معاملہ میں پارلیمنٹ ایک نیا قانون بنائے گی ۔ اس کے بعد ہی سپریم کورٹ نے اس سلسلہ میں اپنا فیصلہ سنایا تھا۔

پاکستان میں فوجی سر براہ کی مدت کار میں توسیع کے بارے میں وزرا کی کمیٹی تشکیل

‘‘ اگر جنرل باجوہ گئے تو پھر کیا ہوگا’ یہ سرخی ہے روزنامہ انڈین ایکسپریس کے اداریہ کی۔ اخبار تحریر کرتا ہے کہ بارہ سال قبل پاکستان کے چیف جسٹس کو بر طرف کرنے کے خلاف سپریم کورٹ نے ملک کے اس وقت کے حکمراں سے مقابلہ کیا تھا اور اب ایک بار پھر عدالت عظمیٰ نے ایک دوسرے فوجی سر براہ سے مقابلہ کرنے کی ٹھان لی ہے ۔ اس بار معاملہ ہے عمران خان کی حکومت کی جانب سے اس کی مدت کار میں تین سال کی توسیع کا۔ چیف جسٹس آصف سعید کی سر براہی میں ایک تین رکنی بنچ نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت کار میں تین سال کی توسیع کو کم کر کے چھ ماہ کر دیا اور حکومت کو ہدایت دی کہ وہ فوجی سر براہ کی دو بارہ تقرری یا اس کی مدت کا رمیں توسیع کے بارے میں کوئی قانون وضع کرے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلہ سے عمران حکومت کی نااہلی ثابت ہو گئی۔ عمران خان جنرل باجوہ کو ہم خیال تصور کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ انہیں فوجی سر براہ کی حیثیت سے جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ ماضی میں بھی جنرل پرویز مشرف اور اشفاق پرویز کیانی کی مدت کا رمیں کئی سال کی توسیع ہوئی تھی جس کے باعث دوسرے بہت سے جرنیلوں کے کیرئیر متاثر ہوئے تھے ۔ اس بار بھی اگر جنرل باجوہ کو تین سال کی توسیع دے دی جاتی ہے تو بہت سے دوسرے افسروں کی ترقی رک جاتی ہے۔ اس واقعہ کی وجہ سے فوج کے افسروں میں کافی بے اطمینانی ہے۔ جنرل باجوہ کو ہم خیال قرار دینے کے باعث بھی عمران خان حکومت کی ہر دلعزیزی میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حال ہی میں ایک مذہبی رہنما کی قیادت میں عمران خان کو حکومت مخالف مظاہروں کا سامنا کرنا پڑا۔ اب سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد فوجی سربراہ کی حیثیت سے باجوہ کی پوزیشن کو کافی نقصان پہنچے گا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ فوجی سر براہ کی تقرری سے متعلق آئین کی دفعہ 243 میں ترمیم سے پارلیمنٹ اتفاق نہ کرے جس کا عدالت عظمیٰ نے مطالبہ کیا ہے۔ باجوہ کو سپریم کورٹ کی جانب سے چھہ ماہ کی توسیع مل گئی ہے ۔ اب اسکے آگے بھی توسیع ہوگی ایسا نا ممکن لگتا ہے ۔ در حقیقت فوج کے اندر ہی محاذ آرائی ہو چکی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سیاست داں اپنے لئے کس کو چنتے ہیں۔ یہ دیکھنا مشکل نہیں ہے کہ اپوزیشن کس کو اپنے لئے منتخب کرے گی۔ اب اگلا سوال یہ ہے کہ اگر جنرل باجوہ گئے تو کیا عمران خان بچے رہیں گے؟

دہشت گردی کے خلاف متحد ہونے کی ضرورت، ٹائمز آف انڈیا کا اداریہ

آج کے روزنامہ ٹائمز آف انڈیا کے اداریہ کا موضوع ہے دہشت گردی کے خلاف متحد ہونے کی ضرورت۔ اخبار لکھتا ہے کہ لندن برج پر عثمان خان نے دو لوگوں کو چاقو مار کر ہلاک اور تین کو زخمی کر دیا۔ یہ واقعہ عالمی دہشت گردی اور اسلامی بنیاد پرستی کے پروجیکٹ پر روشنی ڈالتا ہے جس کا مرکز پاکستان ہے۔ اس دہشت گرد کے مقامی شراب خانوں پر حملے کرنے اور پاک مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردانہ کیمپ قائم کر کے برطانوی پارلیمنٹ سمیت ملک کے معروف مقامات پر حملے کرنے کے منصوبوں سے  مغربی دنیا کو فکر مند ہونا چاہئے۔ اسوقت انٹر نیٹ اور اطلاعات ٹکنا لوجی کے دوسرے ذرائع کی مدد سے اسلامی بنیاد پرستی کو فروغ دیا جا رہا ہے اور لوگوں کو بتانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ بقول ان کے انصاف نہیں کیا جا رہا ہے ۔ لندن برج پر یہ حملہ ہمیں نیند سے جگانے کے لئے کافی ہے۔اقلیتوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے اور تنازعات ختم کرنے کے لئے جمہوری دنیا کو اس وقت متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ اس حملہ سے مغرب کی سمجھ میں آئے گا کہ ہندوستان کو کشمیر میں کتنی مشکلات کا سامنا ہے۔پاکستان نے دہشت گردوں کو ہندوستان کے خلاف اپنی سر زمین کے استعمال کی اجازت دے رکھی ہے اور اگر مغربی ممالک یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کا نشانہ صرف ہندوستان ہے تو یہ ان کی بہت بڑی بھول ہے۔ تمام بنیاد پرست اسلامی  گروپوں کے درمیان ایک قدر مشترک یہ ہے کہ وہ سیکولر سماج سے نفرت کرتے ہیں۔اس لئے اس معاملہ میں اگر تساہلی برتی گئی تو اس کےسنگین نتائج مرتب ہو سکتے ہیں

ہانگ کانگ پر امریکی اقدام کے جواب میں چین کی امریکہ پر پابندیاں

چین نے ہانگ کانگ میں جمہوریت نواز مظاہرین کی حمایت میں امریکہ کی جانب سے ایک بل کی منظوری کے جواب میں امریکی جنگی جہازوں کے ہانگ کانگ دورے کومعطل کر کے امریکہ کی بہت سی غیر سرکاری تنظیموں پر پابندی عائد کر دی ہے۔اس خبر کو روزنامہ ہندو نے جلی سرخیوں کے ساتھ شائع کیا ہے ۔ اس خبر کے حوالے سے اخبار تحریر کرتا ہے کہ گذشتہ ہفتہ صدر ڈونل ٹرمپ نے ہانگ کانگ حقوق انسانی اور جمہوریت ایکٹ پر دستخط کر دیئے تھے۔ جس کے تحت صدر ٹرمپ ہر سال اس بات کا جائزہ لیں گے کہ ہانگ کانگ میں تجارت کرنے کا مناسب ماحول ہے یا نہیں۔ اگر انہیں یہ محسوس ہوا کہ وہاں آزادی پر قدغن لگا ہوا ہے تو وہ ہانگ کے ساتھ تجارت کومنسوخ بھی کر سکتے ہیں۔ چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان ہوا چونائنگ نے بیجنگ میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ امریکہ کے غیر منطقی برتاؤ کے جواب میں حکومت چین نے امریکی جنگی جہازوں کو ہانگ کانگ جانے کی درخواست پر غور کرنے کے عمل کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی ان غیر سرکاری تنظیموں پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے جنہوں نے ہانگ کانگ میں حالیہ انتشار کے دوران غیر مناسب طور پر کام کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان تنظیموں میں نیشنل انڈو منٹ فارڈیمو کریسی،ہیومن رائٹس واچ اور فریڈم ہاؤس کے نام شامل ہیں۔