موضوع:مقبوضہ مغربی کنارہ میں اسرائیلی بستیوں کو صدر ٹرمپ کی منظوری

امریکہ نے مقبوضہ مغربی کنارہ میں اسرائیلی بستیوں کو قانونی قرار دیا ہے۔ اس بارے میں وزیر خارجہ مائک پامپیو نے حال ہی میں اعلان کیا تھا۔ امید کے برعکس امریکہ کی جانب سے یہ اعلان نہ صرف مغربی کنارہ کے بارے میں عالمی اتفاق رائے کے خلاف ہے بلکہ دو فریقوں سے تعلق رکھنے والی امریکہ کی اس پالیسی کے خلاف بھی ہے جو1967 کی جنگ کے بعد سے چلی آرہی تھی۔ اس پالیسی کو بے ربط قرار دیتے ہوئے جناب پامپیو نے اعلان کیا کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کا قیام بین الاقوامی قانون کے خلاف نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک مغربی کنارے اور اسرائیلی بستیوں کی حیثیت کا تعلق ہے تو اس مسئلہ کو خود اسرائیلی اور فلسطینی بات چیت کے ذریعے حل کرلیں گے۔ 

1967 کی جنگ کے دورن اسرائیل نے مشرقی یروشلم ، سنائی جزیرہ نما، گولان کی پہاڑیوں، غزہ پٹی اور مغربی کنارے کے جن حصوں پر قبضہ کیا تھا، وہاں اپنی بستیاں بسالیں۔ بستی بسانے کا عمل جنگ کے خاتمہ کے فوراً بعد ہی شروع ہوگیا تھا۔ سب سے پہلے اس نے یروشلم کے مشرقی علاقہ کو اپی عملداری میں لیا جس پر جنگ سے پہلے اردن کا کنٹرول تھا۔ اس کے بعد اس نے گولان کی پہاڑیوں پر بستی بسانا شروع کیا اور دھیرے دھیرے تمام مقبوضہ علاقوں میں بستیاں قائم ہوگئیں۔ اس وقت مغربی کنارے میں تقریباً 130 قانونی اور 100 غیرقانونی بستیاں ہیں جہاں تقریباً چار لاکھ اسرائیلی رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ تقریباً دو لاکھ اسرائیلی مشرقی یروشلم کی 12یہودی کالونیوں میں اور تقریباً 22ہزار لوگ گولان کی پہاڑیوں پر بسی 32 بستیوں میں رہ رہے ہیں۔ 

اسرائیل کے عرب پڑوسیوں کیساتھ امن برقرار رکھنے میں یہ بستیاں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ 1982 میں کیمپ ڈیوڈ میں اسرائیل اور مصرکے درمیان معاہدے کے باعث اسرائیل کو یامت  کی بستی کو مسمار کرکے سنائی جزیرہ کا علاقہ خالی کرنا پڑاتھا۔ اس کے بعد 2005 میں اسرائیل نے غزہ پٹی کی 21بستیوں میں رہنے والے تقریباً آٹھ ہزار لوگوں کو واپس بلالیا۔ 1990 کی دہائی کے دوران اسرائیل اور ملک شام کے درمیان بات چیت ناکام ہوگئی کیونکہ اسرائیل ماؤنٹ ہرمن  سے دستبردار ہونا نہیں چاہتا تھا۔ ماؤنٹ ہرمن وہ مقام ہے جہاں سے شام کی راجدھانی دمشق صاف دکھائی دیتی ہے۔ مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیاں بسانے میں اسرائیل کی زیادہ تر سیاسی پارٹیوں نے اپناکردار ادا کیا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بستیاں بڑھتی گئیں اور یہاں کی آبادی اسرائیل کی دائیں بازو کی پارٹیوں کی حمایت کرنے لگیں۔ 

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مذاکرات میں یہ بستیاں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اسرائیل نے ان تمام علاقوں کو غصب کرکے یہاں اسرائیلی شہریوں کیلئے اسکول، اسپتال اور مال بنالئے ہیں۔ یہاں تک کہ یہاں کی سیکیورٹی اپنے ہاتھ میں لے لی ہے۔ شروع میں بستیاں وہاں بسائی گئیں جہاں فلسطینی شہری بھی رہتے تھے لیکن دھیرے دھیرے یہ بستیاں فلسطینی شہروں اور دیہاتوں کے نزدیک بسائی جانے لگیں۔ واشنگٹن میں حکومت اسرائیل اور تنظیم آزادی فلسطین کے درمیان اوسلو اکارڈس    کے نام سے جو سمجھوتہ ہوا وہ بھی یہودی بستی بسانے کے عمل کو روکنے میں ناکام رہا اور وہائٹ ہاؤس میں ہاتھ ملانے اور سمجھوتہ کرنے کے بعد بھی اسرائیل اپنی بستیوں میں اضافہ کرتا رہا۔ اگرچہ اسرائیل نے فلسطینی قصبوں اور شہروں سے اپنے شہریوں کو واپس بلالیا ہے تاہم ابھی بھی اچھا خاصہ علاقہ اس کے قبصے میں ہے۔ بین الاقوامی برادری عرصہ دراز سے یہ بات کہتی چلی آرہی ہے کہ ان بستیوں کا قیام چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔ 2004 میں اپنے ایک فیصلہ میں بین الاقوامی عدالت نے بھی ان بستیوں کو غیرقانونی قرار دیا تھا۔ 

اسرائیلی بستیوں کو جائز قرار دینے سے قبل ٹرمپ انتظامیہ نے یروشلم کو دارالحکومت بنانے کے اسرائیلی فیصلہ کی بھی حمایت کی تھی اور یہ بھی اعلان کیا تھا کہ گولان کی پہاڑیوں کا اسرائیل خود مختار ہے۔ ایسا کرکے اس نے پریشان حال وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کیلئے انتخابات میں حمایت جٹانے کی کوشش کی تھی۔ اسرائیل میں اپریل اور ستمبر میں پارلیمانی انتخابات کے دو ادوار کے باوجودابھی تک وہاں کسی کی حکومت قائم نہیں ہوسکی ہے۔ بدعنوانی کے قصوروار قرار دیئے جانے کے باوجود نیتن یاہو اپنی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اگر دوبارہ ان کی حکومت بنی تو وہ وادی اردن کو اپنے قبضہ میں لے لے گی۔ 

یہودی بستیوں کو قانونی قرار دینے کے ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلہ کے چند دنوں کے اندر ہی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کرکے فلسطینیوں کے حق خود ارادی کا اعادہ کیا۔ ہندوستان سمیت 165 ملکوں نے اس قرارداد کی حمایت جبکہ امریکہ، نارو، مائیکرونیسیا  اور مارشل جزائر نے اس کی مخالفت کی۔ ہندوستان ایک آزاد فلسطینی ریاستی کا حامی ہے ایک ایسا ملک جو اسرائیل کے ساتھ امن وسکون کیساتھ رہ سکے۔ لیکن صدر ٹرمپ کے اسرائیلی بستیوں کے بارے میں تازہ ترین اقدام سے علاقہ میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔