04.12.2019 جہاں نما

جزائر انڈمان ونکوبار کے نزدیک مشتبہ سرگرمیوں میں ملوث چینی جہاز کو علاقہ چھوڑنے پر کیا گیا مجبور: سربراہ ہندوستانی بحریہ

ہندوستانی بحریہ کے جنگی جہازوں نے حساس جزائر انڈمان ونکوبار کے قریب چین کے بحری تحقیقی جہاز کو حال ہی میں علاقہ چھوڑنے پر مجبور کردیا کیونکہ یہ جہاز مشتبہ سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا تھا۔ روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے اس حوالے سے تحریر کیا ہے کہ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ہندوستان اور چین اس حساس علاقے اور خطہ بحرہند پر غلبے کیلئے بالواسطہ طور پر الجھے ہوئے ہیں۔ اخبار ہندوستانی بحریہ کےسربراہ ایڈمیرل کرم بیر سنگھ کے حوالے سے آگے لکھتا ہے کہ اگر چین ہندوستان کے ایکسکلوسو اکنامک زون یعنی ای ای زیڈ میں کچھ کرنا چاہتا تھا تو اس کو اس کی پیشگی اطلاع کرنا چاہئے تھی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے تصدیق بھی کی کہ چین کے بحری جہاز شی یان ون  کو علاقے چھوڑنے پر مجبور کردیا گیا۔ واضح ہو کہ چین کےجنگی اور تحقیقی جہاز اکثر وبیشتر ای ای زیڈ میں مشتبہ سرگرمیوں میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ بدھ کے روز یوم بحریہ کے انعقاد سے قبل گفتگو کرتے ہوئے بحریہ کے سربراہ نے مزید کہا کہ ایک ہی وقت، خطہ بحرہند میں سات سے آٹھ چینی جنگی جہاز موجود رہتے ہیں اور چین کی بحریہ بحیرۂ عرب کے شمال میں اپنے پاکستانی ہم منصب کے ساتھ مشترکہ مشق کی تیاری کررہی ہے جس کے بعد اس کی سدابہار اسٹریٹیجک شراکت کا اعادہ ہوجائے گا۔ اخبار کے مطابق بحری علاقے میں پاکستان ہندوستان کے لئے باعث تشویش نہیں ہے مگر چین کامعاملہ دوسرا ہے، راس افریقہ میں واقع ڈجبوتی میں بحری اڈے اور کراچی میں بحری ٹرن اراؤنڈ سہولیات کے ساتھ ساتھ، تیزی سے توسیع پذیر چینی بحریہ کے وہاں دو طیارہ بردار جہاز 33ڈسٹرائرس   ، 54فریگیٹ ، 42 کوروٹیز ، 50 ڈیزل -الیکٹرک اور 10 نیوکلیائی آبدوزیں اور دیگر جنگی جہاز موجود ہیں۔

پاکستان کودی جانے والی امداد کردی جائے گی منسوخ: آسٹریلیا کا اعلان

روزنامہ اسٹیٹس مین نے آسٹریلیا کے ذریعے پاکستان کو دی جانےو الی امداد کی منسوخی کی خبر شائع کی ہے۔ آسٹریلیا کے محکمۂ امور خارجہ اور تجارت ڈی فیٹ  کے ذریعے شائع ایڈ پروگرام پرفارمنس رپورٹ 2018-19 آن پاکستان کے حوالے سے شائع اس خبر میں کہا گیا ہے کہ اس امداد میں غریب خواتین اور بچوں کی بہبود کا پروگرام بھی شامل ہوتا ہے اور اب اس امداد کو بحرالکاہل خطے میں دیگر مقاصد کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ اس پر مرحلہ وار انداز میں قدغن لگائی جارہی ہے۔ پہلے 2019-20 میں اس کو تخفیف کرکے 19ملین آسٹریلیائی ڈالر کیا جائےگا اور 2020-21 میں اس کو مکمل طور پر بند کردیا جائے گا۔ تاہم ڈی فیٹ کے علاقائی اور عالمی پروگرام کے توسط سے پاکستان کو امداد جاری رہے گی۔ اس میں آسٹریلیا ایوارڈس اسکالر شپس بھی شامل ہیں۔ اخبار آگے تحریر کرتا ہے کہ پاکستان کو آسٹریلیائی امداد کا کلیدی مقصد خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم، معیاری تولیدی صحت اور صنفی بنیاد پر تشدد کے خلاف خدمات تک رسائی فراہم کرنا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ آسٹریلیا کی ترقیاتی ترجیحات میں تبدیلی آگئی ہے اور امدادی رقومات کو بحرالکاہل علاقے میں نئے مقاصد کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ اخبار کے مطابق پاکستان ایشیا میں غریب ترین ملک ہےاور اقوام متحدہ کے حقوق انسانی اشاریے میں شامل 178 ممالک میں اس کا 150 واں نمبر ہے۔ واضح ہو کہ یہ اشاریہ صحت، تعلیم اور آمدنی کی بنیاد پر ممالک کی درجہ بندی کرتا ہے۔ 

پاکستان کے حوالے سے روزنامہ ٹائمز آف انڈیا نے خبردی ہے کہ پاکستانی اخبار ڈان کے دفتر پر درجنوں افراد نے حملے کی کوشش کی کیونکہ اس نے لندن برج حملہ آور کی شناخت ایک پاکستانی شہری کے طور پر شائع کی تھی۔ ٹائمز آف انڈیا لکھتا ہے کہ مظاہرین اپنے ہاتھوں میں بینر اٹھائے ہوئے تھے اور ڈان کے خلاف نعرے لگارہے تھے۔ واضح ہو کہ گزشتہ ہفتے لندن برج پر دو افراد کے قاتل عثمان خان کو دہشت گرد قرار دیا گیا تھا اور روزنامہ ڈان نے اپنی شہ سرخی میں پاکستانی مقبوضہ کشمیر سے اس کا تعلق ظاہر کیا تھا اور پاکستانی نژاد برطانوی شہری بتایا تھا۔ اس کے برخلاف دوسرے مقامی اخبارات نے اس کو برطانیہ میں پیدا اور وہیں پروردہ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ پاکستان سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ روزنامہ ٹائمز آف انڈیا ڈان کے حوالے سے لکھتا ہے کہ احتجاجیوں نے عملے کو یرغمال بنالیاتھا اور اخبار سے تحریری معافی نامے کا مطالبہ رہے تھے۔ بعد میں اسسٹنٹ کمشنر کی موجودگی میں یہ لوگ دھمکیاں دیتے ہوئے منتشر ہوگئے۔ ایشین ایج کی ایک خبر کے مطابق پاکستان کے قومی احتساب بیورو نے پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف کے گرد اپنا گھیرا مزید تنگ کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ کے اثاثوں کو بھی منجمد کردیا ہے جس کے بعد شہباز شریف اپنے اہل کنبہ کے اثاثوں سے فائدہ نہیں اٹھاسکیں گے۔ اخبار لکھتا ہے کہ بدعنوانی مخالف ادارے نے لاہور اور ایبٹ آباد میں واقع شہباز شریف کی رہائش گاہوں کو منجمد کردیا  تھا جس کےبعد نیب نے ان کی ایک اہلیہ تہمینہ درانی کے اثاثوں کو بھی منجمد کردیا ہے۔ 

فرانسیسی سامان پر 100فیصد محصولات کے لئے امریکہ کی دھمکی

‘‘فرانسیسی سامان  پر100 فیصد محصول کے لئے امریکہ کی دھمکی ’’۔ یہ سرخی ہے روزنامہ ہندو کی۔ خبر کے مطابق لندن میں ناٹو اتحادیوں کے ساتھ مذاکرات کے موقع پر صدر ٹرمپ اور فرانس کے صدر امینوئل میکرون کے درمیان ملاقات ہوئی ہے جس کے دوران امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ فرانسیسی درآمدات پر صد فیصد محصولات عائد کرسکتا ہے۔ اس اعلان سے قبل یو ایس ٹریڈ رپریزنٹیٹو  کے دفتر نے فرانس کے ڈیجیٹل سروس ٹیکس کے خلاف تحقیقات شروع کی تھی جس سے یہ نتیجہ سامنے آیا تھا کہ امریکہ کی خصوصی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے تئیں، فرانس کا ٹیکس نظام تفریق پر مبنی ہے۔ اخبار لکھتا ہے ان مجوزہ محصولات میں فرانسیسی شیمپین، پورسلین اور پنیر کی کچھ اقسام شامل ہیں۔ 

سری لنکا کے صدر نے پارلیمانی اجلاس کو ایک ماہ کے لئے کیا معطل

سری لنکا کے تعلق سے روزنامہ انڈین ایکسپریس نے ایک خبر شائع کی ہے جس کے مطابق سری لنکا کے صدر نے پارلیمنٹ کے اجلاس کو ایک ماہ کے لئے  معطل کردیا ہے۔ اب اس کا اگلا اجلاس 3جنوری 2020 کو ہوگا۔ یہ ایک ایسا اقدام ہے جس سے صدر گوٹابایا کو اپنی اقلیتی حکومت کوحزب اختلاف کی جانب سے بناکسی روکاوٹ چلانے میں مدد ملے گی۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ اس اعلان سے قبل پارلیمان کا اجلاس منگل کو ہونا تھا۔ صدر سری لنکا نے اس سلسلے میں ایک خصوصی نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس کا اطلاق پیر کی نصف شب سے ہوگیا ہے۔ حکام کے مطابق صدر کو اس طرح کے اقدام کا آئینی اختیار حاصل ہے۔ توقع ہے کہ 3 جنوری کو اجلاس کے موقع پر گوٹابایا اس سے افتتاحی خطاب کریں گے جس میں وہ نئی حکومت کی پالیسیوں کا خاکہ بھی پیش کریں گے۔ 

عراق میں پرتشدد مظاہروں کے بعد مسئلے کے حل کیلئے مذاکرات

عراق میں دوماہ سے جاری احتجاجی مظاہروں کے خاتمے کے سلسلے میں سیاست دانوں نے بغداد میں مذاکرات کئے ہیں۔ روزنامہ اسٹیٹس مین نے اپنی خبر میں تحریر کیا ہے کہ ان احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے حکومت گر گئی تھی اور اِن کے دوران شیعوں کے دو مقدس مقامات پر ،تشدد برپا ہوا تھا۔ عراق میں شیعوں کی مذہبی قیادت کے گڑھ نجف میں حکومت مخالفین رات میں اس مذہبی رہنما کے مقبرے پر اکٹھا ہوگئے جنہوں نے شیعہ پارٹی کی بنیاد ڈالی تھی۔ خبر کے مطابق اس مقبرے کی حفاظت کرنے والے سادے کپڑوں میں ملبوس مسلح افراد کو احتجاجیوں پر فائرنگ اور آنسو گیس کے گولے پھینکتے ہوئے دیکھا گیا تھا لیکن اس فائرنگ سے مرنے یا زخمی ہونے والوں کی تعداد معلوم نہیں ہوسکی ہے۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ گزشتہ بدھ کو مظاہرین کے ذریعے شہر میں ایران کے قونصل خانے کو نذر آتش کئے جانے کے بعد نجف میں احتجاج میں شدت پیدا ہوگئی تھی۔ احتجاجیوں کا الزام تھا کہ پڑوسی ملک بغداد میں بدعنوان حکومت کی حمایت کررہا ہے۔ اخبار کے مطابق اس کے بعد سے تقریباً دو درجن احتجاجی ہلاک ہوچکے ہیں اور گورنر نے مرکزی حکومت پر تشدد کےخاتمے کے لئے زور دیا ہے۔  بااثر قبائلی شخصیات نے اس سلسلے میں ثالثی کی کوشش کی تھی اور منگل کے روز مقبول مذہبی رہنما مقتدیٰ صدر اور ان کی سرایا السلام سے ملاقات کرکے اس مسئلے کے حل کیلئے مداخلت کرنے کیلئے کہاتھا۔ 

ماحولیات کے تئیں خواب غفلت لے جاسکتا ہے بند گلی کی طرف: انٹونیو گتریس

میڈرڈ میں پیر کے روز کانفرنس آف پیرس یعنی کاپ 25 (COP25)  شروع ہوئی جس میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گتریس نے ماحولیات سے متعلق تنبیہ جاری کی۔ روزنامہ ہندوستان ٹائمز نے اس موضوع پر اپنا اداریہ تحریر کیا ہے کہ کانفرنس سے اپنے افتتاحی خطاب میں انہوں نے کہا کہ آئندہ دہائی کے اواخر میں ہمارے سامنے دو راستے ہونگے اور اگر اسی طرح خواب غفلت میں رہا گیا تو ان میں سے ایک راستہ اس بند گلی کی طرف لے جائے گا جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ کیا ہم چاہتے ہیں کہ اس سیارے کی تباہی کی وجہ سے ہم کو ایسی نسل کے طور پر یاد رکھا جائے جس نے اپنا سر ریت میں چھپالیا تھااور جس نے حفاظت کا کوئی سامان نہیں کیا تھا۔ اخبار آگے لکھتا ہے کہ توقع کے مطابق اس کانفرنس میں شریک 197 ممالک سکریٹری جنرل کے چیلنج کو سمجھیں گے کیونکہ اس وقت ماحولیات کی درستی کیلئے تین مقاصد کے حصول کے لئے موثر اقدامات نہیں کیے جارہے ہیں یعنی 2030 تک 45فیصد تک گیسوں کے اخراج میں کمی، 2050 تک زیرو کاربن فُٹ پرنٹ کا حصول، اور اس صدی کے اواخر تک عالمی درجہ حرارت کو ایک اعشاریہ پانچ ڈگری سینٹی گریڈ اضافے کی حد پر قائم رکھا۔ اداریے کے مطابق منڈی پر مبنی نظام کے علاوہ ، ابتدا میں یہ مسئلہ پیدا کرنے والے ترقی یافتہ ممالک نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ماحولیاتی بحران سے نپٹنے کیلئے غریب ممالک کو 2030 سے 100 ملین ڈالر سالانہ ادا کریں گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ ممالک کس حد تک اپنا وعدہ پورا کریں گے۔